Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا اصول

  علی محمد الصلابی

 باہمی تعلقات کی استواری میں فریق ثانی کی شرکت کی جو نوعیت ہو اسی کے مطابق معاملات و گفتگو کے اسلوب میں تنوع ہونا چاہیے۔ جن کے ساتھ مصالحت ہو چکی ہو ان پر نرمی کی جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امیر لشکر کو نصیحت کرتے ہوئے حکم دیا تھاکہ اہل صلح پر ظلم و ستم کر کے دشمن پر فتح پانے کے طالب نہ رہو، جاسوسی کے لیے مفتوحہ علاقوں کے صرف انہی لوگوں سے مدد لو جن پر تم کو کامل اعتماد ہو، دوسرے لفظوں میں یہ کہ مطلق بھروسا کرنے سے احتیاط برتو۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے متعلق ضرورت سے زیادہ حسن ظن کے نتیجے میں تمہیں نقصان اٹھانا پڑے۔