Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل کے متعلق حسبِ ذیل شہادت شیعہ کی مستند کتب سے درج کرتے ہیں: 

پہلی شہادت:

شیعہ کی صحیح الکتاب مصدقہ امام غائب فروع کافی: جلد 2، کتاب الروضہ میں صفحہ 99 میں ہے:

عن محمد بن علی الحلبی قال سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول اختلاف بنی العباس من المحتوم والنداء من المحتوم قلت كيف النداء؟ قال ينادی منادی من السماء اول النهار الا ان عليا شيعته هم الفائزون قال وينادى مناد اخر النهار الا ان عثمان وشيعته هم الفائزون

(فروع کافی: جلد 3، صفحہ 99) 

ترجمہ: محمد بن علی حلبی روایت کرتا ہے کہ میں نے امام صادق سے سنا وہ فرماتے تھے بنی عباس کا اختلاف یقینی ہے اور ندا بھی یقینی ہے۔ میں نے کہا وہ کیا ندا ہے؟ فرمایا آسمان سے پکارنے والا ابتداء روز میں پکارا کرتا ہے، خبردار علی اور اس کے پیروکار کامیاب ہیں اور پھر دن کے آخر میں پکارنے والا پکارتا ہے خبردار عثمانؓ اور اس کے پیروکار کامیاب ہیں.

اس حدیث میں جو سیدنا صادقؒ سے مروی ہے۔ صاف تصریح ہے کہ ہر روز دن کے اول و آخر ہمیشہ غیب سے آواز آتی ہے پہلے یہ کہ علیؓ اور ان کے تابعین فائز المرام ہیں پھر اسی طرح دوسری آواز آتی ہے کہ عثمانؓ اور اُس کے متبعین بھی فائز المرام ہیں۔ پھر ایسی تصریح کے بعد اگر شیعہ فضیلت عثمانؓ سے انکار کریں تو امام والا مقام کی تکذیب ہوگی۔

دوسری شہادت:

ایسا ہی کتاب مذکور کے صفحہ 151 جلد 3 میں درج ہے. 

فجلس سهيل بن عمر وعند رسول الله صلى الله عليه وسلم وحبس عثمان بن عسكر المشركين و بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم وضرب باحدى يديه على الاخرى بعثمان وقال المسلمون طوبى لعثمان قد طاف بالبيت وسعى من الصفا والمروۃ و احل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كان ليفعل فلما جاء عثمان قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم اطفت بالبيت فقال ما كنت لاطوف بالبيت ورسول الله صلى الله عليه وسلم لم يطف به

ترجمہ: سہیل بن عمرو (سفیر مشرکین) رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھا اور حضرت عثمانؓ (سفیر رسولﷺ) مشرکین کے لشکر میں محبوس ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور عثمانؓ کی بیعت کی۔ مسلمان کہنے لگے زہے نصیب! عثمانؓ نے طواف کعبہ کیا اور صفا مروہ کی سعی نصیب ہوئی۔ آپﷺ نے فرمایا: عثمانؓ ایسا نہیں کرے گا پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپﷺ نے دریافت کیا۔ عثمان! کیا تم نے طواف کعبہ کیا؟ عثمانؓ نے کہا میں طواف کیسے کرتا حالانکہ رسول اللہﷺ نے طواف نہیں فرمایا۔

اس روایت سے فضیلت عثمان رضی اللہ عنہ کا نمایاں ثبوت ملتا ہے کہ حضورﷺ نے اپنے ہاتھ کو عثمانؓ کا ہاتھ قرار دے کر بیعت کی اور اپنا سفیر بنا کر مشرکین مکہ میں بھیجا۔ پھر حضرت عثمانؓ کے عاشق صادق ہونے پر اس قدر اعتماد تھا کہ مسلمانوں نے جب (طوبىٰ لعثمان) کہہ کر یہ کہا کہ عثمانؓ نے طواف کعبہ اور سعی صفا مروہ کی سعادت حاصل کی تو آپﷺ نے فرمایا ایسا کرنے کی عثمان جیسے جان نثار عاشق سے توقع نہیں ہو سکتی کہ ہمارے بغیر اکیلے طواف کریں۔ چنانچہ عثمانؓ کے آنے پر اس بات کی تصدیق ہو گئی۔

مشرکین مکہ نے عثمانؓ کو کہا کہ طواف کر لو تمہیں ہم منع نہیں کرتے البتہ تمہارے پیغمبرﷺ کو طواف نہیں کرنے دیں گے۔ لیکن عثمانؓ نے اکیلے طواف کرنے سے انکار کر دیا۔

صاحب حملہ حیدری نے اس واقعے کو یوں لکھا ہے: 

ببو سید عثمانؓ زمین و زماں 

بمقصد رواں شد چو تیراز کماں

چو اورفت اصحابؓ روز دگر

بگفتید چندیں بہ خیر البشرﷺ 

خوشہ حال عثمانؓ با احترام 

کہ شد قستمش حج بیت الحرام 

رسول اللہﷺ چوں شنید ایں سخن 

بپاسخ چنیں گفت باانجمن 

بعثمانؓ نداریم ما ایں گماں

کہ تنہا کند توف آں استاں

"عثمانؓ زمیں چوم کر سرعت سے روانہ ہو گیا جب چلا گیا۔ اصحاب کہنے لگے خوشا نصیب عثمانؓ کے حج بیت اللہ اسے نصیب ہوا۔ رسول پاکﷺ نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے ہم عثمانؓ سے کبھی یہ توقع نہیں رکھتے کہ ہمارے سوا اکیلے طواف کعبہ کریں۔