Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زہد

  علی محمد الصلابی

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گورنران میں سعید بن عامر بن حذیم، عمیر بن سعد، سلمان فارسی، ابو عبیدہ بن جراح اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کو زہد و ورع میں شہرت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ بعض گورنروں کی بیویاں اپنے شوہروں کی بیزاری اور زہد میں مشغولیت کی شکایت لے کر حضرت عمر فاروقؓ کے پاس آتی تھیں، مثلاً حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی بیوی ان کی شکایت لے کر آپؓ کے پاس آئی۔ واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ زکوٰۃ میں جو کچھ بھی وصول کیا وہیں کے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا، اپنے پاس کچھ بھی نہ چھوڑا، اپنے کندھے پر بیٹھنے کے لیے جو بوریا لے کر گئے تھے، وہی لے کر واپس آئے، تو ان کی بیوی نے کہا: عمال و محصلین اپنی بیویوں کے لیے سفر سے واپسی پر کچھ لاتے ہیں، تم جو لائے ہو وہ کہاں ہے؟ آپؓ نے جواب دیا: میرے اوپر ایک نگران تھا۔ بیوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے نزدیک تم امانتدار شمار ہوتے تھے، کیا حضرت عمرؓ نے تمہارے ساتھ نگران بھیجا تھا؟ چنانچہ وہ اپنی سہیلیوں میں یہ بات پھیلانے لگی اور حضرت عمرؓ کی شکایت کرنے لگی، جب حضرت عمرؓ کو اس کی خبر ملی تو آپؓ نے حضرت معاذؓ کو بلوایا اور ان سے پوچھا: کیا تم پر کوئی نگران مقرر کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اس کے علاوہ اس بیوی سے معذرت کے لیے میرے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر حضرت عمرؓ ہنسنے لگے اور حضرت معاذؓ کو کچھ سامان دے کر کہا: اسے لے جاؤ اسے دے کر خوش کر دو۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 53 )