Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسئلہ تحریفِ قرآن

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

مسئلہ تحریفِ قرآن

سوال

اہلِ سنت و الجماعت شیعوں پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کے نزدیک موجوده قرآن ادھورا ہے حالانکہ شیعہ اس قرآن پاک کو کامل و مکمل اور غیر مصرف مانتے ہیں اور یہ کمی اور زیادتی سے بالکل محفوظ ہے۔

الجواب

کتبِ شیعہ میں کثرت سی ملتا ہے کے موجودہ قرآن پاک میں تغیر و تبدل ہوا بہت سے کلمات اور حروف اس سے نکالے گئے اور کئی مقامات پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی طرف سے اس کے اندر داخل کر دیے حتیٰ کہ جن آیات میں آئمہ معصومین کے نام تھے وہ ساری کی ساری خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم نے باہر پھینک دیں۔ ملاحظہ ہو شیعہ مذہب کی کتاب فصل الخطاب صفحہ 216طبع ایران۔

لو ترك القرآن کما انزل لالفتینا فیہ ممیین

اگر قرآن پاک کو اسی طرح چھوڑ دیا جاتا جیسے نازل کیا گیا تھا تو اے مخاطب ہم ائمہ کو اس میں نام بنام پاتا۔

اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ قرآن پاک سے ئمہ کے نام نکالے گئے۔ اس مسئلہ تحریفِ قرآن کے متعلق شیعہ کے مشہور محدث علامہ نوری نے ایک کتاب لکھی ہے جس کے نام سے کتاب کا عنوان معلوم ہو رہا ہے۔

فصل الخطاب في اثبات تحريفِ كتاب رب الارباب

اس کتاب کے صفحہ251 پر علامہ نوری محدث طبرسی نے لکھا ہے:

ھی كثيرة جدا حتٰى قال السيّد نعمة الله الجزائري في بعض مؤلفاتہ كما حكى عنه ان الاخبار الدالة علٰى ذالك تزيد على الفہ حديث-

تحریفِ قرآن کی روایات بہت زیادہ ہیں حتیٰ کہ سید نعمت اللہ الجزائری نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے جیسا کہ اس سے حکایت کیا گیا کہ بیشک وہ روایات جو اس (تحریفِ قرآن) پر دلالت کرتی ہیں وہ دو ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔

اسی طرح صاحب فصل الخطاب علامہ نوریؒ اپنی رائے پیش کرتے ہیں کہ قرآن میں تغیر تبدل اخبار متواترہ سے ثابت ہے ۔ ملاحظہ فصل الخطاءصفحہ339

وعندى ان الاخبار في هٰذا الباب متواترة

میرے نزدیک (علامہ نوویؒ) اس تحریف کے باب میں روایات متواترہ موجود ہیں۔

ذیل میں شیعہ کی معتبر کتاب اصول کافی سے چند ایک حوالے ایسے پیش کیے جائیں گے جن میں ائمہ قسمیں اُٹھا اٹھا کر فرما رہے ہیں کہ یہ آیت اصل میں یوں نازل ہوئی تھی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے تبدیل کر دیا ۔ ان روایات کا ترجمہ نہیں کیا جائے گا ہر روایت کے ان الفاظ پر خط میں دیا جائے گا جو بقولِ شیعہ اصل میں نازل ہوئے تھے اور اب موجودہ قرآن میں نہیں

1عن جابر عليه السلام قال نزل جبرئيل عليه السلام بهذه الآية على محمد هكذا إن كنتم فی ریب مما نزلنا على عبدنا فی على عليه السلام فاتوا بسورة ال

(اصول کافي صفحہ 117)

2 عن إبى جعفر عليه السلام قال نزل جبرئيل عليه السلام السلام بھذہ الاية على محمد هكذا بئسما اشتروا بہ انفسھم ان یكفروا بما انزل الله في علی بغیا

(اصول كافی صفحہ112)

3 عن ابى جعفر عليه السلام قال نزل جبرئيل بهذه الآية هكذا. فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا آلَ مُحَمَّد حقھم قولا غیر الی

(ولاصول كافى صفحہ123)

4 عن ابى جعفر عليه السلام قال نزل جبرئيل بهذه الآية ھكذا فابی اکثر الناس بولایة علی الأکفُورًا.

