حدیث ولایت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث ولایت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3

حدیث ولایت

حدیث ولایت میں من كنت مولاه فعلی مولاه گو اہل سنت کی کتابوں میں اہلِ سنت راویوں‏‏ سے کسی سند صحیح سے ثابت نہیں۔ مگر چونکہ یہ فضائل کے ابواب میں سے ہے، عقائد کے باب میں نہیں۔ اس لیے یہ عام مشہور زبان زد عام و خاص ہے۔ اس بحث کے ضمن میں کئی آیت اللہ اس آیت تبلیغ کو بھی لے آتے ہیں حالانکہ غدیر خم کے قیام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جسے وحی متلو کہا جا سکے یا آگے اس کی تلاوت جاری ہوئی ہو۔

 بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌ (سورۃ المائدہ : آیت 67)

ترجمہ: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ 

یہاں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ اس آیت سے پہلے اور بعد میں دونوں جگہ اہل کتاب کا ذکر ہے اور رسول اللہﷺ کے بین الاقوامی غلبہ کا ذکر ہے کسی خلافت کا کوئی ذکر نہیں۔

قرآن کریم کی اس آیت کی وضاحت اس کے اپنے سیاق و سباق کے ساتھ ہونی چاہیے۔ 

مذکورہ حدیث میں کہ جس کا دوست میں ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ (ولایت) دوستی میں ہے کہ کسی طرح تو علی سے دور نہ جا۔ اس روایت کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ: اے اللہ تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت رکھے اور اس سے دوری رکھ جو اس سے دور رہے۔ سو اس میں کوئی تردد نہیں رہتا کہ یہ حدیث دوستی اور محبت کے باب میں ہے خلافت کے باب میں نہیں اس ضعیف روایت کو اہلِ سنت محدثین بھی عام بیان کرتے رہے کیوں کہ ضعیف حدیث فضائل اعمال میں عام قبول کی جاتی ہے۔ ہاں عقائد کے لیے مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں نہیں ہے۔

آٹھویں صدی ہجری کے دو بڑے عالم حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (728ھ) اور حافظ جمال الدین الزیلعی رحمۃ اللہ (762ھ) اس حدیث کے صحیح نہ ہونے کی یہ شہادتیں دے چکے۔

1) فلا يصح من طريق الثقاث اصلاً

(منہاج السنتہ طبع قدیم: جلد 4 صفحہ 86 طبع جدید) 

ترجمہ: یہ روایت ثقہ اور معتبر طریقہ سے بنیادی طور پر ثابت نہیں ہے۔

2) احادیث الجھر وان کثرت رواتھا لکنھا کلھا ضعیفۃ وکم من حدیث کثرت رواتہ وتعددت طرقہ وھو حدیث ضعیف کحدیث الطیر وحدیث الحاجم والمحجوم وحدیث من کنت مولا فعلی مولاہ بل قد لا یزید کثرۃ الطرق الا ضعفاً (نصب الرایہ: جلد 1 صفحہ 360)

ترجمہ: نماز میں بسم اللہ بالجہر پڑھنے کی روایات اگرچہ بہت ہیں لیکن وہ سب کی سب ضعیف ہیں۔ اور کتنی ہی روایات ہیں جن کے روای بہت ہیں۔ اور متعدد طرق رکھتی ہیں مگر وہ ضعیف ہیں جیسے حدیث الطیر اور حدیث افطر الحاجم و المحجوم و حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ بلکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کثرت طرق بجائے اس کے کہ اس کے نقصان کو پورا کرے اس کے ضعف کو اور بڑھا دیتا ہے۔

اب اس پر بھی کچھ توجہ کیجیئے کہ حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ جس طرح سنداً ضعیف ہے اس کی دلالت بھی اپنے موضوع پر کہ اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کی جائے ہر گز صریح اور واضح نہیں ہے۔ یہ سوال نہ کیا جائے کہ آٹھویں صدی سے پہلے کے کسی معروف محدث سے اس کی تضعیف ثابت ہے؟ اگر ہے تو اس پر بھی کچھ روشنی ڈالی جائے۔ 

الجواب: 

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے جو اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے وہ ان کا اپنا وجدان نہیں انہوں نے اسے تیسری صدی کے امام بخاری رحمۃ اللہ اور ابرہیم الحربی رحمۃ اللہ (285ھ) اور بھی اس دور کے اور کئی محدثین سے لیا ہے۔

حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:

تنازع الناس في صحته فنقل عن البخارى وابراهيم الحربى وطائفة من اهل العلم بالحديث انهم طعنوا فيه و ضعفوة وقال ابو محمد بن حزم واما من كنت مولاه فعلی مولاہ فلا يصح من طريق الثقات اصلاً (منہاج السنہ: جلد 1 صفحہ 320)

ترجمہ: اس حدیث کی صحت میں علماء کا اختلاف چلا آ رہا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ اور امام ابراہیم الحربی رحمۃ اللہ اور اہل علم کے ایک پورے گروہ نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور انہوں نے اس حدیث کی تضعیف کی ہے۔ اور امام ابن حزم رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ من كنت مولاه فعلی مولاہ بنیادی طور پر ثقہ راویوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

اور امام ابو داؤد صاحب السنن رحمۃ اللہ ( 275ھ) اور امام ابو حاتم الرازی رحمۃ اللہ (327ھ) نے بھی اس کی صحت میں کلام کیا ہے۔ عمدۃ المحدثین علامہ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (973ھ) لکھتے ہیں:

الطاعنون فی صحته جماعۃ من ائمہ الحدیث و عدوله المرجوع الیھم کابی داؤد السجستانی وابی حاتم الرازی وغیرھم۔(الصواعق المحرقہ: 107 فصل 5)

ترجمہ: اس کی صحت میں ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے کلام کیا ہے اور ان عادلین نے جن کی طرف (تحقیق حدیث میں) رجوع کیا گیا ہے۔ جیسے امام داؤد سجستانیؒ (275ھ) اور ابو حاتم الرازیؒ (327ھ)۔

اس پر پھر ایک سوال ابھرتا ہے کہ حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ نے اس روایت کے کئی ان راویوں کی توثیق کی ہے جنہیں بعض دوسرے محدثین ضعیف کہتے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حافظ ابنِ حجرؒ نے اس کے بعد جب حافظ جمال الدین الزیلعی رحمۃ اللہ (762ھ) کی کتاب نصب الرایہ دیکھی تو اس کی روشنی میں حافظ اب اپنے اس بیان پر نہ رہے اور انہوں نے نصب الرایہ کی تجرید الدرایہ میں اور اپنی تجرید تہذیب التقریب میں کھل کر اپنے بعض رواۃ کو جنہیں پہلے وہ ثقہ سمجھتے تھے ضعیف لکھا ہے۔

نا مناسب نہ ہو گا کہ ہم اثناء عشریوں کی دو شہادتیں اس پر کہ اس حدیث ولایت کی دلالت بھی موضوع خلافت پر واضح اور صریح نہیں پیش کر دیں۔ یہ ان کے دو بزرگ کتاب الاحتجاج کے مصنف علامہ طبرسی اور شرح تجرید کے مصنف علامہ طوسی ہیں۔ پہلے علامہ طبرسی کی شہادت لیجیے:

اثبت حجۃ اللہ تعریضاً لا تصریحاً بقوله فی وصیتہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ (کتاب الاحتجاج: صفحہ 135طبع نجف اشرف)

ترجمہ: اس روایت (کہ جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے) کی دلالت حجتہ اللہ ہونے پر حضرت علیؓ صریح نہیں اس میں اس پر صرف تعریض پائی جاتی ہیں۔

صفحہ 1 از 3