Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ غار کے متعلق تفسیر عسکری، قمی اور حملہ حیدری کی عبارتیں اوپر لکھی جا چکی ہیں، جن سے فضائلِ صدیق رضی اللہ عنہ کا نمایاں ثبوت ملتا ہے۔ اب دوسری کتب سے روایات لکھی جاتی ہیں۔

اول: فروع کافی جلد دوم، صفحہ 4 میں ایک طویل حدیث مرویہ جناب صادقؒ درج ہے جس میں صدقہ کے متعلق ذکر ہے کہ کل مال صدقہ نہیں کر دینا چاہیے تاکہ خود ملوم و محسور نہ بن جائے آگے لکھا ہے:

هذه احادیث رسول الله صلى الله عليه وسلم يصدقها الكتب. والكتاب يصدقه اهله من المؤمنين. وقال ابوبكرؓ عند موته حيث قيل له او من فقال اوصی بالخمس وقد جعل الله له الثلث عند موته ولو علم ان الثلث خير له اوصى به ثم من علمتم بعده في فضله و زهده سلمانؓ وابوذرؒ. فاما سلمان فكان اذا احد اعطاء رفع منه قوته لسنة حق يحضر عطاء من قابل فقيل له يا ابا عبدالله انت فی زهدك تصنع هذا وانت لاتدرى لعلك تموت اليوم فكان جوابه ان قال مالكم لا ترجون لی البقاء كما خفتم على الفناء اما علمتم ياجهلة ان النفس قد تلتاث على صاحبها اذا لم يكن من العيش ما تعقد علیہ واذا هی احذزت معيشتها اطمانت و اما ابوذرؓ فكان له لزيفات وشويهات يحلبها ويذبح منها اذا اشتهيى اهله اللحم او نزل به ضيف اوراى باهله الذی معه خصاصة يجزهها الجدورا ومن الشياء على قدر ما يذهب عنهم بقرم اللحم وياخذهو نصيب واحد منهم لا يتفضل عليهم و من ازهد من هؤلاء وقد قال فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال.

ترجمہ: یہ احادیث رسول پاکﷺ ہیں۔ جنکی تصدیق کتاب اللہ کرتی ہے اور كتاب اللہ کی تصدیق (اپنے عمل سے) مومنین کرتے ہیں جو کتاب اللہ سمجھنے کے اہل ہوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بوقت وفات جب کہ اس کو وصیت کے لیے کہا گیا۔ فرمایا کہ میں پانچویں حصہ مال کی وصیت کرتا ہوں۔ چنانچہ پانچویں حصہ کی وصیت کی حالانکہ خدا نے تیسرے حصہ کی اجازت دی ہوئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ تیسرے حصہ کی وصیت میں زیادہ ثواب ہے تو ایسا ہی کرتا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دوسرے درجہ پر فضل و زہد میں تم سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کو سمجھتے ہو۔ پس سلمانؓ کو کوئی عطیہ دیتا پورے سال کی خوراک زخیرہ کر لیتا۔ حتیٰ کہ سال آئندہ کو پھر عطیہ حاصل ہو۔ لوگوں نے کہا۔ آپﷺ باوجود زاہد ہونے کے ایسا کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں آج ہی فوت ہو جائیں۔ جواب دیا تمہیں میرے زندہ رہنے کی امید نہیں ہے؟ جیسا کہ میرے مر جانے کا اندیشہ ہے۔ اے جاہلو! تمہیں معلوم ہو کہ نفس اپنے صاحب پر سرکشی کرتا ہے۔ جب تک کہ اس قدر معیشت نہ مل جائے جس پر اُسے بھروسہ ہو اور جب وہ اپنی معیشت فراہم کرلے مطمئن ہو جاتا ہے اور ابوذرؓ کے پاس اونٹنیاں اور بکریاں رہتی تھیں جو دودھ دیتی تھیں اور جب ان کے عیال کو گوشت کی حاجت ہوتی یا کوئی مہمان آ جاتا یا اپنے متعلقین کو بُھوکا دیکھتے ان میں سے اونٹ یا بکری ذبح کر لیتے اور سب میں تقسیم کر دیتے اور اپنے لیے ایک آدمی کی خوراک رکھ لیتے جو دوسروں سے زائد نہ ہو تم جانتے ہو کہ ان تین مقدس بزرگواروں سے بڑھ کر بڑا زاہد کون ہو سکتا ہے؟ حالانکہ ان کی شان میں رسول پاکﷺ نے فرمایا جو کچھ کہ فرمایا۔

اس حدیث میں حسبِ ذیل باتیں ظاہر ہوئیں:

1: حضرت امام کے نزدیک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان مومنین کاملین میں سے تھے جو کتاب اللہ کے سمجھنے کی اہلیت رکھتے تھے اور اپنے عمل سے کتاب اللہ کے احکام کی تصدیق کرتے تھے۔

2: حضرت سلمان اور ابوزر رضی اللہ عنہما فضل و زہد میں دوسرا درجہ رکھتے تھے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا زبد و فضل اس سے اول درجہ(فائق) تھا۔

3: سیدنا ابوبکرؓ ان برگزیدہ زاہدوں سے تھے جن کا ہم پلہ کوئی دوسرا شخص نہیں ہو سکتا۔

4: حضرت ابوبکرؓ کی شان میں آنحضرتﷺ نے بہت سی احادیث بیان کی ہوئی تھیں۔

سوال شیعہ: ممکن ہے کہ (مَنْ أَزْهَد من هؤلٓاء) کا اشارہ صرف سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کی طرف ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان میں شمار نہ ہوں۔

جواب: اگر معترض عقل کا اندھا نہیں ہے تو ابتداء حدیث میں الفاظ "الْكِتاب يصَدِّقُهٗ أَهْلُهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" کے بعد پہلے ذکر حضرت ابوبکرؓ کا ہونا اور پھر سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے متعلق امام کا یہ فرمانا (ثُمَّ مَنْ عَلِمْتُمْ بَعْدَهُ فِیْ فَضْلِهٖ وَ زُهْدِهٖ) جس کا مفہوم صاف یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فضل و زہد کے دسرے درجہ پر سلمان اور ابوزر رضی اللہ عنہما ہیں پھر هولٓاء کا مشار الیہ صرف دو کو سمجھنا حد درجہ کی حماقت ہے۔ هولاء کے مشار الیہ بلاشبہ ہرسہ بزرگوار ہیں اور حدیث میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ زہد و فضل میں حضرت ابوبکرؓ کا نمبر سب سے اول ہے۔

افسوس! شیعہ اپنی مستند کتابوں میں اصحابِ ثلاثہؓ کے زہد و تقویٰ کی نسبت ایسی شہادت ائمہ اہلِ بیت پڑھ کر بھی ان کی بد گوئی سے باز نہیں آتے۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ‌ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ 

دوم: علامہ طبرسی کتاب مجمع البیان میں تحریر کرتا ہے کہ آیت وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَى الَّذِىۡ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ روایت یوں ہے۔

عَنِ بْن زُبَيرٍ قَالَ إِنَّ الَّايَةَ نَزَلَتْ فِی أَبِی بَكْرٍ لَانَّهُ اشْتَرَى الْمَمَالِیكَ الَّذِينَ اسْلَمُو مِثْلَ بِلالٍ وَ عَامِرِ بن فُهَيْرَةَ وَ غَيْرِ همَا وَأَعْتَقَهُمُ.

