Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علیؓ کی شہادت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

سیدنا علیؓ کی شہادت

خوارج نے سیدنا معاویہؓ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ اور سیدنا علیؓ کے قتل کا منصوبہ بنایا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت مقرر کیا منصوبہ سازوں نے سیدنا علیؓ کے قتل کا ذمہ عبدالرحمن ابنِ ملجم پر ڈالا اس بدبخت نے رمضان مبارک کے مبارک مہینے میں 21 رمضان المبارک صبح فجر کے وقت امیرالمومنین اسد اللہ حیدرِ کرار سلسلہ تصوف کے امام دامادِ نبیﷺ سیدنا علیؓ کو کوفہ کی مسجد میں نماز کے لئے جاتے ہوئے شہید کر ڈالا اور اپنے دو پیش روؤں سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی طرح اس نام کے یہ خلیفہ چہارم بھی جامِ شہادت نوش کر کے سرفرازی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوگئے اور فرمانِ ربانی کے مطابق حیاتِ جاودانی کے حقدار ٹھہرے سیدنا علیؓ کا طرزِ خلافت و زندگی ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہے خاص طور پر ان کے لیے جو محبِ سیدنا علیؓ و اہلِ بیت ہونے کے دعویدار ہیں اگر آج بھی وہ لوگ خلیفہ چہارم کی تعلیمات اور زندگی کے مطابق عمل کرتے ہوئے خلفائے ثلاثہؓ و اصحابِؓ رسولﷺ کی بجائے اطاعت ثلاثہؓ ومحبت اصحابؓ رسولﷺ کا اصول اپنالیں اور جس طرح سیدنا علیؓ ان کی عزت و احترام کے قائل تھے اور ان کی اتباع کرتے تھے اور انہیں نبی آخر الزماںﷺ کے حقیقی اور سچے جانشین خیال کرتے تھے یہ طبقہ بھی اسی طرح ان کو اپنے عقیدت کا مرکز و محور بنا لے تو امتِ مسلمہ میں شامل ہوکر اپنی دنیا اور آخرت سنوار سکتا ہے۔