Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 804: فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ (عورتوں کے جس مقام سے تم فائدہ اٹھا لو تو انہیں مقررہ مہر ادا کرو۔) سے ثابت ہے کہ متعہ حلال ہے اور آپ اسے منسوخ کہتے ہیں۔ امام سیوطیؒ نے درمنثور میں لکھا ہے کہ حکَم سے پوچھا گیا کیا یہ آیت منسوخ ہے اس نے کہا ہرگز نہیں اگر آیت منسوخ ہے تو آیت ناسخہ کون سی ہے؟

جواب: 1: یہ آیت متعہ کے جواز میں ہے ہی نہیں تو نسخ کی ضرورت نہیں۔ ما موصولہ غیر ذوی العقول چیزوں کے لیے آتا ہے یہاں سے مراد عورتوں کا مقام انتفاع ہے اور فا تعقیبیہ (پس کے معنوں میں) ہے اور پہلے مسئلے سے متعلق ہے یعنی مذکور محرمات کے علاوہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں بشرطیکہ تم اپنے مالوں کے بدلے میں دائمی شادی کرنے والے بنو۔ پانی اور شہوت نکالنے والے نہ بنو۔ (جو متعہ سے مقصود ہوتا ہے) پس منکوحات کے مقام خاص سے جب فائدہ اٹھاؤ تو ان کے مقررہ مہر ادا کر دو۔ الخ الآیة 

2: شیعہ کی تفسیر مجمع البیان جلد 2 صفحہ 32 پر اسی تفسیر کو سب سے بہتر کہا گیا ہے۔ چہارم محرمات اور زائد بر چار کے سوا عورتیں حلال ہیں کہ تم مالوں کے بدلے میں نکاح یا ملک یمین کے ذریعے تلاش کرو۔ یہ تفسیر سب سے بہتر تفسیر ہے یہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ باندی ثمن سے خریدو یا مہر مقرر کر کے نکاح کرو۔ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ کا معنیٰ یہ ہے کہ تم شادی کرنے والے بنو، زنا کرنے والے نہیں اور فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ کہا گیا ہے کہ استمتاع سے مراد مقصد پا لینا، جماع کرنا اور لذت کی حاجت پوری کرنا ہے۔ حسن بصری رحمۃ اللہ، مجاہدؒ (شاگردانِ سیدنا ابنِ عباسؓ) ابنِ زید سدی سے یہی مروی ہے تو اس تفسیر پر معنیٰ آیت یہ ہے کہ بذریعہ نکاح جب تم عورتوں سے فائدہ پاؤ یا لذت اٹھاؤ تو مقررہ مہر ادا کرو۔ (مجمع البیان: جلد، 2 صفحہ، 32)

3: بالفرض کھینچ تان کر استدلال کیا جائے تو ناسخ مومنون اور المعارج کی وہی آیات ہیں جن میں صرف بیوی اور باندی سے تعلق رکھنا جائز بتایا جاتا ہے اور ان کے سوا عورتوں سے تعلق رکھنے والے کو ظالم اور ملامت زدہ کہا گیا ہے کافی ابواب المتعہ اور تہذیب الاحکام وغیرہ میں دسیوں ایسی احادیث ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ متعہ والی عورت نہ چار میں سے ہے نہ ستر میں سے نہ طلاق پاتی ہے نہ ورثہ، وہ ایک کرائے دار رنڈی ہے۔ تم چاہو تو ہزار سے متعہ کر لو۔ معلوم ہوا کہ زن متعہ نہ بیوی ہے نہ باندی ایک تیسری داشتہ ہے جس کا رکھنا اسلام میں حرام ہے۔ آیت کے لفظ سے تو متعہ ثابت نہیں ہو سکتا تو شیعہ نے تفسیر قمی میں تحریفِ لفظی کر کے متعہ پر استدلال کیا ہے اور آیت یوں لکھی ہے فَمَن اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌

4: تفسیر جامع البیان طبری (المتوفیٰ 310ھ) جلد، 4 صفحہ، 9 پر پہلے یہی تفسیر ابنِ عباسؓ سے، حسنؒ سے، مجاہدؒ سے، ابن زیدؒ سے باسند روایات کے ساتھ نقل کی ہے جو ہم نے شیعہ طبرسی سے نقل کی ہے کہ استمتاع سے مراد نکاح کر کے جماع کی لذت اٹھانا ہے پھر شیعہ والی تفسیر عقد متعہ نقل کر کے یہ جواب لکھا ہے کہ سب سے بہتر اور درست تفسیر نکاح و جماع کی ہے کیونکہ اس پر حجت قائم ہے کہ نکاح صحیح اور مِلک صحیح کے سوا متعہ کو اللہ نے (قرآن کے علاوہ) اپنے رسولﷺ‏ کی زبانی بھی حرام قرار دیا ہے۔ (تفسیر طبری: جلد، 4 صفحہ، 10) 

5: شیعہ کی تفسیر مجمع البیان جلد، 4 صفحہ، 99 پارہ، 18 میں ہے: جو شخص بیویوں اور مملوکہ باندیوں کے سوا طلب کرے تو یہی لوگ ظالم ہیں اور اس حد تک تجاوز کرتے ہیں جو ان کے لیے حلال نہیں۔

ان مجموعہ تفسیروں سے پتہ چلا کہ حق بات متعہ کو حرام ہونا ہے آیت استمتاع سے مراد نکاح ہے تو درمنثور والی حکم کی روایت کا بھی جواب ہو گیا۔

حرمت متعہ پر درمنثور کی روایات جلد، 2 صفحہ، 140 زیر آیت فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ پارہ 5

آپ کو درمنثور سے مطابقی جواب مطلوب ہے تو یہ ہے:

1: ابو داؤد نے ناسخ میں اور ابنِ منذر نحاس، بہیقی نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے نسخت آیة المیراث المتعة متعہ کو آیتِ میراث نے منسوخ کر دیا ہے۔

2: عبدالرزاق ابنِ منذر اور بہیقی نے سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ متعہ منسوخ ہے اسے طلاق، صدقہ، عدت اور میراث نے منسوخ کر دیا ہے (یعنی یہ چار چیزیں بیوی کو یقیناً ملتی ہیں اور باتفاق شیعہ زن متعہ ان سے محروم ہے۔

3: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ کی تفسیر میں فرمایا کہ اسے يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ الخ نے منسوخ کر دیا۔ (کیونکہ متعہ میں طلاق و عدت نہیں ہوتی۔)

4: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان نے ہر روزے کا وجوب منسوخ کر دیا زکوٰۃ نے ہر واجبی صدقہ منسوخ کر دیا اور متعہ کو طلاق، عدت اور میراث نے منسوخ کر دیا اور عید الاضحیٰ کی قربانی نے ہر ذبیحہ کو منسوخ کر دیا۔ یہ نسخ کی روایات اس تفسیری قول کا جواب ہیں جو شیعہ کا ہے کہ استمتاع سے مراد عقد متعہ ہے ورنہ درمنثور میں حضرت ابنِ عباسؓ کی یہ تفسیر بھی مذکور ہے کہ اس سے مراد نکاح دائمی اور جماع ہے چنانچہ

1: ابنِ جریر منذر ابنِ ابی حاتم نحاس نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے آیت فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ میں نقل کیا ہے: جب کوئی شخص شادی کرے پھر ایک مرتبہ ہی جماع کرے تو اس کا حق مہر پورا واجب ہو جاتا ہے۔ استمتاع سے مراد نکاح ہے۔

2: ابنِ ابی حاتم نے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ متعہ شروع اسلام میں تھا مسافر کسی شہر میں حسبِ اقامت سامان کی دیکھ بھال کے لیے متعہ کرتا۔ پھر مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ نے اسے منسوخ کر دیا۔ پہلی بات منسوخ ہوئی اور متعہ حرام ہو گیا۔ اس کی تصدیق قرآن کی اس آیت میں ہے۔ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ (بجز بیویوں، باندیوں کے) ہر فرج حرام ہے۔

سوال نمبر 805، 806: صحیح مسلم میں ہے کہ حی علی خیر العمل عہدِ رسالت میں اذان میں کہا جاتا تھا۔ اب کس کے حکم سے خارج ہوا۔ اسے یہ اختیار کہاں سے ملا؟

جواب: جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ کون سی مسلم میں یہ لکھا ہے؟ مسلم بن حجاج القشیری النیسا پوری رحمۃ اللہ المتوفی 264ھ کی صحیح میں تو اس کا نام و نشان نہیں ہے۔ کلمات اذان بار بار وہی لکھے ہیں جو مسلمان کہتے ہیں۔ مثلاً 

1: حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان میں حی علی الصلوٰة، حی علی الفلاح دو دو مرتبہ کے بعد تکبیر و تہلیل ہے۔ (صفحہ، 165)

2: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اذان سننے والا حی علی الصلوٰة، حی علی الفلاح کا جواب لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہہ کر دے۔ پھر تکبیر و تہلیل کا انہی الفاظ سے جواب دے جس نے دل سے یہ لفظ کہے جنت میں داخل ہو گا۔ (مسلم: جلد، 1 صفحہ، 167) شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ نے بھی حی علی خیر العمل کا کہیں ذکر نہیں کیا۔

سوال نمبر 806: خود بخود ختم ہو گیا کہ یہ جملہ اذان میں کبھی کہا ہی نہیں گیا؟

سوال نمبر 807: نمازِ جنازہ میں چار سے زیادہ تکبیریں کہنے سے کس نے منع کیا؟

جواب: نمازِ جنازہ چار تکبیروں سے حضور اکرمﷺ‏ نے ہی چالو فرمائی۔

مسلم شریف کی روایات ملاحظہ فرمائیں:

