لطیفہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہتھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ چکوال میں شیعہ سنی کے بالمقابل جلسے ہوئے تھے اس جلسہ میں ایک مولوی کفایت حسین پشاور سے تشریف لائے تھے جن کے نام کے ساتھ حافظ کی دم لگی ہوئی تھی، خاکسار نے اپنے وعظ کے دوران میں ہزاروں کے مجمع میں چیلنج دیا کہ اگر مولوی کفایت حسین حافظ قرآن ہے تو کل ہمارے حافظ کے مقابلہ میں سر اجلاس مجمع عام میں پانچ پارہ قرآن شریف صحت کے ساتھ سنا دے تو سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ یہ اعلان سن کر شیعہ پارٹی میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی۔ خط و کتابت ہونے لگی، آخر شیعوں نے دو ماہ کی مہلت مانگی، ہم نے کہا یہ مہلت بھی منظور ہے لیکن اس صورت میں آپ کو پانچ حافظ پیش کرنے ہوں گے اور ہم ان کے مقابلے میں 50 حافظ پیش کریں گے۔ شیعہ جھنجھلا کر بولے ہم ایک بھی بمشکل پیدا کر سکتے ہیں پانچ حافظ کہاں سے لائیں؟ ہم نے کہا آپ پنج تنی کہلاتے ہیں اس لیے آپ پانچ حافظ ضرور پیش کریں، شیعہ یہ سن کر متحیر ہو گئے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ ہمارے ایک ہم وطن شیعہ سید حیدر شاہ صاحب چوہان کہنے لگے "نہیں میں موحد ہوں، اس لیے ایک ہی حافظ کی شرط رہنی چاہیے" آخر ایک کی شرط بھی منظور کر لی گئی، لیکن میںعاد گزر گئی نہ کوئی حافظ آیا نہ شیعہ بیچارے میدان میں نکلے۔
(حجۃ الاسلام قطب العالم قاسم العلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃاللہ بانی دارالعلوم دیوبند اپنی کتاب مستطاب "ہدیۃ الشیعہ" میں شیعہ کے حافظ نہ ہونے کے اسباب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔ وجہ اس یاد نہ ہونے کی، حالانکہ مقتضاء طعن اہلِ سنت یہ تھا کہ یہ کلام اللہ چھوڑ کر شیعی تفسیر کبیر یاد کر لیتے، یہی بات ہے کہ جیسا تلاوت کا حق ہوتا ہے ان کو میسر نہیں آتا اور باعث اس کا واللہ اعلم یا تو یہ ہے کہ تبائع انسانی اور حیوانی بااعتبار غذا کے جیسی مختلف ہیں کہ کسی کو میٹھا بھاتا ہے کسی کو نمکین، کسی کو ایک چیز کی طرف رغبت ہوتی ہے کسی کو نفرت۔ انگریزوں کو عطر نفیس سے تنفر اور مچھلی کے اچار سے جسے سونگھ بھی لیجیے تو دماغ چھوڑ جان کی خیر نہیں، رغبت، پاخانہ کے کیڑے گندگی میں خرم و شاد و پیش و آرام سے رہیں اور خوشبو سونگھیں تو مر جائیں، ایسے ہی با اعتبار امور دینی کے جو غذا ارواح ہیں، ارواح نبی آدمؑ مختلف ہیں، کسی کو رغبت ہے کسی کو نفرت، کسی کو لذت ہے، کسی کی جان نکل جاتی ہے۔ سو حضرات شیعہ کو بھی کلام اللہ میں محنت کرتے موت نظر آتی ہے اور یا یہ ہے کہ جو شاگرد استاد کی خدمت میں گستاخ ہوتا ہے، عادتِ الٰہی یوں جاری ہے کہ علم سے بہرہ ور نہیں ہوتا وجہ اس کی شاید یہ ہو کہ شکر پر وعدہ مزیدِ نعمت ہے۔ چنانچہ فرمایا. لَئِنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ یعنی اگر شکر کرو گے تو البتہ ہم اور زیادہ دیں گے۔
تو اس صورت میں بشہادت عقلی کفران پر زوال نعمت متفرع ہونا چاہیے۔ ادھر حدیث میں ہے۔
مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہ یعنی جو کوئی آدمیوں کا شکریہ نہ کرے گا اللہ کا بھی شکر نہ کرے گا اور ظاہر ہے کہ ہر چند منعم حقیقی خداوند کریم ہے۔ پر دولت علم بواسطہ استاد ہی حاصل ہوتی ہے اور نعمتِ عظمیٰ کلام اللہ کے استاد حضرات صحابہؓ ہیں جن میں سے اول اور ثالث کو بوجہ تالیف مصنف مجازی کہئے تو بجا ہے، پھر ان گستاخوں کو یہ نعمت عظمیٰ عطا ہو تو کیونکر ہو؟.الخ)
(احقر مظہر حسین)
تھوڑا عرصہ ہوا ہے فدا حسین شیعی ساکن چوا گنج البحر تحصیل چکوال ضلع جہلم نے ایک سنی صوبیدار سے معاہدہ کر کے یہ قرارداد کی کہ فلاں تاریخ کو ہر دو فریق اپنے اپنے حافظ چوعہ گنج البحر میں لائیں۔ اہلِ سنت کی طرف سے لا تعداد حافظ و قاری آ گئے لیکن شیعہ کی طرف سے صرف ایک دو بناوٹی حافظ لائے گئے۔ اہلِ سنت حفاظ دن بھر میدان میں للکارتے رہے لیکن بناوٹی شیعہ حفاظ کو میدان میں آنے کے جرائت نہ ہوئی۔ فدا حسین چالاک آدمی تھا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ صوبیدار پر 500 روپیہ ہرجانہ کا دعویٰ کر دیا، مقدمہ بڑے معرکہ کا ہوا۔ شیعوں نے اس پر زر کثیر خرچ کیا، لکھنو تک سے گواہ لائے گئے، نتیجہ اہلِ سنت کے حق میں ہوا، شیعہ مدعی کا دعویٰ خارج ہو گیا، اس مقدمے میں ملا کفایت حسین کو بطورِ گواہ پیش کیا گیا۔ اس کو قرآن سے ایک رکوع پڑھنے کے لیے کہا گیا۔ صرف آدھ رکوع میں بیس غلطیاں کیں۔ حافظیت کا پردہ چاک ہو گیا کفایت حسین معہ جماعت شیعہ سخت شرمسار ہو کر کچہری سے نکلے۔ یہ خبر اسلامی اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔
یہ فیکٹ امر (واقعہ) ہے کہ شیعہ حافظِ قرآن نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک کسی چیز سے محبت نہ ہو وہ دل میں گھر نہیں کر سکتی۔ چونکہ شیعہ کا قرآن موجودہ پر ایمان نہیں ہے اور وہ اس سے دل سے متنفر ہیں اس لیے ان کا حافظ ہونا محال ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے
رکھے گا بغضِ صحابہؓ سے جو کوئی انساں
ہمارا دعویٰ ہے ہو گا نہ حافظِ قرآں
لاریب حفظِ قرآن کی نعمت فرقہ حقہ اہل السنت والجماعت کو ہی نصیب ہے چونکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ
اس لیے پاکیزہ عقائد کے مسلمان رسولﷺ اور رسولﷺ کے اصحابؓ و ازواجِ مطہراتؓ سے سچی عقیدت اور محبت رکھتے ہیں وہی اس پاک کلامِ الٰہی کے حافظ ہو سکتے ہیں اور یہی فرقہ بشہادت قرآنی مومن کامل ہے۔
اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ اُولٰٓئِكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ
ترجمہ: جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی، جبکہ وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہوں جیسا اس کی تلاوت کا حق ہے، تو وہ لوگ ہی (درحقیقت) اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو اس کا انکار کرتے ہوں تو ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
ہر چند شیعہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ کوئی حافظِ قرآن ہم بھی پیدا کریں لیکن۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
وہ اس نعمت سے محروم ہیں اور رہیں گے۔
اب شیعہ کے عدم ایمان بالقرآن کی بحث ختم ہو چکی ہے اور خدا کے فضل سے براہین قاہرہ نقلی و عقلی سے ہم نے اپنے دعویٰ کو ثابت کر دیا ہے۔ جس کا جواب شیعہ قیامت تک نہیں دے سکتے۔ اب میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ فضائل اصحابِ ثلاثہؓ کو شروع کرتا ہوں۔ پہلے قرآنی ادلہ پیش کی جائیں گی اور من بعد شیعہ کی مستند کتب سے استدلال کیا جائے گا۔