(اصول کافی صفحہ112)

5 عن ابي عبد الله عليه السلام قال نزل هذه الآية هكذا سئل سَائِلٌ بِعَذَابٍ واقع للكافرين بولاية علي لَيْسَ لَهُ دافع من الله

(اصول کافی صفحہ 111)

6 عن ابی عبد الله عليه السلام هذه الآية هكذا انزلت وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رسُولِ اللهِ فِي وِلايَةِ عَلِي وَالأَئمَّةِ كَالَّذِينَ اذوا مُوسى -

(اصول كافي صفحہ 109)

7 عن ابى عبد الله عليه السلام في قوله ولَقَدْ عَهِدْنا إلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ كَلِمَاتٍ فِي مُحَمَّدٍ وَعَلَى فَاطِمَة وَ الحسن والحسين والائمة مِنْ رُزِيَّتِهِمْ فَنَسِي هكذا والله انزلت

(اصول کافی صفحہ106)

8 عن ابي عبدالله عليه السلام وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ في ولايَةِ عَلي وَالْائمَةِ مِنْ بَعْدِهِ فَقَدْ فَازَ فَوْرًا عظِيمًا -

( اصول كافى صفحہ 110)

9 عن ابي عبد الله عليه السلام قال نزل جبرئيل بهذه الآية هكذا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ أَمَنُوا بِمَا نَزَّلْ في عَلي عَلَيْهِ السَّلام نُورًا مُّبِينًا -

( اصول کافی صفحہ 110)

10عن ابی عبد الله عليه السلام في قوله فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ يَا مَحْشَرَ الْمُكَذِّبِينَ حَيْثُ أَنْبَاتُکمْ رِسَالَتَ رَبِّي فِي وِلَايَةِ عَلِيَّ وَالْائمةِ مِنْ بَعْدِهِ مَنْ هُوَ في ضَلَالٍ مُّبِين ؕ هذا انزلت

(اصول كافى صفحہ111)

ناظرین کرام ان روایات کو غور سے دیکھیں اور حفاظ کرام سے پوچھیں مذکورہ بالا آیات انہی الفاظ کے ساتھ موجودہ قرآن میں نہیں ہیں معلوم ہوا کہ شیعوں کے نزدیک موجودہ قرآن ناقص ہے ۔ نیز ایک دفعہ امام جعفر صاحب کا شاگرد بیان کرتا ہے کہ میں امام صاحب کے پاس تھا اور ایک آدمی نے قرآن پڑھنا شروع کیا مگر موجودہ قرآن میں ان الفاظ کو نہیں پڑھا جاتا تھا تو امام جعفر نے سختی سے روک دیا اور فرمایا امام مہدی کے برآمد ہونے سے پہلے پہلے موجودہ قرآن ہی پڑھا کرو ۔ چنانچہ اصول کافی میں موجود ہے :

قرء رجل على ابى عبد الله عليه السلام وانا استمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرءها الناس فقال ابو عبد اللہ کف من ھذہٖ القرءة اقرء کما یقرءھا الناس حتٰى يقوم القائم

راوی کہتا ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر کے سامنے قرآن کے حروف پڑھے ، اور میں سن رہا تھا مگر اس طرح نہ پڑھے جیسے لوگ پڑھتے تھے پس امام جعفر نے فرمایا کی جا اس سے اس طرح پڑھ جس طرح لوگ پڑھتے ہیں یہاں تک کہ قائم آل محمد دینی امام مہدی، غار سے برآمد ہو جائیں۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس قرآن کے وہ شخص حروف پڑھ رہا تھا وہ کوئی اور قرآن تھا اور سیدنا جعفرؒ نے روک دیا۔ امام مہدی کے بر آمد ہونے کے وقت وه قرآن بھی دنیا میں برآمد ہو جائے گا۔

باقی وہ قرآن کتنا بڑا ہو گا؟ اس کے متعلق ملاحظہ ہو اصول کافی صفحہ 252

عن ابى عبد الله عليه السلام قال ان القرأن الذي جاء بہ جبرئیل عليه السلام الى محمد سبعة عشر الف ایة

امام جعفر فرماتے ہیں وہ قرآن جو جبرئیل علیہ السلام رسول پاکﷺ کی طرف لے کر آئے اس کی سترہ ہزار 17000 آیات تھیں۔

اور اس موجودہ قرآن کی چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ (6666) آیات ہیں ۔ گویا اس قرآن سے وہ امام مہدی والا قرآن تقریباً تین گنا ہو گا۔ امید ہے اس کے نوے پارے ہوں گے اور ستر گز لمبا ہوگا اور اونٹ کے ران کے برابر موٹا ہو گا ۔ امام مہدی ملائکہ کی چہل پہل میں غار شریف سے برآمد ہوں گے ۔

اس مسئلہ تحریفِ قرآن پر استاذ المکرم مولانا اللہ یار خان صاحبؒ کی کتاب ایمان بالقرآن دیکھنے کے قابل ہے۔