Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح فرما

  علی محمد الصلابی

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مغرب کی طرف چلے، ’’فرما‘‘ سے پہلے کسی بھی رومی سپاہی سے ملاقات نہ ہوئی، بلکہ جگہ جگہ مصریوں نے ان کا استقبال کیا۔ سب سے پہلے ’’فرما‘‘ میں محاذ آرائی ہوئی۔ رومیوں نے یہ خبر پا کر کہ حضرت عمروؓ کے ساتھ آنے والے فوجی معمولی تعداد اور ناقابل ذکر جنگی تیاری میں ہیں، زیادہ دنوں تک محاصرہ نہیں کر سکتے، جب کہ ہم ان سے زیادہ تعداد و تیاری میں ہیں اور انہیں پست کر لے جائیں گے، وہ شہر میں قلعہ بند ہوگئے۔ ادھر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو رومیوں کی عسکری قوت کا علم ہو چکا تھا کہ وہ تعداد و اسلحہ میں کئی گنا ہم پر بھاری ہیں، چنانچہ آپ نے ’’فرما‘‘ پر قابض ہونے کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ اچانک حملہ کر کے فصیل کے دروازوں کو کھول دیا جائے یا پھر اس وقت تک صبر کے ساتھ محاصرہ جاری رکھا جائے جب تک کہ شہریوں کی خوراک ختم نہ ہو جائے اور بھوک سے بے تاب ہو کر باہر نہ نکل آئیں۔ چنانچہ محاصرہ کر لیا، ادھر مسلمانوں کا محاصرہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا تھا اور ادھر رومی بھی اپنی ضد سے پیچھے نہ ہٹ رہے تھے۔ اس طرح محاصرہ کئی مہینے جاری رہا، کبھی کبھی بعض رومی فوج باہر آتی اور دو چار جھڑپیں کر کے پیچھے ہٹ جاتی، ان جھڑپوں میں مسلمان ہی غالب رہتے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی جوش آفریں تقریر سے مسلمانوں کو ہمت دلاتے، ایک تقریر میں سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اسلام و ایمان کے پاسبانو! اے قرآن کو سینے میں سجانے والو! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ! فولادی مردوں کی طرح صبر کرو، ثابت قدم رہو، اپنی صفوں سے نہ ہٹو، تیر برساتے رہو، زرہوں سے خود کو بچاتے رہو، خاموش رہو، ہاں بولو تو اللہ کا ذکر کرو، اپنی مرضی سے کوئی نیا اقدام نہ کرو، جب تک کہ میں تم کو حکم نہ دے دوں۔

(فتح مصر: صبحی ندا: صفحہ 19، 20)

ایک دن رومی افواج کی ایک جماعت بستی سے باہر نکل کر مسلمانوں سے لڑنے نکلی، مقابلہ میں مسلمان غالب رہے اور رومی ہزیمت کھا کر بستی کی طرف بھاگے، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا، دوڑنے میں کافی تیز روی کا ثبوت دیا اور کچھ لوگوں نے دروازے تک رومیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ کر فصیل کا دروازہ کھول دیا۔ شہر میں سب سے پہلے مسلمانوں کے ایک جانباز اسمیقع داخل ہوگئے اور فتح مبین کا راستہ صاف کر دیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصر کے قدیم باشندے یعنی ادھر ادھر دیہاتوں میں رہنے والے قبطیوں نے مسلمانوں کا استقبال کیا۔ جب فرما پر مسلمانوں کا قبضہ مکمل ہوگیا تو انہوں نے اس کی مضبوط فصیلوں اور قلعوں کو منہدم کر دیا تاکہ اگر کبھی (بدقسمتی) سے رومی اس پر غالب ہوں تو اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کے بعد حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر والوں میں خطبہ دیا: اے لوگو! اس اللہ کی تعریف بیان کرو جس نے مسلمانوں کے لشکر کو فتح و غلبہ سے نوازا۔ اللہ بہت بڑا کار ساز ہے، اس نے اسلام سے ہماری پشت پناہی کی اور اسی سے ہماری واپسی کا راستہ محفوظ کیا، لیکن تم کہیں اس خام خیالی میں نہ آنا کہ اللہ سے ہم جو کچھ بھی چاہیں گے وہ پورا ہی ہو جائے گا اور تم اس نصرت الہٰی سے دھوکا کھا جاؤ۔ ابھی ہمارے سامنے نہایت دشوار گزار راستہ ہے، امیرالمؤمنین نے ہمیں جس مہم پر مامور کیا ہے اس کا پانا ابھی بہت دور ہے۔ صبر سے کام لو، اپنے امیر کی اطاعت کرو، عنقریب مفتوحہ قوم جان لے گی کہ ہم سلامتی دینے والی فوج ہیں، روئے زمین پر ہم فساد نہیں کرتے بلکہ فساد کو مٹاتے اور زمین کی اصلاح کرتے ہیں۔ تم سب قدوئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتر عمل کرنے والے ہو جاؤ۔

(فتح مصر: صبحی ندا: صفحہ 20)

’’فرما‘‘ فتح کرنے کے بعد حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اس حد تک مطمئن ہو چکے تھے کہ اب یہ شہر دشمن کے لیے پناہ گاہ بننے کے لائق نہیں بچا ہے، پھر اپنی فوج کے حالات اور خیریت معلوم کرنے لگے۔ ان چند مجاہدین کی شہادت پر آپؓ کو زیادہ ہی تکلیف ہوئی جو مصر فتح کرنے کے لیے زیادہ بے چین تھے اور وہ وقت آنے سے پہلے موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اسی وقت سے یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ اگر آئندہ اسی طرح لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور قلت تعداد کے باعث ہمارا اسی طرح جانی نقصان ہوا تو ممکن ہے کہ اصل جنگ کا مقابلہ نہ کیا جا سکے اور منزل تک پہنچنے میں ہم ناکام رہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید غیبی سے اس نقصان کی تلافی کر دی۔ بایں طور کہ راشدہ اور لخم کے جو عربی قبیلے کوہ حلال (جولۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 214) کے دامن میں زندگی گزار رہے تھے وہ اسلامی فوج سے آملے اور حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر بلا کسی مزاحمت کے مغرب کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب قواصر (قصاصین) پہنچے تو یہاں سے جنوب کی طرف مڑ گئے اور صبح ہوتے ہوتے ’’التل الکبیر‘‘ کے قریب وادی طمبلان پہنچ گئے۔ جنوب کی سمت میں مزید پیش قدمی کرتے ہوئے بلبیس پہنچے، النجوم الزاہرہ کے مؤلف کا کہنا ہے کہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نہایت ہلکی و معمولی مزاحمتوں سے گزرتے ہوئے بلبیس آئے۔

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 7، 8)