Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شجاعت اور بہادری

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ انتہائی شجاع اور بہادر تھے، اس کی دلیل یہ ہے:

1: آپؓ کا جہاد کے لیے نکلنا، اور تمام غزوات و معرکوں میں رسول اللہﷺ‏ کے ساتھ شرکت کرنا۔ رہا مسئلہ غزوۂ بدر میں عدمِ شرکت کا تو اس کے جواب میں ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ یہ رسول اللہﷺ‏ کے حکم سے تھا، اور آپﷺ‏ نے آپؓ کو غزوۂ بدر میں شرکت کرنے والوں میں سے شمار کیا، اور مالِ غنیمت میں آپؓ کے لیے حصہ مقرر فرمایا، اور ان شاء اللہ اجر و ثواب کے بھی مستحق بنے۔ پھر بھلا رسول اللہﷺ‏ کی بات کے آگے کس کی بات ہو سکتی ہے۔

2: صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہﷺ‏ کے سفیر کی حیثیت سے قریش کے پاس جانا۔ حدیبیہ کے موقع پر جس وقت رسول اللہﷺ‏ نے آپؓ کو قریش کے پاس بحیثیتِ سفیر بھیجنا چاہا آپؓ نے برضا و رغبت آپﷺ‏ کے فرمان کو عملی جامہ پہنایا، حالاں کہ آپؓ کو بخوبی معلوم تھا کہ یہ مہم کس قدر خطر ناک ہے لیکن آپؓ کی شجاعت و بہادری تھی کہ آپؓ نے انکار نہ کیا اور سراپا اطاعت بن گئے، یقیناً جو شخص ان سنگین حالات میں سفارت کو قبول کرے وہ انتہائی عظیم بہادر و شجاع اور نادر الوجود ہیرو ہی ہو سکتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ پر صحیح ہے کہ چوں کہ یہ رسول اللہﷺ‏ کا حکم تھا جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لیے سیدنا عثمان بن عفانؓ میں بھی انکار کی تاب نہ تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ میں آپؓ کی شجاعت و بہادری بھی عیاں ہے کیوں کہ عام آدمی اور بزدل شخص اس اہم ذمہ داری کو ان حالات میں قبول نہیں کر سکتا۔

(الامین ذوالنورین: صفحہ، 194، 195، 196)