مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 12

اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞(سورۃ آل عمران: آیت 102)

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا ۞  (سورۃ النساء: آیت 1) 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ۞يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 70، 71)

اما بعد!

اے میرے رب! تیرے لیے ہر قسم کی تعریف، ایسی تعریف جو تیرے چہرۂ پور انوار کی عظمت و جلال اور تیری قدرت کے لائقِ کمال ہے، تیرے ہی لیے تعریف ہے، یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے اور جب تو راضی ہو جائے تب بھی، اور اس کے بعد بھی ہم تیرے تعریف کناں ہیں۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

خلافت راشدہ کے عہد زرّیں پر تحقیقی مطالعہ کی یہ چوتھی کتاب قارئین کے ہاتھوں میں ہے، اس سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہم کی سیرت پر مفصل کتب منظر عام پر آ چکی ہیں، میں نے اس کتاب کا نام ’’اسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ شخصیتہ و عصرہ‘‘منتخب کیا ہے۔ یہ کتاب امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے شہادت تک مفصل سوانح پر مشتمل ہے۔

چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نام، نسب، ولادت، خاندان، قبیلہ، واقعہ قبولِ اسلام، مکہ کے اہم کارنامے، ہجرت، قرآنی تصور حیات، زندگی پر اس کے اثرات اور اللہ کی ذات، کائنات، دنیوی زندگی، جنت، جہنم اور قضاء و قدر کے بارے میں آپ کے عقائد و تصورات سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے، اسی طرح یہ کتاب بتائے گی کہ آپ کے دل میں قرآن کی کتنی عظمت تھی اور آپ کے بارے میں کون کون سی آیات نازل ہوئیں، قرآن کریم سے احکام مستنبط کرنے اور اس کے معانی سمجھنے میں آپ نے کن اصولوں اور ضوابط کو معیار بنایا، قرآنی آیات کی آپ نے کیا تفسیر فرمائی ہے۔ نیز یہ کہ آپ عہد طفولت ہی سے رسول اللہﷺ کے ساتھ رہے اور آپ کو مقامِ نبوت کی گہری معرفت حاصل رہی، اور نبی کریمﷺ نے آپؓ کے ساتھ کیا عمدہ برتاؤ کیا۔

چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اقوال و افعال کے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں، آپ ہمیشہ کوشاں رہے کہ لوگوں کو دین سکھائیں، انھیں نبی اکرمﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کا پابند بنائیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صاف صاف واضح بتایا کہ نبی کریمﷺ کی اطاعت واجب ہے، آپﷺ کی سنت کو لازم پکڑنا، اور اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ آپؓ نے نبی اکرمﷺ کے دلائل نبوت، آپ کی فضیلت اور امت پر آپ کے بعض حقوق کوواضح کیا۔

اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا بخوبی محسوس کرے گا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سنت نبوی کی اتباع کے کس قدر شیدائی تھے۔ یہ کتاب صحابہ، تابعین اور اہل بیت کے ان افراد کی بھی نشان دہی کرتی ہے، جنھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں اور پھر پڑھنے والے کو امیر المؤمنین کی زندگی کے ان ایام کی سیر کراتی ہے، جو سیدنا علیؓ نے مدینہ میں رہ کر نبی کریمﷺ کے ساتھ گزارے، چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی اور شادی میں دیا گیا مہر، ساز و سامان، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی، زہد و قناعت، زندگی کے نشیب و فراز، اخلاص و وفا کی صداقت اور دنیا و آخرت میں ان کی سیادت و پیشوائی کی روشنی میں مستنبط ہونے والی عبرت و موعظت کی باتیں بھی ہیں۔

اس کتاب میں میں نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی زندگی کا بھی مختصر خاکہ پیش کیا ہے، ان دونوں کی فضیلت، احادیث رسول اللہﷺ میں ان کا مقام و مرتبہ، اہل سنت و جماعت کے نزدیک اہل بیت کا مفہوم اور ان سے متعلقہ احکام مثلاً ان کے لیے مال زکوٰۃ کی حرمت، میراثِ رسول میں عدم وراثت، اموال غنیمت و فے (مال غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو کفار سے جنگ کے نتیجہ میں حاصل ہو اور مالِ فے اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ کیے کفار سے حاصل ہو) میں حق خمس کے ثبوت، نبی اکرمﷺ کے ساتھ ان پر ترحم، اور ان کی محبت و احترام کے وجوب کو بیان کیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ سرایا و غزوات (غزوہ اس جنگی مہم کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ نے بذات خود شرکت فرمائی ہو اور سریہ اس جنگی مہم کو کہتے ہیں جس میں آپﷺ نے شرکت نہ کی بلکہ صحابہ کو روانہ کیا ہے۔ (مترجم) نبوی جیسے بدر، احد، خندق، بنوقریظہ، حدیبیہ، خیبر، فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا کیا مؤقف رہا، نیز یہ کہ غزوۂ تبوک 9ھ کے موقع پر آپﷺ نے جنابِ علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت میں حج کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اہم میڈیائی کردار، نجران کے نصاریٰ کے وفد کی آمد اور آیتِ مباہلہ کا نزول۔ نبی اکرمﷺ کا آپؓ کو یمن کا قاضی اور مبلغ بنا کر بھیجنا۔ یمن میں بحیثیت قاضی آپ کے فیصلے، حجۃ الوداع کے موقع پر احرام میں آپﷺ کی موافقت، اس تحریر کا واقعہ جسے نبیﷺ اپنی مرض الموت میں لکھوانا چاہتے تھے، خلفائے راشدینؓ سے آپ کے مخلصانہ تعلقات اور خلافت راشدہ کے طویل دور حکومت میں آپ کے اثر ورسوخ کے بیان پر یہ کتاب مشتمل ہے۔

صفحہ 1 از 12