Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یمن

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جس وقت مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے اس وقت یمن خوشحال اور امن و استقرار کی دولت سے مالا مال تھا۔ اس کے مختلف علاقوں اور اطراف میں پھیلے ہوئے امراء و افسران کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے وہاں کا انتظام و انصرام بھی کافی بہتر تھا۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے دور میں حضرت ابوبکرؓ کے مقرر کردہ افسران کو یمن میں بھی ان کے مناصب پر باقی رکھا۔

(غایۃ الأمانی فی اخبار القطر الیمانی، یحییٰ الحسین: جلد 1 صفحہ 83)

 یعلیٰ بن امیہؓ جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے مقرر کردہ یمن کے گورنر تھے، حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں یمن کے گورنر تھے، جن کا نام آپ کے دور میں خوب روشن ہوا۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی نیک نامی سے لوگوں کو یہاں تک خیال پیدا ہو گیا کہ شاید یمن کی گورنری کے بعد حضرت عمرؓ کے نائب یہی بنیں اور حضرت عمرؓ کی وفات تک یہ بات لوگوں میں مشہور رہی۔

(تاریخ الطبری: جلد 2 صفحہ 157)

تاریخی مصادر میں والی یمن یعلیٰ بن امیہؓ کے تعلق ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اور بعض یمنی باشندوں کے درمیان کچھ مسائل پر اختلاف بھی رہا، مزید برآں بعض معاملات سے متعلق ان کے خلاف شکایات لے کر بعض یمنی لوگ امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ تک چلے گئے اور ان مسائل و معاملات کی تحقیق اور شکایات کے تصفیہ کے لیے کئی مرتبہ حضرت عمرؓ کے بلانے پر یعلیٰؓ کو مدینہ نبویہ آنا پڑا

(غایۃ الأمانی: جلد 2 صفحہ 83)

حضرت یعلیٰؓ کی غیر موجودگی میں کبھی کبھار حضرت عمرؓ دوسرے کو ان کا نائب مقرر کر دیا کرتے تھے، زکوٰۃ سے متعلق کئی مسائل میں یعلیٰ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی ہے۔

(الأموال: قاسم بن سلام: صفحہ 436)

اسی طرح حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کا خود کہنا ہے کہ میں ان گورنروں میں سے ایک تھا جن کی ذاتی جائیداد آمدنی سے زیادہ ہونے کی بنا پر حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے آخری ایام میں تقسیم کرایا تھا۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 9 صفحہ 157)

عہد فاروقی کے یمنی گورنران میں حضرت عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومیؓ کا نام بھی آتا ہے، لیکن شاید وہ یمن کے ایک مخصوص علاقہ ’’جند‘‘ پر حاکم تھے، جیسا کہ امام طبری نے سیدنا عمر فاروقؓ کے آخری دور خلافت کے گورنروں کا ذکر کرتے ہوئے جہاں حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر لکھا ہے وہیں اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومیؓ یمن کے ایک علاقہ ’’جند‘‘ پر حاکم تھے۔

(الطبری: جلد 5 صفحہ 239)

حضرت عمر بن خطابؓ کے عہد میں اسلامی فتوحات میں باشندگان یمن کا بنیادی اور اہم کردار تھا، وہ لوگ شام، عراق اور مصر کی فتوحات میں برابر کے شریک رہے 

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 71) اور جب عراق کی آباد کاری کے وقت اس کے جدید اسلامی شہروں مثلاً کوفہ و بصرہ وغیرہ کا خاکہ تیار کیا گیا تو وہاں بہت سارے یمنی قبائل جا کر آباد ہوئے۔ ان میں سب سے بڑا قبیلہ کندہ تھا، جو کوفہ میں آباد ہوا تھا، (الیمن فی ظل الاسلام: دیکھئے عصام الدین: صفحہ 49)

 اسی طرح بہت سے یمنی قبائل نے شام میں سکونت اختیار کیا اور فتوحات شام میں ان کا اہم کردار رہا اور جب مصر کے دارالحکومت ’’فسطاط‘‘ کی آباد کاری ہوئی تو وہاں بھی کئی یمنی قبائل منتقل ہو گئے۔

(فتوح مصر و أخبارھا: ابن عبد الحکیم: 119، 123)

بہرحال دور فاروقی میں منظم شکل میں ان یمنی قبیلوں کی ہجرت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور کن شہروں میں کون سے قبیلے جائیں اس کی منصوبہ بندی میں یمن کے بڑے بڑے شہروں کے امراء و سرکاری افسران کا کافی اہم کردار تھا، اس طرح یمن عہد فاروقی کی اہم اسلامی ریاستوں میں سے ایک تھا اور ملکی سیاست میں دیگر ریاستوں کے بالمقابل اس ریاست کے اثرات اور سرکاری امراء کے کردار زیادہ نمایاں رہے۔

(الولیات علی البلدان: جلد 1 صفحہ 71)