آرمینیہ
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں پہلی مرتبہ اسلامی افواج نے آرمینیہ کا رخ کیا، چنانچہ پہلا اسلامی لشکر شام سے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اس کی طرف روانہ ہوا جو آٹھ ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا، اس لشکر نے آرمینیہ کے متعدد مقامات کو فتح کر لیا، لیکن پھر اسے خطرہ محسوس ہوا کیوں کہ مسلمانوں کے خلاف آرمینیوں کی مدد کے لیے رومی افواج اکٹھا ہو گئیں، چنانچہ حضرت حبیب بن مسلمہ فہریؓ نے امیر المؤمنین عثمانؓ سے مدد طلب کی۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت سلمان بن ربیعہ باہلیؓ کی قیادت میں کوفہ سے تقریباً چھ ہزار مجاہدین کو روانہ کیا۔
(الطبقات: جلد 6 صفحہ 131)
کوفہ سے اس لشکر کے پہنچنے کے بعد حضرت حبیب بن مسلمہؓ اور حضرت سلمان بن ربیعہؓ کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا، جس کی اطلاع حضرت عثمانؓ کو ملی سیدنا عثمان غنیؓ نے فوراً انہیں خط تحریر کیا اور اختلاف کو حل کر دیا۔
(الخراج وصناعۃ الکتابۃ: قدامہ بن جعفر: صفحہ 326)
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی لشکر کی قیادت حضرت سلمان بن ربیعہ باہلیؓ کو سونپی گئی، کیوں کہ آرمینیہ کا امیر حضرت عثمانؓ نے انہی کو مقرر فرمایا تھا۔
(الفتوح: ابن اعثم: جلد 2 صفحہ 112)
حضرت سلمان بن ربیعہؓ آرمینیہ میں گھس گئے پھر خزر کے علاقہ میں دراندازی کی اور ہر جگہ فتح و نصرت نے آپ کے قدم چومے البتہ شاہ خزر کے ساتھ عظیم معرکہ پیش آ گیا جس میں دشمن کی تعداد تین لاکھ تھی اور اسلامی فوج صرف دس ہزار تھی، اس معرکہ میں حضرت سلمان بن ربیعہؓ اور آپ کے تمام ساتھیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
امیر المؤمنین عثمانؓ نے حضرت حبیب بن مسلمہ فہریؓ کو لکھا کہ وہ آرمینیہ کی طرف دوبارہ متوجہ ہوں، چنانچہ وہ اپنا لشکر لے کر روانہ ہوئے اور یکے بعد دیگرے مختلف علاقے فتح کرتے ہوئے آگے بڑھے، وہاں مسلمانوں کو ثابت قدمی حاصل ہوئی اور وہاں کے لوگوں سے بعض معاہدے بھی کیے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 177)
پھر حضرت عثمانؓ نے مناسب سمجھا کہ انہیں الجزیرہ کی سرحدوں پر روانہ کریں کیوں کہ آپ کو وہاں کا اچھا تجربہ تھا اور آپ کو اس پر قدرت حاصل تھی، اور آپ کی جگہ آرمینیہ پر حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو مقرر فرمایا جو پہلے سے آذربیجان کے گورنر تھے، اس طرح آرمینیہ بھی ان کے زیر اقتدار آ گیا، اور آپ نے آرمینیہ سے خزر کے علاقہ میں متعدد غزوات کیے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 177)
تقریباً ایک سال کے بعد حضرت عثمانؓ نے آپؓ کو معزول کر دیا، اور آرمینیہ کا گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو مقرر فرمایا، اس طرح آپ (عثمان رضی اللہ عنہ) کی شہادت کے وقت وہ آذربیجان اور آرمینیہ کے گورنر تھے۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 168، الولایۃ علی البلدان: جلد 177)
یہ صوبہ نیا اضافہ شمار کیا جاتا ہے جس کا اضافہ حضرت عثمانؓ نے اسلامی سلطنت میں فرمایا تھا، حضرت عثمانؓ سے قبل یہ فتح نہیں ہوا تھا اس کو فتح کرنے کے لیے مسلمانوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسی طرح بڑی مشکلات کے بعد مسلمانوں نے اس پر کنٹرول حاصل کیا، اور اس کے انتظام و انصرام کو سنبھالا اور امن و استقرار بحال کیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 177)