Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اعتراض شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

رسولﷺ کا ساتھی ہونا فضیلت کی بات نہیں، کیونکہ نوح و لوط علیہما السلام کی عورتیں رسول کی ہم صحبت ہونے کے باوجود کافر تھیں۔

جواب: اگر معترض کو کچھ عقل ہوتی تو ان عورتوں پر صدیق کو قیاس نہ کرتا۔ ہر امر میں مستثنیات ہوتے ہیں۔ باوجود یہ کہ حق تعالیٰ نے ”اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ‌ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ‌“ کا کلمہ بیان فرما کر ظاہر فرمایا ہے کہ (پلید عورتیں پلید مردوں کے لیے اور پلید مرد پلید عورتوں کے لیے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں) لیکن دو عورتوں کو اس حکم سے استثناء فرما کر قرآن میں ان کو ضرب المثل بنا دیا ہے۔ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡـئًا 

لیکن معاذ اللہ کیا سیدہ خدیجہ الکبریٰ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کو ان پر قیاس کیا جا سکتا ہے؟ کلا و حاشا۔ 

اسی طرح سیدنا صدیق اکبرؓ ایسے جانباز کی صحبتِ رسولﷺ کو امرأۃِ لوط و نوح پر قیاس کرنا پرلے درجے کی حماقت ہے جب کہ ان کے کفر کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تصریح کر دی ہے اور ادھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مسندِ خلافت عطا فرما کر ان کی پاک بازی کا ناطق فیصلہ فرما دیا ہے۔

اگر حضرت ابوبکرؓ معاذ اللہ نوح اور لوط کی عورتوں کی طرح کافر و منافق ہوتے تو ان کے کفر و نفاق کی قرآن میں تصریح کر دینے سے خدا کو کیا خوف تھا؟ غرض آیت کے جملہ الفاظ پر غور کرو پھر دیکھو کہ کس قدر تعریف حضرت ابوبکرؓ کی ثابت ہے۔

اعتراض

شیعہ کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ "لَا تَحۡزَنۡ" کا کلمہ تعریف کا موجب نہیں، یہ صیغہ نہی کا ہے اور جس بات سے خدا نے منع کیا ہو وہ داخلِ معصیت ہے۔ اگر یہ حزن کرنا نیکی ہوتی تو اس سے منع کیوں کیا جاتا؟ اور یہ صیغہ نہی کیوں مذکور ہوتا؟

جواب: شیعہ ایسے اعتراض کرتے وقت اگر قرآن کی باقی آیات پر بھی نظر ڈال لیا کریں تو ایسی خرافات لکھنے کی ضرورت نہ رہے کیا شیعہ معترض کو معلوم نہیں ہے کہ اس قسم کے کلمات پیغمبروں کی نسبت بھی مذکور ہیں۔

1: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا بنا تو آپ بمقتضائے بشریت ڈر کر بھاگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَا تَخَفۡ اِنِّىۡ لَا يَخَافُ لَدَىَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ  

(سورۃالنمل: آیت 10)

ترجمہ: اے موسیٰ! مت ڈر میرے حضور میں، پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔

2: جب ساحروں نے اپنی رسیاں جادو سے سانپ بنا کر دوڑائیں اس وقت بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام خائف ہوئے الٰہ العالمین نے فرمایا: لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى‏ 

(سورۃ طه: آیت 68)

ترجمہ: ڈر نہیں تو ہی غالب ہو گا۔

3: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں کو انسانی شکل میں دیکھا تو ڈر گئے، پھر جب بھنا ہوا گوشت ان کے روبرو رکھا اور فرشتوں نے نہ کھایا از بس خائف ہوئے۔ فرشتوں نے تسلی دی قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ 

(سورۃ هود: آیت 70)

ترجمہ: فرشتوں نے کہا ڈر مت ہم تو قوم لوط کو عذاب دینے آئے ہیں۔

4: لوط علیہ السلام کے پاس جب فرشتے آئے وہ ڈر گئے، فرشتوں نے تسلی دی قَالُوۡا لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ‌ اِنَّا مُنَجُّوۡكَ وَاَهۡلَكَ اِلَّا امۡرَاَتَكَ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ 

(سورۃالعنكبوت: آیت 33)

ترجمہ: فرشتوں نے کہا خوف اور غم مت کیجیے ہم تجھے اور تیرے عیال کو بچائیں گے۔ سوائے تیری عورت کے جو قومِ کفار میں شامل ہے۔

5: رسولِ پاکﷺ کو خطاب کر کے حق تعالیٰ نے فرمایا:لَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِىۡ ضَيۡقٍ مِّمَّا يَمۡكُرُوۡنَ‏ ۞

(سورۃالنحل: آیت 127)

ترجمہ: آپ کچھ غم نہ کیجیے اور کفار کے مکر کی پرواہ نہ کریں۔

6: مومنین سے خطاب ہے اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ۞

(سورۃ فصلت: آیت 30)

ترجمہ: خوف اور غم مت کرو اور بہشتِ موعودہ کی بشارت لو۔

اب شیعہ بتلائیں یہ سب نہی کے صیغے ہیں جو اولوالعزم کے مرسلین خطاب میں ہیں اور بالخصوص ہمارے رسول اکرمﷺ اور مومنین کے خطاب میں وہی کلمہ ”لَا تَحۡزَنۡ“ استعمال ہوا ہے۔ کیا پیغمبروں کے اس خوف و حزن کو جو بمقتضائے بشریت ان پر طاری ہوا، داخلِ معصیت سمجھو گئ؟ اور لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ‌ کے خطاب کو اُن کی عظمتِ شان اور شفقتِ الٰہی پر محمول کرو گے یا ان کی توہین و ہتک قرار دو گے؟ پھر اس کلمہ لَا تَحۡزَنۡ کا استعمال جب حضرت ابوبکرؓ کی تسکینِ خاطر کے لیے استعمال ہوا اس کے متعلق شیعہ کا اعتراض کہاں تک بجا ہو سکتا ہے؟

اعتراض: 

شیعہ کہتے ہیں جب کفار آئے، حضرت ابوبکرؓ رونے لگے تا کہ ان کو اطلاع ہو جائے کہ پیغمبر علیہ السلام غار میں چھپے ہوئے ہیں، حقیقت میں کفار سے ملے ہوئے تھے۔

جواب: اس سے بڑھ کر بیہودہ اعتراض اور کیا ہو سکتا ہے کہ علیم و خبیر کو بھی خبر نہ تھی کہ رسول اللہﷺ کو مسودہ مصاحبتِ ابوبکرؓ دیا گیا اور رسول اللہﷺ بھی اس بات سے نا آشنا تھے کہ ابوبکر اندر سے ان سے دشمنی رکھتا ہے اور پھر جب رسول اللہﷺ نے اس کو پہلے سے سفرِ ہجرت کی اطلاع دی ہوئی تھی اور وہ رات بھر منتظر بیٹھا رہا۔ اس وقت کفار کو کیوں نہ بتا دیا کہ تم لوگ گھات لگا کر راستہ میں بیٹھو میں ابھی تمہارے دشمن کو تمہارے پاس لے آتا ہوں اور پھر جس وقت حضورﷺ کو اپنے شانہ پر اُٹھا لیا تو بجائے اس کے غار ثور کی طرف لے جاتا، ابو جہل کے گھر کو سیدھا کیوں نہ چل پڑا اور پھر جب کفار غار پر آگئے، رو کر سنانے کی بجائے ان کو پکار کر کیوں نہ کہہ دیا کہ آؤ یہ تمہارا دشمن بیٹھا ہے۔ جب بزعم شیعہ اپنی جماعت (کفار) کے لوگ پہنچ گئے تو اس کے لیے دشمن (رسول پاکﷺ) کا کیا خطرہ تھا؟ اور یہ اگر سچ ہے کہ اس وقت حضرت ابوبکرؓ نے رونا چلانا شروع کر دیا تھا تو کافر آواز سن کر اندر داخل کیوں نہ ہو گئے؟

شيعو! کچھ غور کرو بہکی بہکی باتیں کیوں کرتے ہو؟ ساری دنیا اندھی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ روئے نہ چلائے، البتہ گھبراہٹ اس لیے پیدا ہوگئی کہ محبوب دو جہاںﷺ خدا کے پیارے رسولﷺ کو کافر تکلیف نہ پہنچائیں۔

حُزْن اپنے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی دوسری چیز یا شخص کے لیے ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ہجرِ یوسف علیہ السلام کا تھا جس کی خبر قرآن میں یوں دی گئی ہے وَابۡيَـضَّتۡ عَيۡنٰهُ مِنَ الۡحُـزۡنِ

ترجمہ: یعقوبؑ کی آنکھیں غمِ ہجرِ يوسفؑ سے سفید ہو گئیں۔ 

حضورﷺ نے اپنے لختِ جگر ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر فرمایا:

إِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا ابراهيم لَمَحْزُونُونَ 

"ہم اے ابراہیم تیرے فراق سے غم ناک ہیں۔" 

غرض جو اپنی ذات کے لیے گھبراہٹ ہو اس کو "خوف" سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جو دوسرے کے لیے ہو اس کو "حزن" کہتے ہیں۔

بلاشبہ پروانہ شمع محمدیﷺ کو اپنی جان کی ذرہ پرواہ نہ تھی بلکہ وہ نقد جان محبوب دو جہانﷺ پر نثار کر چکا تھا اور کہہ دیا تھا کہ آپﷺ کی محبت میں جس قدر تکالیف دیکھوں، میرے لیے عین راحت ہے۔

یک جان چہ مناعیست کہ سازیم فدایت 

اما چاتواں کرد کہ موجود ہمیں است 

بلکہ اس عاشق صادق کو غم تھا تو فقط اس بات کا کہ کفار نابکار کے ہاتھ سے سردار دو جہاںﷺ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

اعتراض

اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ میں "عَلَيۡهِ" کی ضمير "رسول" کی طرف راجع ہے نہ کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرف، جیسا کہ آیت "اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ" میں باقی ضمائر کے مرجع بھی رسول کریمﷺ ہیں۔ پھر اس سے رحمت الٰہی کا مورد حضرت ابوبکرؓ کو سمجھنا درست نہیں ہے۔

جواب: جب شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ گھبراہٹ رسول پاکﷺ کو نہیں بلکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تھی اور اسی لیے "لَا تَحۡزَنۡ" محض ان کی تسکین کے لیے فرمایا گیا، پھر سکینہ (جس کا معنیٰ ہی تسکین ہے) رسول پاکﷺ پر اتارنے کی کیا ضرورت تھی؟ جب آپ پہلے سے ہی مطمئن بیٹھے ہوئے تھے، بہرحال تسکین اتارنے کی ضرورت بھی اسی شخص پر تھی جس کا دل بے چین ہو رہا تھا اور یہ بات کہ اور ضمائر کا مرجع "رسول" ہیں اس لیے "عَلَيۡهِ" کا رجوع بھی ادھر ہی چاہیے۔ سو ایسی نظائر آیات میں بکثرت ملتی ہیں۔ جیسا کہ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا 

میں پہلی ضمیریں رسولﷺ کی طرف راجع ہوتی ہیں اور آخری کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسری مثال وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ‌ یہاں پہلی اور آخری ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، لیکن درمیانی "يَجُرُّهٗۤ" کی ضمیر حضرت بارون علیہ السلام کی طرف راجع ہوتی ہے۔ 

اعتراض

حضرت ابوبکرؓ کا آنحضرتﷺ کو اپنے کندھے پر اُٹھانے کا قصہ غلط معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ بیت الحرام کے توڑنے کے وقت جب اسد اللہ الغالب (علیؓ) نے درخواست کی تھی کہ حضورﷺ میرے کندھے پر سوار ہوں تو آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ تم گرانبار نبوت کو کیسے برداشت کر سکتے ہو؟ پھر سیدنا ابوبکرؓ کو اتنی طاقت کہاں سے آ گئی کہ اس گرابنار کو اُٹھا لیا؟

جواب: یہ مشیت ایزدی ہے کہ ایک وقت ایک بڑے توانا شخص سے ایک کام نہ ہو سکے تو دوسرے وقت وہی کام ایک ضعیف اور نحيف آدمی سے لے سکے۔ جیسا کہ آیت اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَ حَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ میں حق تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ گرانبار امانت کو برداشت کرنے کی طاقت آسمان و زمین کو باوجود اس عظمت و جسامت کے نہ ہو سکی لیکن اس کو ایک ضعیف مخلوق انسان نے قبول کر لیا۔ پھر وہی خدا اگر وہ کام جو اسداللہ نہ کر سکے، حضرت صدیق اکبرؓ کو اس کے کرنے کی توفیق بخش دے تو اس کو کون روک سکتا ہے؟ وہی خدا ہے جس نے ایک زمانہ میں ابابیل جیسے حقیر پرند کو ہے حساب فیل کے مقابلہ کی قدرت بخشی اور ان کی چونچ میں سے گرے ہوئے سنگریزہ کو گولہ بارود کی قوت عطا فرمائی تھی۔ امر اورا- وَيَفۡعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ پھر یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ حضورﷺ اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ منورہ تک جا پہنچے اور اونٹ گرابنار نبوت کا حامل ہو گیا لیکن "شیر خدا" جن میں سینکڑوں شیروں کی طاقت تسلیم کی جاتی ہے اُس کے برداشت کی قوت نہ رکھ سکے۔

اعتراض

اندھیری رات اور تاریک غار میں حضرت ابوبکرؓ کو سوراخ کس طرح نظر آئے جن کو بند کرتا پھرا؟ یہ قصہ بھی غلط ہے۔

جواب: یہ ضروری نہیں کہ چندیں میلِ مسافت کے بعد غارثور تک پہنچنے کے وقت بھی تاریکی شب موجود تھی، بلکہ وہاں پہنچنے تک صبح کی روشنی کا وقت ضرور ہو گیا ہو گا، جیسے صاحب حملہ حیدری بھی نشانِ سحر کی نموداری کا قائل ہے۔ پھر روشنی صبح میں سوراخ کا نظر آجانا محال نہیں ہے، نیز اگر شیعہ معترض کو اس بات کا بھی اعتقاد ہو کہ چہرہ انور، رسول اقدسﷺ وہ سراج منیر تھا کہ اس کی نورانی شعاعوں کے سامنے آفتاب کی روشنی بھی ہیچ تھی، جیسا کہ حضرت انسؓ خادمِ رسولﷺ کی روایت ہے، کہ ایک دن چودھویں چاند رات میں حضور انورﷺ بیٹھے ہوئے تھے، میں چاند کی طرف بھی نظر دوڑاتا اور پھر چہره پرنور حضورﷺ کو دیکھتا تو مجھے حضورﷺ کے طلعت زیبا کے سامنے 

(ایسے واقعات بطور خرق عادت احیاناً پیش آتے تھے نہ کہ دواماً۔ مثلاً حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ تاریک رات ہوتی ہے، حضور اکرمﷺ کے روئے انور کی روشنی میں سوئی میں دھاگہ ڈال لیتی تھی اور ایک روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رات کو میں اُٹھی تو حضور اکرمﷺ کو بستر مبارک پر نہ پایا، تاریکی میں میں نے ادھر اُدھر ہاتھوں سے تلاش کیا، حضورﷺ کے پاؤں مبارک سے میرا ہاتھ لگا اس وقت حضورﷺ سجدہ میں پڑے تھے۔ 13 (احقر مظہر حسین)

چودھویں رات کا چاند مدهم معلوم ہوتا۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہو گا کہ حسنِ یوسفؑ میں یہ کمال تھا کہ اندھیری رات میں مصر کی گلیوں میں پھرتے تو شمع کی ضرورت نہ ہوتی بلکہ چہرہ تاباں کی روشنی ہوتی۔ پھر اس ماہِ مدنی مکی کے چہرہ تاباں کے نور سے کیوں انکار ہے؟ کہ اس شمع انور کی موجودگی میں بھی حضرت ابوبکرؓ کو سوراخ نظر نہ آتے ہوں، پھر یہ بھی آپ کی کتابوں میں (جیسا کہ لکھا جا چکا ہے) درج ہے کہ اس شمع نور (ذاتِ احمدی) کا یہ اثر تھا کہ غار میں بیٹھے ہوئے دونوں دوست مدینہ میں بیٹھے ہوئے انصار کو گھروں میں بیٹھے ہوئے دیکھ رہے تھے اور جعفر کی کشتی سمندر میں چکر کھاتی نظر آ رہی تھی پھر افسوس ہے کہ شیعہ کو رباطن کو اس بات پر تعجب ہے کہ اندھیری رات میں حضرت ابوبکرؓ کو غار کے سوراخ کس کس طرح نظر آگئے؟ اچھا یہ سب باتیں نہ سہی آخر اندھا بھی ٹوہ کر کے معلوم کر لیتا ہے۔ کیا ہاتھ سے ٹوہ کر بھی سوراخ غار معلوم نہ ہو سکتے تھے؟ اُمید ہے کہ اب معترض کی تسلی ہو گئی ہو گی اس لیے ہم اسی قدر پر اکتفاء کرتے ہیں۔ آیت "اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ" کے متعلق اعتراضاتِ شیعہ کا قلع قمع ہو چکا ہے، اب ہم استخلاف کے بحث شروع کرتے ہیں۔

27: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۞

(سورۃالنور: آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔ 

اس آیت میں احکم الحاکمین نے ایک بڑے معرکے کے مسئلہ خلافت کا بھی فیصلہ فرما دیا۔ اگر کوئی دل نور ہدایت سے منور ہو تو اس کو مسئلہ معہودہ کی نسبت اس فیصلہ ربانی کے مان لینے میں تامل نہ ہوگا۔ دیکھو رب العباد نے فرما دیا ہے کہ ہم نے اس اخص الخواص جماعت مومنین کو حتمى وعدہ دے دیا ہے کہ ان کو خلافت کی مسند ضرور ضرور عطا کی جائے گی۔ جیسا کہ اس سے پہلے حضرت موسیٰؑ کے سچے پیروؤں کو ہم نے خلافت عطا فرمائی تھی۔ اس وقت دین مرضیہ کی خوب استقامت ہوگی اور خوف کا زمانہ امن سے بدل جائے گا، یہ جماعت ایسے مخلص عباد صالحون کی ہو گی کہ باوجود اس اقتدار (عہدہ خلافت) کے حاصل کرنے کے بھی میری توحید پر قائم رہیں گے۔

اب ہم شیعہ صاحبان سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ وعدہ الٰہی اصحابِ ثلاثہؓ کے حق میں پورا ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو کیا وہ "الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ" کے مصداق تھے یا نہ؟ اگر نہیں تھے تو کیوں اس انعام الٰہی (عطیہ خلافت معہودہ) سے مشرف ہو گئے؟ اس کے مستحق تو وہی لوگ تھے جو "اٰمَنُوۡا" کے مصداق تھے، کیا غیر مستحق لوگ بھی انعام پا جایا کرتے ہیں؟ خصوصاً جب انعام بخشنے والا عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‏ اور عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ہو۔ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک انعام کا اطلاع نامہ تو دوسرے لوگوں کے نام جاری ہو چکا ہے اور تقسیم انعام کے وقت وہ لوگ منہ دیکھتے رہ جائیں اور ایک دوسری جماعت جو بالکل غیر مستحق تھی، انعام پا جائے؟ ایسا کیوں ہوا کہ بوقت تقسیم انعام و انعام بخشنے والے کو مستحقین اور غیر مستحقین کے امتیاز میں دھوکا ہوا یا انعام والے نے اپنا پہلا حکم منسوخ کرکے دوسروں کو انعام دے دیا اور پہلوں سے وعدہ خلافی کر بیٹھا یا جماعت غیر مستحقین زبردست تھی، اول نے دوسری سے زبردستی چھین کر وہ انعام اُڑا لیا۔ یہ سب باتیں کفر ہیں۔ نہ اس ذات علیم و خبیر کے آگے اعزاز کے مستحقین اور غیر مستحقین مخفی رہ سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے احکام نافذہ کو بلا وجہ توڑ کر تغیر و تبدل کرتا ہے اور نہ اس کے حتمی وعدوں میں تخلف ہو سکتا ہے اور نہ کوئی طاقت اس سے زبردست ہوسکتی ہے جو اس کے ارادہ پاک کی مزاحمت کر سکے اور اس کی دی ہوئی نعمت اُس کی مقبول جماعت کے ہاتھوں سے چھین سکے۔ وہ 

فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ اور "وَيَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ" کی صفت سے موصوف ہے، وہ اپنے ارادوں کو پورا کیے بغیر نہیں چھوڑتا اسکی صفت لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ہے، اس کے وعدوں میں تخلف کا خیال کرنا کفر ہے۔ اس کے ارادہ و مشیت میں ہی یہی تھا کہ بعد وفات سرور کائناتﷺ آپ کی خلافت کا اعزاز ان کے چار برگزیده اصحاب کو عطا فرمایا جائے۔ یہ اعزاز چونکہ ان کی پاک خدمات کے صلہ میں تھا اس لیے ان کے عطا ہونے پر ان کی خدمات کا بھی پورا لحاظ ہوا جسکی خدمات اسلام میں سب سے زیادہ ہیں، جس نے خدا کی راہ میں بہت زیادہ دکھ اُٹھائے ہیں، جس نے ہادی اسلامﷺ کی دعوت سب سے پہلے بلا کسی امتحان لینے کے قبول کی اور سچے ہادی کی تائید میں سب سے پہلے اعداء دین سے مقابلہ کیا، جس نے اپنی وجاہت اور دنیوی اقتدار نظر انداز کر کے دینِ رسولﷺ کی سچی تابعداری سب سے اول اختیار کی ہے، جس نے عمر بھر میں اس اپنے پیارے آقاﷺ کا ساتھ پورا نبھایا ہے، جو اس کا نہایت ہولناک اور پرخطر موقعہ میں ہمدم اور یار غار رہا ہے، جس پر اس پاک رسولﷺ کی نظرِ شفقت بلحاظ اس کے کہ

قدیمانِ خود را بیفزاء قدر 

سب سے زیادہ تھی۔ جس کو اس پاک رسولﷺ نے اپنی زندگی کے آخیر وقت میں اپنے مصلے پر کھڑا کرنے اور امامت پر مامور کرنے کا امتیاز بخشا ہے۔ اس کو سب سے پہلے اس اعزاز سے حصہ ملے۔ ثم فثم. منطوق آیت صاف پکار رہا ہے کہ خلفاء اربعہؓ نے اپنے اختیار اور کوشش سے اور نہ کسی منصوبہ سے خلافت کی تحصیل کی بلکہ محض خدائے پاک کے ارادہ سے اس کے حتمی وعدہ کے بموجب ان کو اعزازات ملے اور اسی ترتیب سے ملے جیسا کہ خداوند کریم کی مرضی تھی ورنہ کس کی طاقت تھی کہ ارادہ ایزدی پر غالب آ سکتا؟ اس کے موعود اعزاز کو بلا استحقاق حاصل کر سکتا یا وقت سے پہلے اس اعزاز کا حصہ لے سکتا۔ تقدیر اور مشیت ایزدی پر کوئی انسانی تدبیر غالب نہیں آسکتی اور نہ ارادہ الٰہی کا مقابلہ انسانی منصوبہ سے ہو سکتا ہے۔ پھر یہ کہنا سخت بے ایمانی ہے کہ وعدہ الٰہی تو على المرتضیٰؓ کے لیے تھا اور وہی سب سے زیادہ مستحق تھے لیکن ثلاثہؓ نے ذبردستی انکا حق چھین کر خود خلافت پہلے لے لی۔ بھلا کچھ تو عقل کیجیے۔ یہ تو مان بھی لیں کہ اسد اللہ الغالب پر ثلاثہؓ کی قوت غالب ہوجائے اور ان کے مقابلہ میں شیر خدا خیبر شکن بے بس ہو کر دم بخود رہ جائیں۔ لیکن یہ کب ہو سکتا تھا کہ ثلاثہؓ خدائے قدیر کی زبردست طاقت کا مقابلہ کر کے اسکی موعود اور دی ہوئی نعمت شیر خدا سے چھین لیں۔ نعوذ اللہ من ہذہ الخيالات.

نیز آیت سے ظاہر ہے کہ وعدہ خلافت ایک سے زیادہ اشخاص کے لیے تھا، نہ فرد واحد کے لیے۔ کیونکہ آیت میں موعود لہم جماعت مومنین ہے، نہ ایک شخص۔ "الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا" صیغہ ہائے جمع پر غور کرو اور جو نشان ان موعود لہم کا خدائے کریم نے بیان فرمائے ہے یعنی "اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ" جو لوگ ان اوصاف میں جملہ صحابہؓ سے فائق تھے وہی مستحق ہو سکتے ہیں اور یہ امر مُسَلَّم ہے کہ خلفاء اربعہؓ جو دیگر صحابہ کرامؓ سے اوصاف میں فاضل تھے وہی اس امر جلیل کے مستحق تھے اور ان چاروں کو اس منصب

کا اعزاز ملنا مقدر تھا، اُدھر زمانہ خلافت بھی محدود کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ رسولﷺ برحق نے "الْخِلَافَةُ مِنْ بَعْدِی ثَلاثُونَ" فرما کر اس کی معیاد تیس سال بیان فرمادی تھی تو پھر فرمائیے کہ سوائے اس ترتیب کے جو سلسلہ خلافت میں وقوع میں آئی اور صورت ہی کون سی تھی؟ کہ یہ چاروں بزرگوار اس عطیہ الٰہی سے اس معیاد کے اندر بہرہ ور ہو سکتے۔ اگر سیدنا على المرتضیٰؓ کو سب سے پہلے خلافت ملتی تو باقی ہر سہ اصحابؓ اس نعمت موعودہ سے محروم رہ جاتے کیونکہ ان کا زمانہ زندگی پہلے ہی ختم ہو جانا تھا۔ ایسا ہی اس ترتیب میں اگر کچھ بھی تغیر ہوتا تو کوئی نہ کوئی صاحب ضرور اس عطیہ سے محروم رہ جاتا۔ "سبحان الله فعل الحكيم لا يخلوا عن الحكمة"

اس آیت کریم نے مسئلہ ایمان صحابہؓ کے ساتھ مسئلہ خلافت کا بھی قطعی فیصلہ فرما دیا اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ یہ خلفاء جیسے کہ پہلے "اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ" کے مصداق تھے۔ خلافت ملنے کے بعد بھی"يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌" کے پورے مصداق رہیں گے۔ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس قدر اقتدار عظیم ملنے پر بھی ان کی حالت میں ذرا سا تغیر پیدا ہو جائے۔ بلکہ جیسے کہ پہلے مسکنت اور فقر کی حالت میں میرے سچے مومن نیک اعمال تھے۔ اس اقتدار میں بھی میری عبادت میں مست اور میری توحید میں سرشار رہیں گے۔

صاحبان! غور کیجیے یہ آیت خلفاء ثلاثہؓ کے ابدی ایمان پر شاہد عدل ہے۔ نیز خداوند کریم نے ان کے ایمان ابدی کی شہادت دے کر پھر یہ بھی فرما دیا کہ اس میری شہادت کے بعد بھی اگر میرے ان پاک بندوں کے ایمان میں کوئی شخص کلام کرے گا اور ان کے احسان عام کا کفران کرے گا تو سمجھ لو وہ گمراہ بدبخت فاسق ہے۔ معنیٰ آیت "وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ" مفسرین نے یہ کیا ہے: أَمَّا مَنْ أَنْكَرَ عَنْ إِحْسَانِهِمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ

شیعہ صاحبان ذرا انصاف کی عینک لگا کر آیت کو پڑھیں، بتائیں تو سہی "وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌" كا مصداق کون سا زمانہ ہے؟ کیا وہ زمانہ جو عہدِ خلافت جناب علیؓ کا تھا؟ شیعہ صاحبان تو مانتے ہیں کہ وہ زمانہ تو سخت پر آشوب تھا۔ ہمارا ایک ہم عصر شیعہ اپنے رسالہ سجادیہ کے صفحہ 48 پر اس زمانہ کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔ 

رت امیر کی خلافت کا زمانہ بوجہ بغاوت بی بی عائشہ صدیقہؓ وغیرہ غایت درجہ پُرشور تھا اور عرب میں گویا 1857ء کا سا حال ہو رہا تھا۔"

پھر ایسا پر شور زمانہ تو اس پیشین گوئی "وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ" کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ فی الحقیقت یہ خلفاء ثلاثہؓ کا ہی زمانہ تھا کہ بعد اس خوف کے جو وفاتِ رسول مقبولﷺ کے بعد ارتداد کا فتنہ عظیم برپا ہو گیا تھا۔ مسیلمہ اور اسود عنسی جیسے جھوٹے نبیوں نے اندھیر مچا دیا تھا اور حضرت صدیق اکبرؓ نے توفیق ایزدی سے ان کذابوں کا خاتمہ کر کے تمام فتنہ فرو کر دیا تھا اور پھر ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ ہر سہ خلفاء کے زمانہ میں وہ امن قائم رہا جس سے شیعہ بھی انکار نہیں کر سکتے کیا یہ سب الٰہی وعدے ان منافقوں کے حق میں پورے ہوئے؟

نَعُوذُ بِاللهِ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ الۡخَـنَّاسِ آیت استخلاف کے متعلق بحث ہو چکی آئندہ ہم مسئلہ خلافت پر کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے جب کہ کتب شیعہ سے استدلال کیا جائے گا۔

28: وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ ۞

(سورۃالأنبياء: آیت 105)

ترجمہ: اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔

اس آیت میں ایک عظیم الشان پیشن گوئی ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ یہ پیشین گوئی کس زمانہ میں کس کے حق میں پوری ہوئی؟ خداوند علیم و خبیر خبر دیتا ہے کہ تورات (تورات میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیمؑ سے وعدہ کرتا ہے۔ "میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا سارا ملک (جس میں تو پردیسی ہے) دیتا ہوں کہ ہمیشہ کے لیے ملک ہو۔ پیدائش باب 17 آیت 8 اور زبور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لیکن وہ جو حلیم ہیں۔ زمین کے وارث ہوں گے۔ 37، آیت۔ صادق زمین کے وارث ہونگے۔ 37 زبور آیت 29 ۔ جن پر اس کی برکت ہو۔ زمین کے وارث ہونگے اور جن پر لعنت ہو کٹ جائیں گے۔ زبور آیت 32) 

اور زبور میں پہلے ہی لکھا جا چکا ہے کہ "الۡاَرۡضَ" ارض مقدسہ (زمین كنعان) کے وارث میرے پاک بندے ہوں گے۔ اب بتائیے کہ یہ زمین کس کے ہاتھ پر فتح ہوئی؟ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر فتح ہوئی اور اس آیت کے رُو سے آپ عباد صالحون میں سے ہوئے۔ کیا منافق بھی عباد صالحون کہلا سکتے ہیں؟ سچ کہیے کہ اس سے زیادہ فخر کیا ہو سکتا ہے؟ کہ ایک عظیم الشان پیشن گوئی جس کی خبریں آسمانی کتابیں دے رہی ہیں وہ پیشن گوئی آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد آپ کے سچے خادم سیدنا فاروق اعظمؓ کے عہد میں پوری ہوئی ہے اور پھر طرفہ یہ کہ اس زمین کے وارث ہمیشہ اہل سنت والجماعت مسلمان ہی رہے ہیں۔ شیعہ پر ہماری حجت ہے کہ خدا کے نزدیک وہ "عباد صالحون" میں شمار نہیں ہیں اگر ہیں تو کیوں ارض مقدسہ کی وراثت ان کو نصیب نہیں؟

بعض مفسرین نے ارض (بعض محققین کا ارشاد ہے کہ اس آیہ میں الۡاَرۡضَ سے مراد ارض جنت ہے اور سیاق قرآنی سے یہ معنیٰ زیادہ مناسبت رکھتا ہے (مظہر حسین)

سے مراد حرمین شريفين کی زمین لی ہے۔ بہر حال "ارض" سے مراد زمین شام (بيت القدس) ہو یا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی زمین، اس کی وراثت ہمیشہ سے اہل سنت و الجماعت مسلمانوں کے ہاتھ میں رہی ہے اور تاقیامت رہے گی اور وہ بشارت الٰہی عباد صالحون ہیں۔

سوال: اس موقعہ پر مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ اس زمین پر ایک دفعہ یزید بھی حکومت کر چکا ہے اور تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ بوساطت شریف حسین نصاریٰ کا بھی عمل و دخل رہا ہے اور اب اس سر زمین پر وہابیوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ پھر آیت سے صداقت مذہب حق اہل سنت والجماعت كس طرح ہو سکتی ہے؟

جواب: یہ اعتراض آیت کے الفاظ پر غور نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔

اگر مخالف کو قرآن میں تدبر کرنا نصیب ہو تو ہرگز ایسے بے ہودہ اعتراض کی اسے جرأت نہ ہو۔ آیت میں "يَرِثُ" کا لفظ موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس سر زمین پاک پر وارثانہ قبضہ صالح بندوں کا ہوگا، اگر کوئی فاسق فاجر یا بدمذہب شخص یا قوم تھوڑے دنوں کے لیے وہاں غاصبانہ قبضہ کرکے حکومت کرے اور کچھ دنوں کے بعد وہاں سے دھتکار کر نکال دیا جائے تو وہ "يَرِثُ" کا مصداق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یزید کا غاصبانہ قبضہ گنتی کے دن رہا۔ پھر اس کا ایسا استیصال ہوا کہ دنیا میں لعنت کے سوا اس کا نصیب نہ رہا۔ شریف حسین نے اگر نصاریٰ کو دخیل رکھا تو اس کا بھی وہی حشر ہوا جو یزید کا ہوا تھا۔ وہابی پہلے بھی کچھ وہاں حکومت کر چکے ہیں پھر ان کا نام و نشان مٹ گیا اب جو وہاں انہوں نے دخل حاصل کیا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ یہ بھی چند روزہ بات ہے وہاں سے یہ لوگ بھی اسی ذلت و خواری سے نکال دیے جائیں گے۔ وارثانہ اور مالکانہ قبضہ اس سر زمین پر ہمیشہ مسلمانان اہلسنت والجماعت کا رہا ہے اور رہے گا۔ کیونکہ قرآن سچا ہے اور خدا کے وعدوں میں ہرگز تخلف نہیں ہو سکتا۔ اس پاک زمین پر عرصہ دراز تک ترکوں کی حکومت رہی جو خالص سنی حنفی تھے۔ انہوں نے ارضِ پاک کا احترام رکھا اور حرمین شریفین کے خادم رہے۔ خدا نے چاہا تو پھر بھی اس پاک زمین کی خدمت انہی کے سپرد ہوگی۔