ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہخلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ غار کے متعلق تفسیر عسکری، قمی اور حملہ حیدری کی عبارتیں اوپر لکھی جا چکی ہیں، جن سے فضائلِ صدیق رضی اللہ عنہ کا نمایاں ثبوت ملتا ہے۔ اب دوسری کتب سے روایات لکھی جاتی ہیں۔
اول: فروع کافی جلد دوم، صفحہ 4 میں ایک طویل حدیث مرویہ جناب صادقؒ درج ہے جس میں صدقہ کے متعلق ذکر ہے کہ کل مال صدقہ نہیں کر دینا چاہیے تاکہ خود ملوم و محسور نہ بن جائے آگے لکھا ہے:
هذه احادیث رسول الله صلى الله عليه وسلم يصدقها الكتب. والكتاب يصدقه اهله من المؤمنين. وقال ابوبكرؓ عند موته حيث قيل له او من فقال اوصی بالخمس وقد جعل الله له الثلث عند موته ولو علم ان الثلث خير له اوصى به ثم من علمتم بعده في فضله و زهده سلمانؓ وابوذرؒ. فاما سلمان فكان اذا احد اعطاء رفع منه قوته لسنة حق يحضر عطاء من قابل فقيل له يا ابا عبدالله انت فی زهدك تصنع هذا وانت لاتدرى لعلك تموت اليوم فكان جوابه ان قال مالكم لا ترجون لی البقاء كما خفتم على الفناء اما علمتم ياجهلة ان النفس قد تلتاث على صاحبها اذا لم يكن من العيش ما تعقد علیہ واذا هی احذزت معيشتها اطمانت و اما ابوذرؓ فكان له لزيفات وشويهات يحلبها ويذبح منها اذا اشتهيى اهله اللحم او نزل به ضيف اوراى باهله الذی معه خصاصة يجزهها الجدورا ومن الشياء على قدر ما يذهب عنهم بقرم اللحم وياخذهو نصيب واحد منهم لا يتفضل عليهم و من ازهد من هؤلاء وقد قال فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال.
ترجمہ: یہ احادیث رسول پاکﷺ ہیں۔ جنکی تصدیق کتاب اللہ کرتی ہے اور كتاب اللہ کی تصدیق (اپنے عمل سے) مومنین کرتے ہیں جو کتاب اللہ سمجھنے کے اہل ہوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بوقت وفات جب کہ اس کو وصیت کے لیے کہا گیا۔ فرمایا کہ میں پانچویں حصہ مال کی وصیت کرتا ہوں۔ چنانچہ پانچویں حصہ کی وصیت کی حالانکہ خدا نے تیسرے حصہ کی اجازت دی ہوئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ تیسرے حصہ کی وصیت میں زیادہ ثواب ہے تو ایسا ہی کرتا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دوسرے درجہ پر فضل و زہد میں تم سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کو سمجھتے ہو۔ پس سلمانؓ کو کوئی عطیہ دیتا پورے سال کی خوراک زخیرہ کر لیتا۔ حتیٰ کہ سال آئندہ کو پھر عطیہ حاصل ہو۔ لوگوں نے کہا۔ آپﷺ باوجود زاہد ہونے کے ایسا کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں آج ہی فوت ہو جائیں۔ جواب دیا تمہیں میرے زندہ رہنے کی امید نہیں ہے؟ جیسا کہ میرے مر جانے کا اندیشہ ہے۔ اے جاہلو! تمہیں معلوم ہو کہ نفس اپنے صاحب پر سرکشی کرتا ہے۔ جب تک کہ اس قدر معیشت نہ مل جائے جس پر اُسے بھروسہ ہو اور جب وہ اپنی معیشت فراہم کرلے مطمئن ہو جاتا ہے اور ابوذرؓ کے پاس اونٹنیاں اور بکریاں رہتی تھیں جو دودھ دیتی تھیں اور جب ان کے عیال کو گوشت کی حاجت ہوتی یا کوئی مہمان آ جاتا یا اپنے متعلقین کو بُھوکا دیکھتے ان میں سے اونٹ یا بکری ذبح کر لیتے اور سب میں تقسیم کر دیتے اور اپنے لیے ایک آدمی کی خوراک رکھ لیتے جو دوسروں سے زائد نہ ہو تم جانتے ہو کہ ان تین مقدس بزرگواروں سے بڑھ کر بڑا زاہد کون ہو سکتا ہے؟ حالانکہ ان کی شان میں رسول پاکﷺ نے فرمایا جو کچھ کہ فرمایا۔
اس حدیث میں حسبِ ذیل باتیں ظاہر ہوئیں:
1: حضرت امام کے نزدیک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان مومنین کاملین میں سے تھے جو کتاب اللہ کے سمجھنے کی اہلیت رکھتے تھے اور اپنے عمل سے کتاب اللہ کے احکام کی تصدیق کرتے تھے۔
2: حضرت سلمان اور ابوزر رضی اللہ عنہما فضل و زہد میں دوسرا درجہ رکھتے تھے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا زبد و فضل اس سے اول درجہ(فائق) تھا۔
3: سیدنا ابوبکرؓ ان برگزیدہ زاہدوں سے تھے جن کا ہم پلہ کوئی دوسرا شخص نہیں ہو سکتا۔
4: حضرت ابوبکرؓ کی شان میں آنحضرتﷺ نے بہت سی احادیث بیان کی ہوئی تھیں۔
سوال شیعہ: ممکن ہے کہ (مَنْ أَزْهَد من هؤلٓاء) کا اشارہ صرف سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کی طرف ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان میں شمار نہ ہوں۔
جواب: اگر معترض عقل کا اندھا نہیں ہے تو ابتداء حدیث میں الفاظ "الْكِتاب يصَدِّقُهٗ أَهْلُهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" کے بعد پہلے ذکر حضرت ابوبکرؓ کا ہونا اور پھر سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے متعلق امام کا یہ فرمانا (ثُمَّ مَنْ عَلِمْتُمْ بَعْدَهُ فِیْ فَضْلِهٖ وَ زُهْدِهٖ) جس کا مفہوم صاف یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فضل و زہد کے دسرے درجہ پر سلمان اور ابوزر رضی اللہ عنہما ہیں پھر هولٓاء کا مشار الیہ صرف دو کو سمجھنا حد درجہ کی حماقت ہے۔ هولاء کے مشار الیہ بلاشبہ ہرسہ بزرگوار ہیں اور حدیث میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ زہد و فضل میں حضرت ابوبکرؓ کا نمبر سب سے اول ہے۔
افسوس! شیعہ اپنی مستند کتابوں میں اصحابِ ثلاثہؓ کے زہد و تقویٰ کی نسبت ایسی شہادت ائمہ اہلِ بیت پڑھ کر بھی ان کی بد گوئی سے باز نہیں آتے۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ
دوم: علامہ طبرسی کتاب مجمع البیان میں تحریر کرتا ہے کہ آیت وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَى الَّذِىۡ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ روایت یوں ہے۔
عَنِ بْن زُبَيرٍ قَالَ إِنَّ الَّايَةَ نَزَلَتْ فِی أَبِی بَكْرٍ لَانَّهُ اشْتَرَى الْمَمَالِیكَ الَّذِينَ اسْلَمُو مِثْلَ بِلالٍ وَ عَامِرِ بن فُهَيْرَةَ وَ غَيْرِ همَا وَأَعْتَقَهُمُ.
ترجمہ: ابنِ زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت شانِ ابوبکرؓ میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے (غلاموں کو جو اسلام لائے) اپنے مال سے خرید لیا جیسا کہ بلال اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہم اور ان کو آزاد کیا۔
اب جس کی خدمات اسلام میں یہ ہوں۔ کہ بلال رضی اللہ عنہ جیسے عاشق ذات نبویﷺ کو کفار کے ہاتھ سے اپنا مال خرچ کر کے نجات دلائے اور آزاد کر دے اور اللہ تعالیٰ اس کے صرف متقی نہیں بلکہ اتقیٰ ہونے کی شہادت دے۔ اس شخص کی شان والا میں گستاخی کرنا کتنی جسارت ہے؟ خدا روافض کو ہدایت کرے۔
سوم: کتاب احتجاج: صفحہ 202 میں سیدنا باقرؒ کی حدیث درج ہے۔ آپ نے فرمایا:
لَسْتُ بِمنکرٍ فَضْلَ أَبِی بَكْرٍ وَ لَسْتُ بِمُنْكَرٍ فَضْلٍ عُمَرَ وَلا كنَّ أَبَابَكرٍ أَفْضَلُ.
ترجمہ: میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کا منکر نہیں ہوں البتہ ابوبکر رضی اللہ عنہ فضیلت میں برتر ہیں۔ پھر جس شخص کو سیدنا محمد باقرؒ افضل سمجھتے ہوں۔ اُن کی فضیلت سے انکار کرنا حد درجہ کی شقاوت ہے۔
چہارم: کتاب مجالس المؤمنین مجلس سوم صفحہ 89 میں ہے۔ کہ حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ حضرت ابوبکرؓ کی شان میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھ کر ہمیشہ یوں فرمایا کرتے تھے۔
مَا سَبَقَكُمْ أَبُوبَكْرٍ بِصَوْمٍ وَلَا صَلوٰةٍ وَلَكِنْ لشَیءٍ وَقِّرَ فِی قَلْبِهِ.
ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ نے تم سے زیادہ نماز و روزہ ادا کرنے میں فوقیت حاصل نہیں کی بلکہ اس کی صدق صفا قلبی کی وجہ سے اس کی عزت و وقار بڑھا ہے۔
پنجم: شیعہ کی بڑی معتبر کتاب کشف الغمہ مطبوعہ ایران صفحہ 220 میں یہ روایت درج ہے:
سُئِلَ الْإِمَامُ جَعْفَرَ عَنْ حِلْيَةِ السَّيْفِ هَلْ يَجُوزُ قَالَ نَعَمُ قَد حَلَّ ابوبكر الصِّدِّيقُ سَيفَهُ فَقَالَ الرَّاوِی اَتَقُولُ هاكَذَا فَوَثَبَ الْآمِامُ عَنْ مَقَامِهٖ فَقَالَ نِعْمَ الصِّدِّيقُ نِعْمَ الصِّدِّيقُ نِعْمَ الصِّدِّيقُ فَمَنْ لَّمْ يَقُل لَّهُ الصَّدِيقُ فَلَا صَدَقَ اللَّهُ قَوْلهُ فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ
ترجمہ: سیدنا محمد باقرؒ سے تلوار کو چاندی سے مرصع کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو امام نے فرمایا: جائز ہے۔ کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کو مرصع کیا ہے۔ راوی کہنے لگا۔ آپ اُس کو صدیقؓ کہتے ہیں؟ امام غضب ناک ہو کر اپنے مقام سے اُٹھے اور کہنے لگے۔ بہت اچھا صدیقؓ، بہت اچھا صدیقؓ، بہت اچھا صدیقؓ جو اُس کو صدیقؓ نہ کہے خدا اُس کو دنیا و آخرت میں جھوٹا کرے۔
ششم: کتاب ناسخ التواریخ جو شیعہ کی مستند کتاب ہے۔ اس کی جلد 2، صفحہ 563 میں ہے:
داز پس اول (زید بن حارثہؓ) ابوبکرؓ مسلمان شُد۔ واسم او عبدالله است و لقبش عتیق و کنیت ابوبکرؓ است- داد پسر ابو قحافہ عثمان است و ہو عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی و ابوبکرؓ علم النسب نیک میدانست و نسب او نیز محفوظ بود و یا بعضے از قریش اُلفتے بکمال داشت و چند تن را پنہانی۔ دعوت با سلام نمود ونزدیک پیغمبر آورد۔ تا اسلام ایشان عرضہ داشت نخستین عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بود۔ دیگر زبیرؓ بن العوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بود. وایں زبیر پسر بردار خدیجہؓ است و دیگر عبد الرحمن بن عوف بن عبد عوف بن عبدالحارث بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بود. و دیگر سعد بن ابی وقاص و اسم ابی وقاص مالک بود. او پسر اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن كعب بن لوئی است و دیگر طلحہ بن عبد الله بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب لوئی است. این جملہ از دوستان ابوبکرؓ بودند و بدلالت او اسلام یافتند و از پس او عبیدہ اسلام آورد۔
ترجمہ: اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے اور ان کا نام عبد الله اور لقب عتیق اور کنیت ابوبکرؓ ہے اور بیٹے ابوقحافہ کے ہیں۔ جن کا نام عثمان ہے۔ ان کا نسب یوں ہے ۔ عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی۔ حضرت ابوبکرؓ علم انساب خوب جانتے تھے اور ان کا نسب بھی محفوظ تھا اور بعض قریشیوں سے اُن کو نہایت محبت تھی۔ چند اشخاص کو اُنہوں نے خفیہ طور پر دعوت اسلام دی اور پیغمبرﷺ کے پاس لائے۔ آپﷺ نے ان پر اسلام پیش کیا سب سے پہلے جو ترغیب ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسلمان ہوئے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی تھے۔ دوسرے شخص زبیر بن عوام خویلد بن عبدالعزیز بن قصی تھے۔ یہ زبیر حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے تھے۔ تیسرے شخص عبدالرحمٰن بن عوف ابن عبد عوف بن عبدالحارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی تھے اور چوتھے سعد بن ابی وقاص کا نام مالک تھا۔ وہ بیٹے اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن مرہ بن کعب بن لوی کے ہیں اور پانچویں طلحہ بن عبدالله بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب لوئی ہیں۔ یہ سب لوگ حضرت ابوبکرؓ کے دوستوں میں سے تھے اور انہی کی راہنمائی سے یہ سب اسلام لائے اور ابوبکر صدیقؓ کے بعد عبیدہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے پایہ کے شخص تھے اور برگزیدہ خاندان قریش سے تھے پہلے ہی سے ان کے نام (عبداللہ) میں توحید کی جھلک موجود تھی۔ علم الانساب کی خاص مہارت رکھتے تھے اور محفوظ النسب تھے ان کا لقب بھی عتیق (نجیب) تھا۔ قریش میں بڑے ذی رسوخ تھے آپ کے اسلام لانے سے اسلام کو خاص مدد حاصل ہوئی چنانچہ ان کے طفیل بڑے بڑے اکابر قوم قریش اسلام میں داخل ہوئے۔ کیا ایسا شخص جو اسلام لاتے ہی اشاعت اسلام میں مصروف ہو گیا اور اپنے اثر خاص سے اکابر قوم کوحلقہ بگوش اسلام کیا اور اپنی زندگی خدمت اسلام میں بسر کی حضور سرور عالمﷺ کی تعلیم و تربیت کامل کے بعد منافق ہو سکتا ہے؟ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ
ہفتم: تفسیر مجمع البیان طبری (شیعہ کی معتبر تفسیر ہے) تفسیر آیت
وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞
ترجمہ: اور جو شخص آیا ساتھ صدق کے اور جس نے تصدیق کی اس کی وہی لوگ متقین ہیں۔
کی تفسیر میں لکھا ہے۔
قِيلَ الَّذِی جَاءَ بِالصِّدْقِ رَسُولُ اللَّهِ وَ صَدَّقَ بِهِ أَبُوبَكَر
ترجمہ: جو شخص آیا ساتھ صدق کے وہ رسول اللہﷺ ہیں اور جس نے تصدیق کی ان کی اس سے مراد ابوبکرؓ ہیں۔
ہشتم: کتاب معرفۃ اخبار الرجال مصنفہ شیخ جلیل ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیز "رجال کشی" مطبوعہ بمبئی صفحہ 30 میں یہ حدیث بروایت بریدہ اسلمی درج ہے۔
قَالَ سَمِعْتُ أَبَادَأَوْدَ يَقُولُ حَدَّثَنِى بُرَيْدَةُ أَلَا سُلَمِی قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ إِنَّ الجَنَّةَ مُشْتَاقُ إِلَى ثَلثَةِ فَجَاء أَبُوبَكَرُ فَقَالَ انتَ الصِّدِيق أَنْتَ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ فَلَوْ سَئلْتُ رَسُولَ اللَّهَ عَن لهو لاءِ الثَّلَاثَةِ
ترجمہ: ابوداؤد کہتے ہیں بریدہ اسلمی نے مجھے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، فرمایا بہشت تین شخص کا مشتاق ہے، اتنے میں ابوبکرؓ آ گئے تو حضورﷺ نے فرمایا: تو صدیق ہے، تو دوسرا دو کا ہے جو غار میں تھے۔ راوی کہتا ہے۔ کاش میں حضورﷺ سے پوچھتا کہ وہ تین کون ہیں؟
احتجاج طبرسی میں بروایت امیر المؤمین یہ حدیث درج ہے:
كُنَّا مَعَ النَّبِی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمُ عَلَى جَبَلٍ حَرَاءَ اذْتَحرَّكَ الْجَبَلُ فَقَالَ لَهُ قِرَّ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِی وَصِدِيقٌ وَ شَهِيدٌ .
ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم پیغمبرﷺ کے ساتھ جبلِ حرا پر تھے کہ پہاڑ نے جنبش کی تو حضورﷺ نے فرمایا: کہ ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر ایک نبی، دوسرا صدیق، تیسرا شہید بیٹھے ہیں۔
کیا ان دو روایات کو پڑھ کر بھی شیعہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صدیقیت پر کچھ شک و شبہ باقی رہے گا؟ لیکن ضد کا کیا علاج؟
دہم: نہج البلاغت میں جو شیعوں کی مستند کتاب ہے جس میں جناب امیر کے خطبات اور اقوال درج ہیں، لکھا ہے:
لِلَّهِ بَلادُ فَلَانٍ فَلَقَدْ قَوَّمَ الْإِدَرَ وَدَاوِی الْعَمَدِ وَ أَقَام السِّنَّةَوَخَلَّفَ البَدْعَةَ ذَهَبَ تَقَى الثَّوْبِ قَلِيلِ الْغَيْبِ أَصَابَ خَيْرَهَا وَ سَبَقَ شَرَّهَا أَوى اللَّهُ طَاعَتَهُ وَاتَّقَاءُ بِحِقَّهِ وَ رَحَلَ وَ تَرَكَهُمُ فِی طُرُقِ مُتشَبَةٍ يَهْتَدِی فِيهِ الضَّالُ وَلَا يَسْتَيقِنِ الْمُهْتَدِى
(نهج البلاغت مطبوعہ بیروت: جلد 1، صفحہ 250)
ترجمہ: خدا فلاں (ابوبکرؓ) پر رحمت کرے۔ کجی کو سیدھا کیا ہماری (جہالت) کا علاج کیا۔ سنتِ رسولﷺ کو قائم کیا۔ بدعت کو پیچھے ڈالا۔ دنیا سے پاک دامن اور کم عیب ہو کر گزر گیا۔ خوبی کو پالیا اور شر و فساد سے پہلے چلا گیا۔ خدا کی بندگی کا حق ادا کیا اور تقویٰ جیسے کہ چاہیے اختیار کیا۔ فوت ہو گیا اور لوگوں کو پیچ در پیچ راستوں میں چھوڑ گیا کہ گمراہ کو راستہ نہیں ملتا اور راہ پانے والا یقین نہیں کرتا۔ شارحین
(شارح نہج البلاغت علامہ کمال الدین ابنِ مشیم بحرانی نے لفظ فلاں سے حضرت ابوبکرؓ مراد ہونے کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔ واقوال حادثہ ابی بکرؓ شبہ من ارادتہ العمر (احقر مظہر حسین غفر له)
نہج البلاغت نے لفظ فلاں سے ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما مراد لیا ہے۔
دیکھو اس خطبہ میں علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کیسی تعریف فرماتے ہیں اور اخیر میں کہتے ہیں کہ ہمارا عہدِ خلافت ایسا پر شور ہے کہ ہدایت یافتہ بھی گمراہ ہو جاتے ہیں۔
یاز دهم: تزویجِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تحریک ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی، جلاء العیون اردو جلد 1، صفحہ 118 میں درج ہے۔
روایت کی ہے کہ ایک دن ابوبکر و عمر وسعد بن معاذ رضی اللہ عنہم مسجد حضرت رسول اللہﷺ میں آ بیٹھے۔ آپس میں مزاوجت جناب فاطمہؓ کا ذکر کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا اشرف قریش نے فاطمہؓ کی خواست گاری حضرت سے کی اور حضرت نے ان کو جواب دیا کہ انکا اختیار پروردگار کو ہے اور حضرت علیؓ ابن ابی طالب نے اس بارہ میں حضرت سے کچھ نہیں کہا اور نہ کسی نے ان کی طرف سے کہا اور ہمیں گمان یہی ہے کہ سوائے تنگ دستی کے اور انہیں کچھ مانع نہیں اور جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ نے فاطمہؓ کو بے شک علیؓ کے لیے رکھا ہے۔ پس ابوبکر، عمر اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہم نے کہا اُٹھو! علیؓ کے پاس چلیں اور ان سے کہیں کہ فاطمہؓ کی خواست گاری کریں اگر تنگ دستی انہیں مانع ہے تو ہم اسباب میں ان کی مدد کریں گے۔ سعد بن معادؓ نے کہا بہت درست ہے۔ یہ کہہ کر اُٹھے اور جناب امیر کے گھر آ گئے، جب جناب امیر کی خدمت میں پہنچے، حضرت نے فرمایا کس لیے آئے ہو؟ ابوبکرؓ نے کہا ابو الحسنؓ! کوئی فضیلت فضیلت ہائے نیک سے نہیں ہے مگر یہ کہ تم اور لوگوں پر اس فضیلت میں سابق ہو۔ تمہارے اور حضرت رسول اللہﷺ کے درمیان جو رابطہ بہ سبب یگانگی و مصاحبت دائمی و نصرت دیاری اور جو روابط معنوی ہیں وہ معلوم ہیں۔ قریش نے فاطمہؓ کی خواستگاری کی مگر حضرت نے قبول نہ کی اور جواب دے دیا کہ اس کا اختیار پروردگار کو ہے۔ پس تم کو کیا چیز فاطمہ کی خواستگاری سے مانع ہے؟ ہم کو گمان یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ نے فاطمہؓ کو تمہارے واسطے رکھا ہے۔ باقی اور لوگوں سے منع کیا ہے۔ امیر نے حضرت ابوبکرؓ سے جب سنا، آنسو چشمہائے مبارک سے جاری ہوئے اور فرمایا۔ میرا غم اور اندوہ تم نے تازہ کیا اور جو آرزو میرے دل میں پنہاں تھی اس کو تم نے تیز کر دیا، کون ایسا ہوگا جو فاطمہؓ کی خواست گاری نہ چاہتا ہو لیکن بہ سبب تنگ دستی اس امر کے اظہار سے شرم آتی ہے۔ پس ان لوگوں نے جس طرح ہوا حضرت کو راضی کیا کہ جناب رسول اللہﷺ کے پاس جا کر فاطمہؓ کی خواست گاری کریں۔ جناب امیر نے اپنا اونٹ کھولا اور گھر میں لاکر باندھا۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس قدر خیر خواہی امیر کی مطلوب تھی کہ اس مبارک رشتہ (تزویجِ فاطمہؓ) کی تحریک کی اور ہر طرح سے اس معاملہ میں جناب امیر کی امداد پر آمادگی ظاہر کی۔ پہلے جناب امیر نے اپنی مفلسی کا عذر پیش کیا مگر ان مردانِ خدا نے اُن کو ڈھارس بندھوائی اور معاملہ انجام بخیر ہوا۔ کیا دشمن بھی کسی کی ایسی خیر خواہی کیا کرتے ہیں؟ اگر شیعہ غور کریں تو اس مبارک رشتہ(تزویجِ فاطمہؓ) کا سہرا بھی حضرت ابوبکرؓ کے سر بندھتا ہے جنہوں نے اس سلسلہ کی تحریک کی۔
دوازدہم: جہیز فاطمہؓ ابوبکر نے خرید کیا۔ تزویجِ فاطمہؓ کی ابتدائی تحریک ہی حضرت ابوبکرؓ نے نہیں بلکہ آخری رسوم خرید جہیز وغیرہ بھی سیدنا ابوبکرؓ ہی کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوئی۔ چنانچہ جلا العیون اردو: صفحہ 123 پر مذکور ہے۔
جناب امیر نے فرمایا: حضرت رسولﷺ نے مجھے ارشاد کیا: علی اُٹھو اور اپنی زرہ بیچ ڈالو۔ پس میں گیا اور زرہ فروخت کر کے اُس کی قیمت حضرت کی خدمت میں لایا اور روپے حضرت کے دامن میں رکھ دیئے۔ حضرت نے مجھ سے پوچھا کتنے روپے ہیں؟ اور میں نے کچھ نہ کہا۔ پس ان میں سے ایک مٹھی روپیہ لیا اور بلال کو بلا کر دیا اور فرمایا فاطمہؓ کے لیے عطر، خوشبو لےآ۔ پس ان دراہم میں دو مٹھیاں لیکر ابوبکرؓ کو دیں اور فرمایا بازار میں جا کر کپڑا وغیرہ وغیرہ جو کچھ اثاث البیت درکار ہے لے آ۔ پس عمار بن ہیر اور ایک جماعت صحابہؓ کو ابوبکرؓ کے پیچھے بھیجا اور سب بازار میں پہنچے۔ پس ان میں سے ہر ایک شخص جو چیز لیتا تھا حضرت ابوبکرؓ کے مشورہ سے خرید کرتا اور دکھا لیتا تھا۔ بس ایک پیراہن سات درہم کو اور ایک مقنعہ چار درہم کو اور ایک چادر سیاہ خیبری و کرسی کہ دونوں پاٹ اُس کے لیف خرما سے جڑے تھے اور دو تو شک جامہ ہاے مصری، کہ ایک لیف خرما سے اور دوسری کو پشم گوسپند سے بھرا تھا اور چار تکیے پوست طائف کے ان کو گیاہ اذخر سے بھرا تھا اور ایک پردہ پشم اور بوریا اور چکی اور بادیہ مسی اور ایک ظرف پوست پانی پینے کا اور کاسہ چوبیں دودھ کے لیے اور ایک مشک پانی کے لیے اور ایک آفتابہ قیر اندود اور ایک سبوئی سبز اور کوزہ ہائے سفالین خرید کیے۔ جب سب اسباب خرید چکے۔ بعض اشیاء سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور سب اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسباب مذکورہ اُٹھایا اور حضرت رسولﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضرت رسولﷺ ہر ایک چیز کو دست مبارک میں اُٹھا کر ملاحظہ فرماتے اور کہتے تھے خداوندا میرے اہلِ بیت پر مبارک کر (صفحہ 122)
اس سے سے معلوم ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی دوستی کے علاوہ حضرت رسول پاکﷺ کو بھی حضرت ابوبکرؓ پر اس قدر بھروسہ و اعتماد تھا کہ جہیز فاطمہؓ کی خرید پر بھی وہی مامور ہوئے اور سب اسباب ان کے مشورہ سے خریدا گیا۔ دشمنوں کو بھی ایسے مبارک کام کے لیے منتخب کیا جاتا ہے؟
جلاء العیون اردو: صفحہ 77 میں لکھا ہے۔
ثعلبی نے روایت کی ہے کہ جس وقت مرض حضرت رسولﷺ پر سنگین ہوا۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا یا حضرتﷺ! آپ کس وقت انتقال کریں گے؟ حضرت نے فرمایا۔ میری اجل حاضر ہے۔ ابوبکرؓ نے کہ: آپ کا بازگشت کہاں ہے؟ حضرت نے فرمایا: جانب سدرۃ المنتہیٰ و جنت الماویٰ و رفیق اعلیٰ و عیش گزار و جرعہاء شراب قرب حق تعالیٰ میری بازگشت ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا آپ کو غسل کون دے گا۔ حضرت جی نے فرمایا جو میرے اہلِ بیت سے ہے مجھ سے بہت قریب ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کس چیز میں آپ کو کفن کریں گے؟ حضرت نے
