Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اللہ کی راہ میں جہاد

  علی محمد الصلابی

خلفائے راشدینؓ کے عہدِ مبارک میں عام وصف یہ تھا کہ گورنر ہی اپنے اپنے علاقوں میں جہاد کے سالارِ اعظم ہوتے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میمون میں اسلامی فتوحات کے سلسلہ میں گورنروں کا اہم ترین کردار رہا ہے۔ انہی میں سے عبداللہ بن عامر، مغیرہ بن شعبہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم ہیں جنھوں نے مشرق میں فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا، اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ ہیں جنھوں نے شمالی افریقہ میں جہاد جاری رکھا۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہیں جنھوں نے آرمینیہ اور رومی ممالک میں علم جہاد بلند رکھا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خلفائے راشدینؓ کے عہد میں گورنر صوبہ کے انتظام و انصرام کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے خلاف علم جہاد بھی بلند رکھتے تھے، اور یہ صوبہ کے انتظام و انصرام سے مانع نہ ہوتے تھے اور بلاشبہ جہاد کے ساتھ ایسی کارروائیاں عمل میں لائی جاتی تھیں جن سے جہاد کو تقویت حاصل ہو، چنانچہ تاریخی مصادر نے ان اہم اعمال کو بیان کیا ہے جو امراء اور گورنروں کی طرف سے اس سلسلہ میں انجام پاتے تھے۔ من جملہ ان اعمال کے بعض یہ تھے: