فتوحات شام
علی محمد الصلابیسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام بھیجے جانے والے سب سے پہلے خط میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات اور وہاں کی افواج پر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی امارت کی خبر تھی۔ خط کا مضمون یہ تھا:
’’حمدوصلاۃ کے بعد معلوم ہو کہ خلیفہ رسول اللہﷺ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہو چکی ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں ابوبکر پر جو حق پر عمل کرنے والے، صحیح کام کرنے والے، نرم مزاج، پاک باز، متواضع اور دانا تھے، میں اپنے اور سارے مسلمانوں کی اس مصیبت پر اللہ سے اجر خیر کا طالب ہوں۔ میری خواہش ہے کہ تقویٰ کے ذریعہ سے گناہ اور برائی سے بچ کر رحمت الہٰی کا مستحق بنوں۔ جب تک زندہ ہوں اس کی اطاعت میں لگا رہوں، مرنے کے بعد جنت میں جاؤں۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے دمشق کا محاصرہ کر لیا ہے۔ میں نے تمہیں مسلمانوں کا سالار اعلیٰ مقرر کر دیا ہے۔ تم حمص اور دمشق کے نواحی علاقے نیز شام کے دوسرے علاقوں میں فوجی دستے پھیلا دو، لیکن اس معاملہ میں اپنی اور دوسرے مسلمانوں کی رائے سے کام کرو، صرف میری اس تحریر سے اپنا لشکر خطرہ میں مت ڈال دینا کہ دشمن کو تمہیں نقصان پہنچانے کا حوصلہ ہو۔ جو لوگ تمہارے پاس زائد ہوں انہیں میرے بھیج دو اور جو محاصرہ میں تمہارے لیے ضروری ہوں ان کو اپنے پاس رکھو۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو روک لو کیونکہ ان کے بغیر تمہارا کام نہیں چل سکتا۔‘‘
(تاریخ دمشق: جلد 2 صفحہ 125)
خط ملنے کے بعد حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں خط پڑھ کر سنایا، دربار خلافت کے ایلچی نے زبانی یہ بھی کہا کہ اے ابوعبیدہ! سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تم سے کہا ہے کہ یزید بن ابوسفیان اور عمرو بن عاص کے بارے میں ہمیں مطلع کریں، ان دونوں کی کیا حالت ہے اور رہن سہن کیسا ہے؟ نیز مسلمانوں کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے؟ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ایلچی کو اپنی اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف سے مشترکہ جوابی خط دیا، اس کا موضوع یہ تھا:
’’ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کی طرف سے عمر بن خطاب کے نام! السلام علیکم
ہم اللہ واحد کی تعریف کرتے ہیں جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں۔ امابعد! ہم دیکھ رہے ہیں کہ (خلافت سے قبل) اصلاح نفس کی آپ کو فکر رہا کرتی تھی۔ اے عمر! اب آپ سیاہ و سفید پوری امت محمدیہ کے معاملوں کے ذمہ دار ہوگئے ہو۔ آپ کے پاس دوست ودشمن، بڑے چھوٹے، طاقتور اور کمزور سبھی آتے ہیں اور سب کا آپ پر حق ہے اور ان کا حق یہ ہے کہ آپ سے ان کو انصاف ملے، لہٰذا آپ دیکھیں ان کے لیے کیسا ثابت ہوتے ہیں؟ اے عمر! ہم آپ کو وہ دن یاد دلاتے ہیں جس دن سارے بھید کھل جائیں گے، پردے فاش ہو جائیں گے، دل میں چھپی باتیں ظاہر ہوں گی، سارے چہرے اللہ قاہر کے سامنے جھکے ہوں گے، اپنی عظمت وجلال سے وہ سب پر غالب ہوگا، سارے انسان اس کے پاس عاجزی کے ساتھ کھڑے ہوں گے اس کے فیصلے کے منتظر ہوں گے، اس کی سزا سے لرزاں ہوں گے اور اس کی رحمت کی امید لگائے ہوں گے۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اس امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو بظاہر دوست اور اندر سے دشمن ہوں گے، ہم اس برائی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ آپ ہماری اس تحریر کا غلط مفہوم نہ سمجھیں۔ والسلام علیک ورحمۃ اللہ۔‘‘
(فتوح الشام: صفحہ 99، 102، التاریخ الإسلامی: جلد 9 صفحہ 274)