خلفائے راشدینؓ کے عہدِ مبارک میں عام وصف یہ تھا کہ گورنر ہی اپنے اپنے علاقوں میں جہاد کے سالارِ اعظم ہوتے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میمون میں اسلامی فتوحات کے سلسلہ میں گورنروں کا اہم ترین کردار رہا ہے۔ انہی میں سے عبداللہ بن عامر، مغیرہ بن شعبہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم ہیں جنھوں نے مشرق میں فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا، اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ ہیں جنھوں نے شمالی افریقہ میں جہاد جاری رکھا۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہیں جنھوں نے آرمینیہ اور رومی ممالک میں علم جہاد بلند رکھا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خلفائے راشدینؓ کے عہد میں گورنر صوبہ کے انتظام و انصرام کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے خلاف علم جہاد بھی بلند رکھتے تھے، اور یہ صوبہ کے انتظام و انصرام سے مانع نہ ہوتے تھے اور بلاشبہ جہاد کے ساتھ ایسی کارروائیاں عمل میں لائی جاتی تھیں جن سے جہاد کو تقویت حاصل ہو، چنانچہ تاریخی مصادر نے ان اہم اعمال کو بیان کیا ہے جو امراء اور گورنروں کی طرف سے اس سلسلہ میں انجام پاتے تھے۔ من جملہ ان اعمال کے بعض یہ تھے:
اللہ کی راہ میں جہاد
علی محمد الصلابی
مزید دیکھیں:
-
دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین المجاھدین (جہاد کرنے والے)
-
قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے
-
مشارکات حال حسین رضی اللہ عنہ
-
جنگ کا مقصد مذہب اسلام کی نصرت و سربلندی
-
حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط و اسباب اور شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار مجاہدین کے اوصاف
-
عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے
-
تیسرا مبحث سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حکمت بھرے اقوال زریں
-
قبرص کی جنگ
-
خلاصہ
-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان کی گواہی نہ دی۔(معاذاللہ)
-
اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید
-
حضرت ابوطالب اور صحیح بخاری
-
روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ
-
فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد
-
فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں گروہ بندی کا شیعی افسانہ اور اس پر رد
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس
-
شیعہ کے بیان کردہ جھوٹے اوصاف
-
فصل:....کعب قرظی کی روایت اور شیعہ کا شبہ
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گیارھویں دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی سترہویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تئیسویں دلیل:
-
فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری]
-
فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال
-
فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]
-
آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت
-
آیت استخلاف فی الارض
-
مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔
-
سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے