کوفہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کوفہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

جس وقت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیعتِ خلافت عمل میں آئی اس وقت کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہؓ تھے جن کی تقرری عہدِ فاروقی کے آخری دور میں ہوئی تھی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 239) 

حضرت عثمانؓ نے آپ کو معزول کر کے آپ کی جگہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو وہاں کا گورنر مقرر فرمایا، اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی معزولی کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسا حضرت عمرؓ کی وصیت کی وجہ سے ہوا تھا، کیوں کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کی تھی کہ وہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو گورنر مقرر کر لے، صورت حال یہ پیدا ہوئی کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے آخری ایام میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا تھا، اور فرمایا تھا کہ میں نے ان کو کسی برائی اور خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے، اور اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انہیں گورنر مقرر کر دے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 225)

اس تقرری میں آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو بھی شریک رکھا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ذمہ بیت المال کی ذمہ داری سونپی گئی اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے ذمہ نماز و لشکر اور دیگر انتظامی امور سونپے گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 250، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 196)

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کوفہ کے سلسلہ میں کافی تجربہ تھا، اس کے امور، حدود، باشندوں، اور لشکر سے متعلق پوری معلومات رکھتے تھے کیوں کہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں آپؓ ہی کوفہ کے مؤسس تھے، اور آپؓ کئی سالوں تک اس کے گورنر رہ چکے تھے اس لیے سب سے زیادہ وہاں کے لوگوں اور حالات کی خبر و معلومات آپؓ کو تھیں۔

(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ 105، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 196) 

کوفہ میں عہدِ عثمانی میں اپنی امارت کے دوران حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے جو امور سرانجام دیے ان میں سے کوفہ کے تابع سرحدوں کی زیارت ہے، اسی ضمن میں آپ نے ’’رے‘‘ کی زیارت 25ھ میں کی اور اس کے نظم و نسق کو مرتب کیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 197)

 اسی طرح آپ نے بعض امراء و عمال کو ہمدان اور اس کے قریبی علاقوں میں متعین کیا۔ کوفہ پر آپ کی امارت طویل عرصہ نہ رہ سکی کیوں کہ آپ کے اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے مابین اختلاف پیدا ہو گیا، جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیت المال پر مقرر تھے، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مال کی ضرورت پیش آئی انہوں نے بیت المال سے وقت مقررہ تک کے لیے قرض لے لیا، اور وقت آنے پر ادا نہ کر سکے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اس کو طلب کرنے ان کے پاس پہنچ گئے، گفتگو کے دوران میں دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، لوگ جمع ہو گئے، اس کی اطلاع جب حضرت عثمانؓ کو پہنچی تو آپ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر دیا، اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو ان کے عہدہ پر باقی رکھا۔ طبری کے قول کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزولی کی سزا ملی اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ رضی اللہ عنہ کو عہدہ پر بقا کی سزا ملی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 251)

یہ واقعہ دونوں حضرات کے ورع اور تقویٰ کی خبر دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مال کی ضرورت تھی، اور آپ کے پاس اتنا مال نہ تھا کہ اپنی ضروریات کی تکمیل کر سکیں اسی لیے آپ بیت المال سے قرض لینے پر مجبور ہوئے، اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ مسلمانوں کے مال کی حفاظت کے لیے کوشاں رہے، کوفہ کے گورنر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے قرض واپس لینے پر مصر رہے۔ کوفہ کی امارت آپ کے ہاتھ میں صرف ایک سال ایک ماہ رہی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 250)

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی معزولی کے بعد حضرت عثمانؓ نے حضرت ولید بن عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ کو کوفہ کاگورنر مقرر فرمایا۔ وہ اس سے قبل اردن میں لشکر صدیقی کے سپہ سالار رہ چکے تھے اور سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں الجزیرہ کے عربوں پر آپ عامل تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 251)

خلافت فاروقی کے آخر اور خلافت عثمانی کے آغاز میں آپ کوفہ کے لشکر کے ایک سپہ سالار تھے، اور متعدد مورچوں پر آپ نے سپہ سالار کی حیثیت سے جہاد کیا تھا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 198)

کوفہ پر تقرری سے قبل کوفہ، اس کے لشکر، اس کی سرحدوں اور دیگر امور سے متعلق آپ تجربہ و معرفت رکھتے تھے، وہاں کے لیے آپ کوئی نئے نہ تھے۔ خلفائے راشدینؓ کا اصول تھا کہ جس علاقہ پر گورنر مقرر کرنا ہوتا اس علاقہ سے متعلق تجربہ کار اور معرفت رکھنے والوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے تھے، چنانچہ اسی اصول کے تحت حضرت عثمانؓ کی نظر انتخاب حضرت ولید بن عقبہؓ پر پڑی، لیکن کیا کہا جائے کہ بہت سے قدیم و جدید حضرات جنھوں نے امراء اور گورنروں کی تقرری سے متعلق تحریر کیا ہے انہوں نے اس تقرری سے متعلق حضرت عثمانؓ کو متہم کرنے کی کوشش کی ہے ان کے خیال میں حضرت ولید بن عقبہؓ کی تقرری کے پیچھے کنبہ پروری کار فرما تھی کیوں کہ وہ آپ کے علاتی (ماں شریک) بھائی تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 198) 

یہ حضرت عثمانؓ پر براہ راست اتہام و تنقید ہے۔

(دیکھیے: الفتنۃ الکبریٰ: جلد 1 صفحہ 94، جس میں طہٰ حسین نے مختلف اتہامات باندھے ہیں۔)

آپ کی امارت کے آغاز میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ آپ کے شریک کار تھے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیت المال پر مقرر تھے، لیکن ایک مرتبہ جب آپؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کے درمیان سرکاری اموال سے متعلق اختلاف رائے رونما ہوا تو حضرت عثمانؓ نے مصلحت عامہ اس میں سمجھی کہ اس اشتراک کو ختم کر دیا جائے اور بیت المال کو بھی حضرت ولیدؓ کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ آپ نے ابنِ مسعودؓ کو سبکدوش کر دیا اور بیت المال کو بھی حضرت ولیدؓ کے سپرد کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 251)

صفحہ 1 از 3