منصوبہ بندی
علی محمد الصلابیحضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی ذہانت سے خندق کو اپنی فوج کے ساتھ پار کیا چنانچہ جہاں خندق قدرے تنگ تھی حکم دیا کہ اپنے پاس جو کمزور اونٹ ہیں انہیں ذبح کر کے اس جگہ خندق میں ڈال دو، اس طرح خندق اونٹوں کی لاشوں سے پر کر دی گئی اور فوج نے اونٹوں کی لاشوں کو بطور پل استعمال کر کے خندق کو پار کیا۔ دشمن یہ دیکھ کر قلعہ میں گھس گئے۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 350)
اور فارسی فوج کا جرنیل شیر زاذ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے مصالحت پر مجبور ہو گیا اور اس شرط پر مصالحت کی گئی کہ شیر زاذ اپنے کچھ شہسواروں کے ساتھ انبار سے چلا جائے لیکن اپنے ساتھ کوئی مال و متاع نہ لے جائے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ، 191)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انبار میں، وہاں جو عرب آباد تھے، ان سے عربی زبان لکھنی سیکھنی، جنہوں نے اپنے سے پہلے یہاں آباد بنو ایاد عربی قبیلہ سے کتابت سیکھی تھی۔ وہ قبیلہ بخت نصر کے دور میں یہاں آکر آباد ہوا تھا، جب کہ بخت نصر نے عراق میں عربوں کو آباد ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ سیدنا خالدؓ کو بنو ایاد کے بعض شعراء کا یہ کلام پڑھ کر سنایا گیا جس میں اس نے اپنی قوم کی مدح سرائی کی ہے:
قومی إیادٌ ولو إنَّہم امم
اوّلو اقاموا فَتَہْزُل النِّعمُ
ترجمہ: میری قوم بنو ایاد اگر وہ قریب ہوتے یا اگر وہ حجاز میں اقامت اختیار کرتے تو اونٹ کمزور پڑ جاتے۔
قوم لہم باحۃٌ العراق
إِذاساروا جمیعا واللوح والقلم
ترجمہ: جب یہ لوگ وہاں سے نکل کر عراق آئے تو انہیں عراق کا سرسبز میدان ملا اور لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 353)
(7) عین التَّمر: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے انبار پر زبرقان بن بدر کو نائب مقرر کر کے عین التمر کا رخ کیا، وہاں دیکھا کہ عقہ بن ابی عقہ تمر، تغلب، ایاد اور ان کے حلفاء کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ موجود ہے اور ان کے ساتھ مہران بھی اپنی فارسی فوج کے ساتھ ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 354)
عقہ نے مہران سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے حضرت خالدؓ سے قتال کے لیے چھوڑ دے اور اس سے کہا: عرب عربوں سے قتال کرنے کو زیادہ جانتے ہیں لہٰذا تم ہمیں اور خالد کو چھوڑ دو ہم سمجھ لیتے ہیں۔ اس نے ان سے کہا: ٹھیک ہے، تم ان سے نمٹ لو اگر مدد کی ضرورت ہو گی تو ہم حاضر ہیں۔ فارسیوں نے اس پر اپنے امیر کو ملامت کی، تو اس نے ان سے کہا: ان کو چھوڑو اگر یہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئے تو یہ تمہارا ہی غلبہ ہو گا اور اگر یہ مغلوب ہو گئے تو ہم حضرت خالدؓ سے قتال کریں گے، ایسی حالت میں وہ کمزور پڑ چکے ہوں گے اور ہم تازہ دم طاقتور ہوں گے۔ یہ بات سن کر انہیں اس کی رائے کی برتری کا اعتراف ہو گیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مقابلہ کے لیے نکلے، عقہ اپنی فوج کے ساتھ سامنے آیا، جب دونوں افواج کا سامنا ہوا تو حضرت خالدؓ نے اپنی فوج کے میمنہ اور میسرہ دستوں سے کہا: تم اپنی جگہ سنبھالے رہو، میں حملہ کرنے والا ہوں اور اپنے حفاظتی دستے کو حکم دیا کہ تم میرے پیچھے رہو اور عقہ پر حملہ بول دیا جبکہ ابھی وہ اپنی فوج کی صف بندی کر رہا تھا۔ اس کو پکڑ کر قید کر لیا اور اس کی فوج بغیر قتال کے شکست کھا گئی اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کو مسلمانوں نے گرفتار کیا پھر آپؓ عین التمر کے قلعہ کی طرف بڑھے، دوسری طرف جب مہران کو بغیر قتال کے ہی عقہ کی شکست کی خبر ملی تو قلعہ سے اترا اور چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ جب شکست خوردہ عرب نصاریٰ نے دیکھا کہ قلعہ کھلا ہوا ہے تو وہ اس میں داخل ہو گئے اور اس میں پناہ لے لی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا، آخر کار قلعہ والے اس بات پر مجبور ہو گئے کہ سیدنا خالدؓ کے حکم پر قلعہ سے نکل آئیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عقہ اور اس کے ساتھ گرفتار ہونے والوں اور آپؓ کے حکم پر قلعہ سے اترنے والوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اس طرح قلعہ کا پورا مال مسلمانوں کو غنیمت میں حاصل ہوا۔ کلیسا کے اندر چالیس بچے انجیل پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند کر رکھا تھا، آپؓ نے دروازہ توڑ کر ان سب کو امراء اور مالداروں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ انہی میں سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران تھے جو انہیں خمس میں سے ملے تھے اور انہی میں سے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے والد سیرین بھی تھے، جو سیدنا انس بن مالکؓ کے حصہ میں آئے تھے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے خمس کو سيدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں روانہ کیا۔
پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سيدنا ولید بن عقبہؓ کو حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے روانہ کیا جو دومۃ الجندل کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ دیکھا کہ وہ عراق کے ایک کنارے دشمن کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں اور دشمن نے بھی ان کے تمام راستہ بند کر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بھی محصور ہو چکے ہیں۔ اس وقت سيدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے ولید سے کہا: بعض مشورے بڑی فوج سے بہتر ہوتے ہیں، لہٰذا ان حالات میں آپؓ ہمیں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ ولید نے کہا: آپؓ حضرت خالدؓ کو تحریر کریں کہ وہ آپؓ کی مدد کے لیے اپنے پاس سے فوج بھیج دیں۔ سيدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدؓ کو خط تحریر کیا اس میں آپؓ سے مدد طلب کی، یہ خط سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو عین التمر کے واقعہ کے فوراً بعد ملا، آپؓ نے سيدنا عیاضؓ رضی اللہ عنہ کو جواب دیا: ہم آپ ہی کی طرف کا ارادہ کیے ہیں۔ اور لکھا:
لبث قلیلا تاتک الحلائب
یحملن آسادا علیہا القاشب
کتائب تتبعہا کتائب
ترجمہ: تھوڑا ٹھہریں، سواریاں آپؓ کے پاس پہنچ رہی ہیں، جن پر شیر سوار ہوں گے اور تلواریں چمک رہی ہوں گی۔ افواج کے لشکر کے لشکر پہنچ رہے ہوں گے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 354)
(8) دومۃ الجندل: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عین التمر پر عویم بن کاہل اسلمی کو اپنا نائب مقرر کر کے دومۃ الجندل کا رخ کیا اور جب وہاں کے لوگوں کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی روانگی کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے حلیف قبائل بہراء، کلب، غسان اور تنوخ سے مدد طلب کی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 354)
اس وقت دومۃ الجندل کا معاملہ دو سرداروں کے ہاتھ میں تھا، ایک اکیدر بن عبدالملک اور دوسرا جودی بن ربیعہ۔ ان دونوں کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ اکیدر نے کہا: میں سیدنا خالدؓ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس سے بڑھ کر مبارک شگون والا نہیں اور نہ جنگ میں کوئی اس سے آگے ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا چہرہ دیکھ کر افواج شکست کھا جاتی ہیں، زیادہ ہوں یا کم۔ لہٰذا تم میری بات مانو اور حضرت خالدؓ سے مصالحت کر لو۔ لیکن لوگوں نے اکیدر کی بات نہ مانی، تو اس نے کہا: میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں تمہارا ساتھ ہرگز نہ دوں گا، تم جانو۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 355 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 195)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آپؓ کے دشمن کی شہادت ہے، اور حق تو وہ ہے جس کی شہادت دشمن دے۔ سیدنا خالدؓ نے غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہﷺ نے آپؓ کو اکیدر کی طرف روانہ کیا تھا آپؓ اس کو قید کر کے رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے آئے تھے۔ رسول اللهﷺ نے اس پر احسان کر کے چھوڑ دیا تھا اور اس سے معاہدہ لکھوا لیا تھا لیکن اس نے اس کے بعد بدعہدی کی۔ جس وقت حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس کو قید کیا تھا، اسی وقت سے وہ آپؓ سے مرعوب ہو گیا چنانچہ اکیدر اپنی قوم کا ساتھ چھوڑ کر نکل گیا۔ سيدنا خالدؓ کو دومۃ الجندل کے راستہ میں اس کی خبر ملی، آپؓ نے عاصم بن عمرو کو اس کو گرفتار کرنے کے لیے روانہ کیا۔ انہوں نے اسے گرفتار کر لیا اور اس کی سابقہ خیانت کی وجہ سے حضرت خالدؓ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اس کو قتل کر دیا گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی خیانت و غداری کی وجہ سے اسے ہلاک کیا اور تدبیر تقدیر سے نہ بچا سکی۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 163)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے دومۃ الجندل پہنچ کر باشندگان دومۃ الجندل اور ان کے حامی بہراء، کلب اور تنوخ کو اپنے گھیرے میں لے لیا، ایک طرف آپؓ کی فوج اور دوسری طرف حضرت عیاض بن غنمؓ کی فوج۔
(سیدنا خالد بن الولید: صادق عرجون: صفحہ 231)
جودی بن ربیعہ اپنی فوج کے ساتھ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا اور ابنِ حدرجان اور ابن ابہم اپنی اپنی فوج کے ساتھ حضرت عیاض رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے۔ جنگ کا آغاز ہوا، سیدنا خالدؓ نے جودی اور اس کی افواج کو شکست دے دی اور حضرت عیاض رضی اللہ عنہ نے ابنِ حدرجان اور اس کی فوج سے بمشکل فتح کو چھین لیا۔ شکست خوردہ لوگوں نے بھاگ کر قلعہ میں پناہ لینی چاہی لیکن قلعہ پہلے سے بھر چکا تھا، اس میں جگہ نہ تھی، اندر والوں نے دروازے بند کر لیے اور اپنے ساتھیوں کو باہر میدان میں چھوڑ دیا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ قلعہ کا دروازہ اکھاڑ کر اس میں گھس گئے اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 196 سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی صفحہ 54)
اس طرح دومۃ الجندل کے فتح ہونے سے مسلمانوں کو جنگی اعتبار سے بڑا اہم مقام حاصل ہو گیا کیونکہ دومۃ الجندل ایسے راستہ پر واقع ہے، جہاں سے تین سمتوں میں اہم راستہ نکلتے ہیں۔ جنوب میں جزیرہ نمائے عرب اور شمال مشرق میں عراق اور شمال مغرب میں شام۔ طبعی طور پر یہ شہر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپؓ کی فوج کی توجہ اور اہتمام کا مستحق تھا، جو عراق میں برسر پیکار تھی اور شام کی سرحدوں پر کھڑی تھی اور یہی سبب تھا کہ حضرت عیاضؓ نے یہاں سے حرکت نہ کی بلکہ وہاں مرابط بن کر ڈٹے رہے اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے وہاں پہنچے کا انتظار کیا اگر دومۃ الجندل مسلمانوں کے قبضہ میں نہ آتا تو عراق میں مسلم افواج کے لیے خطرات کا سامنا تھا۔
(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: نزار الحدیثی، خالد الجنابی: صفحہ 54)
اس طرح حضرت خالد رضی اللہ عنہ دومۃ الجندل کی فتح میں سیدنا عیاضؓ کی مدد کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں جنوبی عراق میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی جنگیں، جلد حملہ آور ہونے میں مہارت، موقع کو غنیمت سمجھنے اور دشمن کے دل میں رعب بٹھانے کے سلسلہ میں مثالی حیثیت کی حامل ہیں، وہیں حضرت عیاض بن غنمؓ کا طویل مدت تک دشمن کے سامنے ڈٹے رہنا جبکہ دشمن ہر جانب سے ٹوٹ پڑا ہو، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی فوج صبر و ثبات، اخروی بھلائی کی امید اور اللہ کی نصرت و تائید پر اعتماد و بھروسہ سے متصف تھی اور یہ چیز ان کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ افاضل مہاجرین اور سادات قریش میں سے تھے۔ بڑے سخی اور فیاض تھے۔ خلفاء اور ان کے والیان کو ان پر پورا اعتماد تھا، وہ یرموک کے قائدین میں سے تھے، حضرت ابو عبیدہؓ کی فوج کے مقدمہ پر مقرر تھے، اس کے بعد آپؓ نے مکمل جزیرہ کو فتح کیا جو شام و عراق کے مابین واقع ہے۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت ان کو شام پر اپنا نائب مقرر کیا تھا اور حضرت عمرؓ نے آپؓ کو اس عہدہ پر باقی رکھا۔ یہاں تک کہ فتوحات کے سلسلہ میں آپؓ کی ضرورت پیش آئی تو ان فتوحات کے لیے آپؓ کو روانہ کیا۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 164)
(9) حُصَید کا معرکہ: (یہ جزیرہ کی طرف عراق کے اطراف میں ایک مقام ہے)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا اقرع بن حابسؓ کو انبار واپس ہو جانے کا حکم دے دیا اور خود دومۃ الجندل میں ٹھہر گئے۔ آپؓ کے وہاں ٹھہر جانے کی وجہ سے فارسیوں کے اندر آپؓ کے بارے میں غلط خیالات نے جنم لیا اور طمع پیدا ہوئی اور اسی طرح اس علاقہ کے عربوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فارسیوں سے سازباز کی اور خط کتابت شروع کر دی تاکہ وہ بھی ان کے ساتھ خالد پر غضبناک ہوں کیونکہ ابھی عقہ کے قتل کا زخم تازہ تھا چنانچہ روزمہر اپنے ساتھ روزبہ کو لے کر بغداد سے انبار کی طرف روانہ ہوا اور حصید و خنافس میں جمع ہونا طے کیا۔ یہ خبرزبرقان بن بدر کو پہنچی جو اس وقت انبار پر مقرر تھے، انہوں نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے امداد طلب کی جو حیرہ پر سيدنا خالدؓ کے نائب تھے۔ چنانچہ انہوں نے اعبد بن فد کی سعدی ابولیلیٰ کو ان کی امداد کے لیے روانہ کیا اور انہیں حصید پہنچنے کا حکم دیا اور اسی طرح عروہ بن جعد البارقی کو روانہ کیا اور انہیں خنافس پہنچنے کا حکم دیا۔ جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بعض قبائل کے حرکت میں آنے اور حصید میں روزبہ کے ساتھ مل جانے کی رغبت کی خبر ملی تو آپؓ نے سيدنا قعقاعؓ کو حصید میں امیر مقرر کیا اور حیرہ میں ان کی جگہ حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔ ادھر جب روزبہ کو سيدنا قعقاعؓ کے اس کی طرف روانہ ہونے کی خبر ملی تو اس نے روزمہر سے مدد مانگی، وہ آ کر اس کے ساتھ شامل ہو گیا اور پھر اسلامی افواج فارسیوں سے ٹکرائیں اور عظیم جنگ ہوئی، دشمن کے بہت سے آدمی مارے گئے، ان مقتولین میں روزمہر اور روزبہ بھی تھے۔ اس طرح مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 355)
حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس معرکہ کے بارے میں کہا:
أَلا أبلغا أسْمَائَ أنَّ حَلِیْلَہَا
قضی وَطَرًا مِّن روزمہر الأعاجمِ
ترجمہ: کیا تم اسماء کو یہ خبر نہیں پہنچا دیتے کہ اس کے شوہر نے عجمیوں کے روزمہر کا قصہ تمام کر دیا ہے۔
غداۃ صبَّحنا فی حَصِیْدِ جُمُوعِہِمْ
لہندیۃ تفری فراخَ الجَمَاجِمِ
ترجمہ: ہم نے حصید میں صبح صبح ان کے لشکر پر حملہ کیا، ہندی تلوار ان کے سروں کو اڑا رہی تھی۔
(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 59)
(10) معرکہ مُصَیَّخ: حصید میں مسلمانوں کی خبر جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپؓ نے اپنے لشکر کے قائدین کو حوران کے قریب مصیخ میں وقت مقررہ پر جمع ہونے کو کہا۔ جب یہ سب وقت مقررہ پر پہنچ گئے تو راتوں رات بعض قبائل اور ان لوگوں پر تین طرف سے شب خون مارا جو ان کے ساتھ پناہ گزیں تھے اور انہیں کافی نقصان پہنچایا۔
(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی، نزار الحدیثی صفحہ 55)
پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ثنی میں جو رَقہ کے قریب ہے زمیل دیارِ بکر میں بعض قبائل کے جمع ہونے کی خبر ملی کہ وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوں گے، آپؓ نے متعدد جہات سے ثنی پر اچانک حملہ کر دیا، جس سے ان کا شیرازہ بکھر ہو گیا اور اسی طرح زمیل میں جمع ہونے والوں پر حملہ کیا اور انہیں کافی نقصان پہنچایا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 199، 200)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس حملہ میں ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جس کا نام حرقوص بن نعمان نمری تھا۔ اس کے ساتھ اس کے بیٹے بیٹیاں اور بیوی تھی، شراب کا پیالہ ان کے درمیان رکھا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا: کیا اس وقت کوئی شراب پیے گا، جب کہ سیدنا خالدؓ کی افواج پہنچ چکی ہیں؟ اس نے کہا: پیو، یہ الوداعی پینا ہے، میرا خیال ہے اس کے بعد تمہیں شراب نہ ملے گی، سب نے شراب نوش کی اور حرقوص کہنے لگا:
ألا فَاشْرَبُوْا من قَبْلِ قاصمۃ الظَّہْرِ بعید انتفاخِ القَوم بالعَکَرِ الدَّثْرِ
ترجمہ: خبردار! کمر توڑ مصیبت آنے سے پہلے پی لو، اس گھری ہوئی مصیبت سے قوم کی نجات بعید ہے۔
وَقَبْلِ منایانا المُصِیْبَۃِ بِالقَدْرِ
لِحِیْنٍ لَعَمْرِی لا یزیدُ ولا یَحْری
ترجمہ: ہماری موت سے قبل مصیبت مقدر ہو چکی ہے، جو کسی صورت میں ہٹنے والی نہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 199 البدایۃ والنہایۃ: جلد 9 صفحہ 533)
اسی حالت میں ایک شہسوار اس کی طرف بڑھا اور اس کی گردن اڑا دی اور اس کا سر پیالے میں جا گرا، ہم نے اس کی بیوی اور بچیوں کو لے لیا اور اس کے بچوں کو قتل کر دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 199)
اس معرکہ میں دو ایسے آدمی قتل کر دیے گئے جو اسلام لا چکے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں امان دے رکھی تھی لیکن مسلمانوں کو اس کا علم نہ تھا۔ جب ان کی خبر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو پہنچی تو آپؓ نے ان کی دیت ادا کی اور ان کی اولاد سے متعلق وصیت کی اور ان دونوں کے بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں کا انجام یہی ہوتا ہے جو دار الحرب میں بستے ہیں۔ یعنی مشرکین کے ساتھ رہنے کی وجہ سے جرم ان کا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 356)