1: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے ایک جنازہ پڑھایا تو چار تکبیریں کہیں۔

2: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اصحمہ نجاشی رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں۔ 

3: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ‏ نے چار تکبیروں سے جنازہ پڑھایا۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت میں 5 کا ذکر ہے۔ تو قاضی عیاض رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پہلے کبھی 4، 5، 6، 7، 8 تکبیریں کہہ دیتے تھے۔ جب نجاشی فوت ہو گیا تو 4 ہی پڑھیں اور تا وفات اسی پر جمے رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اہلِ بدر پر 6 تکبیریں کہیں باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر 5 کہیں اور دوسروں پر 4 کہیں۔ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد 4 پر ہی اجماع قائم ہے۔ تمام فقہاء شہروں کے اہلِ فتویٰ حضرات 4 تکبیروں پر ہی متفق ہوئے کیونکہ صحیح احادیث بکثرت آئی ہیں۔ اب ان کے علاوہ قول شاذ ہے۔ جس کی طرف توجہ نہ کی جائے گی۔ (مسلم: صفحہ، 309)

شیعہ چونکہ علیحدگی پسند اور فرقہ پرستی کے مریض ہیں۔ اس اتفاق کو نہیں چاہتے۔

سوال نمبر 808: نکاح سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کے وقت عمر 4، 5 سال بیان کی جاتی ہے اور یہ نکاح 17ھ میں ہوا جبکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات 11 ہجری میں ہو چکی تھی تو یہ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کس کی بیٹی ہیں؟

جواب: سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہی کے بطن سے ان کی 3ھ میں ولادت ہوئی۔ اگلے سوال میں شرع مواقف کی پیش کردہ روایت دلیل ہے اور آپ کی بوقتِ نکاح 4، 5 سال عمر کہنا جھوٹ ہے۔

سوال نمبر 809: حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا نے 11 ہجری میں ہبہ فدک کی گواہی دی (شرح مواقف: صفحہ، 735) اس لحاظ سے بوقتِ نکاح 17ھ میں آپؓ بالغہ ہوتی ہیں۔ جبکہ نکاح والی حضرت اُمِّ کلثومؓ نابالغ اور کمسن تھیں تو پھر کیسے مانا جائے کہ منکوحہ بنتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھیں؟

جواب: کس نے آپ کو جھوٹ بتایا کہ 17 ہجری میں نابالغہ تھیں آپ نے شرح مواقف کا حوالہ لکھ کر ہمیں نکاحِ سیدہ اُمِّ کلثومؓ با سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بحالت بلوغ کا فیصلہ لکھ دیا اور ہمیشہ کے لیے آپ کی زبان بند ہو گئی۔ اللہ جزائے خیر دے۔

سوال نمبر 810: حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ثانی عون بن جعفر سے کیا جاتا ہے حالانکہ وہ عہدِ عمرؓ میں تستر کی لڑائی میں شہید ہوئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بیوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نکاح کریں؟

جواب: ہم دعا کرتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے: ایک ہی نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا والا معاملہ ہے بروایت ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ یہ عون بن جعفر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لاولد فوت ہوئے۔ لیکن ابنِ عبدالبرؒ و ابنِ حجرؒ نے حضرت جعفر رحمۃ اللہ کے جن صاحبزادوں سے یکے بعد دیگرے حضرت اُمِّ کلثومؓ کا نکاح نقل کیا ہے وہ حضرت عوف، محمد اور عبداللہ ہیں۔ الاصابہ جلد، 4 باب النساء صفحہ، 469 حضرت اُمِّ کلثومؓ کے حالات میں ہے۔ پھر آپ سے سیدنا عوف بن جعفر بن ابی طالب نے شادی کی پھر اس کے بھائی محمد نے پھر اس کے بھائی عبداللہ نے۔ اسی کی زوجیت میں وفات پائی اور ان بھائیوں سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 40 ہزار درہم مہر دیا تھا اور سیدنا ابنِ عمرؓ نے حضرت اُمِّ کلثومؓ اور زید بن عمر رضی اللہ عنہ کا معاً 4 تکبیروں سے جنازہ پڑھایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ (اصابہ مع الاستیعاب: جلد، 4 صفحہ، 469)

شیعہ کی تنقیح المقال جلد 1 صفحہ 355 میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عون بن جعفر سے سیدہ زینب صغریٰ یعنی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کبریٰ سے نکاح کیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ کو عون کی وفات دورِ عمر رضی اللہ عنہ میں بتانے کی غلطی لگی اور پھر عوف سے بیوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح کا ذکر کیا حالانکہ عوف بن جعفر کا ذکر کتبِ اسماء الرجال میں نہیں ہے اور سنی شیعہ تمام مؤرخین نے حضرت اُمِ کلثومؓ کا نکاح حضرت عمرؓ سے پھر عون، محمد اور جعفر ابناء ابی طالب سے بالترتیب ذکر کیا ہے تو عون کو عوف کہنا ہی غلطی ہے۔

سوال نمبر 811: فتح الباری جلد 3 صفحہ 361 پر ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ کو ہاشم کا مکان، ماثور نامی تلوار، بکریاں اور اونٹ بھی ورثہ میں ملے۔ جب نبی وارث نہیں ہوتے تو حضورﷺ‏ نے یہ ورثہ کیوں قبول فرمایا؟

جواب: بفرض محال یہ بچپن کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپﷺ‏ پر بالفعل نبوت کے احکام جاری نا ہوئے۔ ورنہ بت پرستی کی مذمت اور تبلیغ کرتے اور مسلم و کافر کی تفریق اس وقت ہو جاتی۔ فتح الباری جلد 3 کا مقام ہٰذا آگے پیچھے چند صفحات سمیت غور سے دیکھا۔ ایسی کوئی روایت یہاں نہیں ہے۔ رافضی دروغ گو کو مبارک ہو۔

سوال نمبر 812: ملا علی قاریؒ کا عذر ہے کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ خود مجتہد تھے لہٰذا سیرتِ شیخینؓ سے انکار کیا۔ لیکن شرح وقایہ حاشیہ چلپی میں ہے کہ سیدنا علیؓ مجتہد نہ تھے۔ تضاد بیانی رفع کریں۔

جواب: ملا علی قاری رحمۃ اللہ کی بات درست ہے۔ مگر سیرتِ شیخینؓ سے انکار کا بہتان آپ نے ان پر باندھا ہے ہم طبری کے حوالے سے بتا چکے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیرتِ شیخین رضی اللہ عنہ سے انکار نہ کیا تھا۔ بلکہ حتیٰ الوسع اپنانے کا وعدہ کیا تھا اور نہج البلاغہ کے خطبات ان کی سیرت کی تصدیق کرتے ہیں حاشیہ کی بات معتبر نہیں۔

سوال نمبر 813: عبد الشکور لکھنوی کا قول ہے۔ ایک مسلمان سنی کا اپنے مذہب سے ہٹ جانا ان محالات میں سے ہے جن کا تصور بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔ (النجم) پھر عہدِ ابوبکرؓ میں ارتداد کیوں ہوا؟

جواب: یہ ہم نے پڑھا نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ لوگوں کی تعلی کے جواب میں ترکی بہ ترکی جواب دیا ہو۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ایک صحیح العقیدہ مسلمان جس کی خدا حفاظت کرے، مرتد نہیں ہو سکتا۔ عہدِ ابوبکرؓ میں مرتد اور منکرینِ زکوٰة وغیرہ، مہاجرین، انصار یا فتح مکہ والے پکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسلمان نہ تھے۔ بلکہ بالعموم دور دراز کے دیہاتی لوگ جو اہلِ مکہ کا مسلمان ہونا سن کر مرعوب ہو گئے اور مسلمان بنے پھر مرتد ہو گئے تو یہ مسلمان پر ظلم نہیں ہوا۔ مجرموں پر ہوا جن کی اکثریت نے حضور اکرمﷺ‏ کو دیکھا بھی نہ تھا۔

سوال نمبر 814: اگر دین سے ہٹ کر مرتد ہوئے تو مولوی شکور جھوٹے ہوئے۔ اگر دین پر قائم رہے تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ظالم و کاذب مانیے؟ فیصلہ آپ پر ہے۔

جواب: نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین سے پھرے نہ مولانا عبدالشکور جھوٹے بنے۔ نہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ظالم ہوئے کہ منکرینِ زکوٰۃ، منافقین اور متنبی کے پیروکاروں سے، جو مرتد ہو گئے تھے لڑے اور ان کو پکا مسلمان کیا۔ ظالم و کاذب منکر و مرتد وہ رافضی ہے جو رسول اللہﷺ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بجز تین کے، مرتد کہتا ہے۔ پھر ان تینوں کو بھی جھوٹا کہتا ہے کہ انہوں نے امام حق سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت نہ کی بلکہ تقیہ سے خلفاءِ ثلاثہؓ کی کرتے رہے اور حق کسی ایک صحابی سے بھی عند الشیعہ ظاہر نہیں ہوا۔

سوال نمبر 815: مندرجہ ذیل حضرات سنی تھے، شیعہ ہو گئے۔ کیا مولوی شکور کا دعویٰ جھوٹا نہ ہو گیا؟ کیا کسی ایک کے متعلق ثابت ہو سکتا ہے کہ یہ آبائی طور پر شیعہ تھے؟ 

