خراج لگان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خراج لگان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

خراج کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے: ایک عمومی معنیٰ جس کا مطلب ہے کہ صدقات و زکوٰۃ کے علاوہ ہر آمدنی جو بیت المال میں جائے اسے خراج کہا جاتا ہے اس معنیٰ کے اعتبار سے فے، جزیہ اور کسٹم آمدنی وغیرہ پر بھی خراج کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

دوسرے خصوصی معنیٰ جس کا مطلب ہے کہ جنگ کے ذریعہ سے مفتوحہ اراضی کی وہ آمدنی جسے حاکم وقت نے مسلمانوں کے مفاد عامہ میں ہمیشہ کے لیے وقف کر دیا ہو جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق اور شام کی قابل زراعت زمین کے ساتھ کیا تھا۔ 

(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 24، 25۔ اقتصادیات الحرب: صفحہ 215)

علامہ ابن رجب حنبلیؒ کا قول ہے کہ خراج کو اجارہ کرایہ اور قیمت پر قیاس نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کا اپنا مستقل مسئلہ ہے، اسے دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔

(الاستخراج لأحکام الخراج: صفحہ 40، اقتصادیات الحرب: صفحہ 215)

عظیم ترین فتوحات اور خاص طور سے روم و فارس کی دو عظیم قوتوں کے زوال کے بعد جب اسلامی قوت و شوکت کا غلبہ ہوثگیا تو اسلامی سلطنت کی آمدنی کے متعدد ذرائع ہو گئے اور اس کے مصارف کی بھی کثرت ہو گئی اسلامی سلطنت کی طرف اٹھتی ہوئی حاسدانہ نگاہوں سے اس کے وجود اور عزت و قوت کی حفاظت، عوام و خواص کے مفاد کی ضمانت، اور اس کی بقاء کے لیے حکمت و بھلائی پر مبنی مالیاتی نظام کی ضرورت تھی۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مفاد عامہ کے استقرار کے لیے ایک مستحکم اور مستقل آمدنی کی ضرورت کو محسوس کیا اور پھر خراج کو اس مقصد کے لیے مستقل آمدنی قرار دیا۔ فاتح مجاہدین کی یہ خواہش تھی کہ مالِ غنیمت کے بارے میں قرآنِ کریم کی رہنمائی کے عین مطابق غنیمت میں حاصل شدہ مال اور اراضی انہی پر تقسیم کر دی جائے جیسا کہ ارشادِ الہٰی ہے:

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ‌ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞(سورۃ الانفال: آیت 41)

ترجمہ: ’’اور جان لو کہ بے شک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی، جس دن دو جماعتیں مقابل ہوئیں اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘

حضرت عمرؓ نے شروع میں تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ اراضی مجاہدین میں تقسیم کر دیں، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ اسے تقسیم نہ کیا جائے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے تھی، حتیٰ کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کو ایسا کرنے سے خبردار کیا۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 103)

حضرت ابوعبیدؓ نے روایت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیدنا عمرؓ جابیہ میں تشریف لائے اور مفتوحہ زمین کو فاتح مجاہدین میں تقسیم کرنا چاہا، تو معاذؓ نے فرمایا: تب تو وہی ہو گا جسے آپؓ پسند نہیں کرتے۔ اگر آپؓ نے اسے تقسیم کر دیا تو زمین کا بہت سا منافع لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا، اور لوگ ادھر ادھر منتشر ہو جائیں گے، پھر تو وہ صرف ایک مرد یا ایک عورت کی ملکیت ہو جائے گی اور بعد میں جو لوگ مسلمان بن کر ان کے قائم مقام ہوں گے وہ کچھ نہیں پائیں گے۔ لہٰذا ایسی تدبیر اختیار کیجیے جو موجودہ اور بعد میں آنے والوں کے لیے بھی مفید ہو۔ 

(الأموال: أبی عبید: صفحہ 175۔ سیاسۃ المال: صفحہ 103)

درحقیقت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرؓ کو ایک عظیم مقصد سے آگاہ کیا اور آپؓ نے قرآنِ کریم کی آیات میں مسئلہ کی تلاش شروع کر دی، اور تلاوت کے وقت ہر کلمہ کا انتہائی دقت و باریک بینی سے مطالعہ کرنے لگے، یہاں تک کہ سورہ حشر کی تقسیم فے والی آیت پر آ کر ٹھہر گئے اور پھر یہ مسئلہ واضح ہو گیا کہ یہ آیت موجودہ دور اور بعد کے مسلمانوں کے لیے بھی مالِ فے کو جائز قرار دیتی ہے۔ بالآخر آپ نے فیصلہ کرلیا کہ حضرت معاذؓ کے مشورہ پر عمل کریں گے اور جب یہ خبر لوگوں کے درمیان عام ہوئی تو آپؓ اور بعض دیگر صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلاف واقع ہو گیا سیدنا عمرؓ اور آپ کی تائید کرنے والے لوگ مفتوحہ زمین کو تقسیم کرنے کے قائل نہ تھے جب کہ بلال بن رباح اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم جیسے دیگر صحابہ اس کی تقسیم کے قائل تھے، جیسا کہ مالِ غنیمت کو تقسیم کیا جاتا ہے، اور جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر میں تقسیم کیا تھا، لیکن حضرت عمرؓ تقسیم سے انکاری ہی رہے اور سورہ حشر میں خمس والی اس آیت کی تلاوت شروع فرمائی:

وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞(سورۃ الحشر: آیت 6)

ترجمہ: ’’اور جو ( مال) اللہ نے ان سے اپنے رسول پر لوٹایا تو تم نے اس پر نہ کوئی گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ اور لیکن اللہ اپنے رسولوں کو مسلط کر دیتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔‘‘

اور پھر بنو نضیر کے واقعہ کا حوالہ دیا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةً بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ‌ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌ ۞(سورۃ الحشر: آیت 7)

صفحہ 1 از 3