مقدمہ
علی محمد الصلابیاِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞(سورۃ آل عمران: آیت 102)
يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا ۞ (سورۃ النساء: آیت 1)
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ۞يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 70، 71)
اما بعد!
اے میرے رب! تیرے لیے ہر قسم کی تعریف، ایسی تعریف جو تیرے چہرۂ پور انوار کی عظمت و جلال اور تیری قدرت کے لائقِ کمال ہے، تیرے ہی لیے تعریف ہے، یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے اور جب تو راضی ہو جائے تب بھی، اور اس کے بعد بھی ہم تیرے تعریف کناں ہیں۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
خلافت راشدہ کے عہد زرّیں پر تحقیقی مطالعہ کی یہ چوتھی کتاب قارئین کے ہاتھوں میں ہے، اس سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہم کی سیرت پر مفصل کتب منظر عام پر آ چکی ہیں، میں نے اس کتاب کا نام ’’اسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ شخصیتہ و عصرہ‘‘منتخب کیا ہے۔ یہ کتاب امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے شہادت تک مفصل سوانح پر مشتمل ہے۔
چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نام، نسب، ولادت، خاندان، قبیلہ، واقعہ قبولِ اسلام، مکہ کے اہم کارنامے، ہجرت، قرآنی تصور حیات، زندگی پر اس کے اثرات اور اللہ کی ذات، کائنات، دنیوی زندگی، جنت، جہنم اور قضاء و قدر کے بارے میں آپ کے عقائد و تصورات سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے، اسی طرح یہ کتاب بتائے گی کہ آپ کے دل میں قرآن کی کتنی عظمت تھی اور آپ کے بارے میں کون کون سی آیات نازل ہوئیں، قرآن کریم سے احکام مستنبط کرنے اور اس کے معانی سمجھنے میں آپ نے کن اصولوں اور ضوابط کو معیار بنایا، قرآنی آیات کی آپ نے کیا تفسیر فرمائی ہے۔ نیز یہ کہ آپ عہد طفولت ہی سے رسول اللہﷺ کے ساتھ رہے اور آپ کو مقامِ نبوت کی گہری معرفت حاصل رہی، اور نبی کریمﷺ نے آپؓ کے ساتھ کیا عمدہ برتاؤ کیا۔
چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اقوال و افعال کے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں، آپ ہمیشہ کوشاں رہے کہ لوگوں کو دین سکھائیں، انھیں نبی اکرمﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کا پابند بنائیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صاف صاف واضح بتایا کہ نبی کریمﷺ کی اطاعت واجب ہے، آپﷺ کی سنت کو لازم پکڑنا، اور اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ آپؓ نے نبی اکرمﷺ کے دلائل نبوت، آپ کی فضیلت اور امت پر آپ کے بعض حقوق کوواضح کیا۔
اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا بخوبی محسوس کرے گا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سنت نبوی کی اتباع کے کس قدر شیدائی تھے۔ یہ کتاب صحابہ، تابعین اور اہل بیت کے ان افراد کی بھی نشان دہی کرتی ہے، جنھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں اور پھر پڑھنے والے کو امیر المؤمنین کی زندگی کے ان ایام کی سیر کراتی ہے، جو سیدنا علیؓ نے مدینہ میں رہ کر نبی کریمﷺ کے ساتھ گزارے، چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی اور شادی میں دیا گیا مہر، ساز و سامان، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی، زہد و قناعت، زندگی کے نشیب و فراز، اخلاص و وفا کی صداقت اور دنیا و آخرت میں ان کی سیادت و پیشوائی کی روشنی میں مستنبط ہونے والی عبرت و موعظت کی باتیں بھی ہیں۔
اس کتاب میں میں نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی زندگی کا بھی مختصر خاکہ پیش کیا ہے، ان دونوں کی فضیلت، احادیث رسول اللہﷺ میں ان کا مقام و مرتبہ، اہل سنت و جماعت کے نزدیک اہل بیت کا مفہوم اور ان سے متعلقہ احکام مثلاً ان کے لیے مال زکوٰۃ کی حرمت، میراثِ رسول میں عدم وراثت، اموال غنیمت و فے (مال غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو کفار سے جنگ کے نتیجہ میں حاصل ہو اور مالِ فے اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ کیے کفار سے حاصل ہو) میں حق خمس کے ثبوت، نبی اکرمﷺ کے ساتھ ان پر ترحم، اور ان کی محبت و احترام کے وجوب کو بیان کیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ سرایا و غزوات (غزوہ اس جنگی مہم کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ نے بذات خود شرکت فرمائی ہو اور سریہ اس جنگی مہم کو کہتے ہیں جس میں آپﷺ نے شرکت نہ کی بلکہ صحابہ کو روانہ کیا ہے۔ (مترجم) نبوی جیسے بدر، احد، خندق، بنوقریظہ، حدیبیہ، خیبر، فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا کیا مؤقف رہا، نیز یہ کہ غزوۂ تبوک 9ھ کے موقع پر آپﷺ نے جنابِ علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت میں حج کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اہم میڈیائی کردار، نجران کے نصاریٰ کے وفد کی آمد اور آیتِ مباہلہ کا نزول۔ نبی اکرمﷺ کا آپؓ کو یمن کا قاضی اور مبلغ بنا کر بھیجنا۔ یمن میں بحیثیت قاضی آپ کے فیصلے، حجۃ الوداع کے موقع پر احرام میں آپﷺ کی موافقت، اس تحریر کا واقعہ جسے نبیﷺ اپنی مرض الموت میں لکھوانا چاہتے تھے، خلفائے راشدینؓ سے آپ کے مخلصانہ تعلقات اور خلافت راشدہ کے طویل دور حکومت میں آپ کے اثر ورسوخ کے بیان پر یہ کتاب مشتمل ہے۔
چنانچہ میں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سیدنا علیؓ نے بیعت کی، ارتداد کی جنگ میں خلیفہ اول کا آپ نے پورا پورا ساتھ دیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صدق دل سے ہر چیز میں اپنے اوپر ترجیح دی، انھیں اپنے سے افضل سمجھا، ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں، ان کے ہدایا و تحائف قبول کیے۔ اور ضمناً اس بات کی طرف بھی میں نے اشارہ کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اسلامی عقیدت و ہمدردی کے گہرے تعلقات تھے، میراث نبوی کی حقیقت کی نقاب کشائی بھی کی ہے اور اس سے متعلق رافضیوں کے شکوک و شبہات کی تردید بھی کی ہے، قطعی صاف و شفاف اور واضح دلائل کی روشنی میں ان کے جھوٹے اور کمزور دلائل کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ان کی ضعیف اور موضوع روایات کا پردہ چاک کیا ہے اور یہ ثابت کردیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حق کی پرستار، شریعت کی پابند، خلیفۂ رسول ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قدر واحترام کی نگاہ سے دیکھنے والی، ان کے ساتھ نرم رویہ اپنانے والی، ایک عظیم المرتبت خاتون تھیں۔ اسی طرح اہل بیت کے تمام افراد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے والہانہ محبت رکھتے تھے، دونوں خاندانوں کے درمیان جو سسرالی رشتے تھے انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ محبت کا عالم یہ تھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھتے تھے۔
دورِ صدیقی کے بعد عہدِ فاروقی میں قضاء اور مالی و اداری امور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شرکت و تعاون پر میں نے گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے متعدد بار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا، جہاد اور دیگر ملکی معاملات میں آپ سے مشاورت کی۔ ان دونوں کے درمیان مضبوط قلبی تعلقات تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب سے شادی کی، اس بابرکت شادی کے واقعہ کی حقیقی شکل ذکر کرنے کے ساتھ ہی میں نے ان ناقابل تردید دلائل اور واضح حقائق کا بھی ذکر کر دیا ہے، جن سے اس مسئلہ کی طرف منسوب کردہ جھوٹ کی بنیادیں ہی جڑ سے اکھڑ جاتی ہیں، اس طرح پورے واقعہ کو بالکل صاف و شفاف شکل میں پیش کر دیا اور صرف ان تاریخی حقائق پر اعتماد کیا ہے جو قرآن کی توضیح کے مطابق صحابہ کرامؓ کے درمیان آپسی میل محبت کی تصویرکشی کرتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت، اس سے متعلق افتراپردازیوں اور خلافتِ عثمانی کو سنبھالا دینے، ان کے خلاف شورش کو فرو کرنے، شہادتِ عثمانؓ کے جانکاہ حادثہ کی ابتداء، دوران محاصرہ اور شہادت کے بعد آپ کے مواقف، نیز آل علی اور آل عثمان کے درمیان سسرالی رشتوں کی پوری وضاحت کے ساتھ ساتھ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ان اقوال کو ذکر کیا ہے جو آپ نے اپنے پیش رو خلفاء کی منقبت میں کہے ہیں، ایسے اقوال کہ جو خلفاء کی محبت، احترام اور عقیدت کے آئینہ دار اور سبّ و شتم کرنے والوں سے برأت، شیخین کو برا بھلا کہنے والوں پر حد شرعی کے نفاذ کے متقاضی ہیں۔
جو مسلمان ان اقوال کا بغور مطالعہ کرے گا اور اس گروہ ربانی کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حسن برتاؤ کا جائزہ لے گا شاید وہ اپنے دل پر قابو نہ پاسکے اور اس کی آنکھوں سے احترام و عقیدت کے آنسو نکل پڑیں۔
شاعر کہتا ہے:
وَ مِنْ عَجَبٍ أَ نِّي أحِنُّ إلیْہِمْ وَ أَسْأَلُ عَنْہُمْ مَنْ لَقِیْتُ وَ ہُم مَعِيْ
’’میں ان (نفوس) کا مشتاق ہوں، اور کسی سے بھی ملتا ہوں تو شوق و اضطراب سے ان کے بارے میں پوچھتا ہوں، حالانکہ وہ میرے ساتھ ہوتے ہیں۔‘‘
وَ تَطْلُبُہُمْ عَیْنِیْ وَ ہُمْ فِیْ سَوَادِہَا وَ یَشْتَاقُہُمْ قَلْبِيْ وَہُمْ بَیْنَ أضْلُعِيْ
’’میری آنکھ ان کو ڈھونڈتی پھر رہی ہے، حالانکہ وہ اس کی سیاہی میں موجود ہوتے ہیں، اور میرا دل ان کا مشتاق ہے، حالانکہ وہ میرے سینے میں ہوتے ہیں۔‘‘
دوسرا شاعر کہتا ہے:
إِنِّيْ أُحِبُّ أَبَا حَفْصٍ وَ شِیْعَتِہٖ کَمَا اُحِبُّ عَتِیْقًا صَاحِبَ الْغَارِ
’’میں ابوحفص (عمر رضی اللہ عنہ) اور ان کے محبان کو دل سے چاہتا ہوں، جیسا کہ (نبیﷺ کے) رفیق غار عتیق (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
وَ قَدْ رَضِیْتُ عَلِیَّا قُدْوَۃً عِلْمًا وَ مَا رَضِیْتُ بِقَتْلِ الشَّیْخِ فِی الدَّارِ
’’اور بلاشبہ میں علی رضی اللہ عنہ کو رہبر و عالم مان کر بہت خوش ہوں، جب کہ اندرون خانہ شیخ (عثمان رضی اللہ عنہ) کے قتل سے میں ہرگز خوش نہیں۔‘‘
کُلُّ الصَّحَابَۃِ سَادَاتِيْ وَ مُعْتَقِدِيْ فَہَلْ عَلَيَّ بِہٰذَا الْقَوْلِ مِنْ عَارِ
’’تمام ہی صحابہ میرے بزرگ اور میری عقیدت کے مستحق ہیں اور یہ بات کہتے ہوئے مجھے کوئی عار نہیں محسوس ہو رہی۔‘‘
اسی طرح میں نے خلافتِ علی کی بیعت پر گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ کس طرح مکمل ہوئی؟ نیز یہ کہ آپ ہی اس کے زیادہ مستحق تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر اجماع تھا، سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے بغیر کسی دباؤ اور مجبوری کے آپ کی بیعت و خلافت کو تسلیم کیا تھا، آپ کی خلافت پر اجماع ہے، ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ بیعت خلافت کی شرائط، آپ کی خلافت کا پہلا خطبہ، اس دور کے اہل حل و عقد، آپ کے فضائل اور اہم اوصاف حمیدہ کے نمونے اور نظام حکومت کے اصول و قواعد کو بھی ذکر کیا ہے۔
البتہ حضرت علیؓ کے اوصاف حمیدہ کو ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ آپ کے علم کی وسعت، فقہ کی گہرائی، زہد و ورع، جود و کرم، حیا و عفت، صبر و عبودیت، شکر و اخلاص اور دعا و تضرع کی تابندہ مثالیں پیش کی ہیں۔ آپ کی حکومت کی اساس کتاب اللہ، سنت رسولﷺ اور پیش رو خلفائے راشدینؓ کی اقتداء پر قائم تھی۔ آپ نے رعایا کے حقوق کی مکمل حفاظت کے لیے اپنے ماتحت حکام کی نگرانی کی، شورائیت، عدل و مساوات اور آزادی کی صحیح تعبیر کو زندہ رکھا۔
آپ کی معاشرتی زندگی، فریضۂ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی کا اہتمام، توحید کی دعوت، شرک سے جنگ، انسانوں کے درمیان اللہ کے اسمائے حسنیٰ، بلند و بالا صفات کا جامع تعارف، اللہ کی بے شمار نعمتوں کی شکر گزاری، آثار جاہلیت کو مٹا دینے کی تڑپ، ستارہ پرستی کے باطل عقائد کی تکذیب، اپنی ذات کے بارے میں مبالغہ کرنے اور الوہیت کا درجہ دینے والوں کو نذر آتش کر دینا، دل میں ایمان کی نشوونما، تقویٰ کی تعریف، قضاء و قدر کا مفہوم اور یہ کہ انسانوں کی اتنی بھاری تعداد کا اللہ تعالیٰ کیسے محاسبہ کرے گا، حضرت علیؓ کے خطبات اور موقع بہ موقع وعظ و نصائح کی باتیں، آپؓ کی طرف منسوب شدہ اشعار، وہ اقوال زریں جو ضرب المثل بن چکے ہیں، نیک و بہترین انسانی صفات کی نشان دہی، آپ کی زبان مبارک سے نبیﷺ کے نوافل کا بیان، صحابہ کے اوصاف بے مثال، وہ مہلک امراض جو دلوں کو لاحق ہوتے ہیں، مثلاً لمبی امیدیں، بری خواہشات کی پیروی، ریاء و نمود، خود پسندی و غرور، بازاروں کی اصلاح کی کوشش، بدعات اور خلافِ شرع کاموں سے لڑائی اور اس طرح کے دیگر عناوین کا میں نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دورِ حکومت کے مختلف سرکاری محکمہ جات مثلاً وزارت مالیات، وزارت عدل، ادارۂ امراء و حکام، اور خلفائے راشدینؓ کے عہد میں قانون سازی و نظام عدل کی منصوبہ بندی، وہ مصادر جن پر صحابہؓ نے اس دور میں اعتماد کیا، خلافت راشدہ کے نظام عدل و قضاء کی خصوصیات، عہد علی رضی اللہ عنہ کے مشہور قاضی حضرات خود آپ کے قضاء کا اسلوب، اور اپنے ماقبل خلفاء کے فیصلہ پر نظر، منصب قضاء کی اہلیت رکھنے والے افراد کی شناخت، عبادات، مالی معاملات، حدود، قصاص اور جرائم کے مسائل میں فقہی اجتہادات پر بھی میں نے گفتگو کی ہے۔ اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ صحابہ اور بالخصوص خلفائے راشدینؓ کے اقوال حجت ہیں یا نہیں، دورانِ گفتگو امراء و حکام کے مستقل ادارے، اسلامی سلطنت کی ریاستیں اور تمام ریاستوں میں عظیم ترین کارناموں کا وقوع، گورنروں کی تقرری میں آپ رضی اللہ عنہ کا طرز عمل، ان کی نگرانی، رہنمائی اور ان کے اختیارات مثلاً ہر ریاست میں گورنر کو اس بات کی اجازت کہ وہ خود وزراء کو منتخب کر سکتا ہے، مجلس شوریٰ کی تشکیل، ہر ریاست میں افواج کی تشکیل، جنگ اور صلح کے میدان میں خارجی سیاست، اندرون ملک امن و سلامتی کی حفاظت، عدل و قضائی، مالی اخراجات اور گورنران ریاست وغیرہ کی منظم ترتیب، پھر ریاستی نظام حکومت کو مستحکم بنانے میں قبائلی قائدین اور جماعتی پیشواؤں کے کردار کو میں نے ذکر کیا ہے۔
اسی طرح میں نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کی روشنی میں اداروں اور محکموں کے نظم و نسق کو بہتر و برقرار رکھنے کے چند اصولوں کو مستنبط کیا ہے، مثلاً آپ رضی اللہ عنہ نے انسانیت کے احترام، تجربہ اور علم کی برتری پر زور دیا ہے، حاکم اور رعایا کے درمیان خوشگوار تعلقات، جمود و تعطل کے ازالہ، چاق و چوبند نگرانی، حکومتی گرفت، قرارداد کی منظوری اور کارکنوں کے عمدہ انتخاب میں گورنروں کے ساتھ شرکت، سرکاری عمال و کارکناں کے لیے جانی ومالی ضمانت، تجربہ کار افراد کی رفاقت، آبائی منصب کے مفہوم، نیز یہ کہ ادارے اور نوکریاں اصولوں پر قائم رہتی ہیں نہ کہ شخصی تعلقات اور کسی کے رحم و کرم پر۔ مذکورہ تمام چیزوں کا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اقوال میں خصوصی اہتمام کیا ہے۔
ان مباحث سے گزر کر میں نے ان داخلی مشکلات کی طرف توجہ دی ہے، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عہدِ حکومت میں درپیش رہی ہیں، چنانچہ معرکۂ جمل اور اندرونی ملک کے داخلی فتنوں میں آگ لگانے اور انھیں ہوا دینے میں عبداللہ بن سبا اور اس کے سبائی گروہ کے سیاہ کردار اور اس کے برے اثرات کو ذکر کیا ہے، قاتلینِ عثمانؓ سے قصاص لینے کے طریقہ میں صحابہؓ کے اختلاف، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، طلحہ، زبیر، معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم اور ان کی تائید کرنے والے دیگر افراد کا قاتلینِ عثمان سے جلد از جلد قصاص لینے کا مؤقف اور پھر سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن عمر، محمد بن مسلمہ، ابوموسیٰ اشعری، عمران بن حصین، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اور ان کے ہم خیال دیگر لوگ جنھوں نے اس فتنہ سے خود کو دور رکھا، ان باتوں کو بھی تحریر کیا ہے، معاً اس فریق کے مؤقف کی بھی وضاحت کی ہے جس کا بشمولِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ قاتلینِ عثمان پر قصاص کی تنفیذ کو حالات کے معمول پر آجانے تک کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔معرکۂ جمل کی آگ بھڑکنے سے پہلے کی مصالحانہ کوششوں، لڑائی کی تفصیل، اس کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے خونی رَن، سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت، اہلِ بصرہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف، نیز یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا، یعنی انھیں محترم مانا، ان کی عزت و توقیر کی اور پورے احترام و اعزاز کے ساتھ انھیں مدینہ بھیج دیا، پھر ان کے کچھ فضائل اور سیرت پر میں نے ایک جھلک ڈالی ہے۔