جواب: ہمیں ان کے مکمل حالات کی تحقیق نہیں، نہ ہمارے پاس وسائل ہیں۔ ورنہ یہ یقیناً ثابت کیا جا سکتا ہے کہ یہ صحیح العقیدہ سنی بھی نہ تھے۔ تفضیلی شیعہ بنے ہوئے تھے۔ نہ مذہب کا علم تھا، نہ تاریخ سے واقفیت تھی۔ شیعہ مکائد سے نابلد تھے۔ ہمیں اقرار ہے کہ عوام اہلِ سنت اب بھی، اپنے علماء کو اسی سادگی، کفایت شعاری اور افلاس و کسمپرسی میں دیکھنا اور رکھنا چاہتے ہیں جو پہلے بزرگوں کی ہوتی تھی تو دنیا پرست مولوی اس امتحان میں پاس نہیں ہوتے جب کہ ہمیں یہ بھی اقرار ہے کہ شیعہ، نئے مہمانوں کی ضیافت میں زن، زر، زمین اور شہرت و تعظیم کے اعتبار سے ایسی تنظیم رکھتے ہیں کہ بے شعور، سادہ دل، خوفِ خدا سے عاری اس جال میں پھنس جاتا ہے۔ اس حقیقی پسِ منظر میں مذہب اہلِ سنت چھوڑنا اور شیعہ کی دنیوی جنت اور عیش پرستی میں پہنچنا، کوئی کمال نہیں ہے اور نہ مذہب اہلِ سنت کے غلط اور شیعہ کے حق پر ہونے کی دلیل ہے۔جب کہ دورِ حاضر میں کتنے حقیقت پسند شیعوں نے مذہبِ محمدی اہلِ سنت کو قبول کیا۔ 

1: مولانا محسن رضا فاروقی فصیل آبادی: جو اپنے قریب المرگ باپ سے خلفاء ثلاثہؓ کی کرامت سن کر مسلمان ہوئے۔ اب جگہ جگہ ان کی تقریریں اور کیسٹیں سنی جاتی ہیں۔

2: ذاکر خاکی شاہ ملتانی: جو تنظیم اہلِ سنت کے سٹیج پر مسلمان ہوئے۔ اب نعتیں پڑھتے ہیں۔ ایک دفعہ راقم نے پوچھا: شیعہ سنی میں کیا فرق دیکھا؟ ہنس کر کہنے لگے وہاں دنیا تھی، یہاں دین ہے۔ وہ ہزاروں روپے دیتے تھے، تم بیسں روپے دے کر ٹرخاتے ہو۔

3: مولانا عابد حسین کوٹ سرور (حافظ آبادی): جو زبردست اہلِ سنت کے مبلغ بنے ہوئے ہیں۔ انہیں شیعہ والد نے جائیداد سے محروم کر دیا ہے۔ 

4: راقم الحروف کے شیعہ سے سو سوالات اور ہم سنی کیوں ہیں؟ پڑھنے سے کئی حضرات تائب ہوئے۔ بھکر کے ایک گریجویٹ نوجوان کی تصدیق مولانا حسین عارف شیعہ مجتہد آف اسلام آباد نے کی نہ کہ تمہاری اس کتاب نے ہمارا نقصان کیا۔ مجھ سے لے کر ہمارے خاص آدمی نے پڑھی اور وہ سنی ہو گیا۔

تاہم اہلِ سنت کی مثال سمندر کی سی ہے اس میں دریاؤں کا پانی پڑے یا بخارات بن کر اڑ جائے کمی بیشی کا پتہ نہیں چلتا اور مذہبِ شیعہ کی مثال جوہڑ اور چھپڑ کی سی ہے۔ کناروں سے اُبلتا ہے اور مینڈک ٹرا رہے ہیں۔

5: وكيلِ صحابہؓ سید عرفان حیدر عابدی سرگودهوی: سابق شیعہ مبلغ فاضل قم و جامع منتظر لاہور بھی تبرا بازی سے الرجک اور تائب ہو کر سنی ہو گئے۔ 22 رمضان 1404ھ راقم کو یہ تحریک لکھ کر دے گئے:

21 رمضان 1404ھ رات بارہ بجے مسجد جعفری موچی دروازہ میں مجھ کو کہا گیا کہ آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تبرّا کریں میرے دل نے قبول نہ کیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرّا کروں اس بناء پر میں نے مذہب اہلِ سنت قبول کیا ہے۔ پھر اس پتہ کا لیٹر پیڈ دیا۔ 

ختمِ نبوت اکیڈیمی لکڑ منڈی مسجد فاروق اعظمؓ سرگودھا

پھر ہم نے احباب کے ذریعے تین ہزار روپے اس کی امداد کرا دی۔

6: مولانا فيض على فیضی ساکن عبد الحکیم ملتان: جنہوں نے نقاب کشائی کے نام سے اپنے مسلمان ہونے کی روئیداد بتائی ہے اور مذہبِ شیعہ کے دشمنِ اسلام و قرآن ہونے پر زبردست دلائل دیتے ہیں۔

7: مولانا ثناء اللہ: جو پہلے شیعہ ذاکر تھے۔ اب لوہیاں والہ گوجرانوالہ میں خطیب اہلِ سنت دیوبندی ہیں۔ 

8: مولانا ارشاد حسین ولد فیض اللہ خان آف کر (تونسہ) 6 سال سے سنی دیوبندی ہوئے ہیں۔ والدین اور سارا خاندان شیعہ ہے۔ حق کے مبلغ ہیں۔

سوال نمبر 816، 817: آپ الزام لگاتے ہیں کہ قاتلانِ سیدنا حسینؓ شیعہ تھے کیا وہ کلمہ علی ولی اللہ پڑھتے ہیں ہم تو شیعہ ایسے کلمے پڑھنے والے کو مانتے ہیں اگر نہیں پڑھتے تھے اور ان کا کلمہ آپ جیسا ہی تھا تو وہ شیعہ کیسے ہوئے؟

جواب: یہاں آپ دوہرا ظلم کر رہے ہیں ایک تو اپنے پہلوں کو شیعہ نہیں مانتے۔ دوسرے کلمہ کی تحریف اور کفر کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ اپنے دور کے شیعہ تھے کٹر شیعہ تھے ان کی اور اہلِ بیتؓ کی ان کے حق میں شیعہ ہونے کی شہادتیں تاریخ کا جزو ہے۔ جلاء العیون، منتہی الآمال، احتجاجِ طبرسی، تاریخ طراز مظفری، ناسح التواریخ، خلاصۃ المصائب، کشف الغمہ وغیرہ شیعہ تاریخوں میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حالاتِ شہادت، شیعوں کا خط لکھ کر بلانا، امام کا شیعوں پر اعتماد کر کے پہنچنا، بروقت ان کا غدر کرنا، امام کا ان کو بار بار حمایت پر ابھارنا، پھر بددعائیں دینا، ان کا اپنی شیعیت پر اصرار و اقرار کرنا اور دشمنوں پر پھٹکار کرنا اور پھر ماتم و بین کرنا کھلے کھلے حقائق ہیں۔ کوئی دیوانہ ہی انکار کرے گا۔ یہ نیا کلمہ اور اس کے غیر قائلین کو ایمان و اسلام سے محروم سمجھنا۔ جیسے قادیانیوں نے نیا نبی بنا کر سب مسلمانوں کو کافر مان لیا۔ آپ کا نیا کفر ہے۔ واقعی یہ کفر نہ پہلے شیعوں نے کیا، نہ اماموں نے اس کی کہیں تعلیم دی۔ کلمہ شہادتین کلمہ اسلام و اہلِ سنت ہی اس وقت کا متفقہ کلمہ تھا۔ 51 حوالہ جات تخفہ امامیہ آخری باب میں پڑھے اور کافی جلد 2 کا باب دعائم الاسلام بھی پڑھیں۔ اگر اس وقت کے شیعوں کو جو اپنے مخالفین سے لڑتے رہے۔ آپ کلمہ ولایت نہ جاننے، نہ پڑھنے کی وجہ سے کافر اور غیر شیعہ کہتے ہیں تو اتنا اقرار کھل کر کیجیے کہ اثناء عشری امامیہ شیعہ ایک جدید مذہب ہے جس کا عہدِ نبوت، عہدِ خلفاء راشدینؓ اور عہدغ ائمہ میں نہ کلمہ تھا نہ کوئی مذہبی تشخص اور نام و نشان تھا۔ یہ اقرار اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

سوال نمبر 818: شیعہ اصحابِ ثلاثہؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ وغیرہم کو گالیاں دیتے ہیں۔ (معاذ اللہ) بتائیے قاتلانِ سیدنا حسینؓ بھی ایسا عمل کرتے تھے؟ اگر کرتے تھے تو بلاشبہ شیعہ ہی ہوں گے۔

جواب: تبرّوں اور لعنتوں کے وِرد وظیفے پڑھنے کا رواج تو ان میں ابھی نہ پڑا تھا۔ ہاں بعض کو دشمنِ اہلِ بیتؓ کہتے اور لعنت کرتے تھے۔ (معاذ اللہ) چنانچہ شیعانِ کوفہ سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن نجیہ، رفاعہ بن شداد بجلی، حبیب بن مظاہر اور باقی تمام شیعوں مومنوں نے حضرت حسین بن علیؓ کو لکھا۔ آپ پر سلام ہو۔ ہم اللہ کا شکر کرتے ہیں کہ آپ کے معاند سرکش دشمن (حضرت امیرِ معاویہؓ) کو خدا نے ہلاک کر دیا جو امت کی رضا کے بغیر ان پر حاکم ہوا تھا۔ پس خدا اس پر لعنت کرے (نعوذ باللہ) جیسے قومِ ثمود پر لعنت کی۔ الخ (جلاء العیون: صفحہ، 280 منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 303 یہاں جب آپ نے اقرار کر لیا کہ یہ معاذ اللہ اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں۔ (بے ضمیر سنی بھی نوٹ کر لیں) تو سوال 667، 668 میں آپ نے انکار کیوں کیا؟