(11) معرکہ فِراض: جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے پرچم اسلام عراق پر لہرا دیا اور عرب قبائل آپؓ کے تابع ہو گئے تو آپؓ نے فراض کا قصد کیا، جو شام، عراق اور جزیرہ کی سرحد پر ہے تا کہ اپنی پشت کو محفوظ کر لیں اور جب سر زمین سواد کو پار کر کے فارس کا رخ کریں تو پیچھے کوئی خطرہ باقی نہ رہے لیکن جب اسلامی افواج فراض میں جمع ہوئیں، تو رومیوں کو غصہ آیا اور آپے سے باہر ہو گئے اور اپنے سے قریب فارسی افواج سے مدد طلب کی۔ چونکہ مسلمانوں نے فارسیوں کی شان و شوکت کو ختم کر دیا تھا اور وہ ذلیل وخوار ہوئے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں پر جلے بھنے تھے، انہوں نے فوراً رومیوں کی دعوت قبول کی، اور ان کی مدد کے لیے تیار ہو گئے۔ اسی طرح رومیوں نے تغلب، ایاد اور نمر قبائل عرب سے مدد طلب کی، انہوں نے بھی ان کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ وہ اپنے رؤساء اور سرداروں کے قتل کو ابھی بھولے نہیں تھے۔ اس طرح اس معرکہ میں روم، فارس اور عرب کی افواج مسلمانوں کے خلاف جمع ہو گئیں اور جب یہ لوگ فرات کے ساحل پر پہنچے تو مسلمانوں سے کہا: یا تو تم دریا پار کر کے ہمارے پاس آؤ یا ہم آتے ہیں؟
سيدنا خالدؓ نے کہا: تمہی پار کرکے آؤ۔
انہوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپؓ لوگ ذرا یہاں سے ہٹ جائیں تا کہ ہم دریا پار کر لیں۔
حضرت خالدؓ نے جواب دیا: ایسا نہیں ہو سکتا لیکن تم دریا پار کر کے ہم سے نیچے علاقہ میں آؤ۔
یہ واقعہ 15 ذوالقعدہ 12 ہجری میں پیش آیا۔
رومیوں اور فارسیوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: اپنے ملک کو بچاؤ، یہ شخص دین کی بنیاد پر لڑتا ہے اور عقل و علم رکھتا ہے۔ واللہ یہ ضرور غالب آئے گا اور ہم ضرور رسوا ہوں گے۔ پھر انہوں نے اس سے عبرت حاصل نہ کی اور دریا پار کر کے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے نچلے حصہ میں آگئے۔
جب سب آ گئے تو رومیوں نے کہا: الگ الگ ہو جاؤ تا کہ آج ہمیں معلوم ہو جائے کہ کیا اچھا اور کیا برا ہے اور کہاں سے خطرہ ہے؟ چنانچہ ایسا ہی کیا اور پھر گھمسان کی جنگ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے رومیوں کو شکست دی۔
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے کہا: ان پر ٹوٹ پڑو، ان کو مہلت نہ دو۔ شہسوار اپنے ساتھیوں کے نیزوں سے دشمن کی ایک ایک جماعت جمع کرتا، جب جمع ہو جاتے تو مسلمان انہیں قتل کر دیتے۔ اس طرح اس معرکہ میں ایک لاکھ افراد قتل ہوئے اور حضرت خالدؓ نے فراض میں دس روز قیام کیا اور پھر اسلامی افواج کو حیرہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 201)
اس طرح مسلمانوں نے پہلی مرتبہ روم و ایران جیسی دونوں سپر طاقتوں (Super Power) اور ان کی ہم نوا عرب افواج کا مقابلہ کیا، اس کے باوجود مسلمانوں کو زبردست فتح حاصل ہوئی اور بلاشبہ یہ معرکہ تاریخی اور فیصلہ کن معرکوں میں سے رہا، اگرچہ اس کو وہ شہرت حاصل نہ ہوئی، جو دیگر بڑے معرکوں کو حاصل ہوئی، کیونکہ اس سے کفار کی اندرونی قوت ختم ہو گئی۔ خواہ وہ ایران سے تعلق رکھتے رہے ہوں یا روم سے یا عرب اور عراق سے۔ عراق میں حضرت خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ نے جو معرکے سر کیے یہ اس کی آخری کڑی تھی۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 173)
اس معرکہ کے بعد ایرانیوں کی شان و شوکت خاک میں مل گئی پھر اس کے بعد ان کو وہ ایسی جنگی قوت حاصل نہ ہو سکی، جس سے مسلمان خوف زدہ ہوں۔
(حضرت خالد بن الولیدؓ:عرجون صفحہ 36)