حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 7

حضرت ابوذر غِفاری رضی اللہ عنہ

سیدنا ابوذر غفاریؓ صفہ کے ممتاز اور نمایاں طالب علموں میں ہیں ان کا ذاتی بیان ہے:
کنت من أہل الصفۃ، فکنا إذا أمسینا حضرنا باب رسول اللّٰہﷺ
ترجمہ: میں اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم میں تھا، جب شام کا وقت ہوتا تو ہم لوگ رسول اللہﷺ کے درِ اقدس پہ حاضر ہو جاتے۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 256 جلد، 1) (حلیۃالأولیاء:صفحہ، 353/354، جلد، 1)
حضرت ابوذرؓ کا اسم گرامی اور ان کا سلسلہ نسب
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی جُندب ہے اور باپ کا نام جُنادۃ ہے، بعضوں نے سکن، سفیان اور عبد وغیرہ بتایا ہے۔
(الاستیعاب: صفحہ، 62 جلد، 4) 
(الإصابۃ: صفحہ، 63 جلد، 4)
نصِّ نبوی میں جندب نام کی صراحت ہے، ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابوذرؓ کو اسی نام سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا یاجندب! ماہذہ الضَجْعَۃ؟
اے جندب! یہ کیا لیٹنے کا طریقہ ہے؟
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 353 جلد، 1 حدیث شریف کی تفصیل آگے آرہی ہے)
اور سننِ ابنِ ماجہ میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے یاجُنَیْدب تصغیر کے ساتھ کہہ کر انہیں پکارا ہے۔
(سننِ ابنِ ماجہ: صفحہ، 264)
ابوذرؓ آپؓ کی کنیت ہے، اور اسی کنیت سے آپؓ مشہور ہوئے۔ آپؓ دراز قد، گندمی رنگ اور چھریرے بدن کے انسان تھے۔
(الإصابۃ: صفحہ، 64 جلد، 4)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے جندب بن جنادۃ بن کعب بن صعیر بن وقعۃ بن حرام بن سفیان بن عبید بن حرام بن غِفار بن ملیل بن ضمرۃ بن بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 219 جلد، 4)
کنانہ نبی اکرمﷺ کی پندرہویں پشت میں آتے ہیں اور ان ہی پر سیدنا ابوذر غفاریؓ نبی اکرمﷺ سے جا ملتے ہیں۔
قبیلہ غِفار:
مکہ مکرمہ سے پہاڑوں کے درّوں اور ریگستانی بیابانوں میں ہوتا ہوا راستہ شام و فلسطین کی طرف جاتا ہے، ٹھیک اسی شاہراہ کی کسی باریک سمت میں غفار بن ملیل کی اولاد غفار کے نام سے بسی ہوئی ہے۔ عام طور سے اس کا تلفظ غین کے زبر اور ف کے تشدید کے ساتھ کیاجاتا ہے جو غلط ہے۔
(الأنساب للسمعانی: صفحہ، 304 جلد، 4)
صحیح غِفَار ہے غین کے زیر اور ف کو بغیر تشدید کے پڑھا جائے۔
حضرت ابوذرؓ اسلام لانے سے قبل توحید پرست تھے
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی توحیدِ باری تعالیٰ اور لا الہ الا اللہ کے قائل تھے، اور بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 222 جلد، 4)
ایک مرتبہ انہوں نے اپنے بھتیجے کو مخاطب کرکے فرمایا
لقد صلیت یا ابن أخی قبل أن القی رسول اللہﷺ ثلاث سنین۔
ترجمہ:اے میرے بھتیجے! میں رسول اللہﷺ کی زیارتِ مبارکہ سے تین سال پہلے ہی سے نمازیں پڑھتا تھا۔
راوی نے عرب کے شرک و ضلالت کو دیکھتے ہوئے نماز کا نام سن کر بڑی حیرت و تعجب سے پوچھا! آپؓ نماز کس کے لیے پڑھتے تھے؟ آپؓ نے فرمایا لِلہ اللہ تعالیٰ کے لیے! اس نے دریافت کیا! رخ کس طرف کیا کرتے تھے؟ جواب میں فرمایا
حیث یوجہنی ربی۔