ترجمہ: ابنِ زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت شانِ ابوبکرؓ میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے (غلاموں کو جو اسلام لائے) اپنے مال سے خرید لیا جیسا کہ بلال اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہم اور ان کو آزاد کیا۔

اب جس کی خدمات اسلام میں یہ ہوں۔ کہ بلال رضی اللہ عنہ جیسے عاشق ذات نبویﷺ کو کفار کے ہاتھ سے اپنا مال خرچ کر کے نجات دلائے اور آزاد کر دے اور اللہ تعالیٰ اس کے صرف متقی نہیں بلکہ اتقیٰ ہونے کی شہادت دے۔ اس شخص کی شان والا میں گستاخی کرنا کتنی جسارت ہے؟ خدا روافض کو ہدایت کرے۔

سوم: کتاب احتجاج: صفحہ 202 میں سیدنا باقرؒ کی حدیث درج ہے۔ آپ نے فرمایا:

لَسْتُ بِمنکرٍ فَضْلَ أَبِی بَكْرٍ وَ لَسْتُ بِمُنْكَرٍ فَضْلٍ عُمَرَ وَلا كنَّ أَبَابَكرٍ أَفْضَلُ.

ترجمہ: میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کا منکر نہیں ہوں البتہ ابوبکر رضی اللہ عنہ فضیلت میں برتر ہیں۔ پھر جس شخص کو سیدنا محمد باقرؒ افضل سمجھتے ہوں۔ اُن کی فضیلت سے انکار کرنا حد درجہ کی شقاوت ہے۔

چہارم: کتاب مجالس المؤمنین مجلس سوم صفحہ 89 میں ہے۔ کہ حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ حضرت ابوبکرؓ کی شان میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھ کر ہمیشہ یوں فرمایا کرتے تھے۔

مَا سَبَقَكُمْ أَبُوبَكْرٍ بِصَوْمٍ وَلَا صَلوٰةٍ وَلَكِنْ لشَیءٍ وَقِّرَ فِی قَلْبِهِ. 

ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ نے تم سے زیادہ نماز و روزہ ادا کرنے میں فوقیت حاصل نہیں کی بلکہ اس کی صدق صفا قلبی کی وجہ سے اس کی عزت و وقار بڑھا ہے۔

پنجم: شیعہ کی بڑی معتبر کتاب کشف الغمہ مطبوعہ ایران صفحہ 220 میں یہ روایت درج ہے:

سُئِلَ الْإِمَامُ جَعْفَرَ عَنْ حِلْيَةِ السَّيْفِ هَلْ يَجُوزُ قَالَ نَعَمُ قَد حَلَّ ابوبكر الصِّدِّيقُ سَيفَهُ فَقَالَ الرَّاوِی اَتَقُولُ هاكَذَا فَوَثَبَ الْآمِامُ عَنْ مَقَامِهٖ فَقَالَ نِعْمَ الصِّدِّيقُ نِعْمَ الصِّدِّيقُ نِعْمَ الصِّدِّيقُ فَمَنْ لَّمْ يَقُل لَّهُ الصَّدِيقُ فَلَا صَدَقَ اللَّهُ قَوْلهُ فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ

ترجمہ: سیدنا محمد باقرؒ سے تلوار کو چاندی سے مرصع کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو امام نے فرمایا: جائز ہے۔ کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کو مرصع کیا ہے۔ راوی کہنے لگا۔ آپ اُس کو صدیقؓ کہتے ہیں؟ امام غضب ناک ہو کر اپنے مقام سے اُٹھے اور کہنے لگے۔ بہت اچھا صدیقؓ، بہت اچھا صدیقؓ، بہت اچھا صدیقؓ جو اُس کو صدیقؓ نہ کہے خدا اُس کو دنیا و آخرت میں جھوٹا کرے۔

ششم: کتاب ناسخ التواریخ جو شیعہ کی مستند کتاب ہے۔ اس کی جلد 2، صفحہ 563 میں ہے:

