Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مدائن

  علی محمد الصلابی

مدائن کسریٰ کا دارالحکومت تھا، اسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے فتح کیا تھا اور عرصہ دراز تک آپؓ وہاں اقامت گزیں تھے، پھر جب کوفہ کو شہری حیثیت حاصل ہو گئی تو آپؓ وہاں منتقل ہو گئے۔ حضرت سعدؓ کے ساتھ مجاہدین کا لشکر تھا اس میں حضرت سلمان فارسیؓ بھی تھے اور فارس کے خلاف متعدد معرکہ آرائیوں میں برابر کے شریک تھے، اہل فارس سے جنگ چھڑنے سے قبل انہیں اسلام کی دعوت دینے میں حضرت سلمانؓ کا بڑا اہم کردار تھا۔ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو مدائن کا والی گورنر بنایا اور آپؓ ان میں اچھی طرح زندگی گزارتے رہے۔ اسلامی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کرنے میں آپؓ کی شخصیت ایک زندہ مثال تھی۔

روایات میں وارد ہے کہ حضرت سلمانؓ منصب ولایت قبول کرنے کے لیے راضی نہ تھے، لیکن سیدنا عمرؓ نے ان کو یہ عہدہ سنبھالنے کے لیے مجبور کیا، تاہم آپؓ برابر حضرت عمرؓ کے پاس خط لکھ کر اس عہدہ سے سبکدوشی کا مطالبہ کرتے رہے اور حضرت عمرؓ اسے نامنظور کرتے رہے۔ بہرحال حضرت سلمانؓ ایک زاہد و تقویٰ شعار آدمی تھے، اونی لباس پہنتے، گدھے کی ننگی پیٹھ پر بغیر پالان کے سواری کرتے اور جو کی موٹی روٹی کھاتے تھے۔ آپ عبادت گزار اور پرہیز گار تھے۔

(مروج الذہب: جلد 2 صفحہ 206، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 131) حضرت سلمانؓ ایک گورنر کی حیثیت سے مدائن میں زندگی گزارتے رہے یہاں تک کہ راجح قول کے مطابق 32ہجری میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور خلافت میں آپؓ کی وفات ہو گئی۔ بظاہر حضرت سلمانؓ، دور فاروقی کے آخری ایام تک مدائن کے گورنر نہیں تھے، کیونکہ حضرت عمرؓ نے آخر میں حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو مدائن کا گورنر مقرر کیا تھا۔ البتہ مؤرخین نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ سیدنا عمرؓ نے حضرت سلمانؓ کو معزول کر دیا تھا، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے بار بار جس استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا حضرت عمرؓ نے اسے کئی مرتبہ نامنظور کرنے کے بعد بالآخر منظوری دے دی ہو اور اس کے بعد حذیفہ بن یمانؓ کو گورنر بنا دیا ہو۔

مدائن پر حضرت حذیفہؓ کی گورنری سے متعلق متعدد روایات وارد ہیں، انہی میں سے ایک یہ ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اہل مدائن کے نام سرکاری خط بھیج کر انہیں اطلاع دی کہ حضرت حذیفہ بن یمانؓ ان کے گورنر بنائے جا رہے ہیں، اہل مدائن کو چاہیے کہ حضرت حذیفہؓ کی اطاعت و فرماں برداری کریں، چنانچہ حضرت حذیفہؓ دور فاروقی کے آخری ایام اور پھر حضرت عثمانؓ کی مکمل مدت خلافت تک وہاں کے گورنر رہے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 364)