حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حامد محمد خلیفہ عمانجناب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر اس ماں کی طرح شفقت و مہربانی تھی، جس کا بیٹا اس کی آنکھوں کے سامنے ڈوب کر ہلاک ہوا ہو اور اس کی یاد میں اس کے آنسو نہ تھمتے ہوں۔ چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے:
’’جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے کوفہ جانے کا عزم مصمم کر لیا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حاضر ہو کر عرض کیا: اے میرے چچا زاد! میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ آپ کوفہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، آپ ہی بتلائیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بس آج کل میں کوفہ جانے کو ہوں، ان شاء اللہ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تو انہوں نے اپنے امیر کو قتل کرنے، دشمن کو نکال باہر کرنے اور شہر پر قبضہ کرنے کے بعد آپ کو بلایا ہے، تو ان کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر ان کا امیر زندہ اور ان پر قائم و قاہر ہے اور اس کے عمال شہروں کا ٹیکس لیتے ہیں، تو پھر انہوں نے آپ کو فتنہ کھڑا کرنے اور قتال برپا کرنے کے لیے آنے کی دعوت دی ہے۔ مجھے اس بات کا کوئی اطمینان نہیں کہ وہ لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکا دیں گے اور ان کے دل آپ سے بدل جائیں گے اور وہی لوگ آپ کے بدترین دشمن بن جائیں گے جنہوں نے آپ کو آنے کی دعوت دی ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس بات کا جواب یہ دیا کہ میں رب تعالیٰ سے استخارہ کروں گا اور آئندہ کے حالات پر غور کروں گا۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 172 ابو مخنف کذاب نے اس روایت میں جھوٹا اضافہ کر کے اسے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر طعن کا ذریعہ بنایا ہے)
پھر جب دوپہر یا صبح کا وقت ہوا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دوبارہ حاضر ہو کر کہا:
’’اے چچا زاد! بڑی کوشش کی مگر مجھے صبر نہیں آ رہا۔ مجھے اس سفر میں آپ کی ہلاکت نظر آ رہی ہے کیونکہ عراقی غدار ہیں، ان سے دھوکا مت کھائیے، یہیں ٹھہرے رہیے یہاں تک کہ عراقی اپنے دشمن کو شہر سے نکال دیں تو پھر بے شک ان کے پاس چلے جائیے گا۔ وگرنہ یمن چلے جائیے، وہاں قلعے اور گھاٹیاں ہیں، وہاں آپ کے والد ماجد کے شیعہ بھی ہیں اور لوگوں سے الگ رہیے، انہیں خط لکھیے اور اپنے داعیوں کو ان میں پھیلا دیجیے۔ مجھے امید ہے کہ اگر آپ ایسا کر لیں گے تو آپ کو اپنی مراد مل جائے گی۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے میرے چچا زاد! اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ آپ میرے حق میں بڑے مہربان اور شفیق ہیں۔ آپ کی نصیحت مبنی بر دیانت ہے۔ لیکن اب میں سفر کا پختہ ارادہ کر چکا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
’’اچھا اگر آپ جانا طے کر ہی چکے ہیں، تو اولاد اور اہل بیت کو ہمراہ مت لے جائیے۔ اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح قتل نہ ہوں جن کی اولاد اور بیویوں کے سامنے آپ قتل ہوئے۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 173)
پھر جب غدار کوفیوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو اس وقت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت یاد آئی۔ چنانچہ فرمایا:
’’اے لوگو! اگر تم مجھ سے اس بات کو قبول کرتے ہو اور میرے ساتھ انصاف کرتے ہو تو تم لوگ بڑے سعادت مند ہو گے اور تمہارے پاس میرے خلاف کوئی راستہ نہ ہو گا اور اگر تم لوگ میری نصیحت قبول نہیں کرتے تو:
فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَکُمْ وَ شُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ لَا یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّۃً ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِo (یونس: آیت 71)
’’سو تم اپنا معاملہ اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کر لو، پھر تمھارا معاملہ تم پر کسی طرح مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ کرگزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘
اور فرمایا:
اِنَّ وَلِیِّ یَ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَ ہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَo (الاعراف: آیت 196)
’’بے شک میرا یار و مدد گار اللہ ہے، جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہی نیکوں کا یار و مدد گار بنتا ہے۔‘‘
جب آپ کی بہنوں اور بیٹیوں نے یہ سنا، تو اونچی آواز سے رونے لگیں۔ اس وقت آپ نے فرمایا:
’’اللہ ابن عباس کو اپنی رحمت سے دُور نہ کرے، جب انہوں نے مجھے اس بات کا مشورہ دیا تھا کہ خواتین کو ساتھ لے کر مت نکلو، اور جب تک معاملات منظم نہیں ہو جاتے انہیں مکہ رہنے دو۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 179)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ بھی فرمایا تھا:
’’اے ابن فاطمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: عراق اور اپنے شیعہ کا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے آپ کا عراق جانا پسند نہیں۔ آپ ایسے لوگوں کی طرف جا رہے ہیں، جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کیا اور آپ کے بھائی کو کدال ماری۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان لوگوں سے ناراض اور تنگ ہو کر انہیں چھوڑ دیا۔ میں اس بات سے آپ کو اللہ یاد دلاتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو دھوکہ دیں۔‘‘
(المعرفۃ و التاریخ: جلد، 1 صفحہ 360 بغیۃ الطلب من تاریخ حلب: جلد، 3 صفحہ 24 مختصر تاریخ دمشق: جلد، 2 صفحہ 441)