داز پس اول (زید بن حارثہؓ) ابوبکرؓ مسلمان شُد۔ واسم او عبدالله است و لقبش عتیق و کنیت ابوبکرؓ است- داد پسر ابو قحافہ عثمان است و ہو عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی و ابوبکرؓ علم النسب نیک میدانست و نسب او نیز محفوظ بود و یا بعضے از قریش اُلفتے بکمال داشت و چند تن را پنہانی۔ دعوت با سلام نمود ونزدیک پیغمبر آورد۔ تا اسلام ایشان عرضہ داشت نخستین عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بود۔ دیگر زبیرؓ بن العوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بود. وایں زبیر پسر بردار خدیجہؓ است و دیگر عبد الرحمن بن عوف بن عبد عوف بن عبدالحارث بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بود. و دیگر سعد بن ابی وقاص و اسم ابی وقاص مالک بود. او پسر اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن كعب بن لوئی است و دیگر طلحہ بن عبد الله بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب لوئی است. این جملہ از دوستان ابوبکرؓ بودند و بدلالت او اسلام یافتند و از پس او عبیدہ اسلام آورد۔

ترجمہ: اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے اور ان کا نام عبد الله اور لقب عتیق اور کنیت ابوبکرؓ ہے اور بیٹے ابوقحافہ کے ہیں۔ جن کا نام عثمان ہے۔ ان کا نسب یوں ہے ۔ عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی۔ حضرت ابوبکرؓ علم انساب خوب جانتے تھے اور ان کا نسب بھی محفوظ تھا اور بعض قریشیوں سے اُن کو نہایت محبت تھی۔ چند اشخاص کو اُنہوں نے خفیہ طور پر دعوت اسلام دی اور پیغمبرﷺ کے پاس لائے۔ آپﷺ نے ان پر اسلام پیش کیا سب سے پہلے جو ترغیب ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسلمان ہوئے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی تھے۔ دوسرے شخص زبیر بن عوام خویلد بن عبدالعزیز بن قصی تھے۔ یہ زبیر حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے تھے۔ تیسرے شخص عبدالرحمٰن بن عوف ابن عبد عوف بن عبدالحارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی تھے اور چوتھے سعد بن ابی وقاص کا نام مالک تھا۔ وہ بیٹے اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن مرہ بن کعب بن لوی کے ہیں اور پانچویں طلحہ بن عبدالله بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب لوئی ہیں۔ یہ سب لوگ حضرت ابوبکرؓ کے دوستوں میں سے تھے اور انہی کی راہنمائی سے یہ سب اسلام لائے اور ابوبکر صدیقؓ کے بعد عبیدہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے پایہ کے شخص تھے اور برگزیدہ خاندان قریش سے تھے پہلے ہی سے ان کے نام (عبداللہ) میں توحید کی جھلک موجود تھی۔ علم الانساب کی خاص مہارت رکھتے تھے اور محفوظ النسب تھے ان کا لقب بھی عتیق (نجیب) تھا۔ قریش میں بڑے ذی رسوخ تھے آپ کے اسلام لانے سے اسلام کو خاص مدد حاصل ہوئی چنانچہ ان کے طفیل بڑے بڑے اکابر قوم قریش اسلام میں داخل ہوئے۔ کیا ایسا شخص جو اسلام لاتے ہی اشاعت اسلام میں مصروف ہو گیا اور اپنے اثر خاص سے اکابر قوم کوحلقہ بگوش اسلام کیا اور اپنی زندگی خدمت اسلام میں بسر کی حضور سرور عالمﷺ کی تعلیم و تربیت کامل کے بعد منافق ہو سکتا ہے؟ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ‌ 

ہفتم: تفسیر مجمع البیان طبری (شیعہ کی معتبر تفسیر ہے) تفسیر آیت

وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ: اور جو شخص آیا ساتھ صدق کے اور جس نے تصدیق کی اس کی وہی لوگ متقین ہیں۔

کی تفسیر میں لکھا ہے۔

قِيلَ الَّذِی جَاءَ بِالصِّدْقِ رَسُولُ اللَّهِ وَ صَدَّقَ بِهِ أَبُوبَكَر

ترجمہ: جو شخص آیا ساتھ صدق کے وہ رسول اللہﷺ ہیں اور جس نے تصدیق کی ان کی اس سے مراد ابوبکرؓ ہیں۔

