Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما

  حامد محمد خلیفہ عمان

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے فرمایا:

’’میں آپ کو ایک حدیث سناتا ہوں۔ وہ یہ کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر آپﷺ کو اس بات کا اختیار دیا کہ دنیا و آخرت میں سے کسی ایک کو چن لیجیے، تو آپﷺ نے آخرت کو چن لیا اور دنیا کو نہ لیا اور آپ رسول اللہﷺ کے لخت جگر ہیں۔ اللہ کی قسم! آپ میں سے کسی کو بھی دنیا ملنے والی نہیں اور اللہ نے آپ لوگوں سے دنیا کو صرف اس لیے پھیرا ہے تاکہ آپ کو دنیا سے بہتر چیز دے۔‘‘

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یہ نصیحت سن کر بھی جانے کا ارادہ ترک نہ فرمایا۔ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں گلے لگایا اور رونے لگے پھر فرمایا: ’’میں شہید ہونے والے کو الوداع کہتا ہوں۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 173)

یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے سفر عراق شروع کرنے سے پہلے کا قصہ ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ کو جانے سے بار بار روکا۔ شعبی کہتے ہیں: ’’ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں تھے، انہیں اس بات کی خبر پہنچی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما عراق کے لیے عازمِ سفر ہو گئے ہیں، تو آپ کے پیچھے ہو لیے اور تین رات کی مسافت پر جا کر انہیں پا لیا۔ پوچھا: کہا کا ارادہ ہے؟ فرمایا: عراق کا۔ پھر انہیں وہ بے شمار خطوط دکھلائے جو اہل کوفہ نے لکھے تھے۔ فرمایا: یہ ان کے خطوط اور بیعت نامے ہیں۔ پھر بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہی فرمایا: ان کے پاس مت جائیے۔ مگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہ مانی۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 173)