سوال نمبر 819: اگر بفرضِ محال مانا جائے کہ وہ لوگ شیعہ تھے۔ انہوں نے امام مظلوم کو شہید کیا تو اس کا سنی مذہب کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟

جواب: اہلِ سنت پر سے قتلِ حضرت حسینؓ کا شیعی ناپاک بہتان دور ہو جاتا ہے اور کوتوال کو ڈانٹنے والا چور خود گرفتار ہو جاتا ہے۔ یہ سب سے بڑا فائدہ ہے۔

*سوال نمبر 820:* جب شیعہ آپ کے بقول اپنے آباء و اجداد کے مظالم کی تشہیر کرتے، لعنتیں بھیجتے ہیں تو ان کو حق شناسی کی داد دینی چاہیے کہ اپنے بزرگوں کے افعالِ بد نشر کر کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔

*جواب:* واقعی قابلِ داد ہوتے اگر دیانت دار ہوتے۔ گول مول اور مبہم انداز میں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بیٹوں پر تعریض کرتے ہوئے بے شمار لعنتیں ضرور کرتے ہیں۔ مگر اصل قاتلوں جن کے نام تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں مثلاً سابق خط کے ناموں کے علاوہ عبداللہ بن مسمع ہمدانی، عبداللہ بن دال، قیس بن مصہر، عبداللہ بن شداد، عمار بن عبداللہ، ہانی بن ہانی سبیعی، سعید بن عبداللہ حنفی، شیث بن ربعی، حجار بن البجر، یزید بن حارث، عروہ بن قیس، عمرو بن حجاج، محمد بن عمر، مختار بن عبید ثقفی، محمد بن اشعث بن قیس، عبداللہ بن حصین وغیرہم جو خط لکھ کر اور قاصد بن کر بلانے والے، میدانِ کربلا میں سامنے موجود اور لشکروں کی کمان کرنے والے تھے۔ اسی طرح بہت سے وہ شیعہ جو جرمِ قتل کے بعد پشیمان ہوئے اور توابین کہلائے۔ ان پر شیعہ کوئی لعنتیں نہیں کرتے بلکہ ان کو معذور سمجھ کر دعائے رحمت و مغفرت سے نوازتے ہیں کیونکہ قتلِ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسے جرم سے بھی شیعیت میں کچھ خلل نہیں آتا۔ اگر آتا تو ان قاتلوں کو اپنا دینی بھائی سمجھ کر دعاؤں سے کیوں نوازتے۔ توابین کی حمایت میں مضامین کیوں چھاپتے۔ کافی میں یہ دلچسپ لطیفہ لکھا ہے کہ ہارون رشید کو بڑا حب دار اہلِ بیتؓ اور شیعہ بتایا گیا۔ کسی نے پوچھا کہ وہ پھر اہلِ بیتؓ کو قتل کیوں کرتا تھا تو جواب دیا لان الملک عقیم بادشاہی بانجھ ہے اپنے پرائے کی تمیز نہیں کر سکتی۔

سوال نمبر 821: ہمارا اپنے ہی بزرگوں کو بدنام کرنا آپ کو کیوں ناگوار ہے؟ 

 جواب: ہرگز ناگوار نہیں صرف یہ گزارش ہے کہ دیانت داری سے یوں کہا کریں: 

اے اللہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر شہید کرنے والے شیعوں غداروں پر لعنت فرما جیسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔ اے اللہ ان کو قیامت تک رُلاتا رہ جیسے حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بددعا کی تھی۔ (جلاء العیون: صفحہ، 424)

سوال نمبر 822: کئی اصحابِؓ رسول کے آباء و اجداد کفار و مشرکین تھے۔ کیا پاکباز اصحابِؓ رسول اپنے آباء کے مذموم افعال کے ذمہ دار ہوں گے؟

جواب: نہیں ہوں گے۔ نصِ قطعی ہے وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ (کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔) شکر ہے اصحابِؓ رسول کو پاکباز کہہ دیا۔

سوال نمبر 823: اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذمہ دار ہیں تو سیدنا عکرمہ بن ابوجہل، سیدنا ابوبكر بن ابو قحافہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کے متعلق کیا رائے ہے؟

جواب: اب آپ مان گئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ طعنہ نہ دیا جائے گا کہ وہ کافروں کے بیٹے ہیں۔ جب کفر و ایمان کا ہر کوئی خود ذمہ دار ہے۔ حضرت ابو قحافہ بھی مسلمان ہو گئے تھے۔ تو سب مؤمنین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کفار آباء کے جرم میں نہ ماخوذ ہوں گے، نہ ان کی شان میں کوئی عیب لگتا ہے کہ طعنہ دیا جائے یا حضرت ابو طالب کا کلمہ نہ پڑھنا بتایا جائے تو اسے حضرت علی المرتضیٰؓ کی توہین سمجھا جائے۔

سوال نمبر 824: اگر کرنی اپنی اپنی ہے تو شیعوں پر قتل کی تہمت کیوں معقول ہے؟

جواب: اس کی چند وجوہ ہیں:-

1: شیعہ اولادِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا اہلِ شام پر یہ جھوٹی تہمت لگا دیتے ہیں مجبوراً اصل حقائق سے پردہ اٹھا کر خود شیعوں کا مجرم و قاتل ہونا بتایا جاتا ہے۔

2: یہ عقیدہ و عمل اور رسوم و روایات ان قاتلوں والی ہی رکھتے ہیں جب کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے آباء کے بالکل مخالف دین اور ان سے بیزار ہو چکے تھے۔

3: آج بھی شیعہ دبی زبان میں کہتے ہیں کہ حادثہ شہادت ہونا چاہیے تھا۔ ہوا تو اچھا ہوا۔ اسلام زندہ ہو گیا۔ یزید و حضرت امیرِ معاویہؓ ننگے ہو گئے جب کہ ہم اہلِ سنت کو نوشتۂ تقدیر پر تو اعتراض نہیں مگر بطورِ تمنا یہ کہتے ہیں۔ کاش اہلِ کوفہ آپؓ کو نہ بلاتے یا آپؓ ان کی دعوت پر نہ جاتے۔ یا حسبِ منشاء آپؓ کو کوفی واپس آنے دیتے اور آپؓ خاندان سمیت بچ جاتے اور حضرت حسنؓ کی طرح معاہدہ کر کے باعزت زندگی گزارتے، نہ شہادت کا نقصان اسلام اور امت کو اٹھانا پڑنا۔ نہ امت میں تفریق ہوتی۔ اب آپ ہی انصاف سے بتائیں کہ اہلِ سنت خیر خواہ اہلِ بیتؓ اور دوست تھے یا وہ شیعہ جنہوں نے سیدنا حسینؓ کا خون پی کر بقول خمینی زندگی کا بیمہ کرا لیا اور اپنے بڑوں کے ظالمانہ فعل کے نتیجہ پر فخر کرتے پھرتے ہیں۔ 

ان وجوہ کی بناء پر شیعوں کو قتلِ حضرت حسینؓ کا طعنہ دینا بالکل فطری اور معقول ہے۔

سوال نمبر 825: دستور ہے۔ حمایت دوست کی کرتے ہیں اور نفرت و عداوت دشمن سے کرتے ہیں۔ شمر آپ کے راوی ہیں۔ یزید کا آپ دفاع کرتے ہیں کربلا کی لڑائی کو اجتہادی کہتے ہیں۔ جب کہ شیعہ ان دونوں کو مسلمان نہیں مانتے اور کربلا کی جنگ کو جہاد کہتے ہیں۔ فرمائیے قاتلوں سے محبت آپ کو ہے یا شیعوں کو؟

جواب: جب ہم بحوالہ شیعہ کتب قاتلانِ سیدنا حسینؓ شیعانِ کوفہ کو ثابت کر چکے ہیں تو شیعہ ان کے خلاف تو کچھ بھی نہ کہیں۔ صرف شمر و یزید کو قاتل بتائیں؟ حالانکہ تاریخ صراحت سے بتاتی ہے کہ یزید نے نہ قتل کا حکم دیا نہ خوش ہوا، نہ قاتلوں کو اچھا کہا، بلکہ ان پر پھٹکار کی۔ ابنِ زیاد کا عہدہ گھٹا دیا اور اصل قاتل کو مروا دیا۔ آخر دال میں کالا کالا کچھ ضرور ہے۔ ہم شمر بن ذوالجوشن کو، قاتل جان کر ہرگز اچھا نہیں کہتے، نہ یہ ہمارا راوی ہے۔ ہمارا راوی شمر بن عطیہ اسدی کاہلی کوفی ہے جو صدوق اور طبقہ سادسہ (دوسری صدی کے آغاز) کا ہے۔ (تقریب: صفحہ، 147) اب اگر آپ نے قاتل شمر کے راوی ہونے کا الزام دیا تو آپ یقیناً خائن ہوں گے۔ واقعی ہم شیعہ کے برعکس قاتلانِ حضرت حسینؓ کو برا کہتے اور غیر قاتلوں کا دفاع کرتے ہیں۔

