آیت ولایت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت ولایت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

سورۃ المائدہ آیت 55 سے امامت علی کا غلط استدلال اور اسکا رد

سورۃ المائدہ آیت 55 سے امامت علی کا غلط استدلال اور اسکا رد

 حالت رکوع میں صدقہ انگوٹھی یا چادر کے افسانے کی حقیقت

اہلِ تشیع کی ایک الجھن کا جواب:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی بھی طرح "خلیفہ بلافصل" ثابت نہیں ہوتے شیعہ حضرات سورۃ المائدہ کی اس آیت کا حوالہ دے کر غلط تشریح کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 اہلِ تشیع کا استدلال:

سورۃ المائدہ آیت 55 پس اللہ ولی ہے تمھارا اور اس کے پیغمبر اور مومن جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور رکوع والے۔

تفسیر درمنثور جلد 2 صفحہ 293۔

علامہ جلال الدین سیوطیؒ

1۔ تفسیر فتح القدیر جلد 2 صفحہ 53

علامہ شوکانی

1۔ تفسیر قادری سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ سورۃ المائدہ کی یہ آیت سیدنا علیؓ کی شان میں اس وقت نازل ہوئی جب مسجدِ نبویﷺ میں سیدنا علیؓ نے حالتِ رکوع میں سائل کو انگوٹھی خیرات کی۔

اہلِ تشیع استدلال کا رد:

سب سے پہلے چند الفاظ کی وضاحت پڑھیں:

ولی: آیت میں لفظ ولی حاکم یا متصرف کے معنوں میں نہیں اور شیعہ یہیں سے اپنے مفروضہ محل کی تعمیر شروع کرتے۔

المومنون:صیغہ جمع کا ہے اس سے مراد سیدنا علیؓ کی ذات لینا کیونکر درست ٹھہرا؟۔

جب کوئی قرینہ صارفہ موجود نہیں۔

شیعہ اس کا حل یہ بتاتے ہیں کہ جمع کی ضمیر اس لیے لائی گئی ہے کہ اس میں آئندہ گیارہ امام بھی داخل ہیں۔

خوب سوجی مگر علم کی بات کرنے اور تُک بھڑکانے میں فرق ہے علم کہتا ہے کہ یہ مرجع ضمیر غائب کا ذات ہوتی ہے جو موجود ہو گیارہ امام تو اس وقت تصورات کی دنیا میں بھی نہیں تھے۔ 

اگر ولی بمعنیٰ حاکم ہے اور مومنون میں باقی گیارہ ائمہ شامل ہیں تو بات ایک طرف بگڑتی نظر آتی ہے۔

یعنی پہلے سیدنا علیؓ کو تو حکومت ملی گو بقول شیعہ برائے نام ہی سہی اور دوسرے سیدنا حسنؓ کو ملی اور انہوں نے اپنے آزاد ارادے اور پسند سے حکومت سے دستِ بردار ہونے کا اعلان فرما دیا باقی نو کو سرے سے حکومت ملی ہی نہیں اور دسویں کے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا تو پھر اللہ نے اماموں کو کون سی حکومت دینے کا اعلان فرما دیا۔

 ہم ان شاء اللہ ان تمام روایات کو دلائل غلط ثابت کریں گے۔

ہم ان سے کچھ سوالات ضرور کریں گے تا کہ ان کی غلط توجیہات کو بھی منظر عام پر لاسکیں ثابت کیا جائے کہ ولی کے معنوں میں ایک معنیٰ "بلافصل خلیفہ" بھی ہے عربی لغت سے جواب درکار ہےجب ولایت کے مستحقین کے لئے لفظ مومنین لایا گیا ھے تو اس کی تخصیص صرف سیدنا علیؓ کے ساتھ کیوں کی گئی؟۔

کیا حالتِ رکوع میں زکوٰۃ دینا قرآن و سنت سے جائز ہے یا زکوٰۃ صرف حالتِ رکوع میں دینے کا حکم ہے؟۔

اگر یہ فعل آپﷺ سے منقول نہیں تو کیا یہ بدعت نہیں کہلوائی جائے گی؟۔

کیا شیعہ حضرات حالت رکوع میں زکوٰۃ دینے کے پابند ہیں۔ 

اگر کوئی شخص حالتِ رکوع میں ادائے زکوٰۃ کرے تو کیا وہ بھی خلیفہ بلافصل ہی کہلوایا جائے گا کیونکہ آپ اسے بہت بڑی نیکی اور ولایت کے استحقاق کے لئے ضروری سمجھتے ہیں سائل کون ہے؟۔

اصولِ کافی میں لکھا کہ فرشتہ ہے تو کیا فرشتہ کو صدقہ دینا کس شریعت میں جائز یا واجب کا فرض یا نفل لکھا؟۔ 

کیا سیدنا علیؓ کے پاس اتنا سونا موجود تھا کہ جس پر زکوٰۃ واجب تھی اگر نہیں تھا تو زکوٰہ دینے کا کیا مقصد؟۔

کیا آپؓ بھی اس دور میں سرمایہ دار تھے یا کہ نبیﷺ کی طرح فقیرانہ زندگی ہی گزارتے رہے۔

کیا نماز میں یہ فعل ادا کرنا نماز کو خراب کرنے اور فعل کثیرہ کا باعث تو نہیں۔

"من کنت مولا فعلیؓ مولا" سے خلیفہ بلافصل کیسے ثابت ہوتا ہے کہیں مزکور ہو تو دکھائیں جیسا کے آپ ولی کے معنیٰ سردار کے لیتے ہیں تواگر مولا کے معنیٰ سردار ہی کے لئے جائیں تو سیدنا علیؓ تو تمام انبیاء علیہم السلام کو بھی سردار ثابت ہوئے کیونکہ آپﷺ تمام نبیوں کے سردار ہیں۔

 اور کیا اس سے سیدنا علیؓ کا مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہ ہوگیا اور زمانہ نبوت میں دو افراد ایک ہی عہدہ پر فائز ثابت نہیں نہ ہوں گے اگر مولا کے معنیٰ محبوب اور دوست کے سمجھے جائیں تو کیا حرج ہے۔

تفصیلی جواب اہلِ سنّت:

اس (سورۃ المائدہ کی آیت 55) آیت کے شانِ نزول میں مفسرین کرام نے ہرگز حضرت علیؓ کے حق میں نزول پر اتفاق نہیں کیا بلکہ مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے اور اس کے شانِ نزول مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ 

1۔ چنانچہ تفسیر ابنِ جریر جلد چہارم صفحہ 186 مطبوعہ بیروت میں فرمایا کہ یہ آیت سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے جبکہ بنی خزرج سے سیدنا عبادہ بن صامتؓ نے فرمایا تھا کہ میں تمہاری دوستی کو چھوڑتا ہوں کیوں کہ میں اللہ عزوجل و رسول اللہﷺ اور مومنین کو دوست رکھتا ہوں۔

2۔ تفسیر روح المعانی جلد 6 صفحہ 176 میں اس آیت کے تحت ایک اور روایت بیان کی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلامؓ جب ایمان لائے تو ان کی قوم نے ان سے بائیکاٹ کر دیا تو سیدنا عبداللہ بن سلامؓ بہت پریشان ہوئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ الخ۔

3۔ جب کہ سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کے متعلق اس آیت کا نازل ہونا شیعہ کی معتبر تفسیر مجمع البیان جلد 2 صفحہ 210 پر بھی موجود ہے جس کی عبارت یہ ہے: 

وقال الکلبی نزلت فی عبداللہ بن سلام اصحابہ لما اسلموا فقطعت الیہود موالاتھم۔

یعنی کلبی نے کہا کہ یہ سوره المائده آیت 55 إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ الخ۔ 

سیدنا عبداللہ بن سلامؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ مشرف بااسلام ہوئے اور اسلام لانے کے بعد یہودیوں نے ان سے دوستی ختم کر دی تھی۔

اور تفسیر فتح القدیر شوکانی کا حوالہ ہمارے لئے حجت نہیں کیونکہ شوکانی غیر مقلد ہے سرکار دوعالمﷺ نے مردوں پر سونا حرام فرما دیا تھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سونے کی انگوٹھی پہننا اس روایت کی غیر معتبر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ 

تفسیر فتح القدیر صفحہ 6 پر لکھا ہے شوکانی شاگرد تھا عبدالحق بنارسی کا اور عبدالحق بنارسی کا سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں وہی عقیدہ تھا جو کہ شیعہ کا ہے۔ 

(دیکھو کشف الحجاب عبدالحق بنارسی)۔

دوسری بات مذھبہ و عقیدہ تفقہ علی مذھب الامام زید زیدی شیعہ تھا۔ 

صفحہ 1 از 3