حدیث ولایت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث ولایت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

2) اختلفوا فی دلالته علی الامارۃ (شرح تجرید: صفحہ 230طبع قم)

ترجمہ: حدیث ولایت کی دلالت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امیر ہونے پر اختلافی ہے۔

یہ دو بڑے اثناء عشری علماء کا بیان کہ حدیث ولایت سے سیدنا علیؓ کا امیر ہونا صریح اور کسی متفق علیہ پیرائے میں نہیں ملتا۔ یہ طالبان تحقیق کو اثناء عشریوں کی پیش کردہ اور کئی دوسری روایات پر بھی مزید غور کرنے پر مجبور کرتا ہے اور انہیں ان میں ایک روایت بھی ایسی نہیں ملتی جس کا ثبوت بھی قطعی ہو۔ درجہ احاد کی روایت سے نہ ہو اور اس کی دلالت بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہ امیر ہونے پر قطعی ہو اور ظاہر ہے کہ عقائد قطعی اور یقینی دلائل سے قائم ہوتے ہیں ظنی امور سے نہیں۔

اب ہم حدیث غدیر خم کے مضمون پر بھی کچھ مزید غور کریں۔ آپﷺ نے بمقام غدیر خم دو خطبے دیے تھے

بمقام غدیر خم کے دو خطبے:

  1. وہ خطبہ جو صحیح مسلم میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت سے انی تارک فیکم الثقلین کہ عنوان سے مروی ہے۔ اس میں اولھما تو مذکور ہے لیکن ثانیھما کا لفظ کہیں نہیں ملتا۔ اسے سیدنا زید بن ارقمؓ نے اپنی کبر سنی میں بھول گئے اور آپ کے پاس آنے والے تین تابعین میں سے کسی نے آپ سے پوچھنے کی ہمت نہ کی اس واسطے اس کا مضمون کچھ ادھورا ہی رہ گیا اور ظاہر ہے کہ اس کی تشنگی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔
  2.  دوسرا خطبہ حدیث ولایت کا ہے۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضورﷺ اپنے سفر حج سے واپسی پر مدینہ جا رہے تھے تو اس سفر میں کسی کا سیدنا علیؓ سے اختلاف ہو گیا اور دونوں آپس میں الجھ پڑے اس پر حضورﷺ نے فرمایا جو مجھے دوست رکھے وہ علی کو بھی دوست رکھے۔ (اس سے نا جھگڑے)

وہ بات کیا تھی جس میں کوئی صحابیؓ سیدنا علیؓ سے اختلاف میں آ گیا تھا؟

ہم نے تاریخ و سیر میں اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کسی روایت میں اس کا پتہ نہیں ملا۔ ہاں اس روایت سے اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ اس وقت مسلمانوں میں حضرت علیؓ کے مامور من اللہ ہونے یا امام اول ہونے کا کوئی تصور تک نہ تھا اور حضرت علیؓ سے اختلاف کرنا کوئی گناہ نہ سمجھا جاتا تھا ورنہ حضور اکرمﷺ اس پر توبہ کا حکم ضرور صادر فرماتے۔ اس روایت سے حضرت علی المرتضیٰؓ کے معصوم ہونے کی بھی پوری نفی ہو جاتی ہے کیوں کے معصوم سے کوئی اختلاف نہیں کیا جا سکتا یہ گناہ ہے اگر کسی سے صادر ہو تو اس کو توبہ کرنے کا کہا جائے گا۔

اگر اس بات کا پتہ چل جاتا جس میں اس صحابیؓ یا بعض صحابہؓ کا حضرت علیؓ سے اختلاف ہوا تو اس سے یہ بھی پتہ چل جاتا کہ اس تنازعہ میں حق پر کون تھا؟

بعض غیر مسلم یہاں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کے اس تنازع کا فیصلہ حضورﷺ نے اس کے حقائق اور دلائل سے کیوں نہ کیا؟ اس کے لیے علی سے اپنے تعلق کا واسطہ کیوں دیا؟