سوال نمبر 826: گو کہ مذہب سنیہ میں عقیدہ امامت اصلِ دین نہیں ہے بلکہ یہ عبداللہ بن سبا یہودی نے وضع کیا تھا۔ لیکن مولوی عبدالشکور لکھنوی نے کہا ہے؟ کہ رسول اللہﷺ کے بعد خلفاء راشدینؓ کی بیعت کرنا اور ان کی امامت و خلافت کو تسلیم کرنا ضروری تھا۔ تضاد بیانی رفع کیجیے۔

جواب: شیعوں نے نبوت کے مقابل امامت کو اصولِ دین سے بنایا۔ یہی ابنِ سبا کی تعلیم تھی کہ بقول کشی صفحہ 70 و کثیر جماعت اہلِ علم سے پہلے اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وصی و امام ہونے کی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنِ حضرت علیؓ اور منافق و کافر ہونے کی بات چلائی، اہلِ سنت نبوت کی فرع اور اتباع میں حضور اکرمﷺ‏ کی جانشینی کو خلافت و امامت کہتے ہیں اور بعد از رسولﷺ‏ بیعت اس لیے ضروری تھی کہ آپﷺ‏ نے فرمایا۔ میرے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرو۔ (ترمذی) یہ بیعت کے بغیر ممکن نہ تھی۔ یہی بات مولانا عبدالشکورؒ نے بتائی تو ان کی بات میں تضاد نہیں۔ شیعہ عقیدہ امامت اور سنی خلافت میں زمین و آسمان کا فرق بدستور ہے۔

سوال نمبر 827: سنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ بارہ اماموں کو شیعہ سے بھی زیادہ مانتے ہیں۔ لیکن مولوی عبدالشکورؒ کہتے ہیں کہ بالکل غلط ہرگز اہلِ سنت ان کو مثلِ رسولﷺ‏ اور معصوم اور مفترض الطاعۃ نہیں مانتے ہاں ان کو بزرگ و نیکوکار ضرور جانتے ہیں۔ ایسا ماننا شیعوں سے زیادہ کس طرح ہوا؟

جواب: کسی ہستی کو صحیح شریعیت کے مطابق ماننا ہی سب لوگوں سے اچھا ماننا ہے۔ جیسے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہود و نصارٰی سے بڑھ کر مانتے ہیں۔ شیعوں نے ان کا اصل منصبِ ہدایت و پیشوائیت تو خود چھین لیا کہ ان کو تمام اعمال و افعال میں تقیہ باز بتایا تاکہ ان کی پیروی کوئی نہ کر سکے اور خود مجتہد و راست گو کہلا کر، عوام شیعوں کے مقتداء اور مذہبی لیڈر بن بیٹھے اور اہلِ سنت 12 تو کجا 120 بزرگانِ اہلِ بیتؓ کی صحیح تابعداری کرتے ہیں۔ ان کے برخلاف اپنی بات نہیں چلاتے تو اہلِ سنت شیعوں سے زیادہ اہلِ بیتؓ کو مانتے ہیں۔

سوال نمبر 828: بقول عبدالشکورؒ اگر مرزا احمد علی نے یہ لکھا ہے؟ اگر یہی قرآن معجزہ ہے تو ایسا قرآن میں بھی بنا سکتا ہوں تو کتاب و صفحہ کا حوالہ دیں۔

جواب: ہمیں کتاب تو دستیاب نہیں مگر اس کے اعتراضات دس گنا پھیلا کر آپ نے ایک سو اعتراضات اسی فروعِ دین میں مظلوم قرآن پر کر ڈالے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگلے ایڈیشن میں قرآن سازی کا آپ بھی دعویٰ نہ کر دیں۔

سوال نمبر 829: امام مہدی کی غیبت پر آپ کو اعتراض ہے تو خدا غیب ہوتے ہوئے کیسے اپنی خدائی چلا رہا ہے؟

جواب: پتہ چلا کہ حضرت مہدی غائب کو آپ خدا کا شریک کار سمجھتے ہیں مفصل جواب ہم سنی کیوں ہیں؟ کے آخری انعامی سوالوں میں دیکھ لیں۔

سوال نمبر 830: بقول امام شافعیؒ درود کے بغیر نماز نہیں ہوتی مگر مولوی عبدالشکورؒ کے عقیدہ میں ترکِ درود سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ صحیح کون ہے؟

جواب: مولانا لکھنوی رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ کی ٹکر کے نہیں وہ حنفی المسلک عالمِ دین ہیں اپنے مسلک کے سچے ترجمان ہیں۔ امام شافعیؒ کا اجتہاد اپنا ہے۔

سوال نمبر 831: حدیث ثقلین کتاب اللہ و سنتی، اہلِ سنت کے نزدیک صحیح ہے یا غلط؟

جواب: صحیح ہے تفصیل مولانا محمد نافع کی کتاب حدیث ثقلین میں اور ہماری ہم سنی کیوں ہیں؟میں دیکھیں۔ (حصہ اول)

سوال نمبر 832: اگر صحیح ہے تو علامہ سیوطی ابنِ حبان، ابنِ عبدالبر، ابنِ حجر رحمہم اللہ وغیرہ نے اسے صحیح کیوں تسلیم نہ کیا؟ 

جواب: وہ بھی صحیح مانتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث موطا مالک رحمۃ اللہ کی ہے۔ اس کی تمام احادیث عالی السند اور صحیح و ثقہ ہیں۔ حتیٰ کہ بخاری سے پہلے سب علماء بعد از قرآن اسے اصح ترین کہتے ہیں اور شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ وغیرہ اب بھی موطا کو اصح کہتے ہیں۔ امام ترمذیؒ نے کتاب العلل میں لکھا ہے علی بن عبداللہ نے امام یحییٰ سے مراسیل مالک کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ میرے نزدیک پسندیدہ ہیں۔ قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو مالک سے زیادہ صحیح حدیث رکھتا ہو۔ حنفیہ کے ہاں بھی مراسیل حجت و معتبر ہیں۔ علامہ ابنِ عبدالبرؒ تجرید التمہید صفحہ 251 میں موطا کی حدیث ثقلین کے متعلق لکھتے ہیں اہلِ علم کے ہاں یہ حدیث رسول اللہﷺ سے محفوظ و مشہور ہے۔ اس کی شہرت سند بیان کرنے سے غنی ہے۔ کتاب التمہید میں ہم نے مسنداً بھی ذکر کی ہے۔

سوال نمبر 833: اس حدیث کے راوی کثیر بن عبداللہ کی توثیق کریں۔

جواب: اگرچہ یہ ایک راوی ضعیف ہے مگر لا تعداد طرق ہیں۔ وہ رواۃ موثق ہیں۔

یہ سیرت ابنِ ہشام و ابنِ ابی الدنیا میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تاریخ ابنِ جریر طبری میں ابنِ ابی نجیح سے، دارِ قطنی صفحہ 529 میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ مستدرک حاکم جلد 1 صفحہ 93 میں حضرت ابنِ عباسؓ سے۔ ابو نعیم اصبہانی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنن الکبریٰ بہیقی جلد 10 صفحہ 114 میں حضرت ابنِ عباسؓ، و سیدنا ابی ہریرہؓ سے موجود ہے۔

سوال نمبر 834: شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے حدیثِ ثقلین شیعہ کو کیوں درست کہا؟

جواب: صرف مسلم کی روایت کے پیشِ نظر کہا۔ لیکن شیعہ کا وہاں سے استدلال درست نہیں۔ کیونکہ ثقلِ دوم کو ثقلِ دوم کے عنوان سے متعارف نہیں کرایا بلکہ مطلقاً حضرات اہلِ بیتؓ کی تذکیر اور نگہبانی کرنی حضرت زیدؓ بن ارقم نے روایت فرمائی۔

سوال نمبر 835: اگر حدیثِ ثقلین اہلِ سنت کو صحیح فرض کیا جائے تو سنتی سے مراد سنتِ رسولﷺ‏ ہے یا سنتِ اصحابِ ثلاثہؓ؟

جواب: اصل تو سنتِ رسولﷺ‏ ہے تبعاً خلفاء راشدینؓ کی سنت بھی اسی میں داخل ہے:

عليكم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدین المهديين، عضوا عليها بالنواجذ (مشكوٰة: صفحہ، 28)

ترجمہ: مسلمانو! تم میری اور میرے خلفاء راشدینؓ مہدیوں كی ضرور سنت پر چلو اور اسے ڈاڑھوں سے مضبوط تھامو۔

سوال نمبر 836: اگر سنتِ نبیﷺ‏ مراد ہے تو پھر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بوقتِ شوریٰ سنت کے ساتھ سیرتِ شیخینؓ کی شرط کیوں عائد کی؟

جواب: مزید اہتمام اور سنتِ رسولﷺ‏ کے مطابق سنتِ خلفاء ثابت کرنے کے لیے شرط لگائی ورنہ متضاد عمل کا پابند کسی کو نہیں بنایا جا سکتا۔

سوال نمبر 837: اجماعِ امت برحق ہے کہ ایک شخص بھی مخالف نہ ہو۔ (شرح وقایہ و کتاب الایمان لابنِ تیمیہؒ: صفحہ، 51) تو حکومت سقیفہ کا اجماع کیسے برحق ہوا؟

جواب: سقیفہ میں سب حاضرین نے بشمول حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیعت کی۔ (طبری) اگلے دن پھر تمام مہاجرین نے حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ سمیت کی۔ کوئی مخالف نہ رہا۔ تو اجماع برحق ہوا۔ (حوالہ جات گزر چکے) صدیقیؓ مباحث دیکھیے۔

