دوسرا شبہ
علی محمد الصلابیاہل تشیع کا یہ کہنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو محروم کر دیا۔
اہل روافض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا حالانکہ اس نے خود روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مورث نہیں بنائے جائیں گے اور اس نے اس روایت کو دلیل بناتے ہوئے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے محروم کر دیا اور شیعہ مفید کی روایت کو دلیل بناتے ہیں کہ مجھے ابو الحسن علی بن محمد الکاتب نے حدیث بیان کی، اس نے کہا: مجھے حسن بن علی زعفرانی نے حدیث سنائی، اس نے کہا ہمیں ابو اسحق ابراہیم بن محمد ثقفی نے حدیث سنائی، اس نے کہا: ہمیں حسن بن حسین انصاری نے حدیث سنائی، اس نے کہا: ہمیں سفیان نے فضیل بن زبیر کے واسطے سے حدیث سنائی، اس نے کہا: مجھے فروہ بن مجاشع نے ابو جعفر محمد بن علی علیہ السلام کے واسطے سے حدیث سنائی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور (ان سے) کہا، آپ مجھے وہ عطایا دیں جو مجھے میرے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دیتے تھے۔ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے کتاب و سنت میں تمہارے لیے ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی اور تمہارا باپ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اپنی صوابدید پر تمھیں دیتے تھے، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے میرا حصہ دے دیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تو اور مالک بن اوس نصری نہیں آئے تھے اور تم دونوں نے گواہی نہیں دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مورث نہیں بنائے جائیں گے حتیٰ کہ تم دونوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کی میراث سے روک دیا اور تم دونوں نے اس کا حق باطل کر دیا؟ تو آج تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کیسے طلب کرتی ہو۔ چنانچہ وہ چھوڑ کر واپس چلی گئیں۔
(الامالی للمفید، حدیث نمبر: 3۔ بحار الانوار للمجلسی۔)
اس شبہ کا ازالہ:
یہ کلام انتہائی درجے کا باطل ہے اور رافضی اس سے اس روایت کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جو بخاری نے اپنی صحیح میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انھیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ وہاں کے پھلوں یا زرعی پیداوار میں نصف پر معاملہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو وہاں سے حاصل شدہ اسّی 80 وسق کھجور اور بیس 20 وسق جو دیا کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر کے تمام محصولات کو عام مسلمانوں پر تقسیم کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ کو وسق اور زمین میں اختیار دے دیا۔ کچھ نے وسق پسند کیے اور کچھ نے زمین لے لی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جنھوں نے زمین لی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2328۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1551۔)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو نفقہ دیا کرتے اور آپ کی وفات کے بعد بھی یہ انھیں ملتا رہا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا یَقْتَسِمُ وَرَثَتِی دِیْنَارًا مَا تَرَکْتُ ۔بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَآئِیْ وَمَؤنَۃِ عَامِلِیْ فَہُوَ صَدَقَۃٌ
’’میری وراثت بصورت دینار تقسیم نہیں ہو گی۔ میری بیویوں کے نفقہ کے بعد اور میرے لیے عمل کرنے والوں کے خرچ کے بعد میں نے جو کچھ چھوڑا وہ صدقہ ہے۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2776۔ صحیح مسلم: 1760)
یہ اس لیے تھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے دنیا اور اس کے سامان کے برعکس اللہ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو اپنے لیے چن لیا تو ان کے لیے خوراک اور نان و نفقہ کا بندوبست کرنا ضروری ہو گیا۔ لیکن یہ میراث کی شکل نہ تھی اور اسی لیے ان کی رہائش گاہوں میں کسی نے ان سے تنازع نہ کیا کیونکہ یہ سب کچھ ان کے اخراجات میں شمار ہوتا تھا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اپنے ہاتھ سے ان کے لیے مخصوص کیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِیْ....
( اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
’’میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ کے بعد جو کچھ چھوڑا۔‘‘
اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ کے وارثوں نے کبھی ان کے گھروں میں میراث کا مطالبہ نہیں کیا اور اگر گھر ازواج النبی کی ملکیت میں ہوتے تو وہ ان کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتے اور ان کے وارثوں کا اپنے حقوق کو ترک کرنا بھی اس کی دلیل ہے۔ اس لیے جب سب ازواج النبیﷺ وفات پا گئیں تو ان کے گھروں کو مسجد کی توسیع میں شامل کر لیا گیا تاکہ تمام مسلمان فائدہ اٹھائیں، جیسے کہ ان نفقات کے ساتھ کیا گیا جو ان کو ملتے تھے۔ و اللّٰہ اعلم۔
(فتح الباری: باب ما جاء فی بیوت ازواج النبی صلي اللّٰه عليه وسلم: جلد 6 صفحہ 211۔ اسی طرح، باب قول النبی صلي اللّٰه عليه وسلم لا نورث ما ترکنا فہو صدقۃ: جلد 12 صفحہ 7)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے ترکہ میں سے ایک درہم کی بھی وارث نہیں بنیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کی بیویوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو (امیر المؤمنین) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی وراثت کے سوال کے لیے بھیجنا چاہا۔ تب عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس موقع پر کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا:
لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ
(صحیح بخاری: رقم الحدیث: 4034۔ صحیح مسلم: رقم الحدیث: 1758 ۔)
’’ہمارے وارث نہیں بنائے جاتے۔ ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘
جہاں تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو میراث سے محروم کرنے کا معاملہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ
(اس کی تخریج گزر چکی ہے)
’’ہمارے وارث نہیں بنائے جاتے، ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث نہ بنایا جانا قطعی سنت اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور یہ دونوں قطعی دلیلیں ہیں۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 220)
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جانا اور فدک سے اپنی میراث طلب کرنا اور سابقہ حدیث کی روشنی میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جواب دینا، جس کی وجہ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہو کر چلی گئیں۔ اس کا سبب یہ بنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا مفہوم سمجھنے میں ان کو غلطی لگی جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے وضاحت کی۔
(فتح الباری لابن حجر: جلد 6 صفحہ 202)
لیکن یہ اختلاف اس و قت ختم ہو گیا جب ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے اور ان کی منت سماجت کر کے انھیں منایا۔ جیسا کہ امام بیہقیؒ نے اپنی سند کے ذریعے شعبی سے روایت کیا ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فاطمہ! یہ ابوبکر ہیں۔ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: انھیں اجازت دے دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس جا کر ان کی منت سماجت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اپنا گھر، مال اور اہل و عیال ترک کر دیا ہے۔ صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا مقصود ہے اور تم اہل بیت کی رضا چاہتا ہوں، پھر انھیں راضی کرنے لگے بالآخر وہ راضی ہو گئیں۔
(اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ جلد 6 صفحہ 301، حدیث نمبر: 12515۔ بیہقی نے کہا: یہ صحیح اسناد کے ساتھ مرسل حسن ہے۔)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا: ’’ یہ سند جید و قوی ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ عامر شعبی نے علی سے سنا ہے یا اس سے سنا ہے جس نے علی سے سنا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 8 صفحہ 196)
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کے ساتھ وہی کچھ کیا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو انھوں نے بھی کسی کو اس کا مالک نہیں بنایا۔
(شرح مسلم للنووی: جلد 12 صفحہ 731 )
البتہ وہ حدیث جو مفید نے روایت کی، اس کی سند میں ابراہیم بن محمد ثقفی ہے۔ ’’لسان المیزان‘‘ کے مصنف نے اس کے بارے میں لکھا ہے: ’’ابن ابی حاتم نے کہا: یہ مجہول ہے۔ امام بخاریؒ نے کہا: اس کی حدیث صحیح نہیں ہوتی۔ ابن عدی نے کہا: اس کی حدیث صحیح نہیں ہے اور ابو نعیم نے تاریخ اصفہان میں کہا: شیعیت میں یہ غالی تھا۔ اس کی حدیث متروک ہے۔
(لسان المیزان لابن حجر: جلد 1 صفحہ 43)
تاہم حسن بن حسین انصاری حسن بن حسین عرنی کوفی ہے۔ اس کے بارے میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں لکھا: ’’ابو حاتم نے کہا: ان کے نزدیک یہ صدوق نہیں اور شیعہ کے سرغنوں میں سے ہے۔ ابن عدی نے کہا: اس کی حدیث ثقات کی حدیث جیسی نہیں ہوتی۔ ابن حبان نے کہا: وہ اثبات سے مخلوط روایات بیان کرتا ہے اور مقلوب روایات سناتا ہے۔‘‘
(المصدر السابق: جلد 1 صفحہ 199)
علاوہ ازیں میں اس میں یہ اضافہ کرتا ہوں کہ اس حدیث کی سند میں متعدد مجہول راوی ہیں اور وہ سب جنھوں نے ابو جعفر تک سند بیان کی، جس نے عثمان سے کبھی ملاقات نہ کی یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ چھپن یا ستاون ہجری میں پیدا ہوا، یعنی عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے کئی سال بعد۔ اس بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ روایت ساقط ہے۔ و الحمد للّٰہ۔
(غیر مطبوعہ بحث بعنوان عائشۃ ام المومنین لہانیٔ محمد عوضین۔)