اعتراض شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاس پر شیعہ کا یہ اعتراض ہے کہ اگر اہلِ بیت سے مراد نساءُ النبی ازواجِ رسول ہوتیں تو بجائے عَنۡكُمُ اور وَيُطَهِّرَكُمۡ ضمائر مزکر کرکے عَنْکُنَّ، وَیُطَھِّرَکُنَّ، ضمائر مؤنث استعمال ہوتیں، سو اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اہلِ بیت کے لفظ کا مصداق مؤنث (ازواج) ہیں لیکن چونکہ اہلِ بیت مزکر ہے اس لیے لفظ مزکر کے لحاظ سے ضمائر مزکر استعمال ہوئیں جیسا کہ دوسری آیت مزکورہ میں باوجود اس کے کہ خطاب حضرت سارہ (مؤنث) سے تھا لیکن بلحاظ تزکیر لفظ اہلِ بیت کے لیے عَلَیْکُمْ ضمیر مزکر کا استعمال کیا گیا، ایسا یہاں بھی ہے۔
دوسرا جواب: یہ ہے اہلِ بیت میں خود ذاتِ اقدس سرورِ عالمﷺ بھی داخل ہیں کیونکہ اس بیت کے رہنے والے آپﷺ بھی تھے اس لیے برعایت ادب و تعظیم حضور والا تغلیباً ضمیر مزکر کی مستعمل ہوئی۔
تیسرا جواب: یہ ہے کہ کلام عربی میں بغرضِ اظہار محبت عورتوں کے لیے ضمیر مذکر آجایا کرتی ہے جیسا کہ شاعر اپنی محبوبہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: فَاِنْ شِئْتِ حَرَّمْتُ النِّسَآءَ سِوَاکُمْ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں مذکور ہے: فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا الخ۔(سورۃ طہٰ: آیت 10)
ترجمہ: موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بی بی کو کہا ٹھہر جاؤ۔
سو یہاں بجائے امۡكُثُی کے امۡكُثُوۡۤا ضمیر مزکر کا استعمال ہوا امید ہے کہ اس قدر جوابات سے معترض کو پوری تسلی ہو جاۓ گی۔
دوسرا اعتراض
شیعہ کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حدیثِ کساء سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ، سیدنا حسینؓ کے متعلق ہی نازل ہوئی ہے یعنی یہ آیت جس وقت نازل ہوئی حضورﷺ نے انہیں چار بزرگوں کو بلا کر چادر کے نیچے کر لیا اور دعا فرمائی:
اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَاءِ اَھْلَ الْبَیۡتِیْ فَاذْھَبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا۔
ترجمہ: اے میرے خدا یہ میرے اہلِ بیتؓ ہیں پس ان سے گناہ دور کر ان کو پاک کر جیسا پاک کرنے کا حق ہے۔
اگر اہلِ بیتؓ سے مراد ازواجِ رسولﷺ تھیں تو ان کو کیوں نہ بلا کر یوں دعا کی۔
جواب: سو اگر غور و تدبر سے کام لیا جائے تو اس حدیث سے مزید ثبوت اس امر کا ملتا ہے کہ آیت کا مصداق ازواجِ مطہراتؓ تھیں اور چونکہ حضورﷺ کو ان چار بزرگوں سے محبت تھی جو کہ اہلِ بیتؓ میں از جہت نسب ولادت داخل تھے اس لیے چاہا کہ یہ بھی اس انعام الٰہی سے بہرہ یاب ہو جائیں اس لیے ان کو یک جا کر کے دعا فرمائی کہ یا اللہ یہ بھی میرے
(یہی معاملہ حضرت محمدﷺ نے حضرت عباسؓ اور ان کی اولاد کے ساتھ بھی فرمایا چنانچہ حافظ ابونعیم اصفہانی نے یہ روایت درج کی ہے: عن ابی سعید الساعدی قال رسول اللهﷺ العباس لا تبرح انت وبنوک غدًا فان لی فیکم حاجةً قال فجمعھم العباس فی بیت فاتاھم رسول اللهﷺ فقال السلام علیکم کیف اصبحتم قالو بخیر نحمد الله بابینا انت وامنا یا رسول اللهﷺ قال تقاربوا تقاربوا فزحف بعضھم الی بعض قال فلما امکنوا اشتمل علیھم بملائتهٖ ثم قالﷺ الھم عذا عباسؓ عمی وھٰولاء اھل بیتی استرھم من النار کستری ایاھم بملاءتی ھٰذہٖ فامنت اسکفة الباب وحوائط البیت امین امین اٰمین ثلاثا۔ (دلائل النبوۃ: صفحہ، 154 مطبوعہ دائرہ المعارف النظامیه حیدر آباد دکن)
ترجمہ: ابو ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عباسؓ سے فرمایا کل تم اور تمہارے بیٹے گھر سے باہر نہ جائیں کیونکہ مجھے تم سے کچھ کام ہے کہا (راوی نے) اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ایک گھر میں جمع کیا پھر رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لائے، اور فرمایا السلام علیکم تم نے صبح کس طرح کی؟ انہوں نے جواب دیا خیریت سے حضورﷺ نے فرمایا تم ایک دوسرے کے قریب ہو جاؤ، پس وہ آپس میں مل کر بیٹھ گئے راوی کہتے ہیں جب وہ حضورﷺ کے اختیار میں آ گئے تو آپﷺ نے ان کو اپنی چادر میں لے لیا اور فرمایا اے اللہ یہ عباسؓ میرا چاچا ہے اور یہ لوگ میرے اہلِ بیتؓ ہیں ان کو آگ سے چھپا لے جس طرح میں نے ان کو چادر میں چھپا لیا ہے بس اس پر دروازہ کے سائبان اور گھر کی دیواروں نے تین دفعہ آمین آمین کہی) اہل میں داخل ہیں ان کو بھی رجس سے پاک کیجئے ورنہ اگر یہ چار ہی آیت کے مصداق ہوتے تو الٰہی حکم آجانے کے بعد پھر اس کے لیے دعا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی جو تحصیل حاصل تھا۔
اس کی مثال یہ ہے کہ ان دنوں سرکار نے فوجی خدمات کے عوض، فوجی ملازمین کے بیٹوں اور بھائیوں کے لیے فوجی وظائف منظور کر کے آرڈر جاری کیا ہے کہ جن فوجیوں نے جنگِ یورپ میں خدمات کی ہیں ان کے بیٹوں اور بھائیوں کو اس قدر ماہوار وظیفہ ملا کرے گا سوجن لوگوں کے بیٹے اور بھائی موجود تھے جب ان کو یہ انعام ملا تو بعض فوجی اصحاب نے سرکار کی خدمت میں عرضیاں دیں کہ حضور فلاں لڑکا میرا متبنیٰ ہے جو بیٹے کے قائم مقام ہے اس کو اس انعام سے حصہ ملنا چاہیے چنانچہ سرکار نے از راہِ مہربانی ایسے لڑکوں کو بھی جو بطورِ متبنیٰ پیش کیے گئے، وظائف دے دئیے۔
سو ایسا ہی مَا نَحْنُ فِیْهِ میں خیال کرنا چاہیے کہ جب اہلِ بیتِ نبی کریمﷺ ازواجِ رسول کے متعلق تطہیر کا انعام نازل ہوا تو حضورﷺ نے اپنی بیٹی، نواسوں، داماد کو بھی پیش فرمایا کہ یہ لوگ بھی میرے اہلِ بیت میں داخل ہیں ان کو بھی یہی انعام عطا ہوں اس کی تائید اس حدیثِ بخاری سے ہوتی ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺ سے عرض کی اَلَسْتُ مِنْ اَھْلِکُمْ کیا میں اہلِ بیت میں داخل نہیں آپﷺ نے فرمایا اِنَّکَ عَلَىٰ خَیۡرٍ تیرا مرتبہ پہلے سے ہی بہتر ہے یعنی تو حقیقی طور پر اہلِ بیتؓ (ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدہ امِ سلمہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ انا من اھل البیت یعنی میں بھی اہلِ بیتؓ سے ہوں تو حضورﷺ نے فرمایا ان شاءاللہ ہاں ان شاءاللہ صواعق محرقہ (از علامہ ابنِ حجر ہیثمی) سے ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا ہے چونکہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے لیے دعا تحصیل حاصل میں داخل تھا اس لیے اس کو آپﷺ نے اس دعا میں داخل نہ فرمایا۔