عدل و مساوات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عدل و مساوات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

اسلامی حکومت کے اہم مقاصد میں سے یہ چیز ہے کہ اسے اسلامی نظام کی بنیادوں پر قائم کرنے کی پوری کوشش کی جائے تاکہ ایک مسلم معاشرہ وجود میں آ سکے، انہی اہم بنیادوں میں سے عدل و مساوات بھی ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امت کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں ان اصول و قواعد کو بیان کیا ہے آپؓ نے منصبِ خلافت سنبھالتے وقت امت کے سامنے جو خطبہ دیا تھا اس کا ایک ایک حرف آپؓ کے عدل و مساوات کی منہ بولتی تصویر ہے بلاشبہ حضرت عمرؓ کے نزدیک عدل سے مراد اسلام کا وہ عادلانہ نظام ہے جو کسی اسلامی سماج اور اسلامی حکومت کے قائم کرنے میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے ایسا معاشرہ جس کی قیادت ظالم ہاتھوں میں ہو اور وہ عدل سے نا آشنا ہو اسے اسلامی معاشرہ نہیں کہا جا سکتا۔ عوام کے درمیان انفرادی طور پر یا جماعتی اور ملکی سطح پر عادلانہ نظام قائم کرنا کوئی نفلی کام نہیں ہے جس کو حاکم وقت یا امیر وقت کے مزاج اور خواہش پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ لوگوں میں اس کا قیام اسلامی نقطئہ نظر سے اسلام کے مقدس اور اہم ترین فرائض میں سے ہے اور امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ عدل و انصاف واجب ہے۔

(صحیح مسلم، کتاب السلام: حدیث 2219)

مفسر قرآن فخر الدین الرازیؒ کا قول ہے کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے۔ 

(القیود الواردۃ علی سلطۃ الدولۃ فی الإسلام: صفحہ 167،168 )

حاکمِ وقت پر عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنا واجب ہے، اس کی تائید قرآنی آیات اور سنت نبویہﷺ سے ہوتی ہے کیونکہ اسلامی ملک کا تقاضا ہے کہ ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آئے جس میں عدل و مساوات کی حکمرانی ہو اور ظلم تمام تر اشکال میں ناپید ہو اور اس کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہر انسان جو اپنے حق کا طالب ہو اس کے لیے میدان کشادہ ہو، راستہ ہموار ہو تاکہ آسان اور مختصر راستوں کے ذریعہ سے اپنا حق لے سکے اسے کسی مشقت یا رشوت ادا کرنے کی ضرورت نہ پڑے نیز اسلامی حکومت کے اہم مقاصد میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام اسباب و وسائل جو حصولِ حق کی راہ میں رکاوٹ بنیں انہیں ختم کر دے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے ملک میں یہی کیا۔ آپؓ نے دروازہ کے دونوں پٹ کھول دیے تاکہ رعایا اپنے حقوق پا سکے، آپؓ نے بنفسِ نفیس رعایا کی خبرگیری کی، اسے ہر متوقع ظلم سے بچایا اور حکام و رعایا کے درمیان عدل کی وہ خوب صورت مثال قائم کی جو تاریخ کا زرّیں باب ہے۔ آپؓ فریقین کے درمیان عدل قائم کرتے اور فیصلہ حق کے ساتھ کرتے تھے۔ آپؓ یہ نہیں سوچتے تھے کہ جن کے خلاف فیصلہ ہوا ہے وہ دشمن ہیں یا دوست، مال دار ہیں یا فقراء۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰٖمِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا‌ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۞ ( سورۃ المائدہ: آیت 8)

ترجمہ:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو، عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘

سیّدنا عمرؓ اپنے عدل و انصاف کا نمونہ تھے جس نے دلوں کو فتح کر لیا اور عقلیں حیرت زدہ رہ گئیں، آپؓ کی نگاہ میں عدل و انصاف اسلام کی ایک عملی دعوت تھی جس سے لوگوں کے دلوں کو ایمان کے لیے وسیع کیا جا سکتا ہے۔ آپؓ رسول اللہﷺ کے طرزِ عمل پر چلتے رہے، آپؓ کی سیاست اس عدل پر قائم تھی جس سے تمام انسان مستفید ہورہے تھے آپؓ واقعیت اور حقیقت کے میدان میں اپنے عادلانہ عمل میں ایسے کامیاب رہے جس کی کوئی مثال نہیں اور جسے قبول کرنے سے عقلیں ششدر ہیں، یہاں تک کہ آپؓ کا نام اور عدل لازم و ملزوم ہو گئے تھے جس کسی کو آپؓ کی سیرت سے ادنیٰ واقفیت ہے اس کے لیے بہت مشکل ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔ اس بڑی کامیابی کے پیچھے چند اسباب اور عوامل تھے جو آپؓ کے لیے معاون ثابت ہوئے:

1۔ آپؓ کی مدتِ خلافت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مدتِ خلافت سے طویل رہی۔ آپؓ کی مدت خلافت دس سالوں سے بھی زیادہ رہی جب کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت صرف دو سال کچھ مہینوں پر ختم ہو گئی۔

2۔ آپؓ حق پر مضبوطی سے قائم رہنے والے تھے، بلکہ اس سلسلہ میں دوسروں کی نسبت اپنے اور اپنے اہل و عیال پر زیادہ ہی سخت تھے، جیسا کہ ہم اس کا مشاہدہ عنقریب کریں گے۔

3۔ اللہ سے جلد ملاقات پر آپؓ کا ایمان اس قدر مضبوط تھا کہ ہر کام میں لوگوں کی رضامندی سے پہلے اللہ کی رضامندی کے طالب ہوتے تھے، صرف اللہ سے ڈرتے اور انسانوں میں کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔

4۔ صحابہؓ اور تابعینؒ کے دلوں میں اسلامی شریعت کی گرفت قوی تھی جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ کے تمام کاموں کو سب کی طرف سے فوراً تائید، مثبت جواب اور تعاون مل جاتا تھا۔ 

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: الصلابی: صفحہ 455)

5۔ لوگوں میں آپؓ کے عدل و انصاف کی چند مثالیں:

آپؓ نے ایک مسلمان کے خلاف یہودی کے حق میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا، یہودی کے کفر نے آپؓ کو اس بات پر نہیں ابھارا کہ آپؓ اس پر ظلم کریں اور عدل سے ہٹ جائیں۔

امام مالک رحمہ اللہ (تفسیر الرازی: جلد 10 صفحہ 141) نے سعید بن مسیبؓ کی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک مسلمان اور یہودی جھگڑا لے کر آئے، حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ یہودی حق پر ہے لہٰذا آپؓ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا، تو یہودی نے کہا: اللہ کی قسم! آپؓ نے حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ 

صفحہ 1 از 5