Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کوفہ

  علی محمد الصلابی

کوفہ کی آبادکاری مکمل ہو جانے کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں کے پہلے گورنر مقرر ہوئے، درحقیقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپؓ ہی نے سب سے پہلے شہر کوفہ کو آباد کیا تھا اور آپؓ کوفہ کی آبادکاری سے پہلے ہی وہاں اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں کے گورنر تھے، آپؓ بحسن و خوبی منصب ولایت کے فرائض ادا کرتے رہے اور جب گورنر کی حیثیت سے کوفہ ہی آپ کی جائے سکونت ٹھہری تو بلاد فارس کے علاقوں میں آپؓ کی عظیم فتوحات کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 139، تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 151) آپؓ نے اپنی ریاست میں کئی زرعی اصلاحات نافذ کیں، انہی میں سے ایک یہ تھا کہ جاگیرداروں کی ایک جماعت نے آپؓ سے اپنے علاقے کے کاشتکاروں کے لیے نہر کھودنے کا مطالبہ کیا، چنانچہ حضرت سعدؓ نے متعلقہ شعبہ کے افسران کو نہر کھودنے کا حکم دیا، پھر اس کے لیے مال جمع کیا گیا اور نہر کھودی گئی۔ آپؓ کوفہ کے زیر نگرانی علاقوں کے تمام امور و معاملات کو خود منظم کرتے تھے اور سیدنا عمر بن خطابؓ سے صلاح و مشورہ کے بعد وہاں اپنی صواب دید پر اپنا نائب گورنر بھیجتے۔ کوفہ کے دانشور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے بہت خوش ہوئے اور ان کی تعریف کی۔ حضرت عمر نے کوفہ کے کسی معروف و مشہور آدمی سے حضرت سعدؓ کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: خراج وغیرہ کی وصولی میں متواضع ہیں، بہادری و سبک روی میں خالص عربی ہیں، رعب و دبدبہ میں شیر ہیں، نزاعی معاملات میں عدل سے کام لیتے ہیں، تقسیم میں مساوات و عدل کرتے ہیں، فوج کو روانہ کرتے ہیں اور مشفق ماں کی طرح ان پر شفقت کرتے ہیں اور ہمارے لیے چیونٹیوں کی طرح جمع کرتے ہیں۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 123) اسی طرح آپ نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور ان کی ولایت کے بارے میں استفسار کیا تو حضرت جریرؓ نے جواب دیا:

’’میں ان کو ان کی ریاست میں اس حال میں دیکھ کر آ رہا ہوں کہ قدرت و صلاحیت میں سب سے فائق، سب سے کم سختی کرنے والے اور رعایا کے لیے مشفق ماں کی طرح ہیں، لوگوں کے لیے مال و اسباب اسی طرح جمع کرتے ہیں جس طرح چیونٹیاں جمع کرتی ہیں، دشمن سے مقابلہ کے وقت انتہائی سخت اور لوگوں کی نگاہوں میں قریش کے محبوب ترین فرد ہیں۔‘‘

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 123) باوجود یہ کہ کوفہ کے شرفاء و دانشور حضرت سعدؓ سے بالکل مطمئن اور ان کے مداح تھے، تاہم بعض عوام نے آپؓ کے خلاف حضرت عمرؓ سے شکایت کی، جس کی بنا پر امیر المؤمنین نے آپؓ کو معزول کر دیا۔ ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں ’’گورنروں کے خلاف شکایات‘‘ کے زیر عنوان اس کا تفصیلی بیان آئے گا۔

کوفہ سے سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کی معزولی کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کی جگہ پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو اہل کوفہ کی امامت نماز کی ذمہ داری دے کر وہاں بھیجا۔ واضح رہے کہ حضرت عمارؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی ماتحتی میں کوفہ کے فوجی جرنیلوں میں سے ایک جرنیل تھے اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اپنی گورنری کے دور میں بہت سارے معاملات میں ان سے تعاون لیتے رہتے تھے۔ اسی لیے منصب ولایت پر سرفراز ہونے سے پہلے ہی آپؓ کو گورنری کے بارے میں کافی معلومات و مہارت تھی۔

اس مقام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعد اور عمار رضی اللہ عنہما کے منصبی اختیارات میں کافی فرق تھا، مثلاً حضرت عمرؓ نے حضرت عمارؓ کو کوفہ کا گورنر نامزد کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی ذمہ داریاں دے کر آپ کے ساتھ دیا تاکہ وہ لوگ الگ الگ اپنے کام سنبھالیں۔ چنانچہ حضرت عمارؓ نماز کی امامت پر، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیت المال پر اور حضرت عثمان بن حنیفؓ زمین کی پیمائش بندوبست پر مامور تھے، جبکہ حضرت سعدؓ کے دور میں یہ تقسیم بالکل نہ تھی اسی لیے دونوں کی گورنری کے حالات بہت حد تک مختلف نظر آتے ہیں۔ صوبائی سطح پر ذمہ داریوں کی اس جدید تقسیم کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ بہرحال ذمہ داریوں کی اس تقسیم کے بعد ہر ایک نے اپنے فرض کو نبھایا، حضرت عمارؓ نماز کی امامت کرتے رہے، صوبائی انتظام و انصرام کے ساتھ اسلامی افواج کی قیادت کرتے رہے اور بعض فتوحات میں خود شریک بھی ہوئے۔ آپ کی گورنری کے دور میں اہل کوفہ نے اہل فارس کی مسلم مخالف افواج سے کئی ایک مرتبہ ٹکر لی اور غلبہ پایا، اس طرح حضرت عمارؓ امیر المؤمنین عمرؓ کی رہنمائی کے مطابق جنگی احوال و ظروف کی رعایت کرتے ہوئے اپنی ریاست میں سیاست کرتے رہے اور حضرت ابن مسعودؓ کے تعاون سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے، جبکہ حضرت ابن مسعودؓ مالیاتی نظام کی مکمل دیکھ بھال کے ساتھ لوگوں کو قرآن اور اسلام کی تعلیمات بھی دیتے تھے۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 157) کوفہ پر حضرت عمارؓ کی گورنری کا دور تقریباً ایک سال نو مہینے ہے۔ اس کے بعد حضرت عمارؓ کے خلاف اہل کوفہ کی شکایات کے پیش نظر سیدنا عمرؓ نے ان کو گورنری سے معزول کر دیا۔ اسی مناسبت سے حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ حضرت عمارؓ سے پوچھا کہ کیا معزولی تم کو بری لگی؟ تو حضرت عمارؓ نے جواب دیا:

’’جب آپؓ نے مجھے گورنر بنایا تھا تب مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی البتہ جب آپؓ نے مجھے معزول کر دیا تو مجھے ناگوار گزرا۔‘‘

اور ایک روایت کے مطابق آپؓ نے دوسرے لفظوں میں اس طرح جواب دیا:

’’جب آپؓ نے مجھے گورنری دی تو اس سے مجھے خوشی نہیں ہوئی اور جب آپؓ نے مجھے معزول کر دیا تو مجھے اس پر کوئی رنج بھی نہیں ہوا۔‘‘

(الفتوح: ابن اعثم: جلد 82) اور بعض تاریخی مصادر میں ہے کہ جب حضرت عمارؓ نے محسوس کیا کہ اہل کوفہ میری امارت کو ناپسند کرنے لگے ہیں تو خود ہی حضرت عمرؓ کو منصب ولایت سے استعفیٰ پیش کیا۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ نے استعفیٰ قبول کر لیا اور ان کو خود معزول نہیں کیا۔

(نہایۃ الأرب: جلد 19 صفحہ 367) حضرت عمارؓ کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت جبیر بن مطعمؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا لیکن ان کے کوفہ جانے سے پہلے ہی اس حکم کو منسوخ کر دیا، اس لیے کہ آپؓ نے ان سے کہا تھا کہ اپنے گورنر مقرر کیے جانے کی خبر دوسروں کو نہیں دیں گے، لیکن انہوں نے یہ راز فاش کر دیا اور جب لوگوں میں یہ خبر پھیل گئی تو حضرت عمرؓ سخت ناراض ہوئے اور اپنا فیصلہ منسوخ کر دیا۔ پھر حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو کوفہ کا گورنر بنایا اور وہی حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی کے آخری ایام تک وہاں کے گورنر رہے۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 155، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 239)