سوال نمبر 838، 839: کشف المحجوب میں علمِ شریعت کے تین ارکان بتائے ہیں: کتابِ خدا، سنتِ رسولﷺ‏، اجماعِ امت، جب کتاب و سنت ہدایت کے لیے کافی ہیں تو اجماعِ امت کی کیا ضرورت ہے جو یا دونوں سے مختلف ہو گا یا نئی چیز ہو گا۔ تو بدعت ہو گا۔

جواب: قرآن سے پوچھیے کہ سنتِ رسول کے علاوہ مخالفینِ اجماع کو جہنم کی سزا کیوں سنائی؟ (پارہ 5 رکوع 14) قرآن و سنت کی کوئی مراد متعین ہونے پر بھی اجماع ہو سکتا ہے کسی نئے پیش آمدہ مسئلے پر بھی ہو سکتا ہے۔ اجماع و قیاس کی تفصیل ہم تحفہ امامیہ سوال 13 کے جواب میں کر چکے ہیں چونکہ اہلِ سنت کے تمام مسائل قرآن و سنت پر مبنی ہیں اور سب امت ان پر متفق آ رہی ہے شیعوں کے مسائل قرآن و سنت کے مخالف ہیں امت نے اس بدعتی مذہب کو قبول نہیں کیا تبھی تو آپ اجماعِ امت کو بھی مخالفِ دین بتا رہے ہیں۔ ناکام لومڑی کی مثل انگور کھٹے ہیں۔ آپ پر فٹ آتی ہے۔ اجماع کی حقانیت پر آیات گزر چکی ہیں۔

سوال نمبر 840: علامہ وحید الزمان وجود اجماع کے منکر ہیں۔ کیوں؟

جواب: آخر عمر میں شیعہ ہو گئے تھے۔ بات حجت نہ رہی۔

سوال نمبر 841: اگر کتاب اللہ و سنتی صحیح ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حسبنا کتاب اللہ کہہ کر سنت کا انکار کیوں کیا؟

جواب: تمہارا مفہوم مخالف سے استدلال، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حجت نہیں وہ عمر بھر سنتِ نبویﷺ‏ سے استفادہ کرتے رہے۔ کچھ مثالیں ہم سنی کیوں ہیں؟ کے انعامی سوال 1 میں دیکھیں۔

سوال نمبر 842: جناب کوثر نیازی نے ذکرِ سیدنا حسینؓ میں کہا ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے یزید کو مسلط کر کے قیصر و کسریٰ کے طریقے پر عمل کیا۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ خلیفہ راشد کیسے ہوا؟

جواب: آپ دوبارہ قے چاٹنے پر آ گئے ہیں۔ نیازی صاحب کی تعبیر حجت نہیں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ خلفاءِ راشدینؓ سے کم درجہ ہیں مگر خلیفہ عادل اور برحق ضرور ہیں۔

سوال نمبر 843: ابنِ حجر مکی رحمۃاللہ نے صواعق محرقہ میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ و حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے صلح نامہ میں یہ شرط بھی لکھی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کرنے کا حق نہ ہو گا۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اس شرط کی عہد شکنی کیوں کی؟

جواب: 1: یہ شرط عام مستند تاریخوں میں نہیں تو شیعہ کی اور تنہا ابنِ حجر مکیؒ کی بات تسلیم نہیں۔

2: حضرت امیرِ معاویہؓ نے یزید کو از خود نامزد نہیں کیا بلکہ دیگر گونروں اور کابینہ نے خون ریزی سے بچنے کے لیے یہ رائے دی اور نامزد کرایا تو حضرت امیرِ معاویہؓ نے متوقع اختلاف کو ختم کرنے کے لیے پھر ذاتی دلچسپی لی اور امامیہ کو تو اس اعتراض کا حق نہیں وہ تو باپ کے بعد بیٹے کو ہی نامزد کراتے اور مانتے ہیں۔ ملوکیت کا بانی تو عقیدہ امامت شیعہ ہے۔

سوال نمبر 844: کیا وہ خلیفہ ہو سکتا ہے جو ایمانوں کی خرید و فروخت کرے؟

جواب: غلط تعبیر ہے۔ ہم حضرت امیرِ معاویہؓ کو ایسا نہیں مان سکتے۔

سوال نمبر 845: اگر خلفاءِ ثلاثہؓ کو حضرت علیؓ سے محبت تھی تو باوجود ولایتِ سیدنا علیؓ کے اقرار کے انہوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانے کی کوشش کیوں نہ کی؟

جواب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش کش کی مگر حضرت علی المرتضیٰؓ نے آپؓ کو ہی مسحق ترین کہ کر پیش کش واپس کر دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو چھ حضرات کی کمیٹی میں نامزد کیا۔ پھر حضرت عثمانؓ بہت بڑی اکثریت سے خلیفہ قرار پائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی المرتضیٰؓ وزیر اور مقرب خاص تھے۔ اسی تقرب کی بناء پر آپؓ بعد از سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور خلفاءِ ثلاثہؓ کے تعلقات بہت بہترین رہے۔ تفصیل تحفہ امامیہ میں دیکھیں۔ الغرض خلفاء نے ولایتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حق ادا کر دیا۔ ان کو تو شکایت نہ تھی مدعی سست گواه چست؟ اب خلفاءِ ثلاثہؓ پر کیچڑ اچھال رہا ہے۔

سوال نمبر 846: امر تدبیر حکومت کو تجہیز و تکفین ہو جانے تک ملتوی کیوں نہ رکھا گیا؟

جواب: انصارؓ مسئلہ نہ اٹھاتے تو مہاجرینؓ ایسا ہی کرتے۔ اب اگر چند گھڑیاں قبل یہ کام ہو گیا اور عنداللہ صواب اور درستی اسی میں تھی اور تجہیز و تکفین کی رسوم خلیفہ کی نگرانی میں سلیقہ شعاری کے ساتھ بلا اختلاف سرانجام پائیں تو اس میں کیا اعتراض کی بات ہے جو دہائی دی جا رہی ہے۔

سوال نمبر 847: ان حضرات نے حضرت علیؓ کو کیوں خبر نہ کی کہ ہم معاملہ حکومت کے لیے فلاں جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں؟

جواب: انصار رضی اللہ عنہم کا تو ذہن ہی ادھر نہیں گیا۔ مہاجرینؓ کے تین حضرات تو صرف رفع نزاع کے لیے فوراً گئے ان کو یہ تصور بھی نہ تھا کہ انتخاب کی نوبت آ جائے گی۔ پھر معاملہ کی نزاکت اتنی فرصت نہ دے سکتی تھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا دیگر مہاجرینؓ سے مشورہ کرتے یا باقاعدہ اطلاع دے کر ان کو ساتھ لے جاتے تو امنِ عامہ کا مسئلہ پیدا ہو جاتا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بقولِ شیعہ غیب دان تھے۔ ان کو از خود پہنچ جانا چاہیے تھا۔ جنازہ کی تیاری چند گھڑیاں بعد ہو جاتی تو کیا فرق پڑتا۔ آپ کو اپنا حق تو (بقولِ شیعہ) مل جاتا اور امت گمراہی سے بچ جاتی۔ عقل مندی اور اصولِ سیاست کی رو سے حضرت علی المرتضیٰؓ بھی الزام سے بچ نہیں سکتے۔ تفصیلات ہم عرض کر چکے ہیں۔

سوال نمبر 848: کا جواب بھی ہو گیا کہ مشورہ کا موقع نہ تھا۔

سوال نمبر 849: اگر حضرت علی المرتضیٰؓ نوجوان تھے تو عمِ رسول کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔

جواب: وہ سابقین اولین میں سے نہ تھے۔ پھر دوسرے دن بیعتِ عامہ میں بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے خود یا کسی نے بھی ان کا نام نہ لیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے بزرگوں اور خدمات و کمالات والوں کو خوب جانتے تھے اگر انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فائق دوسروں کو سمجھا تو ہمیں بن بلائے مشورے دینے کا کیا حق ہے؟

سوال نمبر 850، 851: اصولِ سیاسیات کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ الیکشن سے خلیفہ بنے یا نامزدگی تھی؟ اگر نامزدگی تھی تو وصیتِ رسولﷺ‏ درکار ہے۔

جواب: عوام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعتبار سے تو الیکشن تھا۔ ہر کسی نے آزادانہ حق استعمال کیا۔ سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر و سیدنا علی رضی اللہ عنہم نے اجتماع سقیفہ میں نہ بلائے جانے کی شکایت اسی اختیار سے کی۔ مگر خدا و رسولﷺ‏ کے اپنے پروگرام سے ایک گونہ نامزدگی تھی کہ آپ نے پہلے پیشین گوئی میں فرمایا تھا میرے بعد خلافت سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو ملے گی۔ (تفسیر قمی سورت تحریم) 

خلیفہ کا نام لکھوانے کی ضرورت نہ جانتے ہوئے فرمایا: و یابی اللہ والمؤمنون الا ابابکر (بخاری) اللہ اور مسلمان حضرت ابوبکرؓ کو ہی خلیفہ بنائیں گے۔مسلمانوں کو مشورہ و ترغیب دی تھی۔ میرے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرنا۔ (ترمذی) 

مصلیٰ پر کھڑا کرنا اور امام نماز بنا دینا بھی اسی مقصد کے لیے تھا جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضرت عمرؓ کو حکم دیجیے میرے باپ نرم دل ہیں۔ تو آپﷺ‏ نے فرمایا تم یوسف والیاں ہو۔ سیدنا ابوبکرؓ کہاں ہیں؟ ان کو بلا لاؤ۔ چنانچہ آپؓ نے بحکمِ نبویﷺ‏ حیاتِ پیغمبرﷺ‏ میں 17 یا 21 نمازیں پیغمبرﷺ‏ کے نائب امام ہو کر پڑھائیں۔ دنیا کا دستور ہے کہ زندگی کا ولی عہد بالآخر جانشین منتخب کر لیا جاتا ہے۔

اس کام کے ذو وجہیں ہونے کی حکمت یہ تھی کہ خدا و رسولﷺ‏ کا منشاء بھی پورا ہو اور عوام کو انتخاب کا حق مل جائے اور طریقہ استخلاف بھی معلوم ہو جائے۔ اگر صرف نامزدگی ہوتی کسی کا اختیار و چناؤ نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہر دلعزیزی سامنے نہ آ سکتی تھی۔ ہر کوئی ماننے پر بحکمِ رسولﷺ‏ مجبور ہوتا مگر اب تو حضرت علیؓ نے بھی کمالات و استحقاق کی بناء پر برضا و رغبت خلیفہ تسلیم کیا۔ (طبری)۔

سوال نمبر 852: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دلی حالت تا وفات شیخینؓ سے کیسی رہی؟

جواب: برضاء مومنانہ رہی کیونکہ نانوں کے خلاف بغض شان کے لائق نہ تھا۔

سوال نمبر 853: اگر راضی تھیں تو آپ کیوں کہتے ہیں، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بعد وفات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بیعت کی؟

جواب: بیعت دو دفعہ کی تھی۔ پہلی خلافت کے دوسرے یا تیسرے دن ہم حوالے دے چکے، دوسری وفاتِ حضرت فاطمہؓ کے بعد اس لیے کی کہ آپؓ سیدہ کی تیمارداری میں مصروف رہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں کم آ جا سکے۔ لوگوں کے دل میں شبہ پیدا ہو رہا تھا کہ شاید ناراض ہیں۔ وفاتِ سیدہ فاطمہؓ کے بعد اس شبہ کو بھی دور کر دیا۔

سوال نمبر 854: علم و یقین سے فرمائیے کہ سقیفہ کی کاروائی کو غدیر کی کاروائی پر کیوں ترجیح حاصل ہے جو خود رسول اللہﷺ نے کی؟

جواب: خطبہ غدیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شکایت کا ازالہ کیا ان کی محبت دلوں میں پیدا فرمائی اپنی طرح ہر کسی کا محبوب بتا کر آپؓ کی شان واضح فرمائی۔ لیکن خلیفہ ہونے کی کوئی صراحت نہ کی نہ خلیفہ نامزد کر کے بیعت لی۔ اگر ایسا ہوتا تو مصلیٰ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو امام بناتے۔ معلوم ہوا کہ سقیفہ اور غدیر کے واقعہ میں تعارض نہیں۔ جانشینی پر صریح دلیل، نماز کا حکمِ نبویﷺ‏ اور سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی ہے۔

سوال نمبر 855، 856، 857: ملل و نحل میں روایت ہے ان عمر ضرب بطن فاطمہ یوم البیعة حتى سقط المحسن من بطنها کیا یہ فعل مذموم نہیں ہے؟

جواب: بکواس محض ہے جو شیعوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے کے لیے گھڑا مگر حضرات اہلِ بیتؓ کی عزت و غیرت کا جنازہ نکال کے رکھ دیا۔ شہرستانی کی ملل و نحل کا خلافیات اور شیعہ کا باب غور سے دیکھا کہیں بھی یہ ملعون روایت نہیں ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رسولِ خداﷺ‏ ناراض نہ ہوں گے شیعہ پر ہوں گے جو انہوں نے ایسا افتراء ناپاک اہلِ بیتؓ پر باندھا جس کا ترجمہ لکھتے بھی ہمیں حیا آتی ہے۔ رسولِ خدا کو ایذاء بھی شیعوں نے پہنچائی۔ وہ بجا طور پر اس آیت کے حقدار ہیں:

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر لعنت فرمائی ہے دنیا میں اور آخرت میں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 

جو آیت کی تصدیق کرنا چاہے وہ محرم وغیرہ میں ماتمی شیعوں کی شکلیں دیکھ لے۔

سوال نمبر 858: شراب نوشی کا بہتان۔

جواب: ناقص بلا جلد و صفحہ حوالے جھوٹے بہتان کی دلیل ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو حرمتِ شراب کے لیے بے چین رہتے تھے۔ ان کی دعا اور اصرار پر ہی یہ فیصلہ کن آیت اتری:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۞ (سورۃ المائدة: آیت 90)

ترجمہ: اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا اور بتوں کے تھان گندگی ہیں۔ شیطانی کام ہیں ان سے بچو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔ الآیۃ۔ ترمذی ابواب التفسير جلد 2 صفحہ 152 پر روایت ہے:

سیدنا عمرؓ نے دعا کی اے اللہ شراب کے متعلق بیان شافی نازل فرما تو بقرہ والی آیت اتری جو حضرت عمرؓ کو سنائی گئی۔ پھر یہی دعا کی تو سورۃ نساء والی آیت نازل ہوئی: کہ اے ایمان والو نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر سنائی گئی۔ پھر ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اے اللہ شراب کے متعلق فیصلہ کن بیان نازل فرما تو مائدہ والی آیت اتری کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض، شراب اور جوئے کے ذریعے بھر دے جب حضرت عمر فاروقؓ کو پڑھ کے سنائی گئی تو فرمایا ہم رک گئے۔ ہم رک گئے۔ (اب مزید پوچھنے کی ضرورت نہ رہی یا ہمارے پینے والے اب باز آ گئے۔)

سوال نمبر 859: سکندریہ کا کتب خانہ کیوں جلا دیا گیا۔ علوم سے نفرت کیوں؟

جواب: اسلام کو یہودی و عیسائی کفریہ عقائد و روایات سے بچانے کے لیے یہ اقدام کیا۔ دلیل وہی تنبیہہ تھی جو تورات پڑھتے ہوئے حضور اکرمﷺ‏ نے آپ کو فرمائی تھی۔ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہوتے تو میری اتباع کرتے۔ فراستِ فاروقی نے اسلام کا تحفظ کیا۔ ورنہ عہدِ عباسیہ میں یہ یونانی علوم مترجم ہو کر اسلام میں جب داخل ہوئے تو اسی سے گمراہ فرقے اور الحادی خیالات مسلمانوں میں گھس آئے۔

سوال نمبر 860: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور غازی مصطفیٰ کمال پاشا میں موازنہ۔

جواب: دنیوی وقار و سلطنت اور عزت میں آپ برابر کہتے ہیں۔ مگر دین کی شان و شوکت، جہاد، تعلیمی و تبلیغی نظام، امنِ عامہ، رعایا میں خوشحالی میں کمال سے کیا موازنہ؟ وہ بے دین تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مشکوٰۃِ نبوت سے کمالات پا کر دنیائے اسلام کے عظیم فرمانروا تھے جنہیں خود رسول اللہﷺ نے اسلام کی عزت و غلبہ کے لیے خدا سے مانگا تھا۔ (احتجاج طبرسی)

سوال نمبر 861: شیعوں کے اصولِ خمسہ ایمان و عقائد میں کیا نقص ہے؟

جواب: ہم بارہا عرض کر چکے ہیں کہ شیعوں کا ان پر ایمان متصور نہیں ہو سکتا کیونکہ ایمانیات و عقائد خدا اور رسولﷺ‏ کے کلام برکت تمام سے حاصل ہوتے ہیں۔ شیعہ کا نہ قرآن پر ایمان ہے، نہ احادیثِ رسولﷺ‏ پر۔ وہ صرف ائمہ کی روایات مان کر امامیہ کہلاتے ہیں۔ تاہم ان کے کہنے پر ہم چند نقائص بتاتے ہیں:

1: فرمانِ الہٰی ہے: اے مسلمانو! اللہ پر، اس کے رسولﷺ‏ پر، اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسولﷺ‏ پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری ایمان لاؤ جو بھی اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے پیغمبروں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (سورۃ النساء پارہ 5 رکوع 17)

شیعوں نے عقائد میں بھی تحریف کی کہ ان پانچ میں سے فرشتوں اور آسمانی کتابوں کو (بشمول قرآن) نکال دیا اور عقیدہ امامت اور عدل ان میں شامل کر لیا۔ یہ ایجاد بندہ اور بدترین جرم ہے۔

2: عقیدہ توحید ائمہ اہلِ بیتؓ سے مروی تعلیم کے مطابق تو چندہ ناقص نہیں جیسے ہم نے اپنے شہرۂ آفاق رسالہ شیعہ حضرات سے ایک سو سوالات میں 10 حوالے دیئے ہیں اور موجودہ شرک کرنے والے شیعوں کو الزام دیا ہے۔ لیکن غالیوں کی روایات مثلاً خدا نے صرف بارہ اماموں کو پیدا کیا پھر کائنات کی تخلیق اور بندوبست، رزق رسانی، مشکل کشائی وغیرہا لاتعداد خدائی صفات و افعال ان کے سپرد کر دیئے اور غالی سبائیوں سیدنا علیؓ کو خدا ماننے والے نصیریوں کی طرح شیخی العقیدہ اکثر شیعہ آج یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور نعرہ یا علی مدد ان کا ایجاد کردہ آج چل رہا ہے صرف شیعہ کی وہابی پارٹی اس کی مخالف ہے۔

