Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا مرحلہ

  علی محمد الصلابی

خلیفہ بنائے جانے کے بعد جلد ہی جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کا ارادہ ظاہر کیا تو سیدنا حسنؓ کو جان سے مارنے کی پہلی کوشش کی گئی، اس کی جانب درج ذیل روایتیں اشارہ کرتی ہیں:

ابوجمیلہ کے طریق سے ابن سعدؒ نے ’’الطبقات‘‘ میں نقل کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو خلیفہ بنایا گیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک شخص آپ پر جھپٹ پڑا، اور خنجر سے وار کردیا جب کہ آپ سجدے میں تھے، حصین بن عبدالرحمٰن سلمی کے خیال کے مطابق حملہ کرنے والا بنو اسد کا آدمی تھا، حصین کہتے ہیں کہ میرے چچا وہاں موجود تھے، کہتے ہیں کہ خنجر آپ کے کولھے پر لگا جس سے آپؓ کئی مہینہ بیمار رہ کر شفایاب ہوئے، پھر منبر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو، ہم تمھارے خلیفہ اور مہمان ہیں، ہم وہ اہل بیت ہیں جن کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

راوی کہتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ یہی بات دہراتے رہے تاآنکہ مسجد میں موجود ہر شخص سسک سسک کر رونے لگا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 323)

ابن سعدؒ نے ’’الطبقات‘‘ میں ہلال بن یساف کے طریق سے نقل کیا ہے کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: اے اہل کوفہ! ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو، ہم تمھارے خلیفہ اور مہمان ہیں، ہم وہ اہل بیت ہیں جن کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

راوی کہتے ہیں: اس دن سے زیادہ روتے ہوئے میں نے آپ کو کسی دن نہیں دیکھا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 381، اس کی سند صحیح ہے۔)