خراج لگان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خراج لگان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کیا ان بڑے شہروں کے لیے اسلامی فوج، اور ان کے لیے سامان رسد کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر میں اس زمین اور اس کی شادابی کو فاتح مجاہدین میں تقسیم کر دوں تو بھلا بتاؤ کہ ان اخراجات کا انتظام کہاں سے ہو گا؟ تمام شرکائے مجلس نے یک زبان ہو کر اتفاق ظاہر کیا اور کہا کہ آپؓ کی رائے ہی درست ہے، آپ نے کیا ہی بہترین بات کہی اور کیا ہی بہترین رائے پیش کی، سچ ہے کہ اگر ان سرحدوں پر اسلامی فوج نہ بٹھائی گئی، شہروں میں پولیس و نگران نہ مقرر کیے گئے اور ان کے لیے روزی و وظیفہ اور سامان رسد کا انتظام نہ کیا گیا تو غیر مسلم افراد اپنے ملکوں میں واپس لوٹ جائیں گے۔ 

(الخراج أبو یوسف: صفحہ 67۔ اقتصادیات الحرب: صفحہ 217)

حضرت عمرؓ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اگر میں مفتوحہ زمین مجاہدین میں تقسیم کر دوں تو ان میں سے مالداروں کے درمیان وہ بار بار گھومتی رہے گی، اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کو کچھ نہ ملے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فے میں ان کا حق بتایا ہے جیسا کہ ارشادِ الہٰی ہے:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ ۞ (سورۃ الحشر: آیت 10)

’’یعنی جو ان مہاجرین و انصار کے بعد مسلمان آئیں گے ان کے لیے (مال فے میں) حق ہے۔‘‘

پھر آپؓ نے فرمایا: آیت کریمہ کا حکم قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو شامل ہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ اور دیگر ممتاز و مشاہیر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین زمین کی عدم تقسیم پر متفق ہو گئے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام فی عہد عمر: صفحہ 105)

مذکورہ واقعہ میں سیدنا عمرؓ نے صحابہؓ کے ساتھ جس طرح گفتگو کی ہے اس سے مناظرہ کا ایک بہترین فاروقی اسلوب سامنے آتا ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ عراق کی قابلِ زراعت زمین کے لیے جو بحث و گفتگو ہوئی اور آپ نے صحابہ سے جو بات کہی اس میں آپ نے کتنے بہترین انداز میں با وزن دلیل، درپیش مسئلہ کی نزاکت کی منظر کشی، اور فریق مخالف کی صلح و مصالحت کو یکجا کر دیا۔ آج کے دور میں اگر کوئی نامور سیاسی لیڈر، اور پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کے آداب و اسلوب کا ماہر اپنی تقریر کے ذریعہ سے ممبرانِ پارلیمنٹ کو راضی کر کے کوئی منصوبہ یا بجٹ پاس کروانا چاہے تو فاروقی طرز تعبیر سے زیادہ دقیق اور پر حکمت، نیز فاروقی اسلوب سے بہتر کوئی اسلوب نہیں پیش کر سکتا۔ مزید برآں آپؓ کی امتیازی صفت یہ تھی کہ آپؓ ایسے مواقع پر بھی اپنی بات میں سچے ہوتے تھے، آپؓ کے اندر سیاسی چال بازی اور غلط بیانی نہیں تھی، آپؓ نے اپنی بات اتنی صداقت اور وضاحت سے پیش کی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ (اخبار عمر: صفحہ 210)


صفحہ 3 از 3