آذربائیجان
علی محمد الصلابیآذربائیجان کے سب سے پہلے گورنر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے پھر جب آپؓ کو مدائن منتقل کر دیا گیا تو ان کی جگہ پر عتبہ بن فرقد السلمی رضی اللہ عنہ گورنر بن کر آئے، عتبہ اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان کئی مرتبہ خط و کتابت ہوئی، چنانچہ ایک مرتبہ ایک واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت عتبہ بن فرقدؓ جب بحیثیت گورنر آذربائیجان آئے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگ ’’حبیص‘‘ نام کا ایک لذیذ حلوہ تیار کرتے ہیں، آپؓ نے سوچا کہ اسے بنوا کر سیدنا عمرؓ کو بھی بھیجنا چاہیے اور پھر آپؓ نے اسے تیار کرایا اور دو ڈبوں میں بند کر کے اوپر سے چمڑے وغیرہ سے ڈھانپ کر آپؓ کے پاس مدینہ نبویہ بھیج دیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے وصول کیا اور حلوہ کو چکھا، حلوہ آپؓ کو بہت پسند آیا۔ آپؓ نے لانے والوں سے پوچھا: کیا وہاں کے تمام مہاجرین اسے شکم سیر ہو کر کھاتے ہیں؟ عتبہ کے ایلچی نے نفی میں جواب دیا اور کہا: یہ صرف آپؓ کے لیے پکوایا گیا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے اسے آذربائیجان میں حضرت عتبہؓ کے پاس واپس لے جانے کا حکم دیا اور عتبہ کے نام خط لکھا: ’’اے عتبہ! تمہارا بھیجا ہوا تحفہ تمہاری اور تمہارے باپ کی کمائی نہیں ہے، تم اپنے دوران سفر جو کھاتے ہو اسی خوراک سے تمام مسلمانوں کو ان کے سفروں میں شکم سیر کرو، عیش پرستی، مشرکین کی پوشاک اور ریشمی لباس پہننے سے دور رہو، کیونکہ رسول اللہﷺ نے ریشمی لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 133)
یہ واقعہ مختلف روایات سے ثابت ہے جو ہر ایک دوسرے کی موید ہیں۔ بہرحال حضرت عتبہؓ سیدنا عمرؓ کے بقیہ ایام خلافت تک اور حضرت عثمانؓ کے ابتدائی ایام خلافت میں آذربائیجان کے گورنر رہے۔ علاوہ ازیں عراق و فارس کے مختلف علاقوں میں سیدنا عمرؓ کے متعدد گورنر تھے، بعض تو اپنی ریاست کے خودمختار گورنر تھے، جبکہ بعض کی ولایت عراق کی دونوں بڑی ریاستوں یعنی کوفہ اور بصرہ کے ماتحت تھی کیونکہ یہی دونوں ریاستیں بلاد عراق و فارس کی تنظیم و حکمرانی کا مرکز تھیں۔ اس بحث میں مذکورہ ریاستوں کے علاوہ اور بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھی جہاں پر گورنر ہوا کرتے تھے، مثلاً موصل، حلوان اور کسکر وغیرہ۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 133، 134، 135)