فرمایا: انہیں کپڑوں میں جو میں پہنے ہوں، پاجامہ ہائے یمنی و مصری میں۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا؟
کس طرح آپ کی نماز پڑھیں؟ اس وقت جوش وخروش اور غلغلہ آواز مردم بلند ہوا اور در و دیوار کانپنے لگے۔ حضرتﷺ نے فرمایا صبر کرو۔ خدا تم لوگوں سے عفو کرے۔ انتہیٰ
اب شیعہ سے پوچھا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ معاذ اللہ عجیب منافق تھے کہ آخر وقت میں بھی حضورﷺ راز کی باتیں اور وصیتیں اسی کو سناتے رہے۔ آخری وقت تو انسان تمام دنیوی علائق سے آزاد ہو کر صرف متوجہ الی اللہ ہو جاتا ہے اور اس وقت وہی بھلا معلوم ہوتا ہے جو متوجہ الی اللہ ہو۔ پاک لوگ آخری دم میں کبھی بھی ناپاک لوگوں کو پاس پھٹکنے نہیں دیتے۔ غرض حضورﷺ کو اپنے محبت صادق حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اس درجہ محبت و پیار تھا کہ بوقت نزع بھی اسی کو شرف ہم کلامی بخشا (خوشا حال ابوبکرؓ)
چہار دہم: شیعہ کی متعدد کتب میں شیخین رضی اللہ عنہما کی نسبت سیدنا جعفرؒ سے مروی یہ حدیث موجود ہے۔
هُمَا إِمَامَانِ عَادِلانِ فاسطانِ كَانَا عَلَى الْحَقِّ وَمَاتَا عَلَيْهِ فَعَلَيْهمَا رَحْمَةُ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ
ترجمہ: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں امام عادل اور باانصاف حق پر تھے۔ حق پر ہی فوت ہوئے۔ ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو قیامت کے دن۔
پانزدهم: نہج البلاغہ کی شرح کبیر مؤلفہ کمال الدین ابنِ میسم بحرانی جو 677ھ میں تصنیف کی گئی میں یوں درج ہے.
وَكَانَ أَفْضَلَهُمْ فِي الإسلام كَمَا زَعَمَتِ وَانْصَحَهُمْ لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ الْخَلِيفَة الصديق والخليفته الفاروق.
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام سب سے بہتر اور خدا اور رسولﷺ کے بڑے مبلغ اسلام حضورﷺ کے جانشین حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما تھے۔
اب میں پندرہ شہادت کتب شیعہ سے لکھ کر حضرات شیعہ کو دو از دہ آئمہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اس قدر روشن شہادات دربارہ تعریف اعتراف فضیلت و صدیقیت حضرت ابوبکر صدیقؓ دیکھ کر بھی تم لوگ ضد سے باز نہ آؤ گے؟ ہاں! مگر جن کے دلوں پر شقاوت کی مہر لگ چکی ہے، ان کو کون ہدایت کرے۔
وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِمُ
-
شجرہ طیبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
اہل بیت رضی اللہ عنہ اور خاندان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں
-
واقعہ ہجرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قرآن کریم
-
خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یار غار و مزار، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
سفر ہجرت، غار ثور اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رونا، پریشان ہونا
-
غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موجودگی شیعہ کتب سے
-
شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
حضرت عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے حضورﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کے ساتھ رشتہ داری کے تعلقات
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اہل بیت کے ساتھ اچھا سلوک
-
رسول اللہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ پر امام کرنے کا حکم فرمایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے رہے۔
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سید المرسلین رحمۃ للعالمین رسول اللہﷺ کے ساتھ روضۂ اطہر میں آرام فرما ہیں، جو کہ جنت کا ٹکڑا ہے
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم یعنی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں اچھا گمان کرنا اور ان کے طریقہ کو اپنے لئے ذریعہ نجات تسلیم کرنا
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عقیدہ میں
-
خیر البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ احادیث کی روشنی میں
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ عنہ کی زبان سے
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلافت صدیقی میں سقیفہ بنی ساعدہ میں آپ کا مؤقف اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت
-
مانعینِ زکوٰۃ سے جہاد اور لشکر اسامہ کی روانگی میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی گفت وشنید
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن کو جاگیر دیے جانے پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اعتراض
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کرنا
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ معاشرہ میں
-
لشکر اسامہ کی روانگی سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی گفتگو
-
مرتدین کے نام سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خط
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں عفو و درگزر
-
بنو اسد اور بنو غطفان کا وفد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اور ان کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہاں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی شان میں جو یہ فرمایا: تمہارا شیر دشمن کے شیر پر ٹوٹ پڑا اور اس پر غالب آکر اس کا گوشت چھین لیا۔ کیا خواتین خالد جیسے مرد جننے سے عاجز آ گئی ہیں
-
جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا اور اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں جنگی منصوبہ بندی کے نقوش
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیتوں کی روشنی میں اللہ تعالیٰ، قائدین اور لشکر کے حقوق
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا استخلاف اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات
-
نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا متعدد کارروائیاں عمل میں لانا
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اجتماعی مقام
-
سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شفقت پدری
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد میں سے اپنی وصیت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کی
-
تیسرا مبحث سیدہ عائشہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی باہمی فضیلت
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعض فوائد
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث
-
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رضا مندی کا اظہار
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کو بھیجنا
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں
-
دوسرا مرحلہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں
-
شجرہ طیبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
اہل بیت رضی اللہ عنہ اور خاندان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں
-
صحابہ کرام و خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے متعلق ضروری عقائد
-
خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یار غار و مزار، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
سفر ہجرت، غار ثور اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رونا، پریشان ہونا
-
غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موجودگی شیعہ کتب سے
-
سیدنا جعفر الصادق رحمۃ اللہ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے کا حکم دیا۔ (اصول کافی)
-
ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے نام مبارک کتنے عظیم المرتبت ہیں۔
-
ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کے پسندیدہ نام ابوبکر، عمر و عثمان!
-
حضور ﷺ پر جادو کا اثر ہونا۔(اعتراض کا رد)
-
بخاری کی حدیث میں ہے کہ میں نے تیس(30)اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی حالت میں پایا ہے کہ تمام کے تمام اس سے ڈرا کرتے تھے کہ کہیں ہم منافق نہ ہوں۔
-
مذاہب اربعہ اور شیعہ اعتراض کا جواب
-
کیا موجودہ قرآن اصلی ہے؟
-
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع قرآن کا تیسرا مرحلہ
-
تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ
-
شیخین رضی اللہ عنہما کی خلافت کا انکار کرنے والے پر حکم
-
مسلہ خلافت اور مسلہ تفضیل
-
صحابہ کرام و اہل بیت رضی اللہ عنہم سے محبت عین ایمان ہے۔
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین افضلیت کا عقیدہ
-
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی
-
شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب کون ۔
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور کثرت نکاح
-
سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما
-
طعام کا بندوبست
-
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
-
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح
-
حضرت ابو عسیب رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہﷺ
-
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں
-
مقدمہ
-
نام، نسب، کنیت، القاب، اوصاف
-
خاندان
-
اولاد
-
صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم
-
برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے اولین نقوش
-
جاہلی معاشرہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اخلاقی سرمایہ
-
اسلام
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا
-
سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ
-
ابتلاء و آزمائش
-
آپ رضی اللہ عنہ کی پہلی ہجرت اور ابن الدغنہ کا مؤقف
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ
-
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میدان جہاد میں
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان
-
سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں
-
مرض الموت کا آغاز
-
حکمت کی باتیں جو زبان زد ہوئیں
-
قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے
-
احادیث نبویہ جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے
-
خلافت صدیقی پر اجماع
-
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ہمت افزائی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بشارت
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
-
میں نے ایسی نابغۂ روزگار شخصیت نہ دیکھی جو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسی ذہین و فطین ہو
-
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور مرض الموت کے متعلق سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا موقف
-
وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا موقف
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلافت صدیقی میں سقیفہ بنی ساعدہ میں آپ کا مؤقف اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت
-
مانعینِ زکوٰۃ سے جہاد اور لشکر اسامہ کی روانگی میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی گفت وشنید
-
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور یمن سے معاذ رضی اللہ عنہ کی واپسی
-
ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ کے بارے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سچی فراست
-
بحرین کے لیے ابان بن سعید کی نامزدگی پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے
-
مرتدین کے خلاف جنگ میں مسلمان مقتولین کی دیت کی عدم قبولیت پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن کو جاگیر دیے جانے پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اعتراض
-
قرآن کریم کو جمع کرنا
-
مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کرنا
-
منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پہلا خطبہ
-
عدل و مساوات
-
آمدورفت اور صبح و شام چلنے پھرنے کی آزادی
-
خلیفہ کے اخراجات ہجری تاریخ کا آغاز اور امیر المؤمنین کا لقب
-
امیر المومنین کا لقب
-
تواضع
-
منصب خلافت اور خلیفہ
-
عام بیعت اور داخلی امور کا انتظام وانصرام
-
لوگوں کے درمیان عدل و مساوات کو قائم کرنا
-
فواحش کے خلاف اعلان جنگ
-
داخلی امور کا انتظام وانصرام
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ معاشرہ میں
-
عاشورۂ محرم کے دن کی بدعات کے بارے میں ابن تیمیہ اور ابن کثیر رحمہما اللہ کی رائے
-
بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال فے کے بارے میں عباس و علی رضی اللہ عنہما کا باہمی نزاع
-
عبادات کا اہتمام
-
علم اور تعلیم و تربیت کی قدرت و صلاحیت
-
دور اندیشی اور صبر
-
مالی سیاست، زمام حکومت سنبھالتے ہوئے جس کا اعلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اہل نجران پر رسول اللہﷺ کے فرمان نامے کو نافذ کر رہے ہیں
-
زمینوں کی جاگیر سے متعلق سیاست عثمانی
-
اخیافی (ماں شریک) بھائی سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر حد قائم کرنا
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا
-
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات
-
شامی درس گاہ
-
عبادات و معاملات
-
سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر
-
زکوٰۃ
-
اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام
-
زکوٰۃ کے اخراجات
-
زرعی ترقی کے لیے جاگیر مقرر کرنا
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کیا
-
طائف
-
بحرین
-
شام اور اس کی ریاستیں
-
عراق اور فارس کی ریاستیں
-
والیان ریاست کا مال تقسیم کر لینا
-
پہلی معزولی
-
چھٹی فصل
-
حضرت ابو عبید ثقفی رحمہ اللہ کی امارت میں عراق کی جنگ
-
بازاروں پر چھاپہ مار حملے
-
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عراق میں اور مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی وفات
-
ارتداد سے سچی توبہ کرنے والوں سے استعانت
-
قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بہادرانہ مواقف
-
فتوحات شام
-
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کا خواب
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات سے متعلق حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا خواب
-
اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے لیے جدت طرازی
-
پاک طینت و تقویٰ شعار جماعت کے ذریعہ سے انتخابی کارروائی کی نگرانی اور ہنگامہ آرائی پر قدغن
-
مسلمانوں پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے اثرات
-
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اہتمام
-
والد کا نفقہ اولاد کے ذمہ
-
کوڑے لگانے کا حکم
-
شہروں پر والی مقرر کرنا
-
خلیفہ کے لیے بیعت لینا
-
لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت اور اسلام کی نشر و اشاعت
-
ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے
-
لشکر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ
-
اس خطبہ کے اندر مختلف دروس وعبر ہیں
-
لشکر اسامہ کی روانگی سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی گفتگو
-
لشکر اسامہ کی تنفیذ سے حاصل ہونے والے دروس وعبر اور فوائد
-
دعوتی تحریک کسی فرد پر منحصر نہیں اور ہر حال میں رسول اللہﷺ کی اتباع واجب ہے
-
مرتدین کے سلسلہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مؤقف
-
مدینہ کی حفاظت کا منصوبہ
-
مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی
-
حکومت کی طرف سے سرکاری کارروائی
-
منظم فوج کو روانہ کرنا
-
مرتدین کے نام سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خط
-
صدیقی خط کا بنیادی محور
-
اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ کا قتل
-
اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ کا قتل
-
لشکر عدامہ
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں عفو و درگزر
-
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو وصیت اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا محاسبہ
-
طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ
-
بنو اسد اور بنو غطفان کا وفد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اور ان کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
-
ام زمل کا واقعہ
-
دروس وعبر اور فوائد
-
طلحہ اسدی کی شکست کے اسباب
-
معرکہ بزاخہ کے نتائج
-
فجاءۃ کا قصہ
-
سجاح بنو تمیم اور مالک بن نویرہ الیربوعی کا قتل
-
حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور مالک بن نویرہ کا قتل
-
جنگی قائدین کی تائید
-
اہل بحرین کا ارتداد
-
مرتدین کی شکست
-
معرکہ یمامہ کے بعض شہداء حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ
-
قرآن کا جمع و تدوین
-
حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط و اسباب اور شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار مجاہدین کے اوصاف
-
خارجی دخل اندازی کے خلاف جنگ میں صدیقی سیاست
-
دور صدیقی کی فتوحات
-
فتح عراق کے لیے صدیقی منصوبہ
-
دروس و عبر
-
12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف ان کو روانہ ہونے کا صدیقی فرمان
-
فتوحات شام
-
روم پر حملہ کرنے کا صدیقی عزم اور اس راہ میں بشارتیں
-
جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا اور اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم
-
سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا
-
شام میں پوزیشن خراب ہونا
-
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ اجنادین و یرموک
-
دشمن کو بھاگنے کا موقع فراہم کرنا اور رومی پیادہ فوج کا صفایا
-
اہم دروس و عبر اور فوائد خلافت صدیقی میں خارجی سیاست کے نقوش
-
جہاد کو جاری رکھنا جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
-
مفتوحہ اقوام کے ساتھ عدل وانصاف اور نرمی کا برتاؤ
-
مفتوحہ اقوام پر زور و زبردستی سے اجتناب
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں جنگی منصوبہ بندی کے نقوش
-
تیاری اور افواج کو جمع کرنا
-
جنگ کے مقاصد واہداف کی تحدید
-
محاذ جنگ کو فوقیت دینا
-
میدان معرکہ سے برطرفی
-
قائدین کے ساتھ روابط کے وسائل کا تحفظ
-
خلیفہ کی ذکاوت و زود فہمی
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیتوں کی روشنی میں اللہ تعالیٰ، قائدین اور لشکر کے حقوق
-
قتال سے مقصود اللہ کے دین کی نصرت ہو
-
امانت کی ادائیگی
-
قائد کے حقوق
-
لشکر کے حقوق
-
میدان جنگ میں فوج کی ترتیب
-
لشکر کو قتال پر برانگیختہ کرنا
-
لشکر پر ان حقوق کی ادائیگی لازم قرار دینا جن کو اللہ نے فرض کیا ہے
-
نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا متعدد کارروائیاں عمل میں لانا
-
موت کا وقت قریب آ گیا
-
خلاصہ
-
الشیخ صالح بن فوزان الفوزان
-
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تعارف
-
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے القاب
-
چوتھا مبحث خاندان قرابت دار غلام اور لونڈیوں کا تذکرہ
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی
-
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیات مبارکہ
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اجتماعی مقام
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنے والد کے ہاں مقام و مرتبہ
-
سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شفقت پدری
-
دوسرا مبحث رفاقت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گزرے سنہری ایام
-
تاریخی انحراف کی اصل وجہ
-
امور خانہ داری اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محرم راز تھیں
-
چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ڈھلتی رات سرگوشیاں
-
تیسرا مبحث وفات نبویﷺ کے بعد
-
پہلا نکتہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد میں سے اپنی وصیت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کی
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خشوع قیام اور نرم دلی کی مثالیں
-
چوتھا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ
-
عربوں کے ہاں نکاح کی اقسام
-
احسن طریقے سے وعظ کا اسلوب
-
دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل
-
تیسرا مبحث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر علمائے امت رحمہم اللہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے مدح و ثنا
-
دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں علماء کے اقوال
-
تیسرا مبحث سیدہ عائشہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی باہمی فضیلت
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی توبہ و مغفرت کے بارے میں ائمہ شیعہ کی گواہیاں
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی توبہ و مغفرت کے بارے میں ائمہ شیعہ کی گواہیاں
-
ان بہتانوں کا تذکرہ جن کی زد بلا واسطہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑتی ہے
-
چوتھا شبہ
-
چھٹا شبہ
-
ساتواں شبہ
-
دوسرا شبہ
-
تیسرا شبہ
-
واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل
-
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میزان عقل میں
-
وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعض فوائد
-
اموی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد خلافت میں
-
کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا حق دبا کر اپنے کسی قرابت دار کو کوئی عہدہ دیا؟
-
قاضی ابن العربی المالکی رحمہ اللہ علیہ
-
دولت امویہ کا دار الحکومت اور شام کے فضائل میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں مالی نظام
-
بیزنطی حکومت کے خلاف تحریک جہاد
-
ارض روم کا غازی ابو مسلم خولانی رحمۃاللہ علیہ
-
اہل مدینہ سے بیعت کا مطالبہ
-
بیعت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ انعقاد
-
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیعت کے انعقاد کا طریقہ
-
آثار رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تبرک
-
مقدمہ
-
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دودھ پلانے والی خاتون ام الفضل رضی اللہ عنہا
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث
-
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رضا مندی کا اظہار
-
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت
-
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عہد میں
-
سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر)
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کو بھیجنا
-
دروس و عبر
-
کسی ایک شخص سے دعوتی مشن کا وجود نہیں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واجب ہے
-
مؤمنوں کے مابین اختلاف رونما ہونا اور کتاب و سنت سے اس کو حل کرنا
-
جس چیز کی دعوت دی جائے عملاً کر کے دکھایا جائے
-
اسلام میں جہاد کے بہترین آداب
-
مرتدین سے جنگیں
-
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد میں
-
خلیفہ کی تعیین میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تفقہ
-
مجلس شوریٰ اعلیٰ ترین سیاسی کمیٹی تھی
-
خلافت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی رائے
-
اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے
-
ثالثا امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اور خلافت سے متعلق اہل سنت کی رائے
-
شہوت کو کنٹرول کرنے کے لیے روزے کی ترغیب
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں
-
ثالثا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہاشمی رضی اللہ عنہ
-
خلافت راشدہ کے نقوش و آثار
-
ثانیا فتوحات کا پہلا دور لوٹ آیا
-
کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار بارہ خلیفوں میں ہوتا ہے؟
-
مقدمہ
-
ایک مصحف پر امت کو جمع کرنے کا عظیم کارنامہ
-
عہد نبوی اور عہد صدیقی کی کتابت قرآنی میں فرق
-
تیسرا مرحلہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد میں
-
سیدنا ابوبکر صدیق اور عثمان رضی اللہ عنہما کے جمع قرآن کے درمیان فرق
-
کیا عثمانی مصاحف تمام حروف سبعہ پر مشتمل تھے؟
-
صوبوں سے وفود طلب کرنا تاکہ امراء اور گورنروں سے متعلق ان سے دریافت کریں
-
لوگوں کے لیے راشن کا تحفظ
-
کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے حساب پر کسی قرابت دار سے مجاملت کی؟
-
فضلیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سنی شیعہ کتب اسکینز
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین روضہ رسولﷺ میں (حسن الھیاری کو منہ توڑ جواب)
-
فضل ہمدرد کی جہالت کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ کی حیات میں نمازیں پڑھائیں تھیں؟
-
کیا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ متزلزل ہو گے تھے؟ پلمبری سوچ
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نسب اور رافضی اعتراض
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وقت وفات اور اقرار جرم کی اصل حقیقت
-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان کی گواہی نہ دی۔(معاذاللہ)
-
جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے امام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فدک کے لیے کچھ تحریر فرما کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو دیا تھا؟؟
-
مسلہ فدک میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر صادق رحمہ اللہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حمایت میں
-
خلافت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
اہل سنت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا امام قرار دیتے ہیں مگر ابوبکر کو اپنی امامت کا شک تھا کہ وفات کے وقت انہوں نے کہا: ليتنی كنت سألت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ھل للانصار فى هٰذا الأمر حق کاش کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتا کہ انصار کے لیے اس امر میں کوئی حق ہے۔
-
اہل سنت نامرد کو بہادر پر ترجیح دیتے ہیں نامرد سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ لیتے ہیں، اور یہ بہادر سے مراد علی رضی اللہ عنہ استدلال میں یہ آیت پیش کرتے ہیں: لا تحزن ان الله معنا(سورۃ التوبة 40) غم نہ کر، اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر اکھاڑنے کی کوشش
-
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور متعہ
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرعون و ہامان ہیں (نعوذ باللہ)
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکایا جائے گا (نعوذ باللہ)
-
برائے کرم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ ائمہ کا عقیدہ اختصار کے ساتھ بیان فرمائیں؟
-
کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ نے اپنے ائمہ کے عقیدے کی اتباع کی ہے؟
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ علماء کا مجموعی عقیدہ کیا ہے؟
-
تاریخ شاہد ہے کہ قریش مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر لیا تھا اس بائیکاٹ کا عرصہ تین سال کا ہے ابوطالب تمام بنو ہاشم کو شعب ابی طالب میں لے گئے تھے یہ تین سال کا عرصہ بنی ہاشم نے نہایت عسرت اور کٹھن تکالیف سے گزارا ان تین سال کے عرصے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہاں تھے اگر یہ بزرگ مکہ میں تھے تو انہوں نے آنحضرتﷺ کا ساتھ کیوں نہ دیا اگر یہ بزرگ شعب ابی طالب میں حضور انور ﷺ کے ساتھ نہ جا سکے تو کسی وقت ان بزرگوں نے آب و دانہ میں سے حضرت محمدﷺ کی کوئی مدد کی ہو جب کہ کفار مکہ میں سے زہیر بن امیہ بن مغیرہ نے پانی کھانا پہنچانے اور عہد نامہ توڑنے پر دوستوں کو آمادہ کیا۔
-
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بقول اہل سنت رسول اللہﷺ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہوا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال یا اڑھائی برس رسول خداﷺ کے بعد ہوا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے 26 ذی الحجہ 24ھ کو انتقال فرمایا تو کیا وجہ تھی کہ دونوں بزرگوں کو جو نبی اکرمﷺ کے بعد کافی عرصہ کے بعد انتقال کرتے ہیں۔ روضہ رسولﷺ میں دفن ہونے کے لئے جگہ مل گئی اور رسول خداﷺ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ ئ مادر حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کو باپ کے پاس قبر کی جگہ نہ مل سکی کیا خود حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا نے باپ سے علیحدگی قبر کی وصیت کی تھی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حکومت وقت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا یا مسلمانوں نے بضعئہ رسولﷺ کو قبر رسولﷺ کے پاس دفن نہ ہونے دیا فاعتبروا یاولی الابصار۔
-
دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وعدہ نصرت کیوں نہ فرمایا کیا یہ دونوں بزرگ دعوت ذوالعشیرہ میں شامل تھے اگر شامل نہ تھے تو یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی کیونکر ہو سکتے ہیں؟
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟
-
مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔
-
تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی
-
جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شیعہ کتاب حیات القلوب سے ثبوت
-
باغ فدک: سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ سے ناراضگی اور صحیح روایات پر تحقیق
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نسب اور رافضی اعتراض
-
مسئلہ باغ فدک اور حدیث بخاری کا صحیح مفہوم(شیعہ کتب کی روشنی میں)
-
ثانی اثنین کا مصداق کون ؟
-
خاندان بنو ہاشم اور متعدد صحابہ نے ابوبکر کی خلافت تسلیم نہیں کی۔ (کتاب المختصر فی اخبار البشر لابی الفداء، الکامل فی التاریخ ابن الاثیر، العقد الفريد، محمد بن عبدربہ، حیاۃ الصحابہ)
-
حضرت ابوبکر پر توہین امہات المومنین کا الزام (تاریخ الخلفاء، حیات الحیوان ، ازلۃ الخفاء مختصر سیرت رسول ، الصوعق الحرقہ، حیات الصحابہ)
-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان کی گواہی نہ دی۔(معاذاللہ)
-
حضرت ابوبکر نے خاتون جنت سیدہ فاطمہ کے دعوی پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔تفسیر رازی
-
حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو ان کا حق باغ فدک نہیں دیا جو وراثت میں رسول اللہ نے دیا تھا جس وجہ سے حضرت فاطمہ مرتے دم تک حضرت ابوبکر سے ناراض رہیں (بخاری شریف)
-
جب حضرت ابوبکر بقول اہلسنت تمام امت محمدیہ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی چارہ قائم فرمایا تو حضرت ابوبکر کو کیوں نا اپنا بھائی فرمایا؟؟ جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت ذوالعشیرہ اورمدینہ منورہ میں تشریف لانے پر بوقت مواخات فرمایا علی انت اخی فی الدنیا والاخرة انصاف مطلوب
-
حضرت ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے دل میں شرک چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی ہے۔
-
باغ فدک کیا تھا، کہاں سے آیا اور اس کی آمدنی کے مصارف کیا تھے؟
-
شعب ابی طالب : اصل حقائق بمعہ ثبوت
-
جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے امام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
عقل کہتی ہے کہ فوج کاسپہ سالارایک بہادر اور طاقتور انسان کو ہونا چاہئے ۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے فوج کی سپہ سالاری کاعہدہ اسامہ کوکیوں سونپا؟ اور ابوبکر اورعمر کو اس عہدے کے قابل کیوں نہیں سمجھا ؟ بس جوشخص فوج کی سپہ سالاری کی اہلیت نہ رکھتا ہو وہ خلافت کے عہدے پرکیسے فائز ہوسکتاہے جب کہ خلافت سپہ سالاری سے بھی بڑا عہدہ ہے؟
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رات کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا اور دفن کردیا کسی کو بتایا ہی نہیں۔
-
لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی
-
اہل تشیع اور تحریف القران
-
شیعہ کی من گھڑت عید مباہلہ کی حقیقت
-
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل عشرہ: عمرو بن میمون روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں دس اوصاف پائے جاتے ہیں جو کسی اور میں موجود نہیں۔
-
جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب
-
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جناب سیدہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا مکان جلادیا اور آپ کے پہلوئے مبارک میں تلوار کا کچوکا دیا کہ اس کے صدمہ سے آپ کا حمل ساقط ہوگیا۔(معاذاللہ)۔
-
۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا
-
عمرو بن میمون روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں دس اوصاف پائے جاتے ہیں جو کسی اور میں موجود نہیں
-
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی طبعی وفات اور جنازہ
-
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھاکا جنازہ کس نےپڑھایا، کیاسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا ابوبکررضی اللہ عنہ سےناراض رہیں؟؟
-
واقعہ ایلاء
-
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق شیعوں سے چند سوالات
-
خطبہ شقشقیہ اور اہل سنت مؤقف
-
مقدمہ
-
فصل:.... چادر میں چھپانے کا قصہ
-
فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب
-
فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق کون ؟
-
فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات
-
فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات
-
فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض
-
اہل بیت مقہور و مجبور نہ تھے
-
وفات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے احوال اور رافضی کا جھوٹ
-
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھارھویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث طیر]
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]
-
فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے
-
فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری]
-
فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ]
-
فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]
-
فصل:....[سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خانہ تلاشی کا واقعہ ]
-
فصل:....[ جیش اسامہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ]
-
فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا]
-
فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات]
-
فصل:....آیت ﴿وسیجنبہا الاتقی﴾اور شیعہ کا استدلال
-
فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال
-
فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی]
-
فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ]
-
فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]
-
شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی ابتداء
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر اکھاڑنے کی کوشش
