دوسرا شبہ
علی محمد الصلابی’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا
(منہاج الکرامۃ للحلی: صفحہ 75)
جواب:اس شبہ کا جواب پانچ وجوہ سے دیا جائے گا: (ہم نے اس جواب کو منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 317 اور مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز الدھلوی: 268 کے مطالعے سے تیار کیا۔)
وجہ نمبر 1: یہ صحیح ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر سے نکلیں لیکن جاہلیت قدیمہ کا بناؤ سنگھار نہیں کیا اور اللہ نے انھیں اس فعل بد سے اپنی پناہ میں رکھا۔ لہٰذا الزام لگانے والے کے ذمہ دلیل ہے وگرنہ ان کی شان میں یہ جھوٹ من گھڑت ہے۔ جیسا کہ متعدد بار لکھا جا چکا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں رافضیوں نے بے شمار جھوٹے فسانے گھڑے ہیں۔
وجہ نمبر 2: گھروں میں قرار پکڑنے کا حکم ضرورت اور مصلحت عامہ کے لیے نکلنے کے خلاف نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا تھا:
اِنَّہٗ قَدْ اُذِنَ لَکُنَّ اَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِکُنَّ۔
ترجمہ: ’’یہ کہ تمہارے لیے اپنی ضرورت کے لیے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4795 صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2170)
چنانچہ عورت صلہ رحمی، عیادت مریض اور دیگر مصلحتوں کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ساری امت کی مصلحت کے لیے گھر سے نکلیں جو روٹھے ہوؤں کو منانے کے لیے گئیں اور انھوں نے اس مسئلہ میں اجتہاد سے کام لیا۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا: گھروں میں ٹھہرنے کا حکم ایسی مصلحت کے لیے باہر جانے کے خلاف نہیں جس کا حکم دیا گیا ہو۔ جیسے مثلاً عورت حج و عمرے کے لیے جائے یا اپنے خاوند کے ساتھ سفر کرے، کیونکہ یہ آیات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اکثر سفروں میں اپنی بیویوں کو ساتھ لے جاتے تھے جو کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد بھی جاری رہے، جیسا کہ حجۃ الوداع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور اپنی دیگر بیویوں کے ہمراہ سفر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اونٹ پر عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار کرایا جو انھیں تنعیم سے عمرہ کا احرام بندھوانے گئے اور حجۃ الوداع اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کم از کم تین ماہ پہلے ہوا۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج پر گئی تھیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ حج پر جاتی رہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت میں ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں کی قطار کو سیدنا عثمان یا سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے سپرد کرتے۔
( القطار: قطار سے مراد اونٹوں کی قطار ہے تاکہ وہ ایک لائن میں چلتے رہیں اور کوئی قطار سے باہر نکل کر بدنظمی پیدا نہ کرے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 80)
تو جب ازواج مطہراتؓ کے اپنی مصلحت کے لیے سفر جائز تھے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوچا کہ یہ سفر تو تمام مسلمانوں کی مصلحت کے لیے ہے، چنانچہ انھوں نے اس تاویل کے مطابق اجتہاد کیا۔
(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 4 صفحہ 317، 318)
وجہ نمبر 2: یہ کہ وہ اجتہاد کے سہارے گھر سے باہر گئیں۔ خصوصاً جب ان کے ساتھ بکثرت عادل صحابہؓ ہوں جو بہرحال مجتہد تھے کسی کو جاہل نہیں کہا جا سکتا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا:
’’خطا کرنے والے مجتہد کی خطا معاف کر دی جاتی ہے تو جب ان لوگوں کی اس اجتہادی غلطی کو معاف کر دیا گیا جس کی وجہ سے مؤمنین باہم قتال کرتے رہے۔ یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مدمقابل صحابہ کرامؓ وغیرہم تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے اس اجتہادی غلطی پر مغفرت کا ہونا زیادہ قریب ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلیں۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 4 صفحہ 320)
وجہ نمبر 4: رافضیوں کی اپنی کتابوں میں سند متواتر سے ثابت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو اونٹ پر سوار کرایا اور انھیں مدینہ کی گلیوں اور انصاریوں کے گھروں کے سامنے گھمایا تاکہ ان کے جو حقوق غصب کیے گئے ہیں (شیعوں کے کہنے کے مطابق) اس پر اس کی کچھ معاونت ہو جائے۔
(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز الدہلوی: صفحہ 269)
روافض اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا عیب شمار نہیں کرتے کہ وہ اپنے گھر سے نکلیں۔ یہ رافضیوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی تنقیص کی دلیل ہے کیونکہ وہ اپنی خواہشات کی اتباع کرتے ہیں۔
وجہ نمبر 5: یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بلاشبہ اپنے گھر سے نکلنے پر سخت نادم ہوئیں اور وہ جب جنگ جمل کا تذکرہ کرتیں تو اتنی شدت سے روتیں کہ اپنی اوڑھنی آنسوؤں سے تر کر لیتیں۔ یہ ندامت و توبہ کی دلیل ہے اور جو گناہ سے توبہ کر لے وہ گناہ نہ کرنے والے کی طرح ہو جاتا ہے اور توبہ کرنے والے کو اس کے گناہ کے ساتھ عار دلانا جائز نہیں۔ جو شخص اپنے گناہ سے توبہ کر لے اگر اسے اس کے گناہ کی وجہ سے عار دلایا گیا تو یہ اس پر بہت بڑا ظلم ہو گا۔
ذرا سوچیں! اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے گھر سے نکلنے کا گناہ کر لیا جس سے توبہ لازم آتی ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے شدید ندامت کا اظہار تو کر دیا اور یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دین، ورع اور کمال تقویٰ کی بہترین مثال ہے اور جو توبہ کرنے والے کا گناہ توبہ کے بغیر بیان کرے گا تو وہ اس پر یقیناً بہتان لگائے گا، اور اس پر افتراء باندھے گا اور اگر یہ عام مسلمانوں کے بارے میں حکم ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارے میں تو یہ زیادہ موکدہ اور واجب ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’جو شخص ان کے گناہوں کا تذکرہ کرے اور ان کی اس توبہ کو بیان نہ کرے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات بلند کیے تو وہ ان پر ظلم کرے گا۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 207)