کرامات اولیاء
علی محمد الصلابیجب اسود عنسی کو یمن میں غلبہ ملا تو اس نے ابو مسلم خولانی کو بلایا جب وہ حاضر ہوئے تو ان سے کہا:
کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟
ابو مسلم نے کہا: میں نہیں سنتا ہوں۔
پھر اس نے کہا: کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں؟
ابو مسلم نے کہا: ہاں۔
بار بار وہ ان سے یہی سوالات کرتا رہا اور ابو مسلم پہلا جواب دہراتے رہے۔ اسود نے حکم دیا اور ان کو بڑی آگ کے اندر ڈال دیا گیا۔ آگ نے ان کو کچھ نہ نقصان پہنچایا۔
اسود سے لوگوں نے کہا: اس کو جلا وطن کر دو، ورنہ آپ کے ماننے والوں کو خراب کر دے گا۔ آپ کو مدینہ چلے جانے کا حکم دے دیا گیا اور جب وہاں پہنچے تو رسول اللہﷺ کی وفات ہو چکی تھی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے جا چکے تھے۔ مسجد نبویﷺ کے دروازے پر اونٹنی بٹھائی اور مسجد میں داخل ہوئے اور ایک ستون کے پاس نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ آپ کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا، آپ کے پاس آئے، پوچھا:
’’آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟
کہا: یمن سے۔
فرمایا: ان کا کیا حال ہے جنہیں کذاب یمن نے آگ میں ڈال دیا تھا؟
کہا: وہ عبداللہ بن ثوب ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا وہ آپ ہی ہیں؟
کہا: ہاں۔
حضرت عمر فاروقؓ نے آپ کو گلے سے لگا لیا اور رو پڑے پھر آپ کو لے جا کر اپنے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان بٹھایا اور فرمایا: الحمد للہ، اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اس نے مرنے سے پہلے مجھے امت محمدیہ میں ایسے فرد کو دکھا دیا جس کے ساتھ وہ فعل دہرایا گیا جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ کیا گیا تھا۔
(اسدالغابۃ: جلد 6 صفحہ 304 صفحہ 6247 الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 1758)
اس صالح شخص کی کرامت ہے جس نے اللہ کے حدود کی پابندی کی، اللہ کے لیے دوستی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی کی اور ہر چیز میں اللہ پر توکل کیا، اسی وجہ سے اللہ نے قول و عمل میں توفیق بخشی اور امن و اطمینان سے نوازا اور ان کے ہاتھ پر یہ کرامت جاری کی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۞الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ۞لَهُمُ الۡبُشۡرٰى فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِى الۡاٰخِرَةِ لَا تَبۡدِيۡلَ لِـكَلِمٰتِ اللّٰهِؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞
(سورۃ یونس، آیت، 62، 63 ،64)
ترجمہ: یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق نہیں ہوا کرتا، یہ بڑی کامیابی ہے۔