Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسری شہادت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

واقعۂ غار کی تصدیق میں دوسرا استشہاد شیعہ کی بڑی مستند کتاب "حملہ حیدری" سے پیش کیا جاتا ہے۔

چین گفت راوی کہ سالار دیں 

 چو سالم بحفظ جہاں آفریں

 زنزدیک آں قوم پُر مکر رفت 

بسوئے سرائے ابوبکرؓ رفت 

پیے ہجرت آں نیز استاد بود 

کہ سابق رسولش خبردادہ بود 

نبیﷺ بود درخانہ اش چوں رسید 

بگوشش ندا سفر در رسید 

چوں ابوبکرؓ زاں حال آگاہ شد 

زخانہ بروں رفت و ہمراہ شد 

چو رقتند چندیں بداماں دشت 

قدوم فلک سائے مجروح گشت 

ابوبکرؓ آنگہ بدوشش گرفت 

وے زیں حدیث است جائے شگفت 

کہ درکس چناں قوت آمد مدید 

کہ بارِ نبوت تواند کشید 

برفتند القصہ چندے دگر

چو گردید پیدا نشانِ سحر 

بدیند غارے دراں تیرہ شب 

کہ خواندے عرب غارثورش لقب 

گرفتند در جوف آں غارجا 

ولے پیش بوبکرؓ بنہاد پائے 

بہر جا کہ سوراخ یار خنہ دید 

قبارا بدرید آں رخنہ چید 

بدیں گونہ تاشد تمام آں قبا 

یکے رخنہ نگرفتہ مانداز قضا 

براں رخنہ ماندہ آں یار غار 

کف پائے خود را نمود استوار 

نیامدجز او ایں شگرف از کسے 

کہ دور از خردمی نماید بسے 

نیا مد چنیں کارے از غیر او 

بدنسیاں چو پرداخت از رفت او 

در آمد رسولِ خداﷺ ہم بغار 

نشستند یکجا بہم ہردو یار 

چوں شد کار پرداختہ ہم چناں 

رسیدند کافر پیاپے برآں  

درآندم بکف پائے آی یارِ غار

کہ برروئے سوراخ بود استوار

رسیدش زدندن مارے گزند  

درآں درد افغان او شد بلند 

پیغمبرﷺ باد گفت آہستہ باش 

رسید ند اعداء مکن راز فاش

مکن غم گرداں صدا را بلند 

کہ از زخمِ افعی نیابی گزند

بغار اندروں تاسہ روزہ و سہ شب

بسر برد آں شاہ بفرمان رب

شدے پور بوبکرؓ ہنگامِ شام

بہ بردے درآں غار آب و طعام

نمودے ہم از حال اصحابِ شر

حبیبِ خدائے جہاں را خبر 

نبیﷺ گفت پس پور بوبکرؓ را 

کہ اے چوں پدر اہلِ صدق و صفا 

در جمازہ باید کنواں راہوار 

کہ مارا رساند بہ یثرب دیار 

ہم از اہل دیں آبدیدیلے جملہ دار 

برد کرد رازِ نبیﷺ آشکار 

از و حملہ داراں سخن چوں شنود 

دو جمازہ در دم مہیا نمود 

تہی شد ازاں قوم آں کوہ و دشت 

رسول اللہﷺ عازمِ راہ گشت 

بہ صبحِ چہارم برآمد زغار 

دو جمازہ آوردہ بد جملہ دار

نشست ازیرِ شترآں شاہِ دیںﷺ 

ابوبکرؓ را کرد باخود قریں

ترجمہ: راوی نے روایت کی ہے کہ جب آنحضرتﷺ صحیح سالم بحفظ نرا اس نابکار قوم کے ہاتھوں سے نکل کر حضرت ابوبکرؓ کے

گھر پہنچ گئے تو ہجرت کیلے وہ تیار کھڑے تھے کیونکہ آنحضرتﷺ پہلے خبر دے چکے تھے۔ نبیﷺ جب اس کے گھر پہنچے اور سفرِ ہجرت کی، حضرت ابوبکرؓ نے ندا سنی، حضرت ابوبکرؓ واقفِ حال ہو کر حضورﷺ کے ہمراہ ہو گئے۔ جب تھوڑا سفرِ صحرا طے کیا، حضورﷺ کے قدم مبارک زخمی ہو گئے۔ تب حضرت ابوبکرؓ نے کندھے پر اٹھا لیا اور یہ امر واقعی عجیب ہے کہ اس جاں نثار کو کیسی قوت حاصل ہو گئی، کہ بار نبوت کا متحمل ہو گیا۔ الحاصل چل دیئے تاکہ وقت سحر ہو گیا۔ ایک غار نظر آئی جسے عرب ”غارِثور“ کہتے ہیں، اس غار میں جاگزیں ہوئے جس میں پہلا قدم حضرت ابوبکرؓ نے رکھا، جہاں کہیں سوراخ پایا کرتہ پھاڑ کر سوراخ بند کیے۔ حتیٰ کہ کرتے کے چیتھڑے ختم ہو گئے اور ایک سوراخ باقی رہ گیا، اس باقی ماندہ سوراخ پر اس یارِ غار نے اپنا پاؤں رکھ دیا، یہ عجیب فعل بغیر ایسے جاں نثار کے مشکل اور عقلاً محال نظر آتا ہے۔ رسولِ اللہﷺ غار میں داخل ہوئے اور دونوں دوست یکجا بیٹھ گئے۔ جب یہاں تک نوبت پہنچی، یکلخت کافر آگئے۔ اس وقت اس نے پاؤں کو سوراخ میں رکھا ہوا تھا۔ سانپ نے ڈسا اور مارے درد کے چیخ نکل گئی۔ پیغمبرﷺ نے کہا

