Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنگ کی تیاری

  علی محمد الصلابی

فارسی فوج نے مسلم وفد کی اسلامی دعوت سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، بلکہ اپنی سرکشی پر اڑے رہے، تاکہ اللہ کا فیصلہ نافذ ہو کر رہے اور وہ کیفر کردار تک پہنچیں۔ بہرحال فارسی فوج جنگ کے لیے کمر بستہ ہو گئی اور مسلمانوں نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کر لیں اور پھر فارسی فوج نے دریائے ’’عتیق‘‘ پار کیا اور رستم نے اپنے بھاری لشکر کو اس طرح ترتیب دیا:

قلب میں ذوالحاجب کو رکھا اور اس کے ساتھ اٹھارہ 18 ہاتھیوں کو کر دیا اور ان کی ہودجوں میں ہتھیار بند فوجیوں کو بٹھا دیا۔

(گویا وہ ہاتھی موجودہ دور کی بکتر بند گاڑیوں کے کام آتے تھے۔ مترجم) قلب سے متصل میمنہ کے حصہ پر جالینوس کو افسر مقرر کیا۔

میمنہ میں ہرمزان کو رکھا اور اس کے ساتھ سات 7 یا آٹھ 8 ہاتھیوں کو کردیا اور ان کی ہودجوں میں ہتھیار بند فوجیوں کو بٹھا دیا۔

قلب سے متصل میسرہ پر بیرزان کو افسر مقرر کیا۔

میسرہ میں مہران کو رکھا اور اس کے ساتھ بھی سات یا آٹھ ہاتھیوں کو کر کے ان کی ہودجوں میں ہتھیار بند فوجیوں کو بٹھا دیا۔

لشکر کی اس ترتیب کے بعد رستم نے شہ سوار فوج کا ایک دستہ بھیجا تاکہ وہ ’’عتیق‘‘ کے پل پر قابض ہو جائے، اور مسلمانوں کو اسے عبور نہ کرنے دے کہ وہ ایرانی فوج کی طرف بڑھ سکیں۔ اس طرح گویا جنگی جغرافیہ میں وہ پل مسلمانوں اور مشرکین کے فوجی شہ سواروں کے درمیان حائل ہو گیا۔ رستم کی جنگی صف بندی کی کیفیت یہ تھی کہ شہ سواروں کو آگے رکھا اور ان کے آگے ہاتھیوں کو کھڑا کیا۔ دوسری صف میں پیدل لڑنے والوں کو کھڑا کیا، جب کہ رستم کے لیے ایک بڑا سائبان نصب کیا گیا اور اس کے نیچے وہ سریر آرائے تخت ہوا اور معرکہ کی رفتار پر نگاہ لگا کر بیٹھ گیا۔

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 255)

ادھر مسلمان بھی مکمل طور سے تیار اور خوب بہترین لام بندی کر چکے تھے، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے صبح سویرے اپنے لشکر کو تیار کیا، امراء کو مقرر کیا اور ہر دس آدمیوں پر ایک امیر مقرر کیا۔ جنگی علم ان مبارک ہستیوں کے ہاتھوں میں دیے جنہیں اسلام لانے میں سبقت حاصل تھی۔ مقدمہ جیش، ساقہ اور میمنہ و میسرہ کو ترتیب دیا، گشتی دستے بھی تیار کیے اور کیل کانٹے سے لیس ہو کر پوری تیاری کے ساتھ قادسیہ میں داخل ہوئے۔ حضرت سعدؓ نے اپنے لشکر کو اس طرح ترتیب دیا تھا:

