خراج لگان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خراج لگان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ترجمہ:’’جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، تاکہ وہ تم میں سے مال داروں کے درمیان ہی گردش کرنے والا نہ ہو اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

اس آیت سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں ہر بستی والوں کے لیے عام حکم ہے۔ پھر فرمایا:

لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌ ۞(سورۃ الحشر آیت 8)

ترجمہ: ’’یہ مال ان محتاج گھر بار چھوڑنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال باہر کیے گئے۔ وہ اللہ کی طرف سے کچھ فضل اور رضا تلاش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔‘‘

اللہ نے مالِ فے کے مستحقین میں صرف انہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے ساتھ دوسروں کو بھی شمار کیا اور فرمایا:

وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌ ۞ (سورۃ الحشر: آیت 9)

ترجمہ: ’’اور ان کے لیے جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان مہاجرین کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘

پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر انصار کا ذکر کیا اور پھر انہی پر بس نہیں بلکہ ان کے علاوہ دوسروں کو بھی اس کا حق دار بتایا۔ ارشاد فرمایا:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡلَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ الحشر: آیت 10)

ترجمہ: ’’اور ان کے لیے جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنھوں نے ایمان لانے میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! یقیناً تو بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘

پس آیاتِ کریمہ کا حکم مہاجرین و انصار کے بعد آنے والے تمام مسلمانوں کو شامل ہے، اور تمام مسلمان مال فے کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اسی زاویۂ اجتہاد کے پیش نظر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میں زندہ رہا تو صنعاء کے چرواہے کو بھی اس مال فے سے اس کا حصہ ضرور پہنچاؤں گا، درآحالانکہ اس کا خون اس کے چہرے پر نظر آئے گا۔

ایک دوسری روایت میں اس طرح الفاظ ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: بعد میں آنے والے ان مسلمانوں کا کیا ہو گا جو دیکھیں گے کہ مفتوحہ زمین کسانوں کے درمیان تقسیم کی جا چکی ہے اور وراثت در وراثت اس پر قبضہ چلا آ رہا ہے، میں اس بات کو کبھی نہ پسند کروں گا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر آپؓ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے، اراضی اور اس کی ہریالی و شادابی تو اللہ نے ان کو غنیمت کے طور پر دی ہے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم صحیح کہہ رہے ہو، لیکن میں اسے تقسیم کرنے پر راضی نہیں ہوں۔ اللہ کی قسم میرے بعد کوئی بھی ملک فتح ہو گا تو اس کی مفتوحہ ملکیت میں بڑی بدنظمی ہو گی، بلکہ ممکن ہے وہ فتح مسلمانوں کے لیے ایک بوجھ بن جائے۔ لہٰذا سنو! اگر عراق کی زمین اور عجمی کسانوں اور شام کی زمین کو تقسیم کر دیا جائے گا تو سرحدوں کے عجمی کسانوں کی حفاظت کا کیا ذریعہ ہو گا؟ شام اور عراق کی اراضی سے اس شہر اور دیگر شہروں کی بیواؤں اور عورتوں بچوں کو کیسے فائدہ ملے گا؟ لیکن مجاہدین نے حضرت عمر فاروقؓ سے کافی بحث کی اور کہا: اللہ نے ہماری تلواروں کے ذریعہ سے ہمیں جو مالِ فے دیا ہے آپؓ اسے ان لوگوں پر وقف کر رہے ہیں جو ہمارے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوئے، اور نہ انہیں دیکھا ہے۔ آپ اسے مسلمانوں کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کو دے رہے ہیں حالانکہ وہ شریک جہاد نہیں ہوئے۔ حضرت عمرؓ یہ سب کچھ سن کر اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے کہ میری یہی رائے ہے۔ مجاہدین صحابہؓ نے کہا کہ آپؓ لوگوں سے مشورہ لے لیجیے، چنانچہ آپؓ نے اوس و خزرج کے دس مشاہیر و اشراف انصار کو بلوایا اور ان کو خطاب کرتے ہوئے کہا: میں تم جیسا ایک عام آدمی ہوں، اور آج آپ لوگ حق بات کہنے کے لیے آئے ہیں، جس نے میری مخالفت کی مخالفت کی، اور جس نے میری تائید کی تائید کی، میں نہیں چاہتا کہ جو میری رائے اور خواہش ہے تم بھی اسی کے قائل ہو جاؤ، پھر فرمایا: آپ لوگوں نے ان لوگوں مجاہدین کی بات سن لی ہے ان کا خیال ہے کہ میں ان پر ظلم اور ان کی حق تلفی کر رہا ہوں، حالانکہ میرے خیال میں کسریٰ کی زمین کے بعد اب کسی زمین کی فتح باقی نہیں رہی، اور اللہ نے ہمیں حکومت کسریٰ کے اموال، اراضی، اور شادابی و ہریالی کو غنیمت میں عطا کر دیا، لہٰذا میں نے غیر منقولہ اموال کو مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دیا، غنیمت کا خمس نکال کر ان کے مصرف میں لگا دیا اور مفتوحہ زمین کے بارے میں میں نے یہ فیصلہ کیا کہ زمین کو اس کی ہریالی و شادابی کے ساتھ مفتوحہ اقوام کے ہی قبضہ میں رہنے دوں اور ان سے زمین کے بدلہ خراج اور افراد کے بدلے جزیہ لگان لیتا رہوں وہ اس کی ادائیگی کرتے رہیں گے اور وہ مسلمان مجاہدین، عورتوں، بچوں اور آئندہ نسلوں کے لیے مستقل مالِ فے ہو جائے گا۔

صفحہ 2 از 3