اعتراض شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہآیت میں ”لِصَاحِبِهٖ“ سے حضرت ابوبکرؓ کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی کیوں کہ قرآن میں دو مصاحبِ یوسف علیہ السلام کا ذکر بھی ہے ”يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ“ حالانکہ وہ کافر تھے۔
جواب: سبحان اللہ! شیعہ صاحبان کی قرآن فہمی کا کیا کہنا، قرآن میں ”صَاحِبی يُوسُف“ نہیں بلکہ ”يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ“ مذکور ہے، وہ ہر دو صاحب السجن (جیل کے رہنے والے قیدی) تھے۔ صاحبی مضاف اور سجن مضاف الیہ۔ صاحبی کی یا ضمیر متکلم نہیں ہے بلکہ اصل میں صَاحِبَيْنِ (تثنیہ) تھا اضافت کے سبب نون ساقط ہو کر صَاحِبَىِ السِّجۡنِ کہا گیا۔ سو وہ صاحبِ زندان تھے اور ”لِصَاحِبِهٖ“ میں صاحب کی اضافت ضمیر کی طرف ہے۔ جو رسول اللہﷺ کی طرف راجع ہے۔ غرض ”صَاحِبُ الرَّسُول“ کہلانا اور چیز ہے اور ”صَاحِبُ السِّجْن“ اور شئے ہے۔ پھر جیل میں رہنے والے یوسفؑ کے ساتھی پیغمبر کے ساتھ نہیں گئے تھے۔ بلکہ اپنے جرم کے باعث اسیر ہوئے تھے اور ”لِصَاحِبِهٖ“ والا ساتھی خدا کے خاص حکم اور رسولِ پاکﷺ کے انتخاب سے رفیقِ سفر بنایا گیا تھا پھر یہ صاحبِ غار (حضور اقدسﷺ کا یار غار) تھا جو اس وقت تک عاشقِ صادق کے لیے ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ببیں تفاوت راه از کجا است یکجا
ایسا ہی ”فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ“ وغیرہ کو سمجھو صرف صاحب کے لفظ کی فضیلت نہیں ہے بلکہ یہ فضیلت مضاف الیہ (رسول) کی مبارک نسبت سے پیدا ہوئی ہے، جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہو سکتی۔ سچ پوچھو تو شیعہ ایڑی چوٹی کا زور ماریں تو اس صراحت وضاحت سے وہ ولایتِ علیؓ تو کجا قرآن سے حضرت علی المرتضیٰؓ کا صاحب الرسولﷺ ہونا بھی ثابت نہیں کر سکتے۔ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ۞
غور کرو اگر الٰہ العالمین کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی فضیلت کا بیان نہ منظور ہوتا تو واقعہ غار میں صرف رسولِ پاکﷺ کا ہی ذکر کافی تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور ذکر بھی "ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ" اور "لِصَاحِبِهٖ" کے ساتھ کرنا نہایت ہی لطیف رمز رکھتا ہے۔