3: عقیدۂ رسالت بھی برائے نام ہے جب ہادی عالمینﷺ‏ کے دستِ مبارک پر شیعہ دس افراد بھی مومن مسلمان ہدایت یافتہ نہیں مانتے اور ہرگز نہیں مانتے اور سب رسولوں سے اپنے اماموں کو افضل بتاتے ہیں جو نصِ قطعی کے بالکل خلاف ہے صفاتِ نبوت پر قبضہ کے بعد لفظ نبی اور نبوت بھی انبیاء علیہ السلام کے لیے خاص نہ رہنے دیا گیا مثلاً کافی کتاب الحجۃ میں باب ہے: کہ امام ہر بات میں مثلِ نبی ہوتا ہے مگر اسے نبی کہنا مکروہ ہے۔ نیز امام رضا کا فرمان ہے: ان الامامة هى منزلة الأنبياء (اصولِ کافی جلد 1 باب نادر فی فضل الامام) کہ امامت انبیاء کا درجہ و مرتبہ ہے۔ شیعہ نے گویا زبان زدِ عوام یہ فقرہ کہ شیعہ کے اعتقاد میں حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی بھول کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے نبی کریمﷺ‏ کے پاس لے آئے۔ سچ کر دکھایا ہے۔

4: قیامت میں بعثت، مجازات اعمال کے لیے ہے کہ ہر نیک و بد کو اچھا برا بدلہ ضرور ملے گا۔ مگر شیعوں نے یہ پاکیزہ عقیدہ بھی بگاڑ دیا ہے۔ ان کے پاپی اور گناہ گار ترین افراد کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ شیعہ قطعاً بخشا ہوا ہے۔ حبِّ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور غم کا ایک آنسو نجات میں کافی ہے۔ ان کا مقولہ ہے: 

حب على حسنة لا تضر معها سيئة

ترجمہ: حبِّ حضرت علیؓ وه نیکی ہے کہ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا۔

ظاہر ہے کہ اس عقیدے نے احکامِ شریعت کا خاتمہ کر دیا۔ خوفِ خدا اور تقویٰ کا کوئی معنیٰ ہی باقی نہ رہا۔

5: عقیدہ امامت تو کھلے بندوں ختمِ نبوت پر ڈاکہ ہے۔ جب نبوت کا ایک وصف بھی نہیں جو امام میں نہ پایا جاتا ہو اور امام کی اور امام کے متعلقین کی تعظیم نہ صرف نبی کی اور اس کے متعلقین کی تکریم سے زیادہ ہے بلکہ متعلقینِ نبوت سے اعلانیہ تبرّے ہیں۔ قرآن، تبلیغ، توحید، جہاد، منصبِ تعلیم و تزکیہ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، خلفائے راشدینؓ، اہلِ بیتؓ نبیﷺ‏ ازواجِ مطہراتؓ و بناتِ طاہراتؓ، دامادگانؓ، مسلمان خسران محترمؓ بلکہ پوری امت ہر ایک چیز پر طعن و تبرّا ہے تو شریعت و نبوت کا صفایا کرنے والی امامت کیسے اسلامی عقیدہ بن سکتی ہے جب کہ امام صادقؒ کا فرمان ہے۔  

ان اللہ عزوجل فرض على خلقه خمسا فرخص فى اربع ولم يرخص فى واحدۃ

ترجمہ: کہ اللہ نے اپنی مخلوق پر 5 ارکان فرض کیے ہیں۔ چار (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) میں تو (کرنے نہ کرنے کی) چھٹی دے دی ہے مگر ایک (امامت) میں چھٹی نہیں دی۔

6: رہا شیعہ کا مایہ ناز عقیدہ عدل، تو اس سے بڑا فراڈ اور دھوکہ دنیا میں کوئی نہیں کہ جو امام خدائی کے مالک ہیں ان سے دوسروں نے امامت و خلافت چھین لی۔ پھر خدا نے بھی وعدے کے باوجود ان کی کوئی مدد نہ کی اور سب دنیا غائب امام العصر کی تعلیم و ہدایت سے محروم ہو کر گمراہی پر وفات پا رہی ہے مگر خدا ان کی ہدایت کا بندوبست نہیں کرتا؟

سوال نمبر 862، 863، 864، 865: کا جواب بار بار ہو چکا ہے بے فائدہ لفاظی اور بےہودہ گردان ہے یہ لکھنا بالکل جھوٹ ہے کہ کتبِ فریقین سے صحیح روایات سے ثابت ہے کہ تدفین حضور اقدسﷺ‏ کے وقت سات مرد تھے۔ کاش اصحابِ ثلاثہؓ اپنا نمائندہ باقی چھوڑ جاتے۔ اس جھوٹے کو اتنا معلوم نہیں کہ تدفین منگل کا دن گزار کر رات کو ہوئی جس فعل پر اعتراض ہے وہ صرف پیر کے دن گھنٹہ بھر میں ہو گیا تھا پھر تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ 33 ہزار مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم مرد و زن، قرب و جوار کے دیہاتی لاتعداد جنازہ پڑھنے آئے تھے۔ بیک وقت ایک امام کے پیچھے جنازہ نہ ہوا تھا یہ خصوصیتِ پیغمبرﷺ‏ تھی کہ میت مبارک اپنی جگہ حجرہ سیدہ عائشہؓ میں رکھی رہے اور باری باری آ کر لوگ بصورت درود و دعا جنازہ پڑھیں۔ حجرہ تنگ تھا بمشکل دس آدمی بیک وقت آ سکتے تھے وہ پڑھ کر نکلتے تو دوسرے آ جاتے۔ اس طرح تمام نفری تقریباً دو دن اور ایک رات میں جنازہ سے فارغ ہوئی۔ یہ ساری تفصیلات بحوالہ اصولِ کافی اور ابنِ سعد والبدایہ و النہایہ سے ہم تحفہ امامیہ میں نقل کر چکے ہیں۔

سوال نمبر 866: بھی بغضِ شیخین رضی اللہ عنہما سے یاوہ گوئی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا مصداق نہ تھے کیونکہ ان کے قبائل کی کثرت والی لاٹھی نہ تھی۔ یہ شوکت و طاقت خود رسولِ خداﷺ‏ نے ان کا اعزاز و اکرام کر کے بنا دی تھی۔

سوال نمبر 867: بعض اہلِ سنت کا خیال ہے کہ آل سے مراد امت ہے پھر امت پہ صدقہ کیوں حرام نہیں ہے؟

جواب: آلِ نبیﷺ‏ اور اہلِ بیتِؓ رسولﷺ‏ کے کئی اعتبار ہیں۔ امت تابع داری کے لحاظ سے آلِ رسولﷺ‏ ہے۔ مگر صدقہ کی حرمت صرف خونی رشتےکی وجہ سے ہے۔ شیعہ تفسیرِ قمی جلد 1 صفحہ 105 پر ہے:

عن عمر بن يزيد (؟) قال ابو عبداللہ انتم والله من آل محمد فقلت من أنفسهم جعلت فداك قال نعم والله من أنفسهم ثلاثا ثم نظر الى و نظرت اليه (فقرء هذه الآية)

ترجمہ: عمر بن یزید (؟) کہتے ہیں کہ امام صادقؒ نے فرمایا۔ اللہ کی قسم! تم (اے عمر بن یزید امتیو!) آلِ محمد میں سے ہو۔ میں نے کہا ان کی جانوں میں سے؟ میں آپ پر قربان جاؤں، امام نے فرمایا، اللہ کی قسم (تین مرتبہ) تم ان کی جانوں سے ہو۔ پھر امام نے میری طرف دیکھا، میں نے ان کو دیکھا۔ پھر یہ آیت پڑھ کے سنائی۔

سب لوگوں سے زیادہ قریبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان کے تابع دار ہی ہیں اور یہ پیغمبر اور اس کے مؤمنین (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) ہیں اور اللہ ہی مومنوں کا ولی (کارساز اور مشکل کشا) ہے۔ (سورۃ آل عمران: پارہ 3 رکوع 15)

قرآن میں جگہ جگہ آلِ فرعون کا لفظ اس کے پیروکاروں پر بولا گیا اور آلِ موسیث آلِ ہارون کا لفظ ان کی تابع دار پوری قوم بنی اسرائیل پر بولا گیا جو ان کی اولاد میں سے نہیں تو اس لحاظ سے پوری تابع دار امت آلِ محمدﷺ‏ ہے اور درود و سلام ان سب کو پہنچتا ہے۔

سوال نمبر 868، 869: آلِ رسولﷺ پر عبدالشکور لکھنویؒ کے ہاں درود ضروری نہیں ہے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے نماز، قرأت، تشہد، بر آلِ رسولﷺ کے سوا نہیں ہوتی (عمل الیوم واللیلۃ) کس کی بات صحیح ہے؟

جواب: ہم ہم سنی کیوں ہیں؟ میں باحوالہ بتا چکے ہیں کہ نماز میں درود شریف سنتِ مؤکدہ ہے عمداً ترک گناہ ہے۔ مگر فرض و واجب نہیں ہے کہ کبھی چھوٹ جانے سے نماز نہ ہو اور خود شیعہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ (توضیح المسائل) سیدنا عمرؓ کی بات کمالِ نماز کے متعلق ہے مولانا عبدالشکور رحمۃاللہ کی بات ادائیگی نماز کی بابت ہے۔ تعارض نہیں ہے۔

سوال نمبر 869: بھی رفع ہو گیا کہ شعبی کا نماز دوہرانے کا فتویٰ بناء بر کمال ہے۔

سوال نمبر 870: کا جواب بھی ہو گیا کہ سیدنا حسنین رضی اللہ عنہ پر خونی رشتہ کی وجہ سے صدقات حرام ہیں۔