آیت ولایت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت ولایت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

(تفسیر فتح القدیر صفحہ 6)۔

مذکورہ بالا سنی اور شیعہ روایات سے ثابت ہوا کہ:

1۔ اس آیت کے شانِ نزول میں اختلاف ہے۔ 

2۔ ان روایات مذکورہ میں سے پہلی روایت سے ثابت ہے کہ یہ آیت سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

3۔ دوسری روایت یعنی روحُ المعانی شیعہ تفسیر مجمع البیان کی روایت سے ثابت ہے کہ یہ آیت سیدنا عبداللہ بن سلامؓ اور آپؓ کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

4۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سورة المائده آیت 55 اس آیت میں ولی بمعنیٰ دوست استعمال ہوا ہے لہٰذا قطعی طور پر اس کا شانِ نزول سیدنا علیؓ کے بارے میں قرار دینا درست نہیں ہے۔ 

جبکہ تفسیر درمنثور جلد 2 صفحہ 518 مطبوعہ بیروت میں اس آیت کا پہلا شانِ نزول ہی سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے برے میں بیان کیا گیا ہے۔

5۔ فتح القدیر اہلِ سنت کی کتاب نہیں۔

دوسری روایت سیدنا علیؓ کے بارے میں اور تیسرا شانِ نزول سیدنا جعفر صادقؒ کے والد گرامی سیدنا محمد باقرؒ سے منقول اصحابِ محمدﷺ ہیں اور سائل نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت نبی پاکﷺ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور سیدنا علیؓ بھی ان میں سے ہیں۔

واضح ہو گیا کہ شیعہ حضرات کا اس آیت کو سیدنا علیؓ کے بارے میں قطعی طور پر قرار دینا درست نہیں ہے (جب بنیاد ہی قائم نہ ہو سکی تو اس سے مٙن گھڑت خود ساختہ مفہوم کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟)۔ 

کیا سیدنا علیؓ نے سائل کو چادر دی؟۔ 

پہلی بات:

بفرضِ محال ہم تسلیم کر لیں کہ یہ آیتِ پاک سیدنا علیؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض کُتبِ شیعہ میں اس آیتِ مبارکہ کے ماتحت لکھا ہوا ہے کہ سیدنا علیؓ نے سائل کو چادر دی بعض نے لکھا ہے کہ انگوٹھی دی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائل بھی بڑا عجیب تھا اس نے انتظار نہ کیا کہ سیدنا علیؓ نماز سے فارغ ہو جائیں بعد میں سوال کروں۔

دوسری بات:

چلو ہم مان لیں کہ سائل نے نماز کے اندر سوال کر لیا اور سیدنا علیؓ رکوع کی حالت میں انگوٹھی یا چادر سائل کو دے دی بات سمجھنے کی ہے کہ چادر سیدنا علیؓ نے اتار کر سائل کو دی اور یہ فعلِ کثیر ہے اور فعلِ کثیر مفسداتِ نماز ہے کیا باب العلمؓ کو اس بات کا بھی علم نہ تھا؟۔

حالانکہ رکوع سے مراد وہ لوگ جو زکوٰۃ دیتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور رکوع کرتے ہیں یہ حضور سرورِ کائناتﷺ کی امت میں ہے سابقہ امتوں میں نماز تھی رکوع نہ تھا۔

 تیسری بات:

اگر سیدنا علیؓ نے جو سائل کو زکوٰۃ دی تو جو 1000 درہم کی چادر دی اور سیدنا علیؓ کے قول کے مطابق کہ ساری زندگی زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی کیا جواز پر بھی زکوٰۃ ہوتی ہے؟۔

آیت کی غلط تفسیر کا رد:

اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید العمری کذاب (جھوٹا) اور متروک ہے۔

 اسے حافظ ابنِ حجرؒ نے (الکافی الشافی فی تخریج احادیث الکشاف لابنِ حجر جلد 1 صفحہ 649/ سورة المائدہ آیت 55) متروک۔

یحیٰ بن معین نے (کتاب الجرح و التعدیل جلد 3 صفحہ 360 سندہ صحیح) میں کذاب (جھوٹا)۔

