آیت تطہیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت تطہیر

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 12

آیتِ تطہیر

قرآنِ کریم کی کسی آیت کا حقیقی مفہوم سمجھنے یا کسی آیت کے کسی لفظ کا مدلول معلوم کرنے میں انسان اس وقت ٹھوکر کھاتا ہے جب آیت کو سیاق و سباق سے الگ کر کے کسی جزو سے اپنی پسند کا مفہوم نکالنے کی کوشش کی جائے یہ کوشش دراصل قرآن کے الفاظ سے معنیٰ اخذ کرنا نہیں ہوتا بلکہ آیت میں اپنے پسند کے معانی داخل کرنا ہوتا ہے اور جب اس کوشش کو وسعت دے کر دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹانے کی مہم شروع کر دی جائے تو اسے انسانیت کے حق میں ظلم عظیم کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

اسی قسم کی ایک صورت آیتِ تطہیر کی تعبیر میں ملتی ہے چنانچہ اس مہم کی ابتداء سارے سلسلہ مضامین سے صرفِ نظر کر کے اس ٹکڑے سے کی جاتی ہے کہ:

 اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞۔(سورة الاخزاب آیت نمبر 33)۔

اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مفہوم کا پورا منظر پیش نظر رکھا جائے لہٰذا قرآنِ کریم سے پورا مضمون نقل کرتے ہیں۔

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا۞وَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ ‌ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ۞وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِۙ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا۞يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا۞وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞

(سورة الاخزاب آیت نمبر 28۔29۔30۔31۔32۔33۔34)۔

ترجمہ: اے نبیﷺ اپنی بیبیوں سے فرما دیجیے اگر دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی بہار چاہتی ہو تو آو میں تم کو کچھ مال و متاع (دنیوی) دے دوں اور تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کروں اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو تو اس کے رسول کو اور عالم آخرت کو تو تم سے نیک کرداروں کیلئے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم مہیا کر رکھا ہے اے نبی کی بیبیو جو کوئی تم میں سے کھلی ہوئی بے حیائی کرے گی اس کو دوہری سزا دی جائے گی اور یہ بات اللہ کو آسان ہے اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک کام کرے گی تو ہم اس کو اس کا دوہرا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کیلئے عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے اے نبیﷺ کی بیویو تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم (نامحرم مرد دے) بولنے سے (جب کہ بضرورت بولنا پڑے) نزاکت مت کرو (اس سے) ایسے شخص کو (طبعاً) خیال (فاسد) ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے اور قاعدہ (عفت) کے موافق بات کہو اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسولﷺ کا کہنا مانو اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو ہر طرح (ظاہراً و باطناً) پاک و صاف رکھے اور تم آیاتِ الٰہی کو اور اس علم (احکام) کو یاد رکھ رکھو جسکا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے بیشک اللہ راز دان ہے پورا خبردار ہے۔

اس سلسلہ مضمون کا آغاز نبی کریمﷺ سے خطاب سے ہو رہا ہے اور حضورﷺ کو ارشاد ہورہا ہے کہ اپنی ازواجِ مطہراتؓ سے کہیے اگر تمہیں دنیوی آرائش و زیبائش سے لگاؤ ہے تو میں تمہیں رخصت کئے دیتا ہوں اور اگر اللہ و رسولﷺ و دار آخرت کی مسرتیں تمہارا نصبُ العین ہے تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے پھر ازواجِ مطہراتؓ سے خطاب ہوتا ہے کہ تمہاری ذمہ داری بھی دوسروں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے اور اسی نسبت سے تمہارے لیے صلہ بھی دوسروں سے کہیں بڑھ کر ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تم دوسری عورتوں کی طرح من مانی کرنے کے لیے نہیں ہو بلکہ تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ مرکزِ نبوت میں بیٹھ کر پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ان ذمہ داریوں کو پوری کرتی رہو جو اللہ اور رسولﷺ کی طرف سے تم پر عائد ہوتی ہیں کیوں کہ حقیقت صرف اتنی ہے کہ اے نبی کے گھر والو! اللہ تم کو یوں پاک رکھنا چاہتا ہے جیسے پاکیزگی کا حق ہے تمہاری ذات تو علم و حکمت کا منبع ہے کیونکہ وحی الٰہی کا نزول تم ازواج النبی کے گھروں میں ہوتا ہے۔

آیات کہ اس سادہ اور مربوط ترجمانی کے بعد چند دقیق نکات پیش کیے جاتے ہیں۔

صفحہ 1 از 12