قتل عثمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شراکت کا الزام…

قتل عثمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شراکت کا الزام اور اس پر رد

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 5

اہل علم حاطب رضی اللہ عنہ کے واقعہ کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ واقعہ مفسرین، فقہاء اور علماء سیر وتواریخ کے یہاں خبر متواتر کا درجہ رکھتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں جب فتنہ پروری کا دور دورہ تھا یہ واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے۔ اس کا راوی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کاتب عبداﷲ بن ابی رافع ہے۔ واقعہ بیان کرنے سے آپ کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ سابقین اوّلین صحابہ رضی اللہ عنہم باہمی مشاجرات و تنازعات کے باوصف اللہ تعالیٰ کے نزدیک مغفورہیں ۔خواہ ان کے مابین کچھ بھی ہوا ہو۔

اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ: حضرت عثمان وطلحہ زبیر رضی اللہ عنہم حاطب رضی اللہ عنہ سے بہرحال افضل ہیں ۔ حاطب اپنے غلاموں کے ساتھ سخت سلوک کرتے تھے۔نیز یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مشرکین مکہ کو خط لکھ کر حاطب رضی اللہ عنہ نے جس جرم کا ارتکاب کیا تھا وہ ان لغزشوں کی نسبت عظیم تر تھا جو سابقین اوّلین صحابہ رضی اللہ عنہم کی جانب منسوب ہیں ۔ بایں ہمہ آپ نے اس کو قتل کرنے سے روکا اور اس کے جہنمی ہونے کی تردید کی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حاطب رضی اللہ عنہ بدر و حدیبیہ میں شرکت کر چکا تھا۔ تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ آپ نے اسے منافق کہا اور مباح الدم قرار دیا۔ اس کے باوجود کسی کے ایمان میں فرق آیا نہ جنتی ہونے میں ۔

[واقعہ افک سے استدلال] :

صحیحین میں واقعہ افک کی تفصیل مذکور ہیں ۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے رئیس المنافقین سے نجات حاصل کرنے کے لیے فرمایا:

’’مجھے ایسے شخص کی ایذا سے کون نجات دے گا، جس نے میرے اہل کے بارے میں مجھے بڑی تکلیف دی ہے۔ اﷲ کی قسم! مجھے اپنے اہل خانہ کے بارے میں خیر ہی کی امید ہے اور جس شخص کے ساتھ ان کو متہم کیا جا رہاہے اس کے بارے میں بھی میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔‘‘

یہ سن کر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اٹھے....یہ وہی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی موت پر عرش الٰہی پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ احکام الٰہی میں انھیں کسی ملامت گر کی پروا نہیں ہوا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنے حلیف بنی قریظہ کے بارے میں فیصلہ صادر کیا تھا کہ لڑنے والوں کو قتل کیا جائے۔ بچوں کو قیدی بنایا جائے اور ان کے مال کو مال غنیمت تصور کیا جائے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ:’’آپ نے ان کے بارے میں اﷲ کا وہ فیصلہ صادر کیا ہے جو سات آسمانوں کے اوپر سے نازل ہوا تھا۔‘‘

[سیرۃ ابن ہشام ۳؍ ۲۵۱۔ولکن مع اختلاف في اللفظ في: صحیح بخاری۴؍۶۷۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب إذا نزل العدو علی حکم رجل، صحیح مسلم ۳؍۱۳۸۸ ؛ ۔ کتاب الجہاد والسیر ؛ باب جواز القتل من نقض العہد ۔]

...اور [حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے] کہا: اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس خدمت کے لیے حاضر ہیں ، اگر وہ اوس کے قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو گا تو ہم اسے موت کے گھاٹ اتا دیں گے اور اگر خزرج کا آدمی ہوا تو اس کے بارے میں ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔

یہ سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا :’’آپ نے جھوٹ بولا، اﷲ کی قسم! آپ اسے قتل نہیں کر سکتے؛ اور نہ ہی اسے قتل کرنے پر قادر ہوسکتے ہیں ۔ اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا:آپ جھوٹ بولتے ہیں ، اﷲ کی قسم! ہم اسے قتل کر کے رہیں گے۔ آپ منافق ہیں اور اسی لیے منافقین کی وکالت کر رہے ہیں ۔‘‘اوس و خزرج آپس میں گتھم گتھا ہونے والے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر سے اتر کر انھیں خاموش کرادیا۔‘‘

[صحیح بخاری، کتاب المغازی۔ باب حدیث الافک(حدیث۴۱۴۱)۔ صحیح مسلم کتاب التوبۃ، باب فی حدیث الافک(حدیث۲۷۷۰)]

اب ظاہر ہے کہ یہ تینوں اصحاب سابقین اوّلین میں سے تھے۔ اور اس کے باوصف اُسید رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو منافق کہا، حالانکہ ان دونوں حضرات کا ولی اﷲ اور جنتی ہونا کسی شک و شبہ سے بالا ہے۔اس سے یہ حقیقت منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص بنا بر تاویل دوسرے شخص کو کافر قرار دیتا ہے، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کافر نہیں ہوتا۔

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے ۔مگر صحابہ رضی اللہ عنہم آپس میں گفتگو میں مشغول رہے ۔ [دوران گفتگو مالک بن دخشم کا تذکرہ آیا لوگوں نے اس کو مغرور اور متکبر کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر سن کر بھی حاضر نہیں ہوا معلوم ہوا وہ منافق ہے] ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا:

’’ ہم دل سے چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کیلئے بددعا کریں کہ وہ ہلاک ہو جائے یا کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا:’’ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :’’زبان سے تو وہ اس کا قائل ہے مگر اس کے دل میں یہ بات نہیں ۔‘‘ فرمایا:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی تو حید اور میری رسالت کی گواہی دے گا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا یا یہ فرمایا کہ اس کو آگ نہ کھائے گی۔‘‘ 

[صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب المساجد فی البیوت (حدیث:۴۲۵) ، صحیح مسلم ۔ کتاب الإیمان۔ باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید....(حدیث:۳۳) واللفظ لہ۔]]

صفحہ 2 از 5