میں نے حضرت زبیر اور طلحہ رضی اللہ عنہما کی زندگی پر بھی خامہ فرسائی کی ہے، اس لیے کہ عہدِ نبوت، دورِ خلافت راشدہ اور خاص کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دور حکومت میں بھی یہ لوگ معزز اور اثر و رسوخ والے تھے، تاریخ نے ان پر ظلم کیا ہے، اس لیے میں نے جذبۂ حق پرستی سے ان کی طرف سے دفاع کیا ہے، ان کے مقام و مرتبہ اور فضیلت کو نقل کیا ہے اور ٹھوس حقائق و ناقابل تردید دلائل کی روشنی میں ان اعتراضات اور افترا پردازیوں کا صفایا کیا ہے، جنھیں ان بزرگ شخصیات کے سر مڑھ دیا گیا تھا، ان کی بلند صفات اور اخلاق کریمہ کو ایسے انداز میں میں نے ذکر کیا ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے حقیقت عیاں ہو جائے، اس میں کوئی پیچیدگی اور ملاوٹ نہ ہو، اور وہ ضعیف روایات اور روافض مؤرخین کے من گھڑت قصوں سے قطعاً متاثر نہ ہو کر جن کے عام چلن نے ان عظیم شخصیات کے روشن چہروں کو لوگوں کی نگاہوں میں داغ دار کر دیا ہے۔
چنانچہ حضرت عائشہ یا طلحہ و زبیر اور دیگر معزز صحابہ رضی اللہ عنہم جنھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دورِ حکومت میں سر اٹھانے والے فتنوں میں حصہ لیا، ان کے سوانح حیات تحریر کرنا میری اس کاوش کا ایک اہم حصہ ہے جس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور کارناموں کی تاریخ مکمل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ اپنی اس کاوش کو منظر عام پر لانے میں میں نے اصول و فروع اور اختصار و تفصیل ہر مقام پر اہل سنت و الجماعت (سلف صالحین) کے منہج کو اختیار کیا ہے۔
بقول عربی شاعر ابومحمد قطحانی:
أَکْرِمُ بِطَلْحَۃَ وَ الزُّبَیْرِ وَ سَعْدِ ہِمْ وَ سَعِیْدِ ہِمْ وَ بِعَابِدِ الرَّحْمٰنِ
’’طلحہ، زبیر اور سعد و سعید اور عبد الرحمٰن (رضی اللہ عنہم) کی عزت و تکریم کرو۔‘‘
وَ اَبِي عُبَیْدَۃَ ذِی الدِّیَانَۃِ وَ التُّقَی وَ امْدَحْ جَمَاعَۃَ بَیْعَۃِ الرِّضْوَانِ
’’دین پرست اور تقویٰ شعار ابوعبیدہ کی بھی عزت کرو اور بیتِ رضوان والی برگزیدہ جماعت کے حق میں خیر کے کلمات کہو۔‘‘
قُل خَیْرَ قَوْلٍ فِي صَحَابَۃِ أَحْمَدَ وَ امْدَحْ جَمِیْعَ الْآلِ وَ النِّسْوَانِ
’’احمدﷺ کے صحابہ کے بارے میں بھلی بات ہی کہو، ان کے تمام مردوں اور عورتوں کے مدح کناں رہو۔‘‘
دَعْ مَا جَرَی بَیْنَ الصَّحَابَۃِ فِي الْوَغَی بِسُیُوْفِہِمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ
’’صحابہ کے درمیان شورش کے موقع پر ان کی اپنی ہی تلواروں سے لڑائی کے دن جو کچھ ہوا، اسے نظر انداز کرو۔‘‘
فَقَتِیْلُہُمْ مِنْہُمْ وَ قَاتِلُہُمْ لَہُمْ وَ کِلَاہُمَا فِي الْحَشْرِ مَرْحُوْمَانِ
’’مقتول اور قاتل دونوں انھیں میں سے ہیں اور بروز قیامت دونوں ہی اللہ کے نزدیک اس کی رحمت کے مستحق ہیں۔‘‘
وَاللّٰہُ یَوْمَ الْحَشْرِ یَنْزَعُ کُلَّمَا تَحْوِي صُدُوْرُہُمُ مِنَ الأَضْغَانِ
’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے دل کی ساری کدورتوں کو نکال باہر کرے گا۔‘‘
لَا تَرْکَنَنَّ إِلَی الرَّوَافِضِ إِنَّہُمْ شَتَمُوا الصَّحَابَۃَ دُوْنَ مَا بُرْہَانِ
’’روافض کی طرف ہرگز مائل نہ ہو، انھوں نے بلا کسی دلیل و حجت کے صحابہ کو گالی دی ہے۔‘‘
لَعَنُوْا کَمَا بَغَضُوْا صَحَابَۃَ أَحْمَدَ وَوِدَادُہُمْ فَرْضٌ عَلَی الإنْسَانِ
’’انھوں نے اصحابِ محمدﷺ سے کینہ رکھا، اور انھیں لعن و طعن کیا، حالانکہ ان سے قلبی محبت کرنا ہر انسان پر واجب ہے۔‘‘
حُبُّ الصَّحَابَۃِ وَالْقَرَابَۃِ سُنَّۃٌ اَلْقَی بِہَا رَبِّي إذَا اَحْیَانِيْ
’’صحابہ اور (نبیﷺ) کے قرابت داروں کی محبت صحیح طریقہ ہے، جب اللہ تعالیٰ بروز قیامت مجھے زندہ کرے گا، میں اس محبت کے ساتھ اپنے رب سے ملوں گا۔‘‘
اور ایک جگہ کہتے ہیں:
إِنَّ الرَّوَافِضَ شَرُّ مَنْ وَطِیَٔ الْحَصَی مِنْ کُلِّ إِنْسٍ نَاطِقٍ أَوْ جَانِ
’’اس روئے زمین پر بسنے والے تمام انس و جن میں روافض سب سے برے ہیں۔‘‘
مَدَحُو النَّبِيَ وَ خَوَّنُوْا أَصْحَابَہُ وَ رَمَوْہُمْ بِالظَّلْمِ وَ الْعُدْوَانِ
’’انھوں نے نبیﷺ کی تعریف کی، اور آپ کے صحابہ کے حق میں خیانت کیا اور انھیں ظلم و سرکشی سے متہم کیا۔‘‘
حَبُّوْا قَرَابَتَہُ وَ سَبُّوا صَحْبَہُ جَدْلَانِ عِنْدَ اللّٰہِ مُنْتَقِصَانِ
’’آپﷺ کے قرابت داروں سے محبت کی، اور آپ کے صحابہ کو گالیاں دیں، اللہ کی نگاہ میں دو متضاد چیزیں معیوب ہیں۔‘‘
فَکَأَنَّمَا آلُ النَّبِیِ وَ صَحْبُہُ رُوْحٌ یَضُمُّ جَمِیْعَہَا جَسَدَانِ
’’حالانکہ آلِ نبی اور آپ کے صحابہ سب دو جسم لیکن ایک جان ہیں۔‘‘
فِئَتَانِ عَقْدُہُمَا شَرِیْعَۃُ أَحْمَدَ بِأَبِيْ وَأُمِّيْ ذَانِکَ الْفِئتَانِ
’’دونوں ہی جماعتیں شریعتِ محمدی سے مربوط ہیں، ان دونوں جماعتوں پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔‘‘
فِئَتَانِ سَالِکَتَانِ فِيْ سُبُلِ الْہُدَی وَ ہُمَا بِدِیْنِ اللّٰہِ قَائِمَتَانِ
’’وہ دونوں جماعتیں ہدایت کے راستوں پر گامزن ہیں اور اللہ کے دین پر قائم ہیں۔‘‘
اسی طرح میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدم بیعت، دونوں کے درمیان خط و کتابت، صلح کی کوششوں، لڑائی کے وقوع، کسی تیسرے کو فیصل مان لینے کی دعوت، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت، مسلمانوں پر اس کے اثرات، لڑائی کے دوران آمنے سامنے ہو جانے کے بعد فریقین کا ایک دوسرے کے ساتھ بہتر برتاؤ، قیدیوں کے ساتھ رعایات، مقتولین کی تعداد، ان کے قتل پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رنجیدہ ہونا اور رحمت کی دعا کرنا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور شام والوں پر سب و شتم اور لعن و طعن کرنے والوں کو ڈانٹنا، پھر واقعہ تحکیم پر گفتگو کرتے ہوئے ابوموسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی سوانح حیات پر روشنی ڈالی ہے اور واقعہ تحکیم میں مذکورہ دونوں صحابہ کی طرف منسوب جھوٹے واقعات اور من گھڑت روایات کو واضح کیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ واقعہ تحکیم کو سامنے رکھ کر مسلم ممالک کو کس طرح اپنے اختلافات کو دور کرنا چاہئے، ان لڑائیوں کے بارے میں اہل سنت کے مؤقف کو واضح کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے، صحابہ کی تابناک و پاکیزہ تاریخ کو ظلم و سرکشی کے دھبوں سے داغ دار کرنے والی چند اہم کتب کا تذکرہ کرتے ہوئے ان سے خبردار رہنے کی تلقین کی ہے، مثلاً ’’کتاب الامامۃ والسیاسۃ‘‘ کہ جس کی جھوٹی نسبت ابن قتیبہ کی طرف کی جاتی ہے، اسی طرح اصفہانی کی کتاب ’’الاغانی، ’’تاریخ الیعقوبی‘‘ اور ’’تاریخ المسعودی‘‘ جیسی دیگر کتب جو کہ اہل سنت و الجماعت کے منہج و عقیدہ سے دور ہیں۔
اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسلامی تاریخ میں مستشرقین کی تحریف، افتراء پردازی اور اصلی شکل کو بگاڑنے میں ان کی ناروا کوششوں کو بھی میں نے واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ روافض شیعہ کی کتب سے انھوں نے کس طرح استفادہ کیا اور افکار کو پراگندہ کرنے، واقعات کو تحریف کرنے، حقائق کو مسخ کرنے، اسلامی تاریخ میں سیاہ دھبوں کو پھیلانے کے لیے چمک دار و جاذب نظر عناوین مثلاً "خالص معروضی مطالعہ، ایک موضوعی مطالعہ" اور ’’غیرجانبدارانہ علمی تحقیق‘‘ وغیرہ کے نام سے اسلام مخالف مراکز اور ادارے کھولے اور بدقسمتی سے بہت سے لوگ جو کہنے کو تو مسلمان ہیں، لیکن اسلام کو اچھی طرح جانتے بھی نہیں اور نہ ہی اس کی وضاحت کر سکتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف سے دفاع کرتے ہیں، ایسے بہت سارے مسلمان انھیں پراگندہ و برباد کن خیالات کو گلے لگاتے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ وہ دشمنانِ اسلام جو دین اسلام کی برکتوں سے امتِ مسلمہ کو ملی ہوئی روشن تاریخ و تہذیب کو مسخ کرنے پر تلے ہیں اور ان کے جال میں وہ لوگ بری طرح پھنستے جا رہے ہیں۔