آپﷺ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک خاندان کا رشتہ بھی تھا۔ اور ایمان کا رشتہ بھی تھا تو اس حدیث ولایت سے بظاہر یہی سمجھ آتا ہے کہ شاید اس تنازعہ میں وہ دوسرے صحابیؓ جو حضرت علیؓ سے کسی بات سے الجھ پڑے تھے حق پر ہوں پھر بھی حضرت محمدﷺ نے علیؓ سے اپنا حق محبت ظاہر فرمایا جس سے اہل سنت نے یہ عقیدہ اختیار کیا کے اہل بیت کی محبت ہر مسلمان پر لازم ہے۔ مستشرقین مسلمانوں سے جب کبھی حضورﷺ کی سیرت پر نزاع کرتے ہیں تو برملا پوچھتے ہیں کہ آپﷺ جن باتوں کو عام مسلمانوں کے لیے جائز فرماتے تھے اپنے گھر کی باری آئی تو آپ (معاذ اللہ) اس میں دوسری رائے قائم کر لیتے تھے۔ آپ نے غدیر خم کے تنازعہ میں امر واقع پر فیصلہ نہ دیا۔ ان اختلاف کرنے والوں کو اپنے حقِ محبت کا احساس دلایا۔ اپنی امت کے لیے تو چار بیویوں کو جائز ٹھہرایا لیکن جب حضرت علیؓ نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو آپﷺ نے انہیں اس سے منع فرما دیا۔ ہم جواباً ان متشرقین کو کہتے ہیں حضورﷺ نے اپنی امت کو اپنے بارے میں سب سے زیادہ محبت کرنے کا سبق اس لیے دیا تھا کے اس محبت کی رو سے ان پر حضورﷺ کی پیروی اور شر یعت کی پابندی آسان ہو جائے۔ شریعت پر عمل کرنا ان کے لیے بوجھ نہ رہے۔ اب حضورﷺ کی انتہائی محبت کا ایک تقاضا یہ بھی تھا آپ کی امت کو آپﷺ کے رشتے داروں سے محبت ہو۔ حدیث ولایت میں اس سے بڑھ کر آپﷺ نے علی کے حق میں کوئی اور بات نہ کی۔

رہی دوسری بات کہ جب حضرت علیؓ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تو آپﷺ نے اس سے علی کو منع فرمایا۔ یہ منع کی روایت ہماری نظر میں کہیں سے نہیں گزری۔ آپﷺ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر علی ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو فاطمہ کو طلاق دے دے۔ اللہ کے پیغمبر کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں۔

اس وقت ہم حضور ﷺ کی سیرت مقدسہ پر بات نہیں کر رہے یہ بات صرف ضمناً سامنے آگئی تھی۔ بات حدیث ولایت پر ہو رہی ہے، اس میں لفظ مولا ولایت سے ہے اور اس کا معنی ہے دوستی اور دوستی کا لفظ دشمنی کے مقابل ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس کا حاصل حضرت علیؓ سے دوستی رکھنے کی طلب ہی ہے۔ یہ کوئی ان کی خلافت کی طلب نہیں اور اس کا قرینہ آخر میں حضورﷺ کی یہ دعا ہے:

اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ

ترجمہ: اے اللہ! تو اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے اور اس سے عداوت رکھ جو اس سے عداوت رکھے۔

یہ آپﷺ نے علی کے حق میں جو دوستی چاہی تھی اس پر کوئی امر زائد نہیں ہے یہ صرف اس کی تفصیل ہے یہاں ولایت علی صرف ان کی دوستی کے معنی میں ہے، خلافت کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔

اس حدیث کا آیت تبلیغ دین سے کوئی تعلق نہیں

جب بمقام غدیر خم حضورﷺ پر کوئی آیت نہیں اتری تو ظاہر ہے کہ یہ آیت تبلیغِ دین کا مقام (بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ) غدیر خم سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ نہ اس آیت کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ میرے پیغمبر تو علی کی خلافت کا اعلان ضرور کر۔ اس کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے آپ نے اپنے مرض وفات میں کاغذ اور قلم طلب فرمایا جس کا مطلب یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔کہ شاید آپ کسی کی خلافت کا حکم لکھوانا چاہتے ہوں۔

صفحہ 2 از 3