الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہیہ عجیب الزام ہے جو شیعہ جواب سے عاجز ہو کر کمال ڈھٹائی سے کہنے لگ جاتے ہیں کہ تم لوگ بھی تحریفِ قرآن کے قائل ہو، بھلا یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ سنی لوگ جو صدیق و فاروق و ذوالنورین رضی اللہ عنہم کو اپنا پیشوا، نجوم الاہتداء مانتے ہیں یہ کہنے کی جرأت کریں کہ انہوں نے قرآن میں تحریف کر دی ہے۔ کلا و حاشا۔ کسی سنی کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں ہے کہ ہمارا اس قرآن پر ایمان نہیں ہے۔ ہم کسی دوسرے قرآن کے منتظر ہیں۔ نہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کو امام مہدی غار سر من رائی میں چھپائے ہوئے ہیں۔ یہ عقیدہ شیعہ کو مبارک ہو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ کوئی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ قرآن موجود میں کوئی کسی قسم کی تحریف ہوئی ہو۔
شیعہ کہتے ہیں۔ در منشور یا اتقان میں ایسی روایات ہیں کہ فلاں سورۃ اتنی آیت کی تھی اب اتنی ہے، یا فلاں آیت یوں تھی اب یوں ہے، میں کہتا ہوں کہ ہمارا ایمان در منشور پر نہیں ہے۔ نہ ہم امام سیوطی کے مقلد ہیں۔ محققین نے جیسا کہ مقدمہ تفسیر حقانی صفحہ 808 پر ہے ان تفاسیر کو نویں طبقے میں شمار کیا ہے جو نویں صدی کے بعد تصنیف ہوئیں، ان میں رطب یابس صحیح اور سقیم ہر قسم کی روایات پائی جاتی ہیں۔ علاوہ اذیں اتقان اور در منشور میں ہرگز کہیں نہیں لکھا ہوا کہ قرآن میں کوئی تحریف کی گئی ہے بلکہ انہوں نے نسخ کا بیان کرتے ہوئے آیاتِ منسوخہ کے اقسام لکھے ہیں، جن میں سے ایک قسم آیت منسوخ التلاوت کی ہے جو پہلے نازل تو ہوئیں لیکن بعد میں منسوخ التلاوت ہو گئیں اور یہ واقعہ عہدِ نبویﷺ کا ہے نہ کہ بعد کا۔ غرض اس مسئلہ کی مفصل بحث مولانا مولوی عبدالشکور صاحبؒ نے اپنے رسالہ النجم میں اور مولوی نور بخش صاحبؒ ایم اے توکلی نے تحفۃالشیعہ میں کر دی ہے۔ اس لیے اس موقع پر اس بحث کو ہم دوبارہ نہیں چھیڑنا چاہتے، ہاں شیعہ کو تحدی سے کہتے ہیں کہ آپ یہ ثابت کر دیں کہ کوئی سنی ثقہ، عالم، محدث یا مفسر تحریفِ قرآن کا قائل ہے تو ہم آپ کو ایک ہزار روپیہ انعام دینے کو تیار ہیں، مگر خوب سمجھ رکھیں کہ نسخ اور چیز ہے اور تحریف اور ہے۔ شیعہ اگر اس دعوے میں سچے ہیں تو سامنے آئیں، ایک ہزار روپے کی بازی جیتیں
قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
جنابِ من! علامہ جلال الدین سیوطی مصنف درمنشور و اتقان نے اپنے عقیدہ دربارہ ترتیب آیات عبارت زیل میں واضح کر دیا ہے۔
اَلْاِجْمَاعُ وَالنَّصُوْصُ الْمُتَرَادِفَۃُ عَلیٰ اَنَّ تَرْتِیْبَ الْآیَاتِ فِی سُوْرِھَا بِتَوْفِیْقِهٖ صلی اللہ علیہ وسلم وَامْرِہ مِنْ غَیْرِ خِلَافٍ فِیْ ھٰذَا بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ(اتقان)
ترجمہ: نصوص متواترہ اور اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ آیات کی ترتیب جو سورتوں میں ہے حضرت محمدﷺ کے حکم سے ہوئی اس میں کسی مسلمان کا بھی اختلاف نہیں۔
مصنف اتقان نے اس دعویٰ کے اثبات میں بخاری، مسلم، سنن اربعہ کی احادیثِ صحیحہ نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ بلا شبہ یہ ترتیب خاص حضرت محمدﷺ کے حکم سے ہوئی ہے۔
اسی طرح امام بغوی شرح السنہ میں لکھتے ہیں۔
اَلصَّحَابَةُ جَمَعُوْا بَیْنَ الدُّفْتَیْنِ الْقُرْآنَ الَّذِیْ اَنْزَلَهُ الله عَلیٰ رَسُوْلِهٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ ذَادُوْا اَوْ نَقَصُوْا مِنْهُ شَیْئًا فَکَتَبُوْہُ کَمَا سَمِعُوْہُ مِنْ رَسُوْلِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ غَیْرِ اَنْ قَدَّمُوْا شَیْئًا اَوْ اَخَّرُوْا وَلَمْ یَضَعُوْا لَهُ تَرْتِیْبًا وَلَمْ یَأخُذُوْہُ مِنْ رَسُوْلِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
ترجمہ: یعنی صحابہؓ نے قرآن کو اسی طرح رکھا جیسے کہ رسول اللہﷺ پر نازل ہوا تھا، بغیر اس کے کہ اس میں کمی پیشی کی گئی ہو۔ پس جس طرح سے حضرت محمدﷺ سے سنا تھا۔ اسی طرح رکھا، بغیر اس کے، کہ اس میں کچھ تقدیم و تاخیر کی ہو یا اس کو کسی دوسری ترتیب سے مرتب کیا ہو جس کو حضورﷺ سے انہوں نے حاصل نہ کیا تھا۔
اب مولانا جلال الدین سیوطیؒ اور دیگر مفسرین کی تصریح ہوتے ہوئے جو شخص کہے کہ یہ لوگ تحریف کے قائل تھے۔ "چہ دلاور است دز دے کے بکف چراغ دارد" کا مصداق بنتا ہے۔
ہاں صاحب! تحریفِ قرآن کے قائل وہ لوگ ہیں جو حسبِ زیل عقائد لکھتے ہیں۔ یا ان کی مستند کتابوں میں حدیثِ مرویہ ائمہ اہلِ بیت اس مضمون کی پائی جاتی ہیں۔
1: اصلی قرآن جو جبرائیلؑ نے رسول اللہﷺ پر نازل کیا، سترہ ہزار آیت کا تھا۔
(یہاں پر علماء مبہوت ہو کر یہ تاویل کرتے ہیں کہ اس حدیث میں آیت سے مراد جملہ ہے، حالانکہ یہ ان کی تلبیس ہے کیونکہ کافی کے اشارے ملا خلیل قضوینی اس حدیث کی شرح میں آیت سے مراد آیت متعارض ہی لے رہے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں "مراد این است کہ مساری ازاں قرآن ساقط شدہ و در مصاحف مشہور نیست زیرا کہ مجموع قرآنی از مصاحف مشہور راہ راست عدد آیات آں نزد قراء اہلِ کوفہ چنانچہ موافق نقل صاحب مجمع البیان ست۔ عدد آیات ہر سورۃ اول آں سورۃ شش ہزار وہ وبیت دسی و شش آیت سی و شش آیت است باالجملہ اگر مذہب دیگراں را اعتبار کنیم اند کے بیشتر باکمتر میشود برہر تقدیر ہفدہ ہزار نمی رسد اگر مراد ایں می بود کہ آیات ہمیں قرآن کی در مصاحف مشہور است در قرآت جبرائیلؑ ہفدہ ہزار ست مگیفت انَّ عَدَدَ الآیَاتِ الَّتِیْ جَآءَ بِھَا جبرائیلؑ تا آخر و احادیث صحاح درطریق خاصہ در طریقہ عامہ کہ دال است بر اسقاط بسیاری از قرآن در کثرت سجدے رسیدہ کہ تکذیب جمیع آنہا جرات اسے حکایت احراق عثمان مصحف ابی بن کعب و مصحف عبداللہ بن مسعود مشہور است باوجود ایں باوجود اختلاف قرات کے مذکور شدہ حدیث دواز دہم باب دعویٰ اینکہ قرآن ہمیں است کہ در مصاحف مشہورہ است خالی اشکالے نیست و استدلال بریں با اہتمام اصحاب و اہل السلام بضبط قرآن بغایت رکیک است بعد از اطلاع برعمل ابی بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم الخ
(صافی شرح اصول کافی: صفحہ 75)
مندرجہ بالا عبارت میں شارح اصول کافی علامہ خلیل قزوینی شیعی نے صراحتاً یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن موجود ناقص ہے اور اصلی قرآن منزل سے زیادہ حصہ انسانی ہاتھوں سے ناقص کیا گیا ہے۔ کیا ان تصریحات کے بعد بھی شیعوں کا مسلمہ عقیدہ تحریفِ قرآن تاویلات فسادی کے پردوں میں چھپایا جا سکتا ہے۔ چہ دلاور است وزدے کے یکف چراغ وارد) (احقر مظہر حسین غفرللہ)
2: اصلی قرآن وہ تھا جو حضرت علیؓ نے جمع کر کے صحابہؓ کو دکھایا، انہوں نے قبول نہ کیا۔
3: اصلی قرآن وہ ہے جس میں آیات اس طرح درج ہیں جو گزشتہ صفحات میں درج کی گئی ہیں۔
4: اصلی قرآن امام مہدی کے پاس ہے، جب آئیں گے تو شیعہ دکھائیں گے۔
5: شیعہ کا ایک قرآن ستر گز لمبا ہے۔
6: ایک اور قرآن مصحفِ فاطمہؓ اس قرآن سے سہ چند بڑا ہے اور اس میں قرآن کا ایک حرف پایا نہیں جاتا۔
7: ایک اور قرآن چمڑے کا بڑا تھیلا ہے جس میں اولین اور آخرین کے علوم بھرے ہیں ان سب کے حوالہ جات پہلے مزکور ہو چکے ہیں۔
اب انصاف تو یہ ہے کہ اسی ترتیب سے ہماری کتب صحاحِ ستہ سے ہمارے اس طرح کے عقائد یا کوئی ایک عقیدہ بھی احادیثِ صحیحہ سے ثابت کیا جائے اور ایک ہزار انعام لیا جائے۔ کیا کوئی ہے جو خم ٹھونک کر میدان میں نکلے، میں تو کہوں گا کہ
نا خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں