Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ورع

  علی محمد الصلابی

عہد فاروقی کے بہت سارے گورنر اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ وہ کسی طرح حکومتی ذمہ داری سے دور رہیں، حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بصرہ کی گورنری سے استعفیٰ پیش کیا، لیکن آپؓ نے ان کا استعفیٰ نامنظور کر دیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 54) اسی طرح ’’کسکر‘‘ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر کو گورنری سے استعفیٰ پیش کیا اور جذبہ شہادت سے معمور ہو کر جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 54) اسی طرح اور بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سیدنا عمرؓ نے گورنر بنانا چاہا لیکن ان لوگوں نے انکار کر دیا۔ آپؓ نے جب زبیر بن عوامؓ کو یہ کہتے ہوئے مصر کا گورنر بنانا چاہا کہ اے ابو عبداللہ! کیا تم مصر کا گورنر بننا پسند کرو گے؟ تو حضرت زبیرؓ نے جواب دیا: مجھے اس کی قطعاً ضرورت نہیں میں مجاہد اور مسلمانوں کا مددگار بن کر جانا چاہتا ہوں۔

(فتوح البلدان: بلا ذری: صفحہ 214) اسی طرح آپؓ نے جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ’’حمص‘‘ کے سابق امیر کی وفات کے بعد گورنر بنانا چاہا تو آپؓ نے یہ منصب قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 22، 23)