مقدمہ: اس پر زہرہ بن حویہ کو مقرر کیا۔

میمنہ: اس پر عبداللہ بن معتم کو مقرر کیا۔

میسرہ: اس پر شرحبیل بن سمط کندی ازران کے نائب خالد بن عرفطہ کو مقرر کیا۔

ساقہ: اس پر عاصم بن عمرو کو مقرر کیا۔

طلائع گشتی دستے: ان پر سواد بن مالک کو ذمہ دار بنایا۔

مجروہ بے قاعدہ فوج: اس پر سلمان ربیعہ باہلی کو مقرر کیا۔

الرجالہ پیدل فوج: اس پر حمال بن مالک اسدی کو مقرر کیا۔

شہ سوار فوج: اس پر عبداللہ بن ذی سہمین حنفی کو مقرر کیا۔

منصب قضاء: اس پر عبدالرحمٰن بن ربیعہ باہلی کو مقرر کیا۔

کاتب جیش منشی کے لیے زیاد بن ابی سفیان کو اور فوج کی رسد وغیرہ کی بندوبست نیز ان میں تذکیر و نصیحت کے لیے حضرت سلمان فارسیؓ کو ذمہ دار بنایا۔

واضح رہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروقؓ کی ہدایت پر فوج کو اس طرح منظم کیا گیا تھا۔

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 255۔) اس تنظیم و ترتیب کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مسلمانوں میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور خطبہ کا آغاز قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت سے کیا: 

وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنبياء: آیت 105)

ترجمہ: اور بلاشبہ یقیناً ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ بے شک یہ زمین، اس کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔

اور حفاظ قرآن سے کہا کہ سورہ انفال کی تلاوت شروع کریں اور جب حفاظ تلاوت پوری کر چکے تو دیکھا کہ مسلمانوں کے دل کشادہ ہو چکے ہیں، ان کی آنکھوں میں چمک آ گئی ہے اور اطمینان قلبی کی بارش ہو چکی ہے۔ پھر ظہر کی نماز پڑھی گئی اور امیر لشکر حضرت سعدؓ نے لشکر کو حکم دیا کہ چوتھی تکبیر کے بعد جنگ شروع کر دیں اور زبان سے ’لَاحَوْلَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ‌ ۔ اپڑھتے رہیں۔ یہ معرکہ چار روز تک جاری رہا۔

اس وقت حضرت سعدؓ عرق النساء کے مریض تھے اور ان کے جسم میں پھوڑے پھنسیاں نکلی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے آپ سواری کرنے اور بیٹھنے کے لائق نہ تھے۔ اس لیے قادسیہ میں واقع ایک محل جسے ’’قصر قدیس‘‘ کہا جاتا تھا، وہیں سے سینے کے بل تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے میدان جنگ پر نگاہ رکھے ہوئے تھے اور فوجی افسران تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے حضرت خالد بن عرفطہؓ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ آپ نے فوج میں یہ اعلان کروانے کا حکم دیا کہ: سن لو! حسد نہیں جائز ہے مگر دین الہٰی کے راستے میں جہاد کے لیے، اس لیے اے لوگو! جہاد کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے اور دوسرے کو مات دینے کی کوشش کرو۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 356)

جنگ شروع ہونے سے کچھ پہلے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے قائم مقام حضرت خالد بن عرفطہؓ کی نیابت کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔ حضرت سعدؓ نے یہ سن کر کہا: مجھے اٹھاؤ اور لوگوں کے روبرو کرو۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کو اٹھایا، مسلمانوں کی فوج ’’قصر قدیس‘‘ کی دیواروں کے پاس کھڑی تھی، آپ وہاں سے سر نکال کر حضرت خالدؓ کو حکم دیتے اور حضرت خالدؓ فوج تک وہ بات پہنچاتے، اس نازک موقع پر جن لوگوں نے حضرت خالدؓ کے خلاف آواز اٹھائی تھی ان میں بعض اہم لوگ بھی شریک تھے۔ حضرت سعدؓ نے انہیں سخت سزا دینے کا ارادہ کیا۔ وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: سنو! اللہ کی قسم! اگر آج تمہارا دشمن تمہارے سامنے نہ ہوتا تو میں تم کو ایسی سزا دیتا جو دوسروں کے لیے بھی تازیانہ عبرت ہوتا۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو قید کرا دیا، انہی لوگوں میں ابو محجن ثقفیؓ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان سب کو آپ نے محل میں قید کرایا۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اطاعت امیر کی تائید میں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ اس دین کی ذمہ داری دے گا اس کی بات سنوں گا اور فرمانبرداری کروں گا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو اور حضرت سعدؓ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر دوبارہ کسی نے ایسی حرکت کی کہ مسلمانوں کو ان کے دشمن سے غافل کر کے اندرونی اختلافات کو ہوا دی حالانکہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ہوں تو میں اس کے ساتھ وہ سلوک کروں گا کہ میرے بعد آنے والوں کے لیے ایک مثال بن جائے گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 356)

