دوسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث نہ بنایا جانا قطعی سنت اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور یہ دونوں قطعی دلیلیں ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 220)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جانا اور فدک سے اپنی میراث طلب کرنا اور سابقہ حدیث کی روشنی میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جواب دینا، جس کی وجہ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہو کر چلی گئیں۔ اس کا سبب یہ بنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا مفہوم سمجھنے میں ان کو غلطی لگی جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے وضاحت کی۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 6 صفحہ 202)

لیکن یہ اختلاف اس و قت ختم ہو گیا جب ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے اور ان کی منت سماجت کر کے انھیں منایا۔ جیسا کہ امام بیہقیؒ نے اپنی سند کے ذریعے شعبی سے روایت کیا ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فاطمہ! یہ ابوبکر ہیں۔ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: انھیں اجازت دے دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس جا کر ان کی منت سماجت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اپنا گھر، مال اور اہل و عیال ترک کر دیا ہے۔ صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا مقصود ہے اور تم اہل بیت کی رضا چاہتا ہوں، پھر انھیں راضی کرنے لگے بالآخر وہ راضی ہو گئیں۔

(اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ جلد 6 صفحہ 301، حدیث نمبر: 12515۔ بیہقی نے کہا: یہ صحیح اسناد کے ساتھ مرسل حسن ہے۔)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا: ’’ یہ سند جید و قوی ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ عامر شعبی نے علی سے سنا ہے یا اس سے سنا ہے جس نے علی سے سنا ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 8 صفحہ 196)

جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کے ساتھ وہی کچھ کیا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو انھوں نے بھی کسی کو اس کا مالک نہیں بنایا۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 12 صفحہ 731 )

البتہ وہ حدیث جو مفید نے روایت کی، اس کی سند میں ابراہیم بن محمد ثقفی ہے۔ ’’لسان المیزان‘‘ کے مصنف نے اس کے بارے میں لکھا ہے: ’’ابن ابی حاتم نے کہا: یہ مجہول ہے۔ امام بخاریؒ نے کہا: اس کی حدیث صحیح نہیں ہوتی۔ ابن عدی نے کہا: اس کی حدیث صحیح نہیں ہے اور ابو نعیم نے تاریخ اصفہان میں کہا: شیعیت میں یہ غالی تھا۔ اس کی حدیث متروک ہے۔

(لسان المیزان لابن حجر: جلد 1 صفحہ 43)

تاہم حسن بن حسین انصاری حسن بن حسین عرنی کوفی ہے۔ اس کے بارے میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں لکھا: ’’ابو حاتم نے کہا: ان کے نزدیک یہ صدوق نہیں اور شیعہ کے سرغنوں میں سے ہے۔ ابن عدی نے کہا: اس کی حدیث ثقات کی حدیث جیسی نہیں ہوتی۔ ابن حبان نے کہا: وہ اثبات سے مخلوط روایات بیان کرتا ہے اور مقلوب روایات سناتا ہے۔‘‘

(المصدر السابق: جلد 1 صفحہ 199)

علاوہ ازیں میں اس میں یہ اضافہ کرتا ہوں کہ اس حدیث کی سند میں متعدد مجہول راوی ہیں اور وہ سب جنھوں نے ابو جعفر تک سند بیان کی، جس نے عثمان سے کبھی ملاقات نہ کی یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ چھپن یا ستاون ہجری میں پیدا ہوا، یعنی عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے کئی سال بعد۔ اس بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ روایت ساقط ہے۔ و الحمد للّٰہ۔

(غیر مطبوعہ بحث بعنوان عائشۃ ام المومنین لہانیٔ محمد عوضین۔)


صفحہ 2 از 2