ہشتم: کتاب معرفۃ اخبار الرجال مصنفہ شیخ جلیل ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیز "رجال کشی" مطبوعہ بمبئی صفحہ 30 میں یہ حدیث بروایت بریدہ اسلمی درج ہے۔

قَالَ سَمِعْتُ أَبَادَأَوْدَ يَقُولُ حَدَّثَنِى بُرَيْدَةُ أَلَا سُلَمِی قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ إِنَّ الجَنَّةَ مُشْتَاقُ إِلَى ثَلثَةِ فَجَاء أَبُوبَكَرُ فَقَالَ انتَ الصِّدِيق أَنْتَ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ فَلَوْ سَئلْتُ رَسُولَ اللَّهَ عَن لهو لاءِ الثَّلَاثَةِ 

ترجمہ: ابوداؤد کہتے ہیں بریدہ اسلمی نے مجھے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، فرمایا بہشت تین شخص کا مشتاق ہے، اتنے میں ابوبکرؓ آ گئے تو حضورﷺ نے فرمایا: تو صدیق ہے، تو دوسرا دو کا ہے جو غار میں تھے۔ راوی کہتا ہے۔ کاش میں حضورﷺ سے پوچھتا کہ وہ تین کون ہیں؟

احتجاج طبرسی میں بروایت امیر المؤمین یہ حدیث درج ہے:

كُنَّا مَعَ النَّبِی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمُ عَلَى جَبَلٍ حَرَاءَ اذْتَحرَّكَ الْجَبَلُ فَقَالَ لَهُ قِرَّ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِی وَصِدِيقٌ وَ شَهِيدٌ .

ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم پیغمبرﷺ کے ساتھ جبلِ حرا پر تھے کہ پہاڑ نے جنبش کی تو حضورﷺ نے فرمایا: کہ ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر ایک نبی، دوسرا صدیق، تیسرا شہید بیٹھے ہیں۔

کیا ان دو روایات کو پڑھ کر بھی شیعہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صدیقیت پر کچھ شک و شبہ باقی رہے گا؟ لیکن ضد کا کیا علاج؟

دہم: نہج البلاغت میں جو شیعوں کی مستند کتاب ہے جس میں جناب امیر کے خطبات اور اقوال درج ہیں، لکھا ہے:

لِلَّهِ بَلادُ فَلَانٍ فَلَقَدْ قَوَّمَ الْإِدَرَ وَدَاوِی الْعَمَدِ وَ أَقَام السِّنَّةَوَخَلَّفَ البَدْعَةَ ذَهَبَ تَقَى الثَّوْبِ قَلِيلِ الْغَيْبِ أَصَابَ خَيْرَهَا وَ سَبَقَ شَرَّهَا أَوى اللَّهُ طَاعَتَهُ وَاتَّقَاءُ بِحِقَّهِ وَ رَحَلَ وَ تَرَكَهُمُ فِی طُرُقِ مُتشَبَةٍ يَهْتَدِی فِيهِ الضَّالُ وَلَا يَسْتَيقِنِ الْمُهْتَدِى 

(نهج البلاغت مطبوعہ بیروت: جلد 1، صفحہ 250) 

ترجمہ: خدا فلاں (ابوبکرؓ) پر رحمت کرے۔ کجی کو سیدھا کیا ہماری (جہالت) کا علاج کیا۔ سنتِ رسولﷺ کو قائم کیا۔ بدعت کو پیچھے ڈالا۔ دنیا سے پاک دامن اور کم عیب ہو کر گزر گیا۔ خوبی کو پالیا اور شر و فساد سے پہلے چلا گیا۔ خدا کی بندگی کا حق ادا کیا اور تقویٰ جیسے کہ چاہیے اختیار کیا۔ فوت ہو گیا اور لوگوں کو پیچ در پیچ راستوں میں چھوڑ گیا کہ گمراہ کو راستہ نہیں ملتا اور راہ پانے والا یقین نہیں کرتا۔ شارحین 

(شارح نہج البلاغت علامہ کمال الدین ابنِ مشیم بحرانی نے لفظ فلاں سے حضرت ابوبکرؓ مراد ہونے کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔ واقوال حادثہ ابی بکرؓ شبہ من ارادتہ العمر (احقر مظہر حسین غفر له)

نہج البلاغت نے لفظ فلاں سے ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما مراد لیا ہے۔

دیکھو اس خطبہ میں علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کیسی تعریف فرماتے ہیں اور اخیر میں کہتے ہیں کہ ہمارا عہدِ خلافت ایسا پر شور ہے کہ ہدایت یافتہ بھی گمراہ ہو جاتے ہیں۔ 

یاز دهم: تزویجِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تحریک ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی، جلاء العیون اردو جلد 1، صفحہ 118 میں درج ہے۔

روایت کی ہے کہ ایک دن ابوبکر و عمر وسعد بن معاذ رضی اللہ عنہم مسجد حضرت رسول اللہﷺ میں آ بیٹھے۔ آپس میں مزاوجت جناب فاطمہؓ کا ذکر کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا اشرف قریش نے فاطمہؓ کی خواست گاری حضرت سے کی اور حضرت نے ان کو جواب دیا کہ انکا اختیار پروردگار کو ہے اور حضرت علیؓ ابن ابی طالب نے اس بارہ میں حضرت سے کچھ نہیں کہا اور نہ کسی نے ان کی طرف سے کہا اور ہمیں گمان یہی ہے کہ سوائے تنگ دستی کے اور انہیں کچھ مانع نہیں اور جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ نے فاطمہؓ کو بے شک علیؓ کے لیے رکھا ہے۔ پس ابوبکر، عمر اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہم نے کہا اُٹھو! علیؓ کے پاس چلیں اور ان سے کہیں کہ فاطمہؓ کی خواست گاری کریں اگر تنگ دستی انہیں مانع ہے تو ہم اسباب میں ان کی مدد کریں گے۔ سعد بن معادؓ نے کہا بہت درست ہے۔ یہ کہہ کر اُٹھے اور جناب امیر کے گھر آ گئے، جب جناب امیر کی خدمت میں پہنچے، حضرت نے فرمایا کس لیے آئے ہو؟ ابوبکرؓ نے کہا ابو الحسنؓ! کوئی فضیلت فضیلت ہائے نیک سے نہیں ہے مگر یہ کہ تم اور لوگوں پر اس فضیلت میں سابق ہو۔ تمہارے اور حضرت رسول اللہﷺ کے درمیان جو رابطہ بہ سبب یگانگی و مصاحبت دائمی و نصرت دیاری اور جو روابط معنوی ہیں وہ معلوم ہیں۔ قریش نے فاطمہؓ کی خواستگاری کی مگر حضرت نے قبول نہ کی اور جواب دے دیا کہ اس کا اختیار پروردگار کو ہے۔ پس تم کو کیا چیز فاطمہ کی خواستگاری سے مانع ہے؟ ہم کو گمان یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ نے فاطمہؓ کو تمہارے واسطے رکھا ہے۔ باقی اور لوگوں سے منع کیا ہے۔ امیر نے حضرت ابوبکرؓ سے جب سنا، آنسو چشمہائے مبارک سے جاری ہوئے اور فرمایا۔ میرا غم اور اندوہ تم نے تازہ کیا اور جو آرزو میرے دل میں پنہاں تھی اس کو تم نے تیز کر دیا، کون ایسا ہوگا جو فاطمہؓ کی خواست گاری نہ چاہتا ہو لیکن بہ سبب تنگ دستی اس امر کے اظہار سے شرم آتی ہے۔ پس ان لوگوں نے جس طرح ہوا حضرت کو راضی کیا کہ جناب رسول اللہﷺ کے پاس جا کر فاطمہؓ کی خواست گاری کریں۔ جناب امیر نے اپنا اونٹ کھولا اور گھر میں لاکر باندھا۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس قدر خیر خواہی امیر کی مطلوب تھی کہ اس مبارک رشتہ (تزویجِ فاطمہؓ) کی تحریک کی اور ہر طرح سے اس معاملہ میں جناب امیر کی امداد پر آمادگی ظاہر کی۔ پہلے جناب امیر نے اپنی مفلسی کا عذر پیش کیا مگر ان مردانِ خدا نے اُن کو ڈھارس بندھوائی اور معاملہ انجام بخیر ہوا۔ کیا دشمن بھی کسی کی ایسی خیر خواہی کیا کرتے ہیں؟ اگر شیعہ غور کریں تو اس مبارک رشتہ(تزویجِ فاطمہؓ) کا سہرا بھی حضرت ابوبکرؓ کے سر بندھتا ہے جنہوں نے اس سلسلہ کی تحریک کی۔ 

دوازدہم: جہیز فاطمہؓ ابوبکر نے خرید کیا۔ تزویجِ فاطمہؓ کی ابتدائی تحریک ہی حضرت ابوبکرؓ نے نہیں بلکہ آخری رسوم خرید جہیز وغیرہ بھی سیدنا ابوبکرؓ ہی کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوئی۔ چنانچہ جلا العیون اردو: صفحہ 123 پر مذکور ہے۔

جناب امیر نے فرمایا: حضرت رسولﷺ نے مجھے ارشاد کیا: علی اُٹھو اور اپنی زرہ بیچ ڈالو۔ پس میں گیا اور زرہ فروخت کر کے اُس کی قیمت حضرت کی خدمت میں لایا اور روپے حضرت کے دامن میں رکھ دیئے۔ حضرت نے مجھ سے پوچھا کتنے روپے ہیں؟ اور میں نے کچھ نہ کہا۔ پس ان میں سے ایک مٹھی روپیہ لیا اور بلال کو بلا کر دیا اور فرمایا فاطمہؓ کے لیے عطر، خوشبو لےآ۔ پس ان دراہم میں دو مٹھیاں لیکر ابوبکرؓ کو دیں اور فرمایا بازار میں جا کر کپڑا وغیرہ وغیرہ جو کچھ اثاث البیت درکار ہے لے آ۔ پس عمار بن ہیر اور ایک جماعت صحابہؓ کو ابوبکرؓ کے پیچھے بھیجا اور سب بازار میں پہنچے۔ پس ان میں سے ہر ایک شخص جو چیز لیتا تھا حضرت ابوبکرؓ کے مشورہ سے خرید کرتا اور دکھا لیتا تھا۔ بس ایک پیراہن سات درہم کو اور ایک مقنعہ چار درہم کو اور ایک چادر سیاہ خیبری و کرسی کہ دونوں پاٹ اُس کے لیف خرما سے جڑے تھے اور دو تو شک جامہ ہاے مصری، کہ ایک لیف خرما سے اور دوسری کو پشم گوسپند سے بھرا تھا اور چار تکیے پوست طائف کے ان کو گیاہ اذخر سے بھرا تھا اور ایک پردہ پشم اور بوریا اور چکی اور بادیہ مسی اور ایک ظرف پوست پانی پینے کا اور کاسہ چوبیں دودھ کے لیے اور ایک مشک پانی کے لیے اور ایک آفتابہ قیر اندود اور ایک سبوئی سبز اور کوزہ ہائے سفالین خرید کیے۔ جب سب اسباب خرید چکے۔ بعض اشیاء سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور سب اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسباب مذکورہ اُٹھایا اور حضرت رسولﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضرت رسولﷺ ہر ایک چیز کو دست مبارک میں اُٹھا کر ملاحظہ فرماتے اور کہتے تھے خداوندا میرے اہلِ بیت پر مبارک کر (صفحہ 122)

اس سے سے معلوم ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی دوستی کے علاوہ حضرت رسول پاکﷺ کو بھی حضرت ابوبکرؓ پر اس قدر بھروسہ و اعتماد تھا کہ جہیز فاطمہؓ کی خرید پر بھی وہی مامور ہوئے اور سب اسباب ان کے مشورہ سے خریدا گیا۔ دشمنوں کو بھی ایسے مبارک کام کے لیے منتخب کیا جاتا ہے؟

جلاء العیون اردو: صفحہ 77 میں لکھا ہے۔ 

ثعلبی نے روایت کی ہے کہ جس وقت مرض حضرت رسولﷺ پر سنگین ہوا۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا یا حضرتﷺ! آپ کس وقت انتقال کریں گے؟ حضرت نے فرمایا۔ میری اجل حاضر ہے۔ ابوبکرؓ نے کہ: آپ کا بازگشت کہاں ہے؟ حضرت نے فرمایا: جانب سدرۃ المنتہیٰ و جنت الماویٰ و رفیق اعلیٰ و عیش گزار و جرعہاء شراب قرب حق تعالیٰ میری بازگشت ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا آپ کو غسل کون دے گا۔ حضرت جی نے فرمایا جو میرے اہلِ بیت سے ہے مجھ سے بہت قریب ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کس چیز میں آپ کو کفن کریں گے؟ حضرت نے

فرمایا: انہیں کپڑوں میں جو میں پہنے ہوں، پاجامہ ہائے یمنی و مصری میں۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا؟

کس طرح آپ کی نماز پڑھیں؟ اس وقت جوش وخروش اور غلغلہ آواز مردم بلند ہوا اور در و دیوار کانپنے لگے۔ حضرتﷺ نے فرمایا صبر کرو۔ خدا تم لوگوں سے عفو کرے۔ انتہیٰ

اب شیعہ سے پوچھا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ معاذ اللہ عجیب منافق تھے کہ آخر وقت میں بھی حضورﷺ راز کی باتیں اور وصیتیں اسی کو سناتے رہے۔ آخری وقت تو انسان تمام دنیوی علائق سے آزاد ہو کر صرف متوجہ الی اللہ ہو جاتا ہے اور اس وقت وہی بھلا معلوم ہوتا ہے جو متوجہ الی اللہ ہو۔ پاک لوگ آخری دم میں کبھی بھی ناپاک لوگوں کو پاس پھٹکنے نہیں دیتے۔ غرض حضورﷺ کو اپنے محبت صادق حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اس درجہ محبت و پیار تھا کہ بوقت نزع بھی اسی کو شرف ہم کلامی بخشا (خوشا حال ابوبکرؓ)

چہار دہم: شیعہ کی متعدد کتب میں شیخین رضی اللہ عنہما کی نسبت سیدنا جعفرؒ سے مروی یہ حدیث موجود ہے۔

هُمَا إِمَامَانِ عَادِلانِ فاسطانِ كَانَا عَلَى الْحَقِّ وَمَاتَا عَلَيْهِ فَعَلَيْهمَا رَحْمَةُ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ 

ترجمہ: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں امام عادل اور باانصاف حق پر تھے۔ حق پر ہی فوت ہوئے۔ ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو قیامت کے دن۔

پانزدهم: نہج البلاغہ کی شرح کبیر مؤلفہ کمال الدین ابنِ میسم بحرانی جو 677ھ میں تصنیف کی گئی میں یوں درج ہے.

وَكَانَ أَفْضَلَهُمْ فِي الإسلام كَمَا زَعَمَتِ وَانْصَحَهُمْ لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ الْخَلِيفَة الصديق والخليفته الفاروق.

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام سب سے بہتر اور خدا اور رسولﷺ کے بڑے مبلغ اسلام حضورﷺ کے جانشین حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما تھے۔

اب میں پندرہ شہادت کتب شیعہ سے لکھ کر حضرات شیعہ کو دو از دہ آئمہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اس قدر روشن شہادات دربارہ تعریف اعتراف فضیلت و صدیقیت حضرت ابوبکر صدیقؓ دیکھ کر بھی تم لوگ ضد سے باز نہ آؤ گے؟ ہاں! مگر جن کے دلوں پر شقاوت کی مہر لگ چکی ہے، ان کو کون ہدایت کرے۔

وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِمُ