Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سوال شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

بیعتِ رضوان کے شاملین میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بیعت کو توڑ دیا اور ان کا خاتمہ بخیر نہ ہوا؟ جیسا کہ جد بن قیس وغیرہ۔

جواب: ایسا شاز و نادر وجود (اجد بن قیس وغیرہ) اگر بیعت کو توڑ کر کفار میں مل جائے تو کیا مضائقہ؟ یہ شخص پہلے ہی سے ضعیف الایمان منافق تھا۔ پھر اس نے بیعت توڑ کر اپنا نام اخص الخواص فریق کی فہرست سے خارج کرا لیا جس کی تشہیر ہو گئی اور کتب فریقین میں اس کا ذکر ہے لیکن اصحابِ ثلاثہؓ کو ایسے مردود پر قیاس کرنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔ جو مرتے دم تک اس عہد پر قائم رہ کر فائز الرام ہوئے۔ اگر یہ لوگ بھی بیعت شکن ہوتے تو مسند خلافت نبویﷺ پر ان کو بیٹھنا کس طرح نصیب ہوتا؟ اور حضرت علی المرتضیٰؓ شیر خدا ان کے ہاتھ پر بیعت کیوں کرتے؟ پھر حضرت عثمانؓ جن کو خاندان رسالتﷺ میں دو دفعہ دامادی کا فخر حاصل ہوا، جو عشق و محبتِ رسولﷺ کے امتحان میں (جیسا کہ مذکور ہوا) پاس ہو چکے اور جن کے فائز المرام ہونے کی نسبت بشہادت صادقؒ روزانہ آسمانی ندا، مثل علی المرتضیٰؓ ہوتی ہے ایسے ویسے کس طرح قیاس ہو سکتے ہیں؟ شیعو! ہوش کرو۔ انصاف!! انصاف!!

14: لَـقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِىۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ‌ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞

(سورۃالتوبۃ: آیت 117)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبی پر، ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے ایسی مشکل کی گھڑی میں نبی کا ساتھ دیا، جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں، پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ یقیناً وہ ان کے لیے بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان مہاجرین و انصار کی تعریف فرماتا ہے جنہوں نے جنگِ تبوک میں شریک ہو کر آنحضرتﷺ کی اتباع کی، کیا اس جنگ میں اصحابِ ثلاثہؓ شریک نہ تھے؟ بلکہ جناب امیر عثمانؓ نے تو اس مہم میں ایک قابل قدر نمایاں خدمت پیش کی تھی وہ یہ کہ تین سو اونٹ مع سامان کے اور ایک ہزار اشرفی طلائی کی امداد تھی اور یہ بات آپؓ کے کارناموں میں اب تک مشہور عام ہے۔

15: وَلَقَدۡ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدۡرٍ وَّاَنۡـتُمۡ اَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ۞ اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلَافٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ۞

(سورۃآل عمران: آیت 123، 124)

ترجمہ: اللہ نے تو (جنگ) بدر کے موقع پر ایسی حالت میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل بے سروسامان تھے۔ لہٰذا (صرف) اللہ کا خوف دل میں رکھو، تاکہ تم شکر گزار بن سکو۔ جب (بدر کی جنگ میں) تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ: کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کو بھیج دے؟

اس آیت میں شرکاء جنگِ بدر کو مومنین کا لقب درگاہ رب العزۃ سے عطا ہو چکا ہے اور شیخین معرکہ بدر میں ضرور شامل تھے شرکاء جنگِ بدر وہ مقبولان بارگاہ ایزدی تھے جن کی تائید و نصرت کے لیے الٰہ العالمین نے تین ہزار فرشتے بھیجے اور یہ لوگ آخر کار بامداد الٰہی مظفر و  منصور ہوئے۔

16: وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ۞

(سورۃآل عمران: آیت 121)

ترجمہ: (اے پیغبر! جنگِ احد کا وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جما رہے تھے اور اللہ سب کچھ سننے، جاننے والا ہے۔

یہ آیت جنگِ احد کا واقعہ بیان کرتی ہے اس میں شاملینِ جنگ مذکور کے ایمان پر تنصیص ہے۔ اس جنگ میں اصحابِ ثلاثہؓ شامل تھے۔