”خاموش رہو راز فاش نہ ہو جائے۔“ غم مت کرو اور آواز نہ نکالو، گزند مار تکلیف نہ دے گا، تین دن رات تک امرِ الٰہی سے اس غار میں وقت گزارا، حضرت ابوبکرؓ کا فرزند شام کے وقت نمار میں کھانا پہنچاتا تھا اور کفار کے حالات سے نبیﷺ کو مطلع کرتا تھا۔ نبیﷺ نے پسرِ ابوبکرؓ کو کہا کہ ”اے شخص جو اپنے باپ کی طرح صاحبِ صدق و صفا ہے۔ دو تیز رفتار اونٹ چاہئیں، جو مدینہ طیبہ تک کو پہنچا دیں۔ ایک دیندار چرواہا بھی“ 

پسرِ ابوبکرؓ ہم راز تھا، چرواہے نے یہ خبر سن کر دو اونٹ مہیا کر دیئے۔ کفار سے وہ جگہ خالی ہو گئی تو حضورﷺ عازمِ راہ ہو گئے۔ چوتھے روز آپﷺ غار سے نکلے اور اونٹ حاضر کے گئے، ایک پر شہنشاہِ دو جہاںﷺ سوار ہوئے اور اپنے پیچھے اپنے وزیر با تدبیر کو سوار کیا اور دوسرے اونٹ پر چرواہا عامر سوار ہو گیا۔

اس نظم میں شیعی مصنف نے اگرچہ شعر نمبر 20 اور نمبر 21 میں اپنے تعصب کی کسی قدر جھلک دکھائی ہے، تاہم بیانِ واقعہ حرف بحرف کر کے دادِ انصاف دی ہے۔ اس قصہ سے جو شیعی فاضل مصنف ”حملہ حیدری“ نے بیان کیا ہے۔ حسبِ ذیل اُمور ظاہر ہوتے ہیں جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے عشقِ رسولیﷺ کا ثبوت دیتے ہیں۔ 

1: سفرِ ہجرت کا راز حضورﷺ نے پہلے اپنے محرمِ راز سیدنا صدیق اکبرؓ کو بتا دیا ہوا تھا اور کفار کی آنکھوں میں خاک ڈال کر حضورﷺ سیدھے اپنے صادق الوداد دوست حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر رونق افروز ہوئے۔

2: حضرت ابوبکر صدیقؓ حضورﷺ کا جان نثار عاشق رات بھر گھڑیاں گن گن کر اس وقت کا منتظر ہو رہا تھا کہ کس وقت سرورِ دو جہانﷺ اپنے جانباز عاشق کی جھونپڑی کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرماتے ہیں۔ جونہی آہٹ سنی فوراً قدم بوس ہو گیا۔

3: حضرت ابوبکرؓ نے اپنے محبوب سردارِ دو جہانﷺ کی پیادہ روی کی تکلیف کو محسوس کر کے باوجود پیرانہ سالی حضورِ والاﷺ کو اپنے کندھے پر سوار کر لیا اور اس بات کو غنیمت تصور کیا کہ شاہ دو جہانﷺ کے قدموں کی خاک بنے۔

4: عاشق صادق کو خدا نے فوق العادت طاقت بخشی کہ وہ گراں بارِ نبوت کا متحمل ہو گیا جس کا متحمل ہونا انسانی طاقت سے بالا تر تھا۔

5: جب تیرہ غار میں داخلہ کا وقت ہوا تو حضورﷺ کو نہ داخل ہونے دیا جب تک کہ مار و مور موزیات کے تمام سوراخ بند نہ کر لیے۔ اپنا کرتہ چاک کر کے جملہ سوراخ بند کیے۔ جب کوئی چیتھڑا باقی نہ رہا تو باقی ماندہ ایک سوراخ اپنی ایڑی سے بند کر لیا کہ کوئی موذی کاٹے تو عاشق کو اور محبوبِ دو جہانﷺ کو گزند نہ پہنچے۔

6: آخر کار گزندافعی کی تکلیف برداشت کی اور اس امر کو عین راحت سمجھا۔

7: تین دن رات میں آفتاب عالم تاب کے انوارِ تاباں تنہا حاصل کیے۔ جنہوں نے دو جہاں کو روشن کرنا تھا۔ اس دوران میں کیا کچھ اسرارِ قدرت اس خوش نصیب مرید نے مشاہدہ کیے ہوں گے۔ جو اپنے مرشد ہادی دو جہاںﷺ سے خلوت گزیں ہو رہا تھا۔

زہے نصیبِ ابوبکرؓ، زہے طالع ابوبکرؓ۔

8: حضور سرورِ کائناتﷺ اپنے مخلص دوست حضرت ابوبکرؓ کے متواتر تین دن رات مہمان رہے، چنانچہ ہر سہ روز کھانا حضرت ابوبکرؓ کے گھر سے جاتا تھا، جس کو حضورﷺ تناول فرماتے تھے (کیا رسولﷺ کافر و منافق کے گھر کا کھانا ایسے نازک وقت میں منظور کر سکتے ہیں؟)

9: سواری کا بندوبست بھی پسرِ ابوبکرؓ نے کیا اور حضورﷺ نے ایک ہی اونٹ پر اپنے یار غار کو اپنے ساتھ سوار کیا اور مبارک سفرِ ہجرت اس کی ہمراہی میں طے فرمایا، پھر تعجب ہے کہ اس قدر فضائلِ صدیقؓ اپنی کتابوں میں پڑھ کر بھی شیعہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو برا بھلا کہہ کر اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