ترجمہ: جس طرف میرے پروردگار میرا رخ کر دیتے۔ میں عشاء کی نماز پڑھتا جب اخیر رات ہوتی تو کمبل کی طرح پڑ جاتا تھا، یہاں تک کہ مجھ پر دھوپ پڑنے لگتی تھی۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 297 جلد، 2)
اسلام لانے کا واقعہ اور اس کا سبب:
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے واقعہ میں صحیح بخاری صحیح مسلم کی روایتوں میں بڑا اختلاف ہے، جس کی وجہ سے علامہ قرطبیؒ کو مجبوراً یہ لکھنا پڑ گیا۔
وفي التوفیق بین الروایتین تکلف شدید۔
ترجمہ: دونوں روایتوں میں تطبیق دینے میں سخت تکلف ہے۔
(فتح الباري: صفحہ، 175 جلد، 7)
اگرچہ حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ اور علامہ سندیؒ نے ان روایتوں میں تطبیق دینے کی مکمل کوشش کی ہے، ان شاءاللہ اسی کے مطابق ان کے تفصیلی واقعہ اسلام کو ذکر کیا جائے گا
سیدنا ابوذر غفاریؓ کا بیان ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکل کھڑے ہوئے کیونکہ یہ لوگ حرام مہینوں کو حلال سمجھتے تھے، میں میرا بھائی اُنَیس اور ہماری ماں تینوں نے ایک ساتھ اپنے قبیلہ غفار کو الوداع کہا، اور اپنے ماموں کے پاس آ کر قیام کیا، انہوں نے ہماری خوب خاطر و مدارات کی اور وہ خوب حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئے، جس کی بناء پر ان کی قوم ہم لوگوں سے حسد کرنے لگی اور ہمارے ماموں سے کہنے لگی، جناب آپؓ جب باہر جاتے ہیں اور گھر میں کوئی نہیں رہتا تو آپؓ کے بھانجے اُنَیس گھر والوں پر افسری کرتے ہیں اور ہر قسم کی ابتری پھیلا دیتے ہیں ان کی وجہ سے لوگوں کی ناک میں دم ہے۔ یہ سن کر ہمارے ماموں آئے اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔ اتنا سننا تھا کہ میں نے اپنے ماموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا! آپ نے تمام گذشتہ احسانات کی نہروں کو گدلا کر دیا، بس اس کے بعد ہمارا اجتماع آپ کے ساتھ ممکن نہیں۔ بالآخر ہم اپنے اونٹوں کے پاس گئے اور اپنا اسباب لاد کر روانہ ہو گئے، ماموں اپنے چہرہ کو کپڑے سے ڈھانک کر روتے جاتے تھے، ہم چلتے رہے اور مکہ کے قریب پہنچ کر قیام کیا۔
ایک دن اُنَیس نے کہا! مجھے مکہ میں کام ہے، آپ یہاں ٹھہرے رہیئے، میں جاتا ہوں، وہ گیا اور اس نے واپسی میں تاخیر کر دی، اُس کی واپسی پر میں نے دریافت کیا، تو نے میرے سلسلہ میں کیا کیا؟ وہ بولا، میں مکہ میں ایک شخص سے ملا جو تیرے دین پر ہے یعنی توحید پرست ہے اور وہ اللہ کی عبادت کرتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا، لوگ اسے کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا لوگ اسے شاید کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور اُنَیس خود بھی شاعر تھا، اس نے کہا میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے لیکن جو کلام یہ شخص پڑھتا ہے وہ کاہنوں کا کلام نہیں ہے اور میں نے اس کا کلام شعر کے تمام بحروں اور اوزان پر خوب جانچا، شعر تو وہ یقیناً نہیں ہے، خداکی قسم یہ سچا ہے اور وہ سب کے سب جھوٹے ہیں۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 297 جلد، 2)
صحیح بخاری میں اُنَیس کے کلام میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ان کو اچھی عادتوں اور عمدہ اخلاق کا حکم کرتے دیکھا ہے۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 545 جلد، 1 رقم، 3861)
صفحہ 1 از 7