خاتمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خاتمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 3

٭ واضح ہوا کہ رب تعالیٰ نے ان رافضیوں کی تدبیروں کو ناکام کیا جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کیا تاکہ امت کی وحدت ختم ہو، لیکن رب تعالیٰ نے اپنی حکمت سے امت میں ایک بار پھر وحدت پیدا فرما دی اور اس وحدت کا شرف بنو ہاشم کے چشم و چراغ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اور بنو امیہ کے چشم و چراغ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا جو دنوں حلم و کرم کے پیکر تھے۔ اس اتفاق نے اعدائے صحابہ پر شقاق و افتراق پھیلانے کے سب دروازے بند کر دئیے۔

اس بے مثال اتفاق و اتحاد نے اسلامی فتوحات کا دائرہ بے حد وسیع کر دیا اور مشرق و مغرب سنت نبویہ کے انوارات سے روشن ہو گئے۔ جناب جناب حسین رضی اللہ عنہ اس اتفاق و اتحاد کے ایک اہم ترین ستون تھے، جو خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں اخلاص اور جہاد کے لبادوں کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ امت مسلمہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات تک اسی حال پر زندگی گزارتی رہی، جو امت پر بے حد شفیق تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ

’’میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بھیڑ کی طرح چھوڑ جاؤں، جس کا چرواہا نہ ہو۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 248)

٭ جب امت کے سربرآوردہ لوگوں کے مشورہ، اہل قوت و شوکت کی نصرت و تائید اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سکوت اور قول کے ساتھ یزید کی خلافت طے ہو گئی، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بصیرت سے بھانپ لیا کہ اعدائے صحابہ اور منافقوں کے دل ہرگز بھی سکون سے نہ رہیں گے اور وہ ازسر نو فتنہ کی آگ ضرور بھڑکائیں گے اور آپ نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ان فتنہ پردازوں میں بعض کا سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ تعلق ہے، تو آپ کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی مکر ضرور کریں گے اور اسی مکر کے ذریعے ان کی جان لینے کی کوشش بھی کریں گے۔ اسی لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو شدت کے ساتھ جناب حسین رضی اللہ عنہ کے معاملہ کی تاکید کی اور خبردار کیا کہ وہ دشمنانِ اسلام کے تیار کیے سیاسی جالوں میں پڑ کرہلاک ہونے سے بچے۔

٭ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جن باتوں کا خدشہ تھا، افسوس کہ وہ باتیں ہو کر رہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے سے ان باتوں سے کھٹک جانا، آپ کے گہرے سیاسی تدبر اور دور رس نگاہی کی دلیل ہے کہ آپ نے پہلے سے ہی اعدائے صحابہ کے مکر اور ان کے فریب کو بھانپ لیا تھا۔ آپ کی یہ فراست اور تدبر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر نقد و تبصرہ کرنے والوں کی حماقت کی کھلی دلیل ہے، کیونکہ یہ نالائق طبقہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی چالیس سالہ مدبرانہ اور دیانت دارانہ زندگی پر قلم پھیر دینا چاہتے ہیں۔ امت کتاب و سنت کے اہل عقل و دانش کو اس امر پر متنبہ ہونا ازحد ضروری ہے، تاکہ وہ قاتلان حسین رضی اللہ عنہ کے مکر سے آگاہ ہوں۔

٭ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا خروج مغالطہ انگیز اور غلط معلومات کی بنا پر تھا۔ ان جھوٹی خبروں کو اعدائے صحابہ نے کمال ہوشیاری اور مکاری سے تراشا تھا۔ چنانچہ ان خبروں کے ذریعے یہ لوگ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو دین و سنت کی نصرت و حمایت پر ابھارتے تھے۔

٭ ان لوگوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ یقین دلایا کہ لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قبائل کے سرداروں کی طرف سے جھوٹے خطوط لکھے، جن کی ان کو خبر بھی نہ تھی۔

٭ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ لوگ ان کے ساتھ ہیں، اسی لیے انہوں ے خروج کا اٹل فیصلہ فرما لیا۔ چنانچہ جناب حسین رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا وہ اس میں بلاشبہ سچے اور صادق و امین تھے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اعدائے صحابہ نے خطوط لکھ کر ثابت کر دیا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس میں کاذب و خائن اور غدار و عیار ہیں۔

٭ چنانچہ یہ بات اول وہلہ میں ہی کھل کر سامنے آ گئی جب والی کوفہ کے ملنے کے بعد کوفیوں نے مسلم بن عقیلؓ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا اور بالآخر وہ قتل کر دئیے گئے۔

٭ اس واقعہ میں ہر اس ناسمجھ کے لیے عبرت آمیز سبق ہے، جو آج ان اعدائے صحابہ کو اپنا دوست باور کرنے پر تلا ہوا ہے۔ بلاشبہ جن لوگوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے دھوکا کیا، وہ دوسروں کو دھوکا دینے پر زیادہ جری ہو گا۔

٭ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ کوفی رافضی سبائی ہی تھے جنہوں نے جھوٹے خطوط لکھے، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاصد مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ رسوائے زمانہ غداری کی اور بعد میں خود جناب حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی غداری کی اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہ تھا۔ یہ غداری اس سے قبل یہ کوفی سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کر چکے تھے اور ان حضرات کے بعد ان غداروں نے یہ خیانتیں ائمہ اہل بیت کے ساتھ بھی کیں۔

٭ غدار کوفیوں کے اس مکر نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع کو ردّ کرنے پر ابھارا، جنہوں نے آپ کو خروج سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور نصیحت و وصیت کرنے میں کوئی کمی نہ کی۔ چنانچہ آپ نے اپنے مخلصین و محبین میں سے کسی کی بات نہ مانی اور کوفہ پہنچنے تک راستہ میں جو بھی ملا نہ اس کی بات مانی۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یہ سب شخصی یا خاندانی مفادات کے لیے نہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب راستے میں آپ کو مسلم بن عقیلؓ کی شہادت پا جانے کی خبر ملی تو آپ نے لوٹنے کا ارادہ کیا لیکن مسلمؒ کے بیٹوں نے اب واپس جانا مناسب نہ سمجھا اور ان کے قتل کا بدلے لینے کا قطعی فیصلہ کر لیا۔ جس پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی اس امید پر ان کی رائے کی موافقت کرنے پر مجبور ہو گئے کہ شاید آپ ان پر سے شر کو ہٹا سکیں۔

٭ کوفہ پہنچ کر جب آپ نے لشکریوں کی قوت دیکھی، تو یزید کے پاس جانے کے ارادے سے شام کا رخ کرنا چاہا لیکن کوفیوں نے نہ جانے دیا اور ان کے لشکریوں نے کربلا میں آپ کا محاصرہ کر لیا۔

صفحہ 1 از 3