-
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فتاویٰ
-
سنیوں کے خلاف شیعوں کا دسیسہ کاری
-
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور متعہ
-
شیعہ اعتقاد کے مطابق اللہ تعالی کے ساتھ شرک کا مطلب کیا ہے اور مشرکین سے براءت کا مفہوم كیا ہے؟
-
کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ نے اپنے ائمہ کے عقیدے کی اتباع کی ہے؟
-
تاریخ شاہد ہے کہ قریش مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر لیا تھا اس بائیکاٹ کا عرصہ تین سال کا ہے ابوطالب تمام بنو ہاشم کو شعب ابی طالب میں لے گئے تھے یہ تین سال کا عرصہ بنی ہاشم نے نہایت عسرت اور کٹھن تکالیف سے گزارا ان تین سال کے عرصے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہاں تھے اگر یہ بزرگ مکہ میں تھے تو انہوں نے آنحضرتﷺ کا ساتھ کیوں نہ دیا اگر یہ بزرگ شعب ابی طالب میں حضور انور ﷺ کے ساتھ نہ جا سکے تو کسی وقت ان بزرگوں نے آب و دانہ میں سے حضرت محمدﷺ کی کوئی مدد کی ہو جب کہ کفار مکہ میں سے زہیر بن امیہ بن مغیرہ نے پانی کھانا پہنچانے اور عہد نامہ توڑنے پر دوستوں کو آمادہ کیا۔
-
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بقول اہل سنت رسول اللہﷺ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہوا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال یا اڑھائی برس رسول خداﷺ کے بعد ہوا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے 26 ذی الحجہ 24ھ کو انتقال فرمایا تو کیا وجہ تھی کہ دونوں بزرگوں کو جو نبی اکرمﷺ کے بعد کافی عرصہ کے بعد انتقال کرتے ہیں۔ روضہ رسولﷺ میں دفن ہونے کے لئے جگہ مل گئی اور رسول خداﷺ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ ئ مادر حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کو باپ کے پاس قبر کی جگہ نہ مل سکی کیا خود حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا نے باپ سے علیحدگی قبر کی وصیت کی تھی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حکومت وقت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا یا مسلمانوں نے بضعئہ رسولﷺ کو قبر رسولﷺ کے پاس دفن نہ ہونے دیا فاعتبروا یاولی الابصار۔
-
دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وعدہ نصرت کیوں نہ فرمایا کیا یہ دونوں بزرگ دعوت ذوالعشیرہ میں شامل تھے اگر شامل نہ تھے تو یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی کیونکر ہو سکتے ہیں؟
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟
-
اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہم سے کثرت سے احادیث پیغمبرﷺ مروی ہیں کیا وجہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ دیگر بزرگوں سے علم میں کم تھے یا انہیں آنحضرتﷺ کے پاس رہنے کا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے کم موقعہ ملا تھا اس سوال کا جواب تلاش کرتے وقت حدیث نبوی: انا مدينة العلم وعلى بابها واعلم امتی بعدی علیؓ بن ابی طالب زیر نظر رہے۔
-
اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے جب کفار سے جنگ کرنا بہت بڑی عبادت و سعادت ہے اور اگر کثرت افواج کی وجہ سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تو جنگ جمل و جنگ صفین میں بنفس نفیس کیوں ذوالفقار کو نیام سے نکال کر میدان میں اترے کیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ شجاع تھے؟ یا حکومت وقت کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تعلقات اچھے نہ تھے کہ سیف اللہ کا خطاب حضرت خالد بن ولیدؓ کو مل گیا نیز تعلقات اچھے ثابت کرتے ہوئے تاریخ طبری سے جو دو مکالمے مولانا شبلیؒ نے کتاب الفاروق صفحہ 285 پر نقل کیے ہیں پیش نظر رہیں انصاف سے یہ دونوں مکالمے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مابین ہیں پڑھ کر فیصلہ صادر فرمائیں۔
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر امت نے نبی کے جنازے پر خلیفہ کے انتخاب کو فوقیت دی ہو اگر ایسی کوئی مثال ما سلف میں نہ ملے تو امت مصطفیٰ اللہﷺ نے ایسا کرنا کیونکر مناسب سمجھا۔
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)
-
کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ نشینوں سے منافق ہیں اور بعض لوگ مدینہ کے بھی سرکشی کرتے ہیں اوپر نفاق کے تو نہیں جانتا ان کو ہم جانتے ہیں ان کو شتاب عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرے جاویں گے طرف عذاب بڑے کے۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ) اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی رسول خداﷺ کے زمانے میں منافق رہا کرتے تھے اس کے علاؤہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مدینۃ الرسولﷺ میں کثرت سے منافق رہا کرتے تھے انتقال مصطفیٰﷺ کے بعد مسلمانوں کی دو پارٹیاں معرض وجود میں آئیں ایک حکومت کی اور دوسری بنی ہاشم کی پارٹی ارشاد فرمائیں کہ منافقین کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جو لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں منافق تھے انتقالِ رسولﷺ کے بعد ان منافقین کو کیا آسمان نے اٹھا لیا یا انہیں زمین نگل گئی یا تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے 234 بن گئے ان منافقین کی نشان دہی تو کرو کہ وہ کہاں غائب ہو گئے جب کہ تاریخ شاہد ہے ان دو پارٹیوں کے علاؤہ کوئی تیسری پارٹی ہی رکھی تحقیق ضروری ہے۔
-
مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔
-
رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔
-
کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔
-
کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی بھی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ نبی کی وفات پر امت نے اپنے پیغمبر کا خلیفہ اجماع سے بنایا اگر ہو تو نام ارشاد فرمائیں۔
-
کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل
-
اسمعیلیت کی ابتداء
-
نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں
-
حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)
-
بعد از رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طریقہ ہدایت
-
خلیفہ نامزد نہ کرنے کی حکمت
-
حدیث ثلاث كذبات کا مفہوم
-
مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار
-
مطاعنِ صدیقی
-
ہجرت اور صدیقیؓ رفاقت
-
سابقون اولون کے طبقات
-
تفسیر آیت مباھلہ
-
کرامات صدیقیؓ
-
مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
-
تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی
-
مطاعن فاروقی
-
احد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمات
-
حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی وجہ
-
عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات
-
بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا
-
مطاعن عثمانی
-
مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے
-
حرمت متعہ
-
فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات
-
عقلی دلیل
-
فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے
-
فضائل صدیقی پر روشن دلائل
-
خلافت و امامت
-
امر دوم: کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل تھے؟
-
حدیث خم غدیر کا نص خلافت نہ ہونے کا ثبوت کتب شیعہ سے
-
پہلا طعن
-
دوسرا طعن
-
پانچواں طعن جنازہ رسول ﷺ
-
چھٹا طعن (قضیہ فدک)
-
سوال شیعہ
-
جنازہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا
-
ساتواں طعن
-
نقلی دلائل
-
مسئلہ تکبیرات جنازه
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلیل (شیعہ مناظر کو منہ توڑ جواب)
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے بعد خلافت میں آئیں گے، پھر عمر رضی اللہ عنہ (تفسیر قمی)
-
کتابت قرآن کا دوسرا مرحلہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں
-
فیصلہ کن مناظرہ خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوئی تھیں؟(مولانا علی معاویہ اور ڈاکٹر حسن عسکری)
-
عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلیل (شیعہ مناظر کو منہ توڑ جواب)
-
باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟
-
ایک افسانہ: سیدہ فاطمہ کی طرف سے فدک کے ہبہ کا دعوی سیدہ فاطمہ کا یہ کہنا کہ رسول اللہ ص نے مجھے فدک دیا تھا اور اس پر گواہ پیش کئے شیعہ رافضیوں کی جھوٹی کہانی ہے۔
-
یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر صادق
-
شیعہ مناظر کا مطالبہ کہ ایک حدیث پیش کریں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر ۔۔۔ سنی مناظر نے منہ مانگا دلیل شیعہ مذھب کی معتبر ترین کتاب سے صحیح سند سے ثابت دے دیا۔۔۔
-
شہباز اصفہانی کی جہالت کا ایک اور ثبوت! کیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کی منکر تھیں؟
-
شیعہ مناظر کا مطالبہ کہ ایک حدیث پیش کریں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر ۔۔۔ سنی مناظر نے منہ مانگا دلیل شیعہ مذھب کی معتبر ترین کتاب سے صحیح سند سے ثابت دے دیا۔۔۔