امام ابوحاتم الرازی نے (کتاب الجرح و التعدیل 360 رقم : 1630) میں کذاب کہا ہے اس کے علاوہ حافظ ہیثمی اور حافظ ابنِ حبانؒ نے بھی اس پر شدید جرح کی ہیں۔

جبکہ اس کا دوسرا راوی اسحاق بن عبداللہ بن محمد بن علی بن حسین نامعلوم ہے حافظ ہیثمی نے کہا: اسے طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے اور اس میں ایسے راوی ہیں جنیں میں نہیں جانتا۔ 

(مجمع الزوائد جلد 7 صفحہ 17 سورۃ المائدۃ)۔

حافظ ابنِ کثیرؒ نے اس روایت اور دوسری روایات کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ان (روایات) میں سے سرے سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہے سندوں کے ضعیف اور راویوں کے مجہول ہونے کی وجہ سے۔

(تفسیر ابنِ کثیر جلد 2 صفحہ 567 آیت المائدہ 55)۔

نوٹ: یہ روایت اور اس مفہوم کی دیگر تمام روایات ضعیف یا باطل و مردود ہیں۔

سیدنا ابوجعفر الباقرؒ سے روایت ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور سیدنا علیؓ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ 

(تفسیر ابنِ جریر جلد 4 صفحہ 594 ح 12225)۔

منہاج السنۃ النبویہ میں شیخ السلام ابنِ تیمیہؒ اسی آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں:

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ الخ۔

(سورۃ مائدہ آیت 55)۔

ترجمہ: تمہارا ولی اللہ تعالیٰ ہے اسکا رسول اور وہ مومن ہیں جو نماز کی پابندی کرتے زکوٰۃ ادا کرتے اور رکوع کرنے والے ہیں۔

شیعہ کہتے ہیں کہ اس آیت پر اجماع ہے کہ یہ آیت سیدنا علیؓ کی شان میں اتری۔ 

اسکا جواب یہ ہے کہ یہ آیت سیدنا علیؓ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تھی اور اس ضمن میں اجماع کا دعویٰ سراسر بے بنیاد اور کذب صریح ہے بلکہ اجماع اس بات پر ہوا ہے کہ یہ آیت خاص طور پر سیدنا علیؓ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی شیعہ کی بیان کردہ روایت صاف جھوٹی ہے ثعلبی کی تفسیر موضوعات کا پلندہ ہے ثعلبی اور اسکا تلمیذ واحدی دونوں "حاطب الیل" (رات کا لکڑ ہارا جو خشک و تر میں تمیز کئے بغیر ہر قسم کی لکڑی جمع کرتا ہے) تھے۔ 

علاوہ ازیں شیعہ مصنف کے ذکر کردہ دلائل سب باطل ہیں اور وہی شخص انکو تسلیم کرسکتا ہے جو گونگا بہرہ صاحبِ ہوس و ضلالت ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو قبولِ حق سے اندھا کردیا ہو۔

یہ وجہ ہے کہ اکثر زنادقہ اسلام میں تشیع کے دروازے سے داخل ہوئے ہیں اور ان اکاذیب کے بل بوتے پر اسلام کو مطعون کرنا شروع کیا جہلاء ان مکذوبات کی بناء پر شبہات کا شکار ہوگئے فرقہ ہائے اسمٰعیلیہ و نصیریہ بھی اسی وجہ سے گمراہ ہوئے انہوں نے تفسیر اور مناقب و مثالب سے متعلق شیعہ کی روایت کردہ اکاذیب پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے آلِ محمدﷺ پر اظہار رحم و کرم کا آغاز کیا پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نقد وجرح اور گالم گلوچ کا بیڑا اٹھایا بعد ازاں سیدنا علیؓ کو ہدف ملامت بنایا کیونکہ آپ یہ سب باتیں سن کر خاموش رہتے تھے پھر رسول اللہﷺ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں خدا کی تردید و تکذیب پر اتر آئے جیسا کہ صاحب البلاغ الاکبر نے اس ترتیب پر روشنی ڈالی ہے۔

صفحہ 2 از 3