کتاب کی آخری فصل میں خوارج اور روافض کے بارے میں علمی و موضوعی تحقیق پیش کی گئی ہے، جس میں فرقہ خوارج کی حقیقت، ان کی تاریخی حیثیت، ان کی مذمت میں وارد شدہ احادیث نبویہ، حروراء میں ان کی علیحدگی، ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا ان سے مناظرہ، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا ان سے برتاؤ، ان سے لڑائی کے اسباب، پھر لڑائی کی تفصیل، ذی الثدیۃ یا مخدج کا واقعہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر پر اس کے قتل کیے جانے کا اثر، جمل، صفین اور خوارج کی لڑائیوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فقہی اجتہادات نیز یہ کہ بعد کے ادوار میں فقہاء نے ان اجتہادات پر کس طرح اعتماد کیا، اور انھیں ’’باغیوں سے متعلق فقہی احکام‘‘ کے نام سے اپنی کتب میں تحریر کیا ہے، ان تمام چیزوں کو میں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ خوارج کی دین میں مبالغہ آمیزی، دین سے جہالت، مسلمانوں کے امراء و حکام سے بغاوت، گناہ کبیرہ کے مرتکبین کی تکفیر اور مسلمانوں کے خون و مال کو حلال کر لینا، انھیں طعن و تشنیع کرنا، ان سے بدظنی رکھنا اور ان پر ظلم کرنا وغیرہ اوصاف ذمیمہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ معاً خوارج کے بعض عقائد مثلاً گناہ کبیرہ کے مرتکب مسلمانوں کی تکفیر، بعض صحابہؓ پر لعن و طعن اور حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کی تکفیر پر رد و قدح بھی کیا ہے۔ خوارج کے انحراف کے اسباب اور دور حاضر میں ان کے رجحانات و نظریات پر بحث کی ہے۔ علماء سے اعراض کی وجہ شرعی علوم سے جہالت و ناواقفیت، تقلید کی مذمت میں مبالغہ آرائی، علمائے کرام کا اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتنا، ظلم کا عام ہونا، شرعی قوانین کی جگہ وضعی قوانین کا نفاذ، فساد کا عام ہونا اور دلوں کا تزکیہ و تطہیر سے خالی ہونا نیز دین میں پختگی لانے کے لیے جسم کو اذیتیں دینے، دوسروں پر تنگی کرنے، جہل کو علم کا لبادہ پہنانے، غرور اور اپنی رائے دوسروں کو تھوپنے اور دوسروں کو جاہل گرداننے، پابند شرع علماء کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے، ان کے بارے میں بدگمانی کرنے، دوسروں کے ساتھ بے رحمی کا مظاہرہ اور مسلمانوں کی تکفیر جیسے اہم مظاہر جو کہ خوارج کی غلو پرستی کی علامتیں ہیں ان کی طرف بھی میں نے اشارہ کر دیا ہے۔
اسی طرح روافض کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے، چنانچہ شیعہ اور روافض کا لغوی اور اصطلاحی معنیٰ تحریر کیا ہے، انھیں روافض کیوں کہا جاتا ہے؟ ان کا وجود کب ہوا؟ ان کی گروہ بندی میں یہودیوں کا کیا کردار رہا؟ یہ فرقہ کن مراحل سے گزرا؟ اس کے عقائد کیا ہیں؟ اور ان عقائد کے بارے میں امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور علمائے اہلِ بیت کا کیا مؤقف ہے؟ مثلاً یہ کہ امامت کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ ہے اور اس کے منکر کا ان کے نزدیک کیا حکم ہے؟ پھر یہ کہ ائمہ معصوم ہیں وغیرہ وغیرہ، ان تمام باتوں کو میں نے اہمیت دی ہے۔ ائمہ کی عصمت کے دلائل کو ذکر کر کے انھیں بحث و تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ تطہیر، مباہلہ اور ولایت سے متعلق نازل شدہ آیات سے ان کے قرآنی استدلال اور حدیث میں وارد خطبہ غدیر خم اور (( أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی))جیسی روایات سے ان کے مزمومہ استدلال سے بھی پردہ اٹھایا ہے، چڑیا، اور گھر والی حدیث، نیز یہ کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں، یہ اور اس طرح کی تمام ضعیف و موضوع روایات، جنھیں ان لوگوں نے امامت کی ثبوت میں بطور دلیل پیش کیا ہے، ان کی اسنادی حیثیت الگ الگ کر دی ہے۔
اسی طرح اس کتاب میں ان ضعیف و موضوع احادیث کی ایک فہرست بھی شامل کر دی گئی ہے، جنھیں عموماً روافض معرض استدلال میں پیش کیا کرتے ہیں۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو خبردار کرنا ہے کہ وہ ان کے جال میں نہ پھنسیں۔ روافض کے نزدیک توحید کسے کہتے ہیں؟ اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرنے والے نصوص شرعیہ کو انھوں نے کس طرح تحریف کر کے اپنے ائمہ کی ولایت کے حق میں ثابت کیا ہے، نیز یہ کہ امامت کا عقیدہ رکھنا، قبولیتِ اعمال کے لیے شرط ہے، ائمہ معصومین اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں، ان کے بغیر کوئی ہدایت یاب نہیں ہو سکتا، ان کے نام کا واسطہ دیے بغیر دعا کی قبولیت نہیں ہوتی اور یہ کہ روافض کی زیارت گاہوں اور مزاروں کی زیارت کرنا، حج بیت اللہ سے افضل ہے۔ اس طرح کی تمام باتوں کی حقیقت کو میں نے واضح کر دیا ہے۔ مذکورہ عقائد کی طرح ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ امام اپنی مرضی سے جو چاہے حلال کرے اور جو چاہے حرام کرے، دنیا و آخرت پر پورا قبضہ امام کا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے، کائنات میں جو کچھ بھی حادثات رونما ہوتے ہیں، وہ سب ائمہ کے حکم سے ہوتے ہیں، انھیں ماضی، مستقبل دونوں کا علم ہے، ان سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، علاوہ ازیں صفات الٰہیہ کے اثبات میں روافض کے یہاں مبالغہ آمیزی اور تعطیل صفات کی حقیقت، قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ، آخرت میں دیدار الہٰی کا مسئلہ، ائمہ روافض کا انبیاء و رسل سے افضل ہونا، ن مسائل کو بھی مختصراً قلم بند کیا ہے۔ قرآن کریم کے بارے میں رافضی مؤقف یعنی بعض علماء روافض کا یہ کہنا ہے کہ قرآن تحریف کردہ کتاب ہے، پھر ان کی تردید، اسی طرح صحابہ کرامؓ اور سنتِ نبویہ کے بارے میں رافضی مؤقف، ان کے یہاں تقیہ کا مفہوم، مہدی منتظر کی آمد کے بارے میں ان کا عقیدہ اور ’’عقیدۂ بدا‘‘ یعنی اللہ کے لیے علم جدید کا ظہور، ان موضوعات پر مدلل روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان باطل عقائد کے بارے میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، پاک باز اہل بیت کے علماء اور اہل سنت و جماعت کا کیا مؤقف ہے اور یہ عقائد کس قدر تعلیمات الہٰی سے دور ہیں، ان عقائد پر بحث و مباحثہ اور رد و قدح کرتے ہوئے میں نے علمی واخلاقی آداب کی مکمل رعایت کی ہے، انھیں سب و شتم کرنے سے دور رہا ہوں اور ان سے مناظرہ خود ان کے اصولوں اور معتمد کتب کی روشنی میں کیا ہوں۔
میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اہلِ بیت سے شیعہ حضرات کی محبت اور امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی عقیدت و اقتداء کا دعویٰ، لوگوں کے عقائد کو بگاڑنے اور انھیں قرآن و سنت سے دور رکھنے کی غرض سے اہلِ بیت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کو بھڑکانے کی حقیقت کو واضح کروں۔ میری دلی تمنا ہے کہ اہل سنت کی اتنی بھاری اکثریت کو ان روافض شیعہ کی حقیقت سے آگاہ کروں، کیوں کہ ان کا مستقل وجود ہے اور افریقہ، ایشیا، یورپ و امریکہ کے باشندوں میں ان کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ رافضیت کے مبلغین اپنی باطل دعوت کی نشر و اشاعت میں کافی متحرک ہیں، وہ اس راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں، اسلام کا صفایا، اس کے چہرہ کو مسخ کرنے اور اسے جڑ سے کاٹ دینے کے لیے دشمنانِ اسلام سے ساز باز کرتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، جب کہ اہلِ سنت کا عالم یہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر ان کی اکثریت سستی کا شکار اور انتہائی غفلت میں محو ہے، حیرت ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ شیعہ سنی جنگ پر ایک زمانہ گزر چکا ہے، اب اسے اذکار رفتہ میں ڈال دیں، حالانکہ یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے، بلکہ بڑی جہالت و لاعلمی کی دلیل ہے۔ شیعہ سنی مفاہمت اور اسلامی اتحاد کے نام پر اس کی ہر پرت میں مسلم عوام کے لیے دھوکا ہی دھوکا ہے۔
شیعہ سنی مفاہمت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ علمائے اہل سنت کتاب و سنت پر مبنی اپنے صحیح عقیدہ کی تبلیغ اور اس کی نشر و اشاعت میں دل و جان سے لگ جائیں، اس کی درستگی و خصوصیات اور اہلِ بدعت کے عقائد سے اس کی الگ پہچان نمایاں کریں، اس لیے کہ اہل سنت و الجماعت ہی سنت نبویﷺ اور منہج صحابہؓ کے پیروکار ہیں۔ فرمان نبویﷺ ہے:
فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِیْ ، تَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ
(أبو داؤد:4607، الترمذی: 2678، ابن ماجہ:42، الدارمی: 296، أحمد: جلد 4 صفحہ 126، 127، الحاکم: جلد 1 صفحہ 96، الصحیحۃ للألبانی: 937)
’’میری سنت اور میرے بعد ہدایات یافتہ خلفاء راشدینؓ کی سنت کو اپنے لئے لازم کر لو، انھیں مضبوطی سے تھام لو اور ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لو۔‘‘
اور سنت کی مخالفت سے ممانعت پر فرمان نبویﷺ ہے:
وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٍ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔
(أبو داؤد: 4607، الترمذی: 2678، ابن ماجہ: 42، الدارمی: 296، أحمد: جلد 4 صفحہ 126، 127، الحاکم: جلد 1 صفحہ 196، الصحیحۃ للالبانی:937)
’’دین میں نئی چیزیں نکالنے سے بچو، اس لیے کہ دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘
نیز فرمان نبویﷺ ہے:
فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ
(متفق علیہ: صحیح البخاری: 5063 و مسلم: 1401)
’’جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔‘‘
درحقیقت ان فرامینِ نبوی پر وہی لوگ کاربند ہیں، جو ان کے افکار و عقائد منہج نبوی اور طریقہ نبوت سے دور رہنے والے نفس پرستوں اور بدعت کے شیدائیوں سے بالکل جدا ہیں۔ اہلِ سنت کے عقیدہ و فکر کا آغاز اس وقت سے ہوا جب سے محمدﷺ منصب نبوت پر سرفراز ہوئے، جب کہ نفس پرستوں اور بدعتیوں کے عقائد و افکار کا ظہور آپﷺ کا زمانہ گزر جانے کے بعد عہدِ صحابہؓ کے بالکل اخیر میں بلکہ اس کے بعد کے ادوار میں ہوا، آپﷺ نے اپنی زندگی ہی میں فرمایا تھا کہ ((مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیٰری اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا))
(ابو داؤد: 4607، الترمذی: 2678، ابن ماجہ:427، الدارمی: 296، أحمد: جلد 4 صفحہ 126، 127) الحاکم: جلد 1 صفحہ 196، الصحیحۃ للالبانی: 927) ’’تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت اختلافات دیکھے گا‘‘پھر آپﷺ نے رہنمائی کی کہ صراط مستقیم یعنی میری سنت اور خلفائے راشدینؓ کے منہج پر چلتے رہنا، آپ نے بدعات سے ڈرایا اور بتایا کہ وہ گمراہیاں ہیں۔ یہ بات نہایت نامعقول اور ناقابلِ قبول ہے کہ طریقہ حق اور منہج صحابہؓ پر پردہ ڈال دیا جائے اور ان کے بعد آنے والے انسانوں کو اپنا پیشوا اور ان کے منہج کو قابلِ عمل بنا لیا جائے، تمام ہی بدعات برائیوں کا پلندہ ہیں، اگر ان میں کسی طرح کی کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ کرامؓ انھیں ضرور بالضرور کر گزرتے، لیکن افسوس ہے کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں آزمائش میں مبتلا ہوئیں اور منہج صحابہؓ سے کٹ گئیں۔ سچ کہا ہے امام مالک رحمۃاللہ علیہ نے کہ اس امت کے آخری لوگ اس وقت تک ہرگز درست نہیں ہو سکتے، جب تک کہ اس چیز کو نہ اپنا لیں جس سے ان کا اگلا گروہ درست ہوا تھا۔ چنانچہ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت و جماعت خود کو حدیث نبویﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دوسرے لوگ اپنے کو خود ساختہ جماعتوں یا مخصوص جگہوں اور افراد کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
شیعہ سنی مفاہمت کا بنیادی منہج یہ ہے کہ حق کو بیان کیا جائے اور باطل کی نقاب کشائی کی جائے، اہل بیت و اہل سنت کے متقدمین و سرخیل علماء و فقہاء مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ، آپ کی اولاد و احفاد کے حوالہ سے شیعہ و روافض کو کتاب اللہ، سنت رسولﷺ اور اسلام کی صحیح تعبیر کے قریب لایا جائے، صحیح شیعی اصلاحی تحریکات کی قدر کرتے ہوئے اس کا ساتھ دیا جائے جیسا کہ سید حسین موسوی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب ’’للہ ثم للتاریخ، کشف الأسرار و تبرئۃالأئمۃ الأطہار‘‘ میں شیعوں کے ساتھ سچی خیرخواہی کا حق ادا کیا ہے اور اسی طرح سید احمد الکاتب نے اپنی کتاب ’’تطور الفکر السیاسی الشیعی من الشوری إلی ولادیۃ الفقیہ‘‘ میں پیش کیا ہے۔ اسی طرح ہم پر واجب ہے کہ اہلِ بیت کا جو شخص سچا محب و مخلص نظر آئے، یعنی کتاب و سنت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرنے میں ان کے صحیح آثار اور عمدہ سیرتوں کا پابند ہو اس سے ہم بہتر تعلقات رکھیں، اس کے ساتھ احترام و توقیر کا برتاؤ کریں، اسے سہارا دے کر امان و حفاظت کے ساتھ ساحل تک پہنچائیں، اس سے کہیں کہ عقل کو کام میں لاؤ، اسے بندشوں سے آزاد کرو، فطرت کی آواز اور دعوت پر اباطیل کے جو بھاری انبار لگ چکے ہیں انھیں صاف کرو، تاکہ روشن حقیقت تک رسائی کے لیے اس میدان میں روشن عقلیں اور فطرت سلیمہ اپنا اپنا کام کریں۔
علمائے اہل سنت پر یہ بھی ضروری ہے کہ بدعتیوں کی بدعات پر رد و قدح کرنے میں خوشگوار علمی بحث و تحقیق کا اسلوب اپنائیں، ان سے قدرے نرم پہلو اختیار کریں، ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ گاہے بگاہے ان کی زیارت کر لیا کریں اور جن مسائل میں کوئی اختلاف نہیں ہے ان میں تعاون بھی کریں، ناگہانی حوادث اور مشکلات و مصائب کے ایام میں، خاص طور سے جب وہ کفار و ظالموں سے برسرپیکار ہوں، ان کی مدد فرمائیں، لیکن واضح رہے کہ تعاون و مصالحت کا یہ مؤقف مصالح و مفاسد کا صحیح معیار رکھنے والی شرعی سیاست اور اس کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، البتہ باہمی تعاون بہتر تعلقات، اور سنجیدہ گفتگو کا یہ رشتہ ہمیشہ ایک حالت پر باقی رہنے والا نہیں ہے، کیوں کہ ممکن ہے کسی چور دروازہ سے کوئی رافضی بھی اس رشتہ سے خود کو جوڑ لے اور آگے چل کر وہ فتنہ اور ہنگامہ آرائی کا سبب بنے، لہٰذا اس پر خاموشی اچھی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اس کی گرفت کی جائے اور ان کے غلو اور شاذ خیالات کی ہر حال میں تردید کی جائے۔
متعصبین اور غیر متعصبین کے درمیان جو چیز حد فاصل ہوگی وہ یہ کہ گفتگو کی بنیاد، دلائل اور طرزِ گفتگو میں دیکھا جائے کہ ان شرعی نصوص پر اسے کہاں تک اعتماد ہے، جن سے کسی شک و شبہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، یا ان کی تاویلات کو وہ کس نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، رہا وہ شخص جو نامعلوم اور متاخرین کی طرف منسوب کی ہوئی انوکھی باتوں کو ڈھونڈ کر لاتا ہے، جن کی حقیقت کا کوئی پتہ نہیں، تو ہمیں پہلی فرصت میں اس کی تردید کرنا چاہئے، بلکہ بسااوقات اس کی تردید میں سختی کرنا واجب ہو جاتی ہے، شاعر کہتا ہے:
وَ احْذَرَ مُجَادَلَۃِ الرِّجَالِ فَاِنَّہَا تَدْعُوْ إِلَی الشَّحْنَائِ وَ الشَّنَانِ
’’لوگوں سے بحث و جدال سے بچو، کیوں کہ وہ آپسی کدورتوں اور خون ریزیوں کو دعوت دیتی ہے۔‘‘
وَإذَا اضْطَرَرْتَ إِلَی الْجِدَالِ وَ لَمْ تَجِدْ لَکَ مَہْرَبًا وَ تَلَاقَتِ الصَّفَّانِ
’’اور جب تمھیں بحث و جدال کرنے پر مجبور ہی ہونا پڑے اور کوئی جائے فرار نہ ہو اور فریقین میں جنگ چھڑ جائے۔‘‘
فَاجْعَلْ کِتَابَ اللِّہِ دِرْعَا سَابِغًا وَ الشَّرْعَ سَیْفَکَ وَ ابْدُ فِی الْمَیْدَانِ
’’تو اللہ کی کتاب کو اپنی طویل زرہ اور شریعت کو اپنی تلوار بنا لو اور میدان میں اتر جاؤ۔‘‘
وَ السُّنَّۃَ الْبَیْضَائَ دُوْنَکَ جُنَّۃً وَ ارْکَبْ جَوَادَ الْعَزْمِ مِنَ الْجَوْلَانِ
’’اور روشن سنت کو اپنے لئے ڈھال بناؤ اور میدان کارزار میں عزم کا شہ سوار بن جاؤ۔‘‘
وَ اثْبُتْ بِصَبْرِکَ تَحْتَ أَلْوِیَۃِ الْہُدیَ فَالصَّبْرُ أَوْثَقُ عُدَّۃِ الْإِنْسَانِ
’’اور ہدایت کے جھنڈوں تلے صبر و ضبط کے ساتھ جم جاؤ، کیوں کہ صبر ہی انسان کا سب سے مضبوط سامان سفر ہے۔‘‘
وَاطْعَنْ بِرُمْحِ الْحَقِّ کُلَّ مُعَانِدٍ لِلّٰہِ دَرُّ الْفَارِسِ الطَّعَّانِ
’’حق کے نیزے سے ہر دشمن کو زخمی کرو، نیزہ بار شہسوار کے لیے کیا ہی بہترین کامیابی ہے۔‘‘
وَاحْمِلْ بِسَیْفِ الصِّدْقِ حَمْلَۃَ مُخْلِصٍ مُتَجِّرِدًا لِلّٰہِ غَیْرَ جَبَانِ
’’صداقت کی تلوار سے زبردست حملہ کرو، جیسے کہ ایک مخلص اور محض رضائے الہٰی کا طالب بہادر مجاہد حملہ کرتا ہے۔‘‘
اسی طرح علمائے اہل سنت، ان میں سے دانش ور، اور اہلِ حل و عقد حضرات جو سماجی کارکن ہوتے ہیں، بھلائی کی طرف مسلمانوں کی قیادت کرنے میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے، دراصل یہی لوگ شریعت کے مقرر کردہ مصالح و مفاسد کی روشنی میں اندرونی و بیرونی سیاسی نظریات اور قوموں و جماعتوں کے معاہدوں کا احترام کرنے والے ہیں، قیادت و اصلاح کی یہ ذمہ داری علماء اور مبلغینِ اسلام کے لیے اس بات سے مانع نہیں ہے کہ وہ مسلم عوام کو اہل سنت و الجماعت کے طریقہ کار اور اصولوں سے واقف کرائیں، انھیں اس بات کی دعوت دیں اور مسلم سماج میں دراندازی کرنے والے فاسد عقائد سے انھیں خبردار کریں، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن باطل افکار و عقائد کی تبلیغ و اشاعت میں شرپسند اور دشمنانِ اسلام پوری جہد و جد کے ساتھ شب و روز لگے ہوئے ہیں ان سے مسلم عوام متاثر ہو جائے، اس موضوع سے متعلق ہمیں سیرت رسولﷺ کا مطالعہ کرنا چاہئے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ایک طرف آپ نے وہاں کے یہودیوں سے معاہدہ کیا کہ جس سے اسلامی حکومت کے زیر سایہ انھیں امان و حفاظت ملی اور دوسری طرف اسی وقت میں قرآن کریم انھیں یہودیوں کے عقائد، سیاہ تاریخ اور برے اخلاق کو بیان کرتا رہا، تاکہ مسلم سماج یہودیت سے خبردار رہے اور اس کے دھوکہ میں نہ آئے، یہی وجہ تھی کہ جب یہودیوں نے غداری کیا تو اس گروہ کے خلاف اسلامی صف بندی متحد نظر آئی۔
اسلامی تاریخ کے مدوجزر کا مطالعہ کرنے والا بالخصوص نور الدینؒ اور صلاح الدینؒ کے دور کی صلیبی لڑائیوں، سلطان محمد فاتحؒ کے عہدِ حکومت میں عثمانیوں نیز یوسف بن تاشفین کے عہد میں مرابطین کے ادوار پر جس کی نظر ہے وہ محسوس کرے گا کہ ان کی ترقی اور فتح و نصرت کے کئی اسباب تھے، مثلاً صاف ستھرا عقیدہ، واضح فکر و طریقۂ عمل، حدود سلطنت میں شریعتِ الہٰی کی بالادستی اور ایسی ربانی قیادت تھی جو نورِ الہٰی سے دیکھتی تھی، قوموں کی تربیت اور حکومتوں کے قیام و انہدام میں نظامِ الہٰی کے نفاذ میں اس کی گرفت قوی تھی، معاشرہ کی بیماریوں، قوموں کے عادات و اطوار، تاریخ کے اسرار و رموز، صلیبوں، یہودیوں، ملحدوں، باطنی فرقوں اور بدعتیوں جیسے دشمنانِ اسلام کی ریشہ دوانیوں پر گہری نگاہ اور بلند معرفت تھی، ہر کس و ناکس کے ساتھ بہتر برتاؤ تھا اور اسے اس کا فطری حق ملتا تھا۔چنانچہ ترقی و غلبہ کے مسائل اور دور رس اثرات کے متحمل ترقی کے منصوبوں کے اسباب و عوامل، باہم اس طرح مربوط و متداخل ہیں کہ ان کا احاطہ مکمل طور سے وہی آدمی کر سکتا ہے جس نے قرآن مجید اور سنتِ رسولﷺ کو اچھی طرح سمجھا ہو، خلافتِ راشدہ کی فقہ و بصیرت سے مربوط ہو، ربط بھی ایسا کہ اس کے نقوش و خصائص اور اسباب بقاء و زوال سے آگاہ ہو، اسلامی تاریخ اور ترقی و نصرت کے اسباب و تجربات سے استفادہ کیا ہو، اور اسے یقین ہو کہ اس امت نے جب تک اپنے رب کے فرمان اور نبی کی سنت کی تابعداری کی ہے کبھی ہزیمت نہیں اٹھائی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میدان جنگ کی ہزیمت تو وقتی ہوتی ہیں، جنھیں بھلایا جا سکتا ہے، لیکن تہذیب و ثقافت کی ہزیمتیں جان لیوا زخم ثابت ہوتی ہیں، صحیح اور روشن ثقافت کتاب اللہ، سنتِ رسولﷺ اور طریقۂ خلفائے راشدینؓ سے مستفید اپنے مضبوط اصولوں پر مسلم فرد، سماج، خاندان اور مسلم ممالک کی تعمیر کرتی ہے اور سب سے صحیح و بے نظیر تہذیبی و تمدنی عمارت وہی ہے جس نے اللہ کی توفیق و حفاظت سے آج تک اسلام کے قلعہ کو محفوظ رکھا۔
لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ اس دین کی ترقی کے لیے کام کریں، ہماری خوش بختی یہ نہیں ہے کہ اس کا پھل ہم جلد ہی توڑ لیں، بلکہ اصل خوش بختی یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی توفیق کا شعور اور اس کی رضا مندی کی امید ہو۔ خلافتِ راشدہ کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے میں نے پوری کوشش کی ہے کہ صحیح روایات کی روشنی میں اس دور کے کارناموں کو نکھارنے کے لیے مناسب الفاظ اور بہترین جملے استعمال کروں، تاکہ مسلمانوں کی نئی نسلیں اس تابناک دور سے بہت کچھ سیکھ سکیں، انھیں فقہی بصیرت اور اسلام کی شمولیت کا علم ہو، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش میں برکت عطا فرمائے گا، اور ایسے بہت سے مبلغین اسلام کو اس سے فائدہ پہنچائے گا جن کا نام میں تو نہیں جان سکتا البتہ تاریخ اپنے صفحات میں انھیں ضرور جگہ دے گی، وہ عالمِ اسلام کی غلطیوں و لغزشوں کی تلافی کریں گے اور اسے بھٹکنے سے بچائیں گے، یہ مبلغین اسلام ربانی ہوں گے، خلوص و للہیت کے پیکر ہوں گے، انھوں نے حق کو سمجھا ہو گا، اس کی مدد میں انھیں سعادت نظر آئے گی، اس کے لیے سخت ہوں گے، اس کی طرف سے دفاع کریں گے، تنگ دامانی اور بے بسی کے باوجود اسی کی طرف داری کریں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے صدق و اخلاص و اتباعِ نبوی کی وجہ سے اللہ نے ان کے ہاتھوں کو قوت عطا کی ہو گی۔
اور ان علماء و طالبانِ علوم شریعت کو اس سے فائدہ پہنچے گا جن کے قلم میں شہیدوں کے خون کی روشنائی بھری ہے، ایسے تاجران سے مستفید ہوں گے جو اپنی جان و مال کے ساتھ اسلامی دعوت کے قافلہ کو آگے بڑھانے کے اصل محرک ہیں، اور زبان سے گویا ہیں:
اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِـوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُكُوۡرًا۞اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِيۡرًا۞
( سورۃ الدھر آیت 9، 10)
ترجمہ: (اور ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔ ہمیں تو اپنے پروردگار کی طرف سے اس دن کا ڈر لگا ہوا ہے جس میں چہرے بری طرح بگڑے ہوئے ہوں گے۔
وہ خفیہ ہاتھ اس کا مطالعہ کریں گے، جو اس دنیا میں آج تو نامعلوم ہیں، لیکن آئندہ کل رب کائنات کی ہمیشگی والی جنت میں وہی سب سے بلند و بالا اور نمایاں ہوں گے، آج تخریبی آندھیوں کا طوفان شباب پر ہے، وہ ہمارے اسلام، عقیدہ اور دین و مذہب کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتا ہے، صلیبی، یہودی، باطنی، بدعتی اور سیکولرازم اور لادینیت کے مؤیدین جیسے دشمنانِ اسلام ہمارے حکام، قائدین اور بزرگوں کو علم و ادب اور سیاست کے میدان میں اپنا دست نگر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، ان سب کا مقصد ایک ہے وہ یہ کہ ہماری تاریخ کو مسخ کر دیں۔
اگر بحیثیت امت ہماری کوئی تابناک تاریخ نہ ہو تو ہم صالح امت کبھی نہیں کہلا سکتے، جس امت میں عبقری شخصیات نہ ہوں اس کی قیمت ہی کیا ہوسکتی ہے؟ کیا ہم اپنے شان دار ماضی کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھ سکتے کہ جس سے اللہ کے دشمنوں کی رسوائی ہو، ان کی سازشیں ناکام ہو جائیں اور وہ تاریخ دوبارہ ہمیں اپنی دعوت عام کرنے اور تہذیب کو تقویت دینے میں مدد کرے؟ درحقیقت تاریخ کے اس سخت اور پریشان کن دور میں انسانیت اللہ کے بتائے ہوئے نظام سے ہٹ جانے کی وجہ سے تباہی کے منجدھار میں ہچکولے کھا رہی ہے، حالانکہ اس کا علاج صرف اور صرف مسلمانوں کے پاس ہے تو کیا مسلمان اس کے لیے قربانی دے سکتے ہیں؟ اور دوسروں کو ڈوبنے سے بچا سکتے ہیں؟
شاعر نے کہا ہے:
وَ مِنَ الْعَجَائِبِ وَ الْعَجَائِبُ جُمَّۃٌ قُرْبُ الْحَبِیْبِ وَ مَا إِلَیْہِ وَصُوْلُ
’’عجائبات بے شمار ہیں، انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ محبوب کے پاس رہ کر بھی اس تک رسائی ممکن نہ ہو سکے۔‘‘
کَالْعِیْر فِی الْبَیْدَائِ یَقْتُلُہَا الظَّمَا وَ الْمَائُ فَوْقَ ظُہُوْرِہَا مَحْمُوْلُ
’’جیسے کہ صحراء میں اونٹ پیاس سے مر رہا ہو اور پانی اپنے پشت پر لادے ہوئے ہو۔‘‘
تو کیا اب اسلام کی طرف پلٹنا ممکن نہیں رہا کہ جو کدورتوں سے ہمارے دلوں کو پاک صاف کر دے، اخلاق حسنہ سے ہمیں مزین کر دے اور قرآن کریم سے ہمیں جوڑ دے اور مذہب اسلام نیز اس کے لانے والے پیغمبر محمدﷺ کی طرف انتساب کے شرف کا ہمیں احساس دلائے اور بتائے کہ آپﷺ کی دعوت اور خلفائے راشدینؓ یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت پر عمل کرنا ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے اور پھر ہم رسالت نبویﷺ کی تبلیغ و اشاعت اور اسے تقویت دینے میں باہم متحد ہو جائیں۔
اس کتاب کی تالیف میں جن مصادر و مراجع کی طرف میں نے رجوع کیا ہے، انھیں ذکر کرنے سے پہلے میں اس بات کا اعتراف ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر میرے اس عمل میں سب سے پہلے اللہ کی توفیق، پھر علمائے اہل سنت اور ان کے ہم مزاج و ہم خیال طلبہ کا تعاون شامل نہ ہوتا تو میں اس بحر ذخار میں غوطہ زنی نہیں کر سکتا تھا، لہٰذا میں برملا اقرار کرتا ہوں کہ اصل موضوع منہج عمل، روایات کی فنی حیثیت کا تعین اور جدید و تاریخی مصادر کے لیے میں نے مطبوع و غیر مطبوع علمی مقالوں سے بھرپور استفادہ کیا ہے، خاص طور سے میں ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کو یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں، جنھوں نے ان مقالات میں سے اکثر کا مناقشہ کیا ہے، میں نے ان کی ’’السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ‘‘ اور ’’عصر الخلافۃ الراشدۃ‘‘ جیسی اہم کتب سے بھی استفادہ کیا ہے۔
مثلاً جو چند اہم مقالات آپ کی نگرانی میں لکھے گئے ہیں ان میں سے ایک ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ کا مقالہ ہے، جو ’’الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الأمویۃ من فتح الباری جمعا و توثیقاً‘‘ کے نام سے ہے، اسی طرح ایک مقالہ استاذ عبدالعزیز المقبل کا ہے جو ’’خلافۃ أبي بکر الصدیق من خلال کتب السنۃ والتاریخ، دراسۃ نقدیۃ للروایات باستثناء حروب الردۃ‘‘ کے نام سے ہے، اور ’’محض الصواب فی فضائل امیر المومنین عمر بن الخطاب‘‘ تالیف یوسف بن حسن بن عبدالہادی الدمشقی، الصالحی، الحنبلی جس کی تحقیق و دراسہ کا کام عبدالعزیز بن محمد الفریح نے آپ ہی کی نگرانی میں کیا ہے، اسی طرح محمد بن عبداللہ الغبان کا مقالہ ’’فتنۃ مقتل عثمان بن عفان‘‘ کے نام سے اور استاد عبدالحمید علی ناصر کا مقالہ ’’خلافۃ علی بن ابی طالب‘‘ کے نام سے آپ ہی کی نگرانی میں مکمل ہوئے، ان تمام مقالات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ہی میں نے ان گراں قدر و علمی مقالات سے بھی استفادہ کیا ہے، جو دیگر محققین اساتذہ کے زیرنگرانی منظر عام پر آئے ہیں، مثلاً ڈاکٹر محمد محزون کا مقالہ جو ’’تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ من روایات الطبری و المحدثین" کے نام سے ہے، اور سلیمان العودۃ کا مقالہ جو کہ ’’عبداللہ بن سبا و أثرہ فی احداث الفتنۃ فی صدر الاسلام‘‘ اور اسماء محمد احمد کا مقالہ جو ’’زیادۃ دور المراۃ السیاسی فی عہد النبی و الخلفاء الراشدین‘‘ کے نام سے ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد سند یافتہ مقالات سے بھرپور استفادہ کیا ہے، بہرحال اللہ کے فضل خاص اور توفیق کا شکر گزار ہوں اور پھر اپنے مشفق اساتذہ اور بھائیوں کا جنھوں نے اس راستہ میں میرا ساتھ دیا، میں ان کے لیے اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ان کی کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے اس دن فائدہ مند ثابت کرے جس دن صاحب قلب سلیم کے علاوہ کسی کو اس کا مال یا اس کی اولاد کچھ بھی فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے۔
عہد خلافت راشدہ کی مستند تاریخ لکھتے ہوئے میں نے جن مصادر پر خاص طور سے اعتماد کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے:
کتب حدیث
کتب ستہ یعنی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ سے میں نے آغاز کیا ہے اور پھر موطا امام مالک اور مسند احمد کو بھی سامنے رکھ کر ان تاریخی موضوعات کو اکٹھا کرنے کی پوری کوشش کی ہے، جن کا تعلق خلافت راشدہ کے عہد سے ہے، پھر مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، مستدرک حاکم، امام بیہقی کی السنن الکبریٰ، سنن سعید بن منصور، مسند حمیدی، مسند طیالسی، مجمع الزوائد، کشف الاستار عن زوائد البزار اور موارد الظمأن إلی زوائد ابن حبان جیسی کتب سے تاریخی روایات کی چھان بین کی ہے۔
امام طبرانیؒ کی معجم کبیر اور دار قطنی کی سنن سے بھی غافل نہیں رہا ہوں، بلکہ ان تمام کتب پر محققین فن نے جو کاوشیں کی ہیں اور روایات پر حکم لگایا ہے، ان سب سے مکمل استفادہ کیا ہے۔
کتب شرح حدیث
ان میں سب سے اہم ابن حجرؒ کی فتح الباری اور صحیح مسلم پر شرح الامام النوویؒ کو مقدم رکھا ہے، کیوں کہ ان دونوں میں کیثر المنافع تاریخی موضوعات ہیں اور بعض تاریخی واقعات پر ان دونوں کی تعلیقات کافی اہمیت کی حامل ہیں۔
کتب تفسیر
ان میں تفسیر طبری، تفسیر قرطبی اور تفسیر ابنِ کثیر مقدم رہی ہیں، ان کتب سے استفادہ کرتے ہوئے میں نے روایات سے زیادہ ان پر مؤلفین کی تعلیقات کو مد نظر رکھا ہے، کیوں کہ عموماً وہ روایات حدیث و تاریخ کی کتب میں گزر چکی ہیں۔
کتب عقائد
اس فن میں سب سے زیادہ ابنِ تیمیہؒ کی کتاب ’’منہاج السنۃ النبویۃ‘‘ سے استفادہ کیا ہے، اسی طرح ’’شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ’’الابانۃ فی اصول الدیانۃ، امام بیہقی کی الاعتقاد، امام آجری کی ’’الشریعۃ‘‘ اور دیگر کتب عقائد کو سامنے رکھا ہوں، اور ان سے خلفائے راشدین و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں جو اقوال منقول ہیں، انھیں نقل کیا ہوں۔
کتب فقہ
اس فن میں سب سے اہم ابن قدامہ کی ’’المغنی‘‘ امام نووی کی ’’المجموع‘‘ ابن رشد کی ’’بدایۃ المجتہد‘‘ اور ان کے علاوہ دیگر کتب فقہ میرے زیر مطالعہ رہی ہیں، جن سے میں نے خلفائے راشدینؓ کے اجتہاد کیے ہوئے فقہی مسائل اور ان کے فیصلوں کو نقل کیا ہے۔
کتب ادب
ادب کی کتب سے میں نے ان ابیات کو نقل کیا ہے، جو خلفائے راشدینؓ کی طرف منسوب ہیں، یا انھوں نے انھیں کہنے کی اجازت دی ہے، یا خود اپنے حق میں کہے گئے قصائد کو سنا ہے، لیکن چونکہ ادب کی کتب غیر مستند ہوتی ہیں اور وہ کھرے کھوٹے کے معجون مرکب ہوتی ہیں، اس لیے میں نے صرف ان اشعار کو ترجیح دی ہے جو کتاب اللہ، سنتِ رسولﷺ اور صحابہؓ کی بے نظیر جماعت کے اخلاق و آداب سے موافق ہوں، ان میں سے اہم ابن قتیبہ کی ’’عیون الاخبار‘‘ اور نایف معروف کی ’’الأدب الاسلامی فی عہد النبوۃ‘‘ رہی ہیں۔
کتب زہد و رقائق
اس فن کی کتب سے میں نے زہد و ورع سے متعلق خلفائے راشدینؓ کے اقوال کو منتخب کیا ہے، ان میں سب سے اہم علامہ ابن القیم کی کتاب ’’عدۃ الصابرین و ذخیرۃ الشاکرین‘‘ اور انھیں کی ’’مدارج السالکین‘‘ ہے۔ اسی طرح احمد بن عبدالرحمٰن المقدسی کی ’’مختصر منہاج القاصدین‘‘ بھی کافی اہم ہے۔
کتب فرق و مذاہب
اس فن میں سب سے اہم ابو محمد بن حزم الظاہری کی کتاب ’’الفصل فی الملل والاہواء والنحل‘‘ اور ڈاکٹر ناصر القفازی کی ’’اصول مذہب الشعیۃ الإمامیۃ الاثنا عشریۃ‘‘ زیر مطالعہ رہی ہیں۔
کتب نظام و حکومت
اس باب میں میرے نزدیک سب سے اہم کتاب امام کتانی کی ’’نظام الحکومۃ الإسلامیۃ‘‘ ہے، جو کہ ’’التراتیب الإداریۃ" کے نام سے معروف ہے، اسی طرح دوسری کتاب ظافر قاسمی کی ’’نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الإسلامی‘‘ ہے۔
کتب سیرت و تراجم
اس فن میں امام ذہبیؒ کی ’’سیر أعلام النبلاء‘‘ عبدالحئی الحنبلی کی ’’شذرات الذہب فی اخبار من ذہب‘‘ابن الاثیر کی ’’أسد الغابۃ‘‘ اور ابوالقاسم اصفہانی کی ’’سیر السلف‘‘ انتخاب مطالعہ رہی ہیں۔
کتب جرح و تعدیل
اس فن میں حافظ مِزی کی کتاب ’’تہذیب الکمال فی اسماء الرجال‘‘ابن ابی حاتم کی ’’الجرح و التعدیل‘‘ ابن حبان کی ’’الثقات‘‘ اور ابن عدی کی ’’الکامل فی ضعفاء الرجال‘‘ سب سے اہم رہی ہیں۔
کتب تاریخ
ان میں سب سے اہم مرجع کی حیثیت تاریخ طبری کی ہے، اس کتاب نے ہمارے سامنے تمام تاریخی روایات کو سند کے ساتھ نقل کر دیا ہے، خواہ وہ صحیح ہوں، ضعیف ہوں یا موضوع، یا ان کا تعلق عقیدہ و شرعی احکام سے ہو یا ان واقعات سے ہو جو صحابہ کرامؓ سے متعلق ہیں، اس لیے ضروری تھا کہ ان روایات کو جرح و تعدیل کی کسوٹی پر رکھا جائے اور شیعی و رافضی نیز جھوٹے اور مجہول راویوں کو بیان کیا جائے۔
اس سلسلہ میں خالد غیث کی کتاب ’’استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل فی مرویات سیف بن عمر فی تاریخ الطبری‘‘ اور ڈاکٹر یحییٰ ابراہیم الیحییٰ کی کتاب ’’مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری‘‘ اور ڈاکٹر عبدالعزیز نورولی کی کتاب ’’اثر التشیع علی الروایات التاریخیۃ‘‘ نیز اس سلسلہ میں اہم ترین کتب میں ابن کثیر کی ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ سے میں نے استفادہ کیا ہے۔
یہ چند اہم قدیم مصادر ہیں، جن کی طرف میں نے رجوع کیا ہے، ساتھ ہی مختلف قسم کے بے شمار جدید مراجع کو میں نے سامنے رکھا ہے۔ واضح رہے کہ عقائد، احکام اور مقامِ صحابہؓ سے متعلق روایات کی صحت و ضعف معلوم کرنے اور ان پر حکم لگانے میں میں نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے، اور فیصلہ میرا اپنا نہیں بلکہ اس سلسلہ میں اس فن کے اساطین و متخصصین علماء کے اقوال کو نقل کیا ہے، چنانچہ یہ فضل اولاً اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، پھر ان علماء ربانین کے لیے ہے، جنھوں نے یہ سب کچھ کیا، میں نے اپنی کوشش کے مطابق صرف صحیح روایات کو سامنے رکھتے ہوئے تاریخی واقعات کی منظر کشی کی ہے اور انھیں مقدم رکھا ہے، پھر ان روایات کو ترجیح دی ہے جو حسن درجہ تک پہنچتی ہیں، نیز ضعیف روایات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ واقعات کی کامل تصویر کشی کے لیے کہیں کہیں انھیں ذکر کیا ہے، لیکن یہ ملحوظ رکھا کہ وہ ضعیف روایات صحیح اور حسن روایات سے متصادم نہ ہوں اور اس دور کے روح و مزاج کے موافق ہوں، نیز ان روایات کا تعلق عقیدہ و شرعی احکام سے نہ ہو۔
اسی طرح مناسب مقامات پر محسوس کرتے ہوئے روافض، مستشرقین اور دورِ حاضر کے بعض قلم کاروں کے شبہات و اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے، میری پوری کوشش رہی ہے کہ دورِ خلافت راشدہ کی تاریخ لکھنے اور اس پر اچھالے گئے کیچڑ کو صاف کرنے، خاص طور سے عہدِ عثمان غنی و عہدِ علی رضی اللہ عنہما سے متعلق پیدا کیے گئے اشکالات اور اعتراضات کو زائل کرنے میں اہل سنت کے منہج پر گامزن رہوں۔ اس تاریخ کو مرتب کرتے ہوئے میرے بہت سارے دوستوں اور بھائیوں کی طرف سے نئی نئی معلومات حاصل ہوتی رہیں، اللہ نے اگر چاہا تو میں اپنے عزم کے مطابق اس سفر کو آگے تک لے جاؤں گا اور اس کی ترقی و کارگزاریوں کو ایسے انداز میں بیان کروں گا جو اس روشن دور کے موافق ہو، میں اللہ سے مدد و توفیق کا طالب ہوں۔
مقدمہ کے آخر میں یہ ذکر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں نے خلفائے راشدینؓ میں پانچویں خلیفہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی زندگی کو مستقل کتاب کی شکل میں موضوع بحث بنایا ہے کیوں کہ شرعی سیاست اور مصالح و مفاسد کی فقہ و بصیرت میں آپ کی مستقل اجتہادی حیثیت ہے اور تعمیری و اصلاحی نظریہ کا مالک ہونے کی وجہ سے ہی وہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں اپنی خلافت سے دست بردار ہوئے تھے، اس نظریہ کی تنفیذ میں انھیں مختلف مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، سیدنا حسنؓ کی منفرد شخصیت جو کہ اصلاحی و تعمیری فکر و نظر سے مالا مال تھی اور اسے نافذ کرنے کا عزم مصمم رکھتی تھی، وہی امت کو اتحاد کی لڑی میں پرونے اور اس بشارت نبوی کے اثبات کا سبب بنی:
اِبْنِيْ ہَذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3746)
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی بدولت مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔‘‘
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست برداری اور ان کے ہاتھ پر بیعت کے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ کی تیس سالہ مدت ختم ہو جاتی ہے، جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا:
خِلَافَۃُ النُّبُوۃِ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُوْتِي اللّٰہُ الْمُلْکَ أَوْ مُلْکَہُ مَنْ یَّشَائُ
(صحیح سنن ابی داؤد: جلد 3 صفحہ 879 ألبانی: صفحہ 4646)
اور آپﷺ نے فرمایا:
اَلْخِلَافَۃ فِیْ اُمّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ مُلْکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ
(سنن الترمذی مع تحفۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 395-397 امام ترمذیؒ نے کہا: یہ حدیث حسن ہے: 2226)
حافظ ابن کثیرؒ نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کے ساتھ تیس (30) سال کی مدت پوری ہو جاتی ہے۔ بایں طور کہ ربیع الاول 41ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلافت سے دست بردار ہوئے اور ربیع الاوّل 11ھ میں نبیﷺ کی وفات ہوئی، اسی طرح درمیانی مدت تیس (30) سال کی ہوتی ہے اور اعجازِ نبوت کے دلائل میں سے ایک دلیل ثابت ہوتی ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)
بہرحال مذکورہ ترتیب کے ساتھ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدینؓ میں پانچویں خلیفہ ہیں۔ اگر اللہ کی توفیق شامل حال رہی، تو ان کی سیرت پر لکھی گئی کتاب کے ساتھ عہد خلافت راشدہ کے اہم نقوش، خصوصیات، اسباب زوال، نظامِ حکومت، اس کی رعایا و حکام کی صفات، دستور اساسی، بحرانی احوال سے نمٹنے، ترقی و غلبہ کے قوانین اور فطری نظام، عورت کے مقام و مرتبہ، سرکاری محکموں اور اس دور کی پاک صاف جماعت سے متعلق اہم خلاصہ تحریر کروں گا۔
میں نے اپنی طاقت بھر کوشش کی ہے کہ امیر المؤمنین علی بن ابی طالبؓ کی شخصیت پر مختلف گوشوں سے روشنی ڈالوں، کیوں کہ آپؓ کی زندگی امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے اور آپؓ ان بزرگ ائمہ میں سے ایک ہیں، جنھیں دیکھ کر لوگ اس دنیا میں ان کے اقوال اور افعال و کردار کی پیروی کرتے ہیں، سیدنا علیؓ کی سیرت ایمان کے قوی ترین مصادر، صحیح اسلامی رجحان اور دین اسلام کے لیے فہم سلیم کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ سنت الہٰی کے ساتھ آپ کیسے پیش آئے اور ان کی کیسی بہترین توجیہ کی اور ہم قرآن کریم کے ساتھ کیسے زندگی گزاریں، اس کے بتائے ہوئے راستہ پر کیسے چلیں اور نبیﷺ کی اقتداء کیسے کریں، اس سیرت کے مطالعہ سے ہمارے سامنے خوفِ الہٰی اور خلوص و للہیت کی اہمیت کے گوشے نمایاں ہوں گے اور یہ معلوم ہو گا کہ دنیا و آخرت میں انسان کی بھلائی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اس کے سامنے اللہ کی رضا جوئی ہر حال میں مقدم ہو، ساتھ ہی یہ بات بھی ہم جان سکیں گے کہ امتِ مسلمہ کی بقاء اور اس کی ترقی نیز گمشدہ تہذیب کی بازیابی اور اس میں زندگی کی روح پھونکنے میں مذکورہ سیرت و کردار کی کتنی بڑی تاثیر ہے۔ اسی لیے میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور کارناموں کو نکھارنے میں اپنی پوری طاقت لگا دی ہے، پھر بھی مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے۔ میں غلطیوں سے پاک اور معصوم نہیں ہوں، اللہ کی رضا جوئی اصل مقصد ہے، اسی سے ثواب کی امید ہے، مدد و توفیق دینے والا وہی ہے، وہ بہترین ناموں والا اور دعاؤں کو سننے والا ہے۔
میں اس کتاب کی تالیف سے بروز ہفتہ بارہ بج کر پچپن (55 :12) منٹ پر بوقت نماز ظہر 17 ربیع الآخر 1424ھ مطابق 7 جون 2003ء کو فارغ ہوا۔ ہرحال میں اللہ کا فضل و کرم رہا ہے، اس کے بہترین و پاک ناموں، اور بلند و بالا صفات کے واسطہ سے اس سے دعا کرتا ہوں کہ میرے اس کام کو قبول فرمائے، اسے اپنے بندوں کے لیے کارآمد بنائے، ہر حرف کے بدلے جسے میں نے لکھا ہے ثواب سے نوازے، اسے میرے نیک اعمال میں شامل کرے اور اس حقیر کوشش کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں میرے جن بھائیوں نے بھی میرے دست و بازو کو سہارا دیا ہے، انھیں اجرِ عظیم سے نوازے، ہر مسلمان جو میری اس کتاب کو پڑھے اس سے التماس ہے کہ اپنی نیک دعاؤں میں اس بندۂ عاجز کو نہ بھولے جو اللہ تعالیٰ سے معافی، مغفرت، رحمت اور رضا مندی کا طالب ہے:
رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞(سورۃ النمل آیت 19)
ترجمہ: میرے پر ورگار! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لیجیے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۡ بَعۡدِه وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞( سورۃ فاطر آیت 2)
ترجمہ: جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
و صلی اللہ علی سیدنا محمد و علی آلہ و صحبہ و سلم، سبحانک اللہم وبحمدک أشہد أن لا إلہ إلا أنت استغفرک و أتوب إلیک۔ و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
علي محمد محمد الصّلابي غفر اللّٰہ و لوالدیہ و لجمیع المسلمین