علم فقہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

علم فقہ

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 2

حضرت شمعون علیہ السلام

حضرت سام علیہ السلام

حضرت ہارون علیہ السلام

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

حضرت نوح علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت نوح علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اور حضرت محمدﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو منسوخ کر دیا یہ ناطق سات ہیں اسی طرح سے وہ چیزیں گنائی جاتی ہیں جو سات ہیں مثلاً آسمان، ہفتے کے دن، زمینیں، کواکب اور سیارے وغیرہ وغیرہ۔

پانچویں دعوت:

اس میں مدعو کو بتلایا جاتا ہے کہ ہر ایک صامت کے ساتھ بارہ مددگار حجتیں بارہ مہینوں، برجوں اور چار انگلیوں کے بارہ ٹکڑوں کی طرح ہوتے ہیں۔

چھٹی دعوت:

اس میں بتلایا جاتا ہے اعمالِ شریعت نماز، روزہ، حج وغیرہ سب رموز ہیں اور عام سیاست کی مصلحت کے لیے جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان میں مصروف ہو کر آپس میں فتنہ و فساد نہ پھیلائیں اور حاکم وقت سے وفادار رہیں ورنہ فی الحقیقت ان سے مراد ان کی تاویلیں ہیں۔

جب مدعو کے دل میں یہ بات جم جاتی ہے تو اس کو یونانی فلاسفروں، افلاطوں، ارسطو وفیشا غورث کے اقوال سمجھائے جاتے ہیں۔

ساتویں دعوت:

اس میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ کس طرح عقول کو پیدا کیا گیا اور شریعت میں صادر اول اور عقلِ اول کو قلم کہتے ہیں اور اس کے مددگار کو لو ح۔

آٹھویں دعوت:

اس دعوت میں سات عقول کی پیدائش کے ساتھ ساتھ اجرام فلکی کی حرکتیں اور ان کے ذریعے جمادات، نباتات، حیوانات کا وجود میں آنا، انسان اول کا ظہور، ناطقوں کا قیام وغیرہ سے متعلق گفتگو کی جاتی ہے۔

نویں دعوت:

اس نشست میں مدعو کو یونانی فلاسفروں کی کتابیں پڑھنے اور علومِ الہٰی و طبیعی سے واقفیت حاصل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے اور یہ بتلایا جاتا ہے کہ وحی صرف نفس کی صفائی کا نام ہے اور نبی یا رسول کا کام ہے کہ جو بات اس کے دل میں آتی ہے اور اسے بہتر معلوم ہوتی ہے وہ لوگوں کو بتلا دیا کرتا ہے اور اس کا نام کلامِ الہٰی رکھتا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں یہ قول اثر کر جائے اور اسے مان لیں تاکہ سیاست اور مصلحت عام میں انتظام رہے۔

جب مدع مستجیب دعوت میں داخل ہونے کو تیار ہو جاتا ہے تو داعی اس سے حسبِ ذیل معاہدہ لیتا ہے جس کو عہد الاولیاء کہا جاتا ہے مؤرخین مقریزی و بغدادی نے جو معاہدہ نقل کیا ہے اس کا اختصار یعنی اہم نکات یہ ہیں:

1: داعی جس مستجیب سے عہد لیتا ہے اسے خدا کی قسم کھلا کر کہتا ہے کہ تم نے اپنے نفس پر خدا کا وہ عہد و میثاق اور رسول انبیاء ملائکہ اور کتابوں کا وہ ذمہ واجب کر لیا ہے جو خدا نے انبیاء سے لیا تم نے جو کچھ میرے متعلق یا اس شہر میں جو امام مقیم ہیں ان کے متعلق یا ان کے اہلِ بیتؓ اور اصحاب وغیرہ کے متعلق سنا ہے یا سنو گے جانا ہے یا جانو گے اسے چھپاؤ گے اور اس میں سے کسی بات کو خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی ہے ظاہر نہ کرو گے بجز اس بات کا ہے کہ جس کی میں اجازت دوں۔

2: اس عہد کے محافظت اس بات پر منحصر ہے کہ ہم نے تم سے جن باتوں کا عہد لیا ہے ان میں سے کسی بات کو بھی تم ظاہر نہ کرو گے نہ ہماری زندگی میں نہ ہماری وفات کے بعد۔

3: اگر تم نے جان بوجھ کر کچھ بھی مخالفت کی تو تم اللہ اور اس کی جماعت سے خارج ہو جاؤ گے تمہارا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا اس میں کوئی رحمت نہیں ہوگی اور خدا تم پر وہ لعنت بھیجیا گا جو اس نے ابلیس پر بھیجی۔

4: اور جتنے تمہارے غلام ہوں خواہ مرد یا عورت تمہاری مخالفت کی وجہ سے تمہاری وفات تک خدا کی راہ میں آزاد تصور کیے جائیں گے اور تمہاری موجودہ بیوی اور وہ بیویاں جو تمہارے انتقال کے وقت تک تمہارے نکاح میں آئیں گی مطلقہ شمار کی جائیں گی۔

ہم نے خود مؤرخ مقریزی کے بیان کردہ عہد نامہ سے صرف اہم باتیں طوالت کے خوف سے پیش کی ہیں یہ عہد نامہ کس قدر طویل ہوگا سمجھ سے باہر ہے کیونکہ مقریزی لکھتا ہے:

اس کے علاؤہ ان کی بہت سی وصیتیں ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ہم نے چھوڑ دیا ہے اور جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ عاقل کے لیے کافی ہیں

دعوت کی یہ مجالس ہمیشہ خفیہ ہوتی تھیں حتیٰ کہ فاطمی خلافت کے قیام کے بعد خلیفہ کے قصر میں ایک مخصوص جگہ ان کا انعقاد ہوتا تھا ان کو مجلسِ حکمت کہا جاتا تھا۔

نظامِ دعوت اور عہد نامے سے متعلق ہم بھی مؤرخ مقرریزی کے بیان پر اکتفاء کرتے ہیں کہ عقلمند را اشارہ کافی است مقریزی ہے بھی بالکل صحیح اور حق بجانب اس لیے کہ دعوت کے مدارج اور عہد و پیمان کے نکات خود اپنے منہ سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کیا ہیں اور ہمیں کس غرض سے ترتیب دیا گیا ہے۔


صفحہ 2 از 2