فوج کے اندر ایسی اندرونی بدمزگی کو دیکھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کسی طرح خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ حق ہے، اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، اس کا فیصلہ ایک اٹل حقیقت ہے اور اس نے اپنی کتاب قرآن میں فرمایا ہے:

وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنبياء: آیت 105)

ترجمہ: ہم زبورمیں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔

بے شک فارس کی یہ زمین تمہاری میراث ہے اور تمہارے رب کا وعدہ ہے۔ اللہ نے گذشتہ تین سالوں سے اس خطے کو تمہارے لیے حلال و ہموار کر دیا ہے، اپنے جانباز مجاہدین کی بدولت تم اس سے آج تک کھاتے کھلاتے ہو، اس سر زمین کے باشندوں کو قتل کر رہے ہو اور انہیں لونڈی و غلام بنا رہے ہو۔ دیکھو یہ جمعیت تمہارے لیے آئی ہے اور تم معززین سرداران عرب ہو، اپنے اپنے قبیلہ کے منتخب فرد ہو، جو تمہارے پیچھے ہیں انہیں تم پر ناز ہے، اگر تم دنیا کو ٹھکرا کر آخرت کو پسند کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت دونوں سے نوازے گا، لیکن اگر تم نے بزدلی اور پست ہمتی سے کام لیا تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تمہاری عافیت برباد ہو جائے گی۔‘‘

پھر آپ نے علم بردار امرائے لشکر کو لکھا کہ: ’’خالد بن عرفطہؓ کو میں نے اپنا نائب امیر بنا دیا ہے، اگر مجھے تکلیف نہ ہوتی اور پھوڑے پھنسیاں نہ ہوتیں تو یہ فرض میں خود سرانجام دیتا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ شدت درد سے میرا سر سینے پر جھکا ہوا ہے، لہٰذا تم ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو، وہ میرے حکم ہی سے تم کو کوئی حکم دیں گے اور میری ہی بات کو نافذ کریں گے۔‘‘ آپ کا یہ تحریری پیغام لوگوں کو سنایا گیا تو سب لوگ مطمئن ہو گئے اور حضرت خالد بن عرفطہؓ کی باتوں پر متفقہ طور سے عمل کرنے لگے، بلکہ ان کے حکم کی بجا آوری کے لیے ایک دوسرے کو ابھارنے بھی لگے۔ حضرت سعدؓ کی مجبوری و معذرت کو سب نے قبول کیا اور ان کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 358)

اب حضرت سعد بن وقاصؓ ’’قصر قدیس‘‘ پر تنہا ہیں وہ غیر محفوظ مقام پر ہے اور وہیں سے میدان جنگ کا جائزہ لے رہے ہیں، پس آپ کی شجاعت و بہادری کی یہ ایک واضح دلیل ہے اور فی الواقع آپ دلیر تھے بھی، چنانچہ عثمان بن رجاء سعدی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ لوگوں میں سب سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے، وہ مسلمانوں اور مشرکوں کے دو لشکروں کے درمیان غیر محفوظ مقام پر واقع ایک محل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور وہیں سے لوگوں کی نگرانی کر رہے تھے، اگر اونٹنی کا دودھ دوہنے تک کے معمولی لمحہ کے لیے مسلمانوں کی صف ان کی آڑ سے ہٹ جاتی تو دشمن انہیں قتل کرنے کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ اللہ کی قسم! اس دن کی ہولناکی نے حضرت سعدؓ کو نہ تو رنجیدہ کیا اور نہ بے چین۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 347)