دروس وعبر اور فوائد
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اللہ پر اعتماد اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جنگی مہارت و تجربہ
حضرت عدی بن حاتمؓ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا:
اپنی قوم کے پاس جلدی جاؤ، کہیں وہ طلیحہ سے نہ جا ملیں اور پھر انہیں ہلاکت و تباہی کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ آپؓ کی قوت یقین اور اللہ کی نصرت و تائید پر اعتماد کی واضح مثال ہے۔ بنو طے کے ساتھ معرکہ شروع ہونے سے قبل اس کے نتیجہ کا فیصلہ کر دیا اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حضرت خالد بن ولیدؓ کو یہ حکم دینا کہ بنو طے سے جنگ کا آغاز کریں۔ حالانکہ وہ طلیحہ کے لشکر سے دور آباد تھے، کامیاب جنگی منصوبہ تھا اور یہ اس لیے تھا کہ بنو طے طلیحہ کے ساتھ انضمام نہ کر سکیں اور جو انضمام کر چکے ہیں وہ اس سے اپنے قبیلہ سے دفاع کی خاطر علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملیں، یہ انتہائی ماہرانہ جنگی منصوبہ بندی تھی تاکہ اس طرح وہ اس قبیلہ کو اور اس کے پڑوسی دیگر قبائل کو مرعوب اور خوفزدہ کر سکیں۔ اس مہم کے لیے سيدنا ابو سلیمان خالد بن وليدؓ کا انتخاب فرمایا، جن کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوا۔
(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 60، 63)
اس سے افراد و قائدین کے انتخاب میں آپؓ کی مہارت نمایاں ہوتی ہے اور معرکہ بزاخہ کے خاتمہ کے بعد سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو جو خط ارسال فرمایا اس میں بہت سے فوائد ہیں:
خالد رضی اللہ عنہ کو دعا دی، اس سے ان کی اچھی تعریف و ثنا سمجھ میں آتی ہے۔
اس طرح اس خط میں سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں تقویٰ کا حکم فرمایا جو انسان کو خواہشات کی پیروی اور خطا و لغزش میں واقع ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔
انہیں دشمن کے ساتھ بہادری اور دلیری اختیار کرنے کا حکم فرمایا کیونکہ وہ لوگ اپنے طغیان و سرکشی میں ابھی مست تھے پس یہ قوی مؤقف سیدنا ابوبکر صديقؓ کے پختہ عزم اور گہری بصیرت پر دلالت کرتا ہے۔ وہاں بہت سے قبائل تھے جو ابھی حق و باطل، ہدایت و ضلالت، خیر و شر اور ایمان و کفر کے مابین حیرت و تردد کا شکار تھے۔ ان کو اس کی سخت ضرورت تھی کہ ان کی تادیب کی جائے اور انہیں سختی کے ساتھ روکا جائے تا کہ ان کا طغیان ختم ہو جائے۔ یہ مؤقف سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زبردست قوت، پختہ عزم اور سرعت کا متقاضی تھا، اس لیے آپؓ نے سختی کے مقام پر سختی اور نرمی کے مقام پر نرمی اختیار کی۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ووضعُ النَّدیٰ فی موضع السَّیف للنَّدی
مُضرُّ کوضعِ السیف فی موضع النَّدی
ترجمہ: شبنم کو تلوار کی جگہ رکھنا شبنم کے لیے نقصان دہ ہے جس طرح تلوار کو شبنم کی جگہ رکھنا ضرر رساں ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 64، 65)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ان محاربین کی خود سپردگی اور صلح قبول نہ کرنا اور کھلی جنگ یا رسوا کن منصوبہ سے کم پر تیار نہ ہونا اسلام کے غلبہ و عزت اور حکومت کی ہیبت و سطوت کا اظہار ہے۔ آپؓ نے صلح کے لیے ان کے سامنے بڑی کڑی شرائط رکھیں ان شرائط میں سب سے سخت شرط یہ تھی کہ ان کے اسلحہ اور جانور سب ضبط کر لیے جائیں گے اور یہ عارضی شرط تھی، جب تک ان کی توبہ اور اسلامی خلافت کی فرماں برداری کی صداقت واضح نہ ہو جائے۔ نیز یہ شرط ضروری تھی تا کہ اس بات کی ضمانت رہے کہ وہ دوبارہ تمرد و عصیان کا شکار نہیں ہوں گے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 66)