فتوحات شام
علی محمد الصلابیرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور ہی سے مسلمانوں کے یہاں شام کے سلسلہ میں اہتمام پایا جاتا تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ ہرقل کو خط تحریر فرما کر اس کو اسلام کی دعوت دی۔ عرب پر قیصر کے عامل اور بلقائے (شام اور وادی القریٰ کے درمیان کا علاقہ جس کا صدر مقام عمان ہے۔)شام کے غسانی بادشاہ حارث بن ابی شمر غسانی کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے خط تحریر کیا لیکن اسے گناہ کا غرور سوار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی ٹھان لی مگر قیصر نے اسے اس سے منع کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شام کی طرف فوج روانہ کی۔ موتہ کے مقام پر معرکہ آرائی ہوئی، جس میں زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگرے شہید ہوئے۔ ان کے بعد اسلامی لشکر کی قیادت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سنبھالی اور ایک کامیاب فوجی چال چلی جس نے اس علاقہ کے لوگوں کے دلوں میں بڑا گہرا اثر چھوڑا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معرکہ کے ذریعہ سے شام میں ظالم رومی سلطنت کو ختم کرنے کے لیے پیش قدمی کی اور اس کے لیے اصول و بنیاد وضع فرمائی اور عربوں کے دل سے روم کی ہیبت ختم کی اور مسلمانوں کو اس بابرکت مقصد کی تکمیل کے لیے مادی اور معنوی تیاری پر ابھارا بلکہ غزوہ تبوک میں خود قیادت فرمائی اور روم کے ساتھ میدانی جھڑپ کے ذریعہ سے مسلمانوں نے رومی فوج کی حقیقت کو جانا، ان کے جنگی اسلوب کی معرفت حاصل کی اور ان غزوات کے ذریعہ سے باشندگان شام کو اسلام کے اصول و مبادی اور اہداف کو سمجھنے کا موقع ملا، جس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ مسلمان ہوئے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس منہج پر قائم رہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضع فرمایا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لشکر اسامہ کو روانہ کرنے پر مصر رہے اور جب ذوالقصہ کے مقام پر سیدنا ابوبکرؓ نے مختلف فوجی دستے اور ان کے قائدین کو مقرر کیا تو خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک دستہ شام کی حدود کی طرف روانہ کیا اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ تیماء (تیماء: شام کے اطراف میں شام اور وادی القریٰ کے درمیان واقع ہے۔) کے مقام پر مسلمانوں کے لیے پشت پناہ رہیں، وہاں سے بغیر ان کے حکم کے ہٹیں نہیں اور صرف ان سے قتال کریں جو ان کے مقابلہ میں آئیں۔ اس کی خبر ہرقل کو پہنچی۔ اس نے روم کے ہم نوا عرب قبائل بہراء، سلیح، کلب، لخم، جذام اور غسان کی فوج تیار کی۔ اس کی خبر ملتے ہی سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے ان کا رخ کیا اور ان کے مقام پر جا پہنچے، وہ سب خوف زدہ ہو کر منتشر ہو گئے۔ آپؓ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع بھیجی پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں بذریعہ خط اقدام کرنے کا حکم فرمایا (إتمام الوفاء فی سیرۃ الخلفاء: محمد الخضری: صفحہ 54) اور حکم دیا کہ روم کی شیرازہ بندی سے پہلے ہی ان پر ٹوٹ پڑو اور نصیحت فرمائی کہ واپسی کی راہ محفوظ رکھنا اور دشمن کی سر زمین میں بہت زیادہ نہ گھس جانا اور خلیفہ نے جوابی خط میں تحریر فرمایا: آگے بڑھو، رکو نہیں اور اللہ سے مدد طلب کرو۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بڑھے اور ’’بحر مردار‘‘ کے راستہ قسطل تک پہنچ گئے اور بحر مردار کے مشرقی ساحل پر رومی فوج کو شکست دے دی اور پھر آگے بڑھے، اس پر رومی آپے سے باہر ہو گئے اور تیماء سے زیادہ فوج اکٹھی کر لی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کا اتحاد اور جمع ہونا دیکھا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کیا اور صورت حال بیان کرتے ہوئے مدد طلب کی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں متبادل فوج روانہ کی (عکرمہ رضی اللہ عنہ کندہ و حضر موت سے یمن و مکہ کے راستہ واپس ہوئے، جب آپؓ مدینہ پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو حکم فرمایا کہ خالد بن سعید کی مدد کے لیے روانہ ہو جاؤ۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو جس نے آپ کے ساتھ حروب ارتداد میں شرکت کی تھی چھٹی دے دی تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے بدلہ دوسری فوج تیار کی اور انہیں حکم دیا کہ عکرمہ کے پرچم تلے شام کے لیے روانہ ہو جائیں) اور پھر ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دوسری فوج روانہ کی جب یہ سب افواج خالد بن سعید کے پاس پہنچ گئیں تو انہیں رومیوں پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا اور مرج الصفر کا راستہ لیا۔ ادھر رومی کمانڈر ماہان اپنی فوج لے کر اترا اور اسلامی فوج سے قریب ہوتا رہا جو بحر مردار کے جنوب کی طرف متوجہ ہو کر بحیرۂ طبریہ کے مشرقی کنارے مرج الصفر میں پہنچ چکی تھی۔ مسلمانوں کے خلاف موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ کر کے شکست دے دی۔ ماہان کو سعید بن خالد رضی اللہ عنہ ایک فوجی دستے کے ساتھ ملے، اس نے سعید سمیت سب کو قتل کر دیا۔ خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو جب بیٹے کے قتل کی خبر ملی تو اپنے ساتھیوں کے ایک دستہ کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اور عکرمہ رضی اللہ عنہ بقیہ فوج کو لے کر شام کی سرحد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
(ابوبکر الصدیق: نزار الحدیثی: دیکھیے خالد